Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

قرآن و حدیث کی روشنی میں صبر|محمد عارف رضا قادری امجدی

قرآن و حدیث کی روشنی میں صبر
عنوان: قرآن و حدیث کی روشنی میں صبر
تحریر: محمد عارف رضا قادری امجدی
پیش کش: جامعہ امجدیہ رضویہ، گھوسی

وَ اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-وَ اِنَّهَا لَكَبِیْرَةٌ اِلَّا عَلَى الْخٰشِعِیْنَۙ (45) الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ وَ اَنَّهُمْ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ۠ ٛ (46) [سورۃ البقرۃ: 45-46]

ترجمۂ کنز الایمان: اور صبر اور نماز سے مدد چاہو اور بیشک نماز ضرور بھاری ہے مگر ان پر جو دل سے میری طرف جھکتے ہیں۔ جنہیں یقین ہے کہ انہیں اپنے رب سے ملنا ہے اور اسی کی طرف پھرنا ہے۔

اور صبر اور نماز سے مدد حاصل کرو۔ اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ اس سے پہلی آیات میں بنی اسرائیل کو سید المرسَلین صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے، ان کی شریعت پر عمل کرنے، سرداری ترک کرنے اور منصب و مال کی محبت دل سے نکال دینے کا حکم دیا گیا اور اس آیت میں ان سے فرمایا جا رہا ہے کہ اے بنی اسرائیل! اپنے نفس کو لذتوں سے روکنے کے لیے صبر سے مدد چاہو اور اگر صبر کے ساتھ ساتھ نماز سے بھی مدد حاصل کرو تو سرداری اور منصب و مال کی محبت دل سے نکالنا تمہارے لیے آسان ہو جائے گا، بیشک نماز ضرور بھاری ہے البتہ ان لوگوں پر بھاری نہیں جو دل سے میری طرف جھکتے ہیں۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ اے مسلمانو! تم رضائے الٰہی کے حصول اور اپنی حاجتوں کی تکمیل میں صبر اور نماز سے مدد چاہو۔ [خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: 45، 1/50]

سبحان اللہ! کیا پاکیزہ تعلیم ہے۔ صبر کی وجہ سے قلبی قوت میں اضافہ ہوتا ہے اور نماز کی برکت سے اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط ہوتا ہے اور یہ دونوں چیزیں پریشانیوں کو برداشت کرنے اور انہیں دور کرنے میں سب سے بڑی معاون ہیں۔

صبر کی تعریف

صبر کا معنی ہے نفس کو اس چیز پر روکنا جس پر رکنے کا عقل اور شریعت تقاضا کر رہی ہو یا نفس کو اس چیز سے باز رکھنا جس سے رکنے کا عقل اور شریعت تقاضا کر رہی ہو۔ [مفردات امام راغب، حرف الصاد، ص: 474]

صبر کی اقسام

بنیادی طور پر صبر کی دو قسمیں ہیں:

  1. بدنی صبر جیسے بدنی مشقتیں برداشت کرنا اور ان پر ثابت قدم رہنا۔

  2. طبعی خواہشات اور خواہش کے تقاضوں سے صبر کرنا۔ پہلی قسم کا صبر جب شریعت کے موافق ہو تو قابلِ تعریف ہوتا ہے لیکن مکمل طور پر تعریف کے قابل صبر کی دوسری قسم ہے۔ [احیاء علوم الدین، کتاب الصبر والشکر، بیان الاسامی التی تتجدد للصبر، 4/82]

صبر کے فضائل

قرآن و حدیث اور بزرگانِ دین کے اقوال میں صبر کے بے پناہ فضائل بیان کیے گئے ہیں، ترغیب کے لیے ان میں سے 10 فضائل کا خلاصہ درج ذیل ہے:

  1. اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ [سورۃ الانفال: 46]

  2. صبر کرنے والے کو اس کے عمل سے اچھا اجر ملے گا۔ [سورۃ النحل: 96]

  3. صبر کرنے والوں کو بے حساب اجر ملے گا۔ [سورۃ الزمر: 10]

  4. صبر کرنے والوں کی جزاء دیکھ کر قیامت کے دن لوگ حسرت کریں گے۔ [المعجم الکبیر، 12/141، الحدیث: 12829]

  5. صبر کرنے والے رب کریم عزوجل کی طرف سے درود و ہدایت اور رحمت پاتے ہیں۔ [سورۃ البقرۃ: 157]

  6. صبر کرنے والے اللہ تعالیٰ کو محبوب ہیں۔ [سورۃ آلِ عمران: 146]

  7. صبر آدھا ایمان ہے۔ [مستدرک، کتاب التفسیر، 3/237، الحدیث: 3718]

  8. صبر جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔ [احیاء علوم الدین، کتاب الصبر والشکر، 4/76]

  9. صبر کرنے والے کی خطائیں مٹا دی جاتی ہیں۔ [ترمذی، کتاب الزہد، 4/179، الحدیث: 2407]

  10. صبر ہر بھلائی کی کنجی ہے۔ [شعب الایمان، 7/201، رقم: 9996]

آزمائشیں اور صبر

یاد رہے کہ زندگی میں قدم قدم پر آزمائشیں ہیں، اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو کبھی مرض سے، کبھی جان و مال کی کمی سے، کبھی دشمن کے ڈر خوف سے، کبھی کسی نقصان سے، کبھی آفات و بلایات سے اور کبھی نت نئے فتنوں سے آزماتا ہے اور راہِ دین اور تبلیغِ دین تو خصوصاً وہ راستہ ہے جس میں قدم قدم پر آزمائشیں ہیں، اسی سے فرمانبردار و نافرمان، محبت میں سچے اور محبت کے صرف دعوے کرنے والوں کے درمیان فرق ہوتا ہے۔ حضرت نوح علیہ السلام پر اکثر قوم کا ایمان نہ لانا، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا آگ میں ڈالا جانا، فرزند کو قربان کرنا، حضرت ایوب علیہ السلام کو بیماری میں مبتلا کیا جانا، ان کی اولاد اور اموال کو ختم کر دیا جانا، حضرت موسیٰ علیہ السلام کا مصر سے مدین جانا، مصر سے ہجرت کرنا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ستایا جانا اور انبیاء کرام علیہم السلام کا شہید کیا جانا یہ سب آزمائشوں اور صبر ہی کی مثالیں ہیں اور ان مقدس ہستیوں کی آزمائشیں اور صبر ہر مسلمان کے لیے ایک نمونے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ اسے جب بھی کوئی مصیبت آئے اور وہ کسی تکلیف یا اذیت میں مبتلا ہو تو صبر کرے اور اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہے اور بے صبری کا مظاہرہ نہ کرے۔

صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "بہت موٹی سی بات ہے جو ہر شخص جانتا ہے کہ کوئی کتنا ہی غافل ہو مگر جب اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے یا وہ کسی مصیبت اور مرض میں مبتلا ہوتا ہے تو کس قدر خدا کو یاد کرتا اور توبہ و استغفار کرتا ہے اور یہ تو بڑے رتبہ والوں کی شان ہے کہ وہ تکلیف کا بھی اسی طرح استقبال کرتے ہیں جیسے راحت کا استقبال کرتے ہیں مگر ہم جیسے کم سے کم اتنا تو کریں کہ جب کوئی مصیبت یا تکلیف آئے تو صبر و استقلال سے کام لیں اور جزع و فزع یعنی رونا پیٹنا کر کے آتے ہوئے ثواب کو ہاتھ سے نہ جانے دیں اور اتنا تو ہر شخص جانتا ہے کہ بے صبری سے آئی ہوئی مصیبت جاتی نہ رہے گی پھر اس بڑے ثواب جو احادیث میں بیان کیا گیا ہے سے محرومی دوہری مصیبت ہے۔" [بہار شریعت، کتاب الجنائز، بیماری کا بیان، 1/799]

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُصِبْ مِنْهُ". [بخاری، کتاب المرضی، باب شدۃ المرض، 4/4، الحدیث: 5646]

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے تکالیف میں مبتلا کرتا ہے۔"

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَأَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَا يُصِيبُ الْمُسْلِمَ مِنْ نَصَبٍ وَلَا وَصَبٍ وَلَا هَمٍّ وَلَا حُزْنٍ وَلَا أَذًى وَلَا غَمٍّ، حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا، إِلَّا كَفَّرَ اللَّهُ بِهَا مِنْ خَطَايَاهُ". [بخاری، کتاب المرضی، باب ما جاء فی کفارۃ المرض، 4/3، الحدیث: 5641]

حضرت ابو سعید خدری اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "مسلمان کو جو تکلیف، رنج، ملال اور اذیت و غم پہنچے، یہاں تک کہ اس کے پیر میں کوئی کانٹا ہی چبھے تو اللہ تعالیٰ ان کے سبب اس کے گناہ مٹا دیتا ہے۔"

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا رَأَيْتَ أَمْرًا لَا تَسْتَطِيعُ تَغْيِيرَهُ فَاصْبِرْ حَتَّى يُغَيِّرَهُ اللَّهُ تَعَالَى". [فتاویٰ رضویہ، ج: 27]

ابن عدی نے کامل میں اور بیہقی نے شعب میں ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا: "جب تم کوئی ایسا کام دیکھو جس کے بدلنے کی تم طاقت نہیں رکھتے تو صبر کرو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اسے بدل دے۔"

وَمَنْ صَبَرَ فِيهِ كَانَ لَهُ أَجْرُ شَهِيدٍ. [فتاویٰ رضویہ، ج: 24]

کفار کو پیٹھ دے کر بھاگنے والے اور جو اس میں صبر کیے بیٹھا رہے اس کے لیے شہید کا ثواب ہے۔

نیکی اس کا نام نہیں کہ مشرق و مغرب کی طرف منہ کر دو، نیکی تو اس کی ہے جو اللہ عزوجل اور پچھلے دن اور ملائکہ و کتاب و انبیا پر ایمان لایا اور مال کو اس کی محبت پر رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافر اور سائلین کو اور گردن چھڑانے میں دیا اور نماز قائم کی اور زکوٰۃ دی اور نیک وہ لوگ ہیں کہ جب کوئی معاہدہ کریں تو اپنے عہد کو پورا کریں اور تکلیف و مصیبت اور لڑائی کے وقت صبر کرنے والے وہ لوگ سچے ہیں اور وہی لوگ متقی ہیں۔ [سورۃ البقرۃ: 177؛ بحوالہ: بہار شریعت، جلد 1، حصہ 5]

اللہ رب العزت ہمیں کہنے سننے سے زیادہ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین ثم آمین یا رب العالمین۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!