| عنوان: | حافظ ملت کے علمی افادات (قسط: سوم) |
|---|---|
| تحریر: | علامہ محمد احمد مصباحی ناظمِ تعلیمات جامعہ اشرفیہ |
| پیش کش: | زینب ظفر |
| منجانب: | لباب اکیڈمی |
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللّٰهِ صلی اللہ علیہ وسلم
مہمان بحیثیت مہمان کی خاطر و تواضع
بارہا سینکڑوں اور ہزاروں افراد کو حافظ ملت کی قیام گاہ پر دسترخوان میں حاضری کا شرف حاصل ہوا ہوگا۔ وہاں جانے والے مہمانوں کے لیے حضرت بنفس نفیس چائے، پانی، اور گرمی کا موسم ہو تو شربت کا اہتمام کرتے۔ چاہے یہ حاضر ہونے والا، اپنا مرید و شاگرد ہی کیوں نہ ہو اور کمال تو یہ ہے کہ مہمان اگر ان کے کام میں ہاتھ بٹانا، یا کوئی خدمت کرنا چاہتا تو ہرگز گوارا نہ کرتے۔ مولوی عبد الحلیم صاحب بھیروی کے والد عبد الشکور صاحب جو حضرت کے مرید ہیں ایک بار حاضر خدمت ہوئے، چائے اگر پکا کر لائے ہیں، تو گوارا نہ کیا اور فرمایا: “آپ مہمان ہیں۔”
رفیق گرامی مولوی عبد الستار صاحب پرولیاوی بیان کرتے ہیں کہ تعطیل عید کی چھٹی میں جو طلبہ مدرسہ میں رہ جاتے، بعد نماز حضرت ان سب کی دعوت کرتے، سویاں، چائے اور بسکٹ سے ضیافت فرماتے پھر سب کو عیدی دے کر واپس کرتے، یہ ان کا لازمی معمول تھا۔ میں چونکہ کبھی وہاں اس لیے تعطیل عید کے دن مبارک پور میں گزارنے کا اتفاق نہ ہوا (گھوسی مبارک پور سے 7 میل دوری پر ہے) تقریباً ہر ہفتہ گھر پہنچ جاتا تھا۔ تعطیل عید الاضحیٰ میں رکنے کا سوال ہی نہیں ہوتا۔ اس لیے یہ منظر چشم خود دیکھنے کا موقع نہ ملا۔ مولانا عبد الستار صاحب بیان کرتے ہیں حضرت خود اپنے ہاتھوں تمام طلبہ کے سامنے پیالیاں اور ناشتہ پہنچاتے۔ ایک بار میں نے چاہا کہ ذرا ہاتھ بٹاؤں اور پیالیاں طلبہ کے سامنے پیش کرنے کی سعادت حاصل کروں۔ فرمایا: “بیٹھو، میں میزبان ہوں۔” ان گرامی الفاظ سے کچھ ایسی ہیبت طاری ہوئی کہ مزید کوئی ہمت نہ کر سکا اور اپنی جگہ بیٹھ گیا۔
ہم نے کتابوں میں پڑھا تھا کہ امام مالک کے یہاں امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ تحصیل علم کے لیے حاضر ہوئے تو انھوں نے امام شافعی کو مہمان کی جگہ رکھا اور بحیثیت میزبان خود ان کی خدمت انجام دی۔ امام شافعی فرماتے ہیں: “میں اس وقت سخت شرمندہ ہو گیا جب نماز صبح کے وقت میرے استاذ امام مالک نے اپنے ہاتھوں، وضو کا پانی حاضر کیا۔” مگر حافظ ملت کے یہاں بارہ سو برس بعد اس کا عملی نمونہ مشاہدہ میں آتا ہے۔ یہ ہے رسول گرامی وقار صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل اور اسلاف کرام کے اسوۂ حسنہ کی پیروی۔ دور حاضر میں جس کی مثال ملنا بہت مشکل ہے۔ اعزہ و اقربا اور احباب و رفقا کے ساتھ تو کسی حد تک بعض لوگ اس کی پابندی کر لیتے ہوں گے۔ مگر ان مریدین اور تلامذہ کی خدمت جو سامنے زانوئے ادب تہہ کرنے کے عادی اور دست بوسی، قدم بوسی اور اکرام و تعظیم کے مشتاق ہوتے ہیں، انتہائی نادر بلکہ نایاب ہے۔ اور زیادہ مشکل اس کا التزام اور دوام ہے۔ دو چار بار، دس بیس آدمیوں کے ساتھ کوئی شخص چاہے تو ایسا کر سکتا ہے مگر پوری زندگی سختی سے اس پر عمل درآمد، یہی ہے حافظ ملت کا وہ نمایاں اور امتیازی کردار جس کی نظیر ڈھونڈے نہیں ملتی۔
قلت وقت کے باعث اتنے ہی پر اکتفا کرتا ہوں، توفیق الہی نے یاوری کی تو مزید واقعات جلد ہی کسی رسالے میں نذر قارئین کروں گا۔
وَاللّٰهُ الْمُوَفِّقُ لِكُلِّ خَيْرٍ وَهُوَ الْمُسْتَعَانُ وَعَلَيْهِ التُّكْلَانُ
مکتوبات
1۔ 10 شعبان 1389ھ مطابق 23 اکتوبر 1969ء کو اشرفیہ سے میری فراغت ہوئی۔ تعطیل کلاں کے بعد 20 شوال 1389ھ کو خالص پور ادری ضلع اعظم گڑھ کے کچھ لوگ آئے، وہ اپنے مدرسہ بیت العلوم خالص پور میں خدمت تدریس کے لیے مجھے لے جانا چاہتے تھے، والد صاحب نے ان کے اصرار پر اجازت دے دی۔ مگر میں نے حضور حافظ ملت کو اجازت طلبی کا خط لکھا اور اپنی کوتاہیوں، تقصیر اور غلطیوں سے معافی بھی طلب کی، جس کے جواب میں حضرت نے مندرجہ ذیل کرم نامہ تحریر فرمایا۔
786
از دارالعلوم اشرفیہ مبارک پور
محب محترم مولوی محمد احمد صاحب زید مجدکم، دعائے خیر و سلام مسنون!
محبت نامہ ملا۔ آپ کی سعادت مندانہ زندگی اور مخلصانہ، مجاہدانہ روش اس منزل پر ہے کہ میرے حاشیہ خیال میں بھی غلطی اور ناراضگی کا کوئی گوشہ نہیں۔ میں آپ کا مخلص دعا گو ہوں۔ مولائے کریم ہمیشہ بصحت و سلامتی شاد و آباد رکھے، دین متین کی نمایاں و ممتاز خدمات انجام دلائے۔ آمین۔
آپ کے متعلق میرا خیال یہ ہے کہ ابھی آپ اشرفیہ کو کچھ وقت اور دیں تو آپ اور زیادہ پختہ ہو جائیں گے، چناں چہ آپ کے والد صاحب سے میں نے کہا تھا۔
آپ کی اور آپ کے متعلقین کی جو رائے ہو اگر آپ کو خالص پور کی جگہ پسند ہے اور جانا چاہتے ہیں تو میری اجازت ہے۔ اپنے والد صاحب کو سلام کہہ دیجیے۔
فقط عبد العزیز عفی عنہ، 31 شوال 89ھ
اس کے بعد 31 شوال ہی کو تحصیل تعلیم مزید کی خاطر اشرفیہ پہنچ گیا۔ میرے ہم سبق برادر محترم مولانا تاج عالم صاحب بدر القادری زید مجدہ کو بھی یہی حکم ہوا تھا۔ وہ مجھ سے چند دنوں پہلے پہنچ چکے تھے۔ ہم دونوں حضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے تو فرمایا: “آگئے؟” میں نے عرض کیا: “جی ہاں۔” فرمایا: “میں نے کبھی ایک بار ترک تعلیم کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔ صدر الشریعہ کا حکم ہوا کہ ابھی آپ کو مزید پڑھنا ہوگا۔ میں نے تعمیل حکم کی تھی۔ تم لوگوں نے بھی کی۔”
اس سے پہلے کسی موقع پر حضرت نے بیان فرمایا تھا کہ میرے طور پر پریشانیوں کے باعث میں نے بہت ساری کتابیں پڑھنے سے پہلے ہی دورۂ حدیث لینا چاہا۔ صدر الشریعہ نے فرمایا: “تعلیم پوری کرو، خدا حافظ ہے۔” تو خدا نے ایسی حفاظت فرمائی کہ مزید تین سال اجمیر شریف میں گزرے۔ اور اس کے بعد حضرت بریلی تشریف لے گئے تو وہاں بھی حاضر خدمت ہو کر اور ایک سال تعلیم حاصل کی۔
فَالْحَمْدُ لِلّٰهِ عَلَى ذٰلِكَ
2۔ 1 اگست 1970ء / 13 جمادی الاخریٰ 1390ھ کو بحکم حافظ ملت اشرفیہ چھوڑ کر استاذان محترم حضرت مولانا حافظ عبد الرؤف صاحب قبلہ رحمۃ اللہ علیہ اور قاری محمد یحییٰ صاحب قبلہ کی ہمرکابی میں دارالعلوم فیضیہ نظامیہ بابہنگامہ، رشی پور، ضلع بھاگل پور برائے تدریس حاضر ہوا۔ حضرت حافظ جی قبلہ اور قاری صاحب دو تین دن بعد اشرفیہ واپس ہو گئے۔ پھر میں نے حافظ ملت کی خدمت میں اپنی خیریت وغیرہ پر مشتمل ایک عریضہ لکھا۔ جس کے جواب میں منقولہ ذیل کرم نامہ موصول ہوا۔
محب محترم مولوی محمد احمد صاحب زید مجدکم، دعائے خیر و سلام مسنون!
آپ کا خط ملا تھا۔ مصروفیات زیادہ ہیں۔ جواب میں تاخیر ہوئی۔ آپ کی سعادت مندی، سلامت روی، دین پروری سے قوی امید ہے کہ ان شاء اللہ تعالیٰ آپ دین متین کی زیادہ سے زیادہ خدمت کریں گے۔ دعا ہے خداوند کریم آپ کی عمر میں برکت دے، علم و فضل میں وسعت دے، آمین بجاہ حبیب سید المرسلین۔
والدعا۔ عبد العزیز عفی عنہ 13 جمادی الثانی 1390ھ
3۔ 10 شوال 1390ھ کو حضرت کی ملاقات کے لیے اشرفیہ حاضر ہوا مگر 10 تاریخ کو جمعہ تھا، اس لیے بہرحال 11 شوال کی صبح کو دار العلوم فیضیہ نظامیہ پہنچ گیا پھر حضرت 11 کو مبارک پور تشریف لائے، ملاقات نہ ہو سکی۔ میں نے بھی حضرت کو ایک اطلاعی عریضہ لکھ دیا جس کا یہ جواب موصول ہوا۔
از اشرفیہ، مبارک پور 23 شوال 90ھ
محب محترم مولوی محمد احمد صاحب زید مجدکم، دعوات وافرہ و سلام مسنون!
آپ کا خط ملا۔ ملاقات نہ ہوئی، مجھے خوشی ہوئی کہ آپ وقت پر مدرسہ پہنچے۔ مولائے کریم پر صحت و سلامتی شاد و آباد رکھے، زیادہ سے زیادہ دینی خدمات انجام دلائے، مخلصانہ دینی خدمات آخرت کا بہت بڑا سرمایہ ہیں۔ سب سے بڑی بنیادی چیز احساس ذمہ داری ہے۔ جس کو اپنی ذمہ داری کا احساس ہوگا وہ ہمیشہ کامیاب رہے گا۔ میری دعائیں آپ کے ساتھ ہیں۔ خداوند کریم ہمیشہ کامیاب فرمائے۔ آمین۔ محب محترم جناب مولانا شاہد علی صاحب و جناب حاجی صاحب وغیرہ سب احباب کو سلام و دعا۔
فقط عبد العزیز عفی عنہ
4۔ شعبان 1390ھ میں تعطیل کلاں کے بعد مکان پہنچا، اس وقت دارالعلوم فیضیہ نظامیہ کے حالات کچھ ایسے دیکھے کہ میں نے وہاں مزید رہنا مناسب نہ سمجھا، اس وقت حافظ ملت محمد آباد گوہنہ ایک جلسہ میں تشریف لائے تھے۔ ان سے ماجرا کہہ سنایا، اور اپنا خیال ظاہر کر دیا۔ پھر اسی موضوع سے متعلق رمضان شریف میں حضرت کے وطن بھوجپور ضلع مراد آباد کے پتے پر ایک خط لکھا جس کے جواب میں یہ گرامی نامہ موصول ہوا۔
محب محترم جناب مولوی محمد احمد صاحب زید مجدکم، دعوات وافرہ و سلام مسنون!
آپ کا خط ملا جس میں مدرسہ فیضیہ سے مستعفی ہونے کی اجازت طلب کی ہے۔ جو بات تحریر ہے آپ نے وہاں کے حالات اور مستقبل میں مزید خرابی کا اندازہ بتایا تھا۔ اس وقت میں نے آپ سے کہہ دیا تھا کہ آپ کو اختیار ہے۔ وہی اس وقت کہتا ہوں کہ آپ مختار ہیں۔
میں مدرس کا تقرر کرتا ہوں، ہٹاتا نہیں ہوں۔ مدرس اپنی خوشی سے خود چھوڑ دے اسے اختیار ہے۔ میری دعائیں آپ کے ساتھ ہیں۔ اپنے والد صاحب و دیگر احباب سے سلام مسنون کہہ دیجیے، والدعا والسلام۔
فقط عبد العزیز عفی عنہ
5۔ بھاگل پور میں مولانا فضل حق غازی پوری بھی میرے ساتھ مدرس تھے، وہ رمضان شریف میں تراویح پڑھانے جمشید پور جاتے تھے۔ مولانا ارشد القادری صاحب سے انہوں نے میری تدریس کے لیے گفتگو کر لی۔ اور اپنے اصرار سے مجھ کو جمشید پور لے گئے، چند ہی دنوں کے بعد حافظ ملت کا ٹیلی گرام موصول ہوا کہ مولانا عبد الرؤف صاحب انتقال کر گئے۔ اس سانحہ کی خبر پا کر دوسرے تیسرے دن علامہ ارشد القادری مبارک پور پہنچے۔ غالباً انہیں کے ذریعے مجھے حضرت کا یہ گرامی نامہ ملا۔
محب محترم جناب مولوی محمد احمد صاحب زید مجدکم، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
حضرت علامہ ارشد القادری صاحب تشریف لائے۔ فرمایا مولوی محمد احمد، مولوی عبد الستار فیض العلوم میں درس رکھ لیے گئے۔ مجھے یہ معلوم ہو کر بڑی خوشی ہوئی، فیض العلوم بھی اپنا ادارہ ہے، اپنا ہی سمجھ کر محنت سے کام کرنا چاہیے۔ بار بار مدرس اور مدرسہ کی تبدیلی مضر ہے۔ ذوق و اعتماد جاتا رہتا ہے اور کام بھی نہیں ہوتا۔ بزرگوں نے بتایا ہے “یک در گیر محکم گیر” بہرحال آپ جم کر محنت سے کام کریں میری دعائیں آپ کے ساتھ ہیں۔ عزیز مکرم جناب مولوی عبد الستار صاحب کو بہ مضمون واحد سلام و دعا۔
فقط عبد العزیز عفی عنہ
6۔ میں نے بذریعہ ڈاک فیض العلوم میں کار تدریس منظور کر لینے کی خبر حضرت کو دی تھی، اور عرض کیا تھا کہ مولانا عبد الستار صاحب پرولیاوی بھی یہیں ہیں۔ مولانا حافظ فضل حق غازی پوری بھی شہر کے مدرسہ دار القرآن، ذاکر نگر میں مدرس ہیں۔ اس کے جواب میں یہ کرم نامہ دستیاب ہوا۔
از: اشرفیہ، مبارک پور 19 ذو القعدہ 91ھ
محب محترم مولوی محمد احمد صاحب زید مجدکم، السلام علیکم ورحمۃ اللہ!
آپ کا خط ملا۔ اس کا جواب تو جو ہو سکتا تھا میں نے لکھ دیا ہے بہرحال میں آپ کے اور مولوی حافظ فضل حق اور مولوی عبد الستار صاحب سب کے لیے دعا کرتا ہوں کہ مولیٰ تعالیٰ دین کی خدمت کی توفیق بخشے۔ آپ حضرات کی قبول و خدمت سے فیض العلوم کو ترقی ہو بام عروج پر پہنچے۔ آمین۔ سب کو سلام و دعا۔
فقط عبد العزیز عفی عنہ
7۔ میں نے اپنے ادبی ذوق اور عربی جدید کی تحصیل سے متعلق حضرت کو ایک خط لکھا تھا جس کا یہ جواب موصول ہوا۔
8 ذی القعدہ 1392ھ
محب محترم مولوی محمد احمد صاحب زید مجدکم! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
آپ کا محبت نامہ صادر ہو کر مسرت بخش ہوا۔ حصول کمال کا ذوق معلوم ہو کر بڑی خوشی ہوئی۔ مولائے قدیر پوری فرمائے۔ ہر فن میں کمال عطا فرمائے۔ عربی ادب کی خود ہی کوشش کرتے رہیں۔ باہر جانے کا کبھی انتظام ہو جائے گا۔ لیکن اسی سے کم از کم قدیم عربی پر قدرت ہو سکتی ہے۔ اس کے بعد جدید کے لیے بھی کوئی سبیل نکل آئے گی۔
میری دعائیں شامل حال ہیں اور رہیں گی۔ مدرسین و طلبہ اور علامہ ارشد القادری صاحب کو سلام و دعا۔
فقط عبد العزیز عفی عنہ
8۔ میرے لڑکے محمد احمد مرحوم عرف غلام جیلانی نسیم رضا کی طبیعت عرصے سے خراب رہتی تھی۔ اس کے لیے میں نے رمضان شریف 1393ھ میں حضرت سے تعویذ کی درخواست کی۔ اسی خط میں اپنی علمی مصروفیت اور حصول کمال کے لیے اپنی سعی و محنت کا بھی ذکر کر دیا۔ اس کے جواب میں ذیل کا گرامی نامہ اور تعویذات موصول ہوئے۔
23 رمضان 1393ھ
محب محترم جناب مولوی محمد احمد صاحب زید مجدکم، السلام علیکم ورحمۃ اللہ!
یہ جملہ بڑا ہی پیارا تھا کہ حصول کمال کی کوشش کر رہا ہوں۔ خداوند کریم آپ کو باکمال کرے۔ عمر میں برکت، علم و فضل میں وسعت عطا فرمائے، آمین۔ پینے کا تعویذ روانہ ہے۔ بچے کے لیے بھی تعویذ ہے جس پر تانگا بندھا ہے۔
تاخیر جواب کا سبب میری علالت و مصروفیت ہے۔
عبد العزیز عفی عنہ
