| عنوان: | خلائی سفر اور قرآن |
|---|---|
| تحریر: | علامہ مولانا مفتی شریف الحق امجدی |
| پیش کش: | اقصیٰ عطاریہ |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
خلائی کشتیوں کے کارناموں نے دنیا کو ایک بہت اہم موڑ پر لا کھڑا کر دیا ہے۔ لیکن اسے الحاد کی مذہب پر فتح عظیم خیال کرتے ہیں۔ منکرینِ خدا کی جرأتیں اتنی بڑھ گئی ہیں کہ وہ یہ کہہ کر اب اسے انکارِ خالق کی دلیل میں پیش کرتے ہیں۔ خلا باز کا نعرہ پوری دنیا میں گونجا: “میں نے خدا کو بہت تلاش کیا، کہیں نہیں ملا”۔
مجھے سخت حیرت ہے کہ اگر کوئی خلائی کشتی چاند کے قریب پہنچ گئی، یا چاند تک پہنچ جائے، یا بالفرض انسان چاند میں آباد ہو جائے۔ وہاں سے زمین تک رسل و رسائل، آمد و رفت کا باقاعدہ نظام قائم ہو جائے۔ چاند ہی نہیں دیگر تمام سیارے مسخر ہو جائیں۔ سارا نظامِ مشیت انسان کے زیرِ نگیں ہو جائے، اور ان خلا بازوں کو کہیں آسمان نہ ملے۔ اور بقول خلا باز خداوند نہ ملے، فرشتے نہ ملیں تو اس سے مذہب کیسے مفتوح ہو جائے گا، یہ کم از کم مجھ بوریا نشین کی سمجھ سے بالاتر ہے۔ اور مذہب مفتوح ہو جائے تو کیا ہو جائے گا، اسلام کبھی مفتوح نہیں ہو سکتا۔
سائنس کی روزمرہ متبدل معلومات منکرینِ خدا کی پہلی پناہ نہیں بلکہ اس سے پہلے ہی لوگ اس کی آڑ لے کر پرستارانِ خدا و رسول پر ہنسنے بول چکے ہیں لیکن دنیا نے دیکھا کہ اسلام اپنے پورے جاہ و جلال کے ساتھ اپنی جگہ قائم رہا۔ اہلِ سائنس و فلسفہ کو ہزیمت کھانی پڑی۔ آج سے بارہ سو سال پہلے جب بطلمیوس کی سائنس یونانی سے ترجمہ ہو کر عربی زبان میں منتقل ہوئی تو اسی قسم کا زلزلہ آیا تھا۔ علمائے مسلمین نے جب بطلمیوس کے نظریات کا رد شروع کیا، تو بڑی بڑی پھبتیاں کسیں لیکن دنیا نے دیکھا کہ آج خود پرستارانِ فلسفہ نے بطلمیوس کی ساری تحقیق کو افسانۂ پارینہ قرار دے دیا ہے۔
بطلمیوس کہتا تھا: آسمان نو ہیں۔ آج کی سائنس کہتی ہے: آسمان کا کوئی وجود ہی نہیں۔ بطلمیوس کہتا تھا: آسمان گردش کر رہے ہیں، زمین ساکن ہے۔ آج کی سائنس کہتی ہے: زمین حرکت کر رہی ہے۔
بطلمیوس کہتا تھا: تمام ستارے خواہ ثوابت ہوں یا سیارے آسمانوں میں مرکوز ہیں۔ آج کی سائنس کہتی ہے: سب ستارے فضا میں معلق اپنی جگہ محور پر چل پھر رہے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔
بطلمیوس کے مقلدین نے اسلام کو للکارا تھا مگر دنیا نے دیکھا کہ آج کی نئی معلومات نے بطلمیوس کے دفترِ معلومات کے ایک لفظ کو مٹا کر رکھ دیا لیکن اسلام بحمدہٖ تعالیٰ اپنی جگہ قائم رہا۔ اس کے معتقدات غیر متبدل باقی رہے، اس کا ایک لفظ بھی تبدیل نہ ہوا۔
لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِ اللَّهِ [سورۃ الانعام: 34]
اور آج بھی میں پورے یقین کے ساتھ یہ اعلان کرتا ہوں کہ جس طرح بطلمیوس اور فلسفۂ یونان کے توہمات اسلام کا کچھ بگاڑ نہیں سکے۔ اسی طرح روس و امریکہ کے نظریات بھی اسلام کو مٹا نہ سکیں گے۔ اس کے دامن پر ایک چھینٹ بھی نہیں ڈال سکیں گے۔ بلکہ مجھے یہ کہنے میں ذرا بھی جھجک نہیں کہ جس طرح آج کے نظریات نے فلسفۂ بطلمیوس کے جیب و گریباں کا ایک تار بھی نہیں چھوڑا۔ اسی طرح ایک دن آئے گا کہ ان معیارانِ تحقیق کی دھجیاں فضائے بے پناہ میں اڑتی نظر آئیں گی۔
کون نہیں جانتا کہ آج سے ہزارہا سال پہلے حکمائے یونان نے زمین کی گردش کا قول کیا تھا لیکن پھر انہی میں وہ پیدا ہوئے جنہوں نے حرکتِ زمین کا انکار کیا اور آسمان کی گردش کی تھیوری پیش کی اور اس پر اتنا زور دیا کہ ساری دنیا کو یقین کرنا پڑا کہ یہی واقعہ ہے، حتیٰ کہ شرق سے لے کر مغرب تک دنیا کے گوشے گوشے میں گردشِ چرخ، فلکِ دوار کا چرچا جم گیا۔ زمانے نے کروٹ بدلی اور آج یورپین نظریہ بازوں نے اپنی دوربینوں، خردبینوں سے اپنی قوت بھر اچھی طرح دیکھ بھال چھان بین کر کے یہ اعلان کیا کہ آسمان کا وجود ہی نہیں کہ اس کی گردش کا سوال پیدا ہو۔ بس زمین ہی گردش کر رہی ہے اور زمین کی گردش ہماری زندگی کی بنیاد ہے۔
کہنا یہ ہے کہ فلسفہ و سائنس کی تھیوریاں آپس میں ٹکراتی رہی ہیں اور ٹکراتی رہیں گی۔ ان میں رد و بدل ہوتا رہے گا۔ انقلابِ زمانہ کے ساتھ ان کے منظر بدلتے رہے اور بدلتے رہیں گے، مگر اسلام کے معتقدات چودہ سو سال سے اپنی جگہ قائم ہیں۔ قائم رہیں گے، ان میں نہ کوئی تغیر ہو گا، نہ کوئی ترمیم ہو گی اور نہ ہو سکتی ہے۔
ہزار فلسفوں کی چناں چنیں بدلی
نبی کی بات مگر آج تک نہیں بدلی
آج جو طوفان ہے وہ دراصل بعض علماء کی آیات قرآنیہ و احادیث نبوی کی بطلمیوس کے توہمات کے ساتھ مطابقت کی بلا ضرورت کوشش کی وجہ سے ہے۔ مثلاً قرآن مجید میں فرمایا گیا، آسمان کے سات طبق ہیں۔ بطلمیوس نے کہا: آسمان نو ہیں۔ لوگوں نے تطبیق دی، سات آسمان سب کے ہیں، آٹھویں کرسی، نواں عرش ہے۔ اس تطبیق کا حاصل یہ ہوا کہ چاند، سورج، زہرہ، مشتری وغیرہ آسمانوں میں ہیں، یہ بات علماء سے نکل کر عوام میں ایسی پھیلی کہ عوام و خواص کی زبان زد ہو گئی اور علماء کے منہ سے نکلی گئی بات کو عوام نے مذہب کا جز سمجھ لیا، اور آج جب کہ خلائی مشاہدین نے بتایا کہ سیارے آسمان میں نہیں بلکہ زمین کی طرح فضا میں اپنے مرکز پر قائم ہیں۔ تو لوگوں نے ہزاروں سوالات کھڑے کر دیے۔ اسی طرح عام ذہنوں میں یہ بات بیٹھ گئی ہے کہ اللہ عزوجل آسمان میں ہے جس کی عوام میں یہ کفریہ بول عام ہے “نیچے پنچ اوپر خدا”، چاند کے قریب تک پہنچنے والوں کو جب نہ آسمان ملا نہ آسمان میں ملنے والا خدا تو انہوں نے کہہ دیا کہ میں نے خدا کو بہت ڈھونڈا مگر وہ کہیں نہیں ملا۔
لیکن قرآن کریم و احادیث کا مطالعہ کرنے والے اچھی طرح جانتے ہیں کہ قرآن و حدیث میں یہ کہیں نہیں فرمایا گیا کہ چاند و سورج و دیگر سیارے آسمان میں مرکوز ہیں اور نہ کہیں یہ ہے کہ اللہ عزوجل آسمان یا زمین میں اسی طرح ہے جیسے ہم اور آپ رہتے ہیں۔ لہذا اس مزعوم پر اسلام کے اصول پر اعتراض بے حقیقت ہے۔ ہاں! نصوصِ قرآنیہ و ارشاداتِ نبویہ میں اگر کہیں یہ ہوتا کہ چاند و سورج دیگر سیارے اور ستارے آسمان میں مرکوز ہیں یا جڑے ہوئے ہیں اور سیاروں تک پہنچنے کے بعد بھی کہیں آسمان نہ ملتا تو البتہ اسلام کے اصول پر اعتراض درست ہوتا۔ یہ کتنے ظلم کی بات ہے کہ بطلمیوس یا بطلمیوس کی بعض کورانہ تقلید کرنے والوں کی باتوں کو اسلام کے اصول سمجھ کر اسلام کی حقانیت و صداقت کو چیلنج کیا جائے۔ میں پورے وثوق کے ساتھ ساری دنیا کو یہ یقین دلاتا ہوں کہ قرآن و حدیث میں کہیں نہیں کہ سیارے یا ثوابت آسمانوں میں جڑے ہیں یا مرکوز ہیں۔ جو اس کا دعویٰ کرے وہ ثبوت لائے، رہ گئے بطلمیوس کے توہمات وہ نہ اسلام کے معتقدات ہیں اور نہ اس کی صداقت کے ذمہ دار مسلمان ہیں۔
اس سلسلہ میں چند آیتوں کے ظاہر معنی یا غلط معنی لے کر لوگ شور مچا سکتے ہیں۔ اس لیے ان آیات کی اصل مراد واضح کر دیتا ہوں۔
كُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ [سورۃ الانبیاء: 33]
ترجمہ: چاند و سورج وغیرہ فلک میں تیرتے ہیں۔
فلک کے معنی لوگوں نے آسمان کر دیا ہے اور یہی ساری غلط فہمی کی بنیاد ہے۔ اس آیت میں فلک سے مراد آسمان نہیں۔ مدار ہے۔ اب آیت کا ترجمہ یہ ہوا سب اپنے مدار میں تیرتے ہیں۔ سید المفسرین حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
يَدُورُونَ فِي فَلْكَةٍ كَفَلْكَةِ الْمِغْزَلِ
ترجمہ: یہ ایک گولائی میں گھومتے ہیں جو چرخے کے تکلے کے مثل ہے۔
ہر معمولی عقل والا جانتا ہے کہ اگر آیت مذکورہ میں فلک سے مراد آسمان ہوتا تو اس کی تفسیر کی کوئی حاجت نہ تھی۔ کون ہے جو آسمان نہیں جانتا، اس کی تفسیر فَلْكَةٍ كَفَلْكَةِ الْمِغْزَلِ سے کرنا اس پر نصِ قاطع ہے کہ آیت میں فلک سے مراد آسمان نہیں، مدار ہے۔ اسی بنا پر اعلیٰ حضرت قدس سرہ نے اس آیت کا ترجمہ یوں کیا:
“ہر ایک ایک گھیرے میں تیر رہے ہیں”
آیت کا صاف و صریح مطلب یہ ہوا کہ چاند و سورج وغیرہ اپنے اپنے مدار پر چلتے ہیں۔ یہ مدار کہاں ہے؟ آسمان میں ہے، فضا میں ہے، اس کی کوئی تعین اس آیت میں نہیں۔ اگر سیاروں کا مدار آسمان میں ہے، جیسا کہ بطلمیوس کہتا ہے تو بھی آیت کے معنی درست اور اگر فضا میں ہے جیسا کہ آج کے فلاسفہ کہتے ہیں تو بھی صحیح۔ کسی نظریہ کی تھیوری کے معارض نہیں۔ فلسفہ و سائنس کے نظریات بدلتے رہے ہیں اور بدلتے رہیں گے مگر قرآن مجید کا ارشاد اپنی جگہ صادق ہے اور ہمیشہ صادق رہے گا، پیدا کرنے والے نے اپنی خلقت کو رہنے کے لیے جو جگہ دی ہے، اس کو وہی خوب جانتا ہے۔ دوسروں کو علم اگر ہو تو اس کے بتانے سے، ورنہ سوائے اٹکل پچو سوچنے کے اور کچھ نہیں۔
چاند و سورج اور ستاروں کے آسمان میں ہونے پر یہ استدلال کیا جاتا ہے۔ ایک آیت میں فرمایا:
وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ [سورۃ الملک: 5]
ترجمہ: ہم نے آسمان کو چراغوں سے زینت دی۔
اس آیت سے سطح بیں یہ دلیل لاتے ہیں کہ ستارے آسمان میں ہیں لیکن دقیقہ رس نظریں جانتی ہیں کہ اس آیت سے یہ قطعاً لازم نہیں کہ ستارے آسمان میں پیوست ہیں یا جڑے ہوئے ہیں یا لگے ہوئے ہیں، زینت دینے کے لیے مرکوز ہونا، جڑا ہونا، ٹکا ہونا لازم نہیں۔
اس کو یوں سمجھئے کہ ایک محل بیچ باغ کے ہے۔ پودے محل کی دیواروں پر، چھتوں پر اگے ہوئے نہیں ہیں، مگر کوئی عاقل یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ اس کی زینت نہیں۔ جس طرح باغ کے پودوں اور محل کے درمیان فاصلہ ہوتے ہوئے بھی باغ محل کی زینت ہے اسی طرح ستارے اگر آسمان سے علاحدہ دور ہوں، مگر چونکہ ان کی چمک دمک رات میں آسمان میں ایک دلکش منظر پیدا کرتی ہے اور دیکھنے میں یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ ستارے آسمان میں لٹکے ہوئے ہیں۔ اس لیے یہ فرمانا بالکل درست ہے:
وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ [سورۃ الملک: 5]
ترجمہ: ہم نے آسمان کو چراغوں سے زینت دی۔
دیکھنے میں یہ آسمان کی زینت ہیں اور یہی آیت سے مراد ہے دوسری آیت سے اور واضح ہوتا ہے۔ فرمایا گیا:
وَزَيَّنَّاهَا لِلنَّاظِرِينَ [سورۃ الحجر: 16]
ترجمہ: اور ہم نے اسے مزین فرمایا دیکھنے والوں کے لیے۔
دیکھنے والوں کی تقیید اس کا فائدہ دیتی ہے کہ ستاروں کا آسمانوں کے لیے زینت ہونا ہمارے دیکھنے میں ہے، اس سے کسے انکار ہے کہ رات میں نیل گوں آسمان میں یہ ستارے اپنی جگ مگ سے آراستہ پیراستہ انجمن معلوم ہوتے ہیں۔
غرض کہ مزین کرنے سے آسمان میں مرکوز ہونا، جڑا ہوا ہونا حتیٰ کہ ٹکا ہوا ہونا مراد نہیں بلکہ آیت ثانیہ وَزَيَّنَّاهَا لِلنَّاظِرِينَ کی روشنی میں مراد یہ ہے کہ دیکھنے والوں کی نظر میں ستارے آسمان خصوصاً پہلے آسمان کی زینت ہیں۔ رہ گئی ان کی جگہ کہاں ہے، اس پر آیت کی کوئی دلالت نہیں۔
اس مقام پر سب سے بڑا استدلال ان آیتوں سے پیش کیا جاتا ہے۔ فرمایا:
تَبَارَكَ الَّذِي جَعَلَ فِي السَّمَاءِ بُرُوجًا وَجَعَلَ فِيهَا سِرَاجًا وَقَمَرًا مُنِيرًا [سورۃ الفرقان: 61]
ترجمہ: پاک ہے وہ ذات! جس نے آسمان میں بروج بنائے اور ان میں چراغ (سورج) اور روشن چاند پیدا کیے۔
اور اس قسم کی وہ کثیر آیتیں جن میں یہ مذکور ہے کہ آسمان میں چاند اور سورج بنائے ہیں۔ لیکن قرآن کریم کے اسلوبِ بیان اور لغات پر نظر رکھنے والا جانتا ہے کہ “سماء” کے معنی قرآن کریم میں بلکہ لغتِ عرب میں صرف آسمان کے نہیں، “سماء” کے اصل معنی بلندی ہیں اور بادل یا آسمان اس کے معنی ثانی ہیں۔ چونکہ بادل اور آسمان اوپر ہی ہوتے ہیں اس لیے ان کو بھی “سماء” کہا جاتا ہے۔ متعدد جگہ قرآن کریم میں “سماء” آسمان کے علاوہ دوسرے معنی میں وارد ہے۔
سورۃ بقرہ کے تیسرے رکوع میں ہے:
وَأَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً [سورۃ البقرۃ: 22]
اور سورۃ بقرہ کے بیسویں رکوع میں ہے:
وَمَا أَنْزَلَ اللَّهُ مِنَ السَّمَاءِ مِنْ مَاءٍ [سورۃ البقرۃ: 164]
ترجمہ: اور اللہ نے بلندی یعنی بادل سے پانی برسایا۔
“سماء” کا معنی تفسیر صاوی میں ہے:
قَوْلُهُ مِنَ السَّمَاءِ أَيِ اللُّغَوِيَّةِ وَهِيَ: مَا عَلَا وَارْتَفَعَ وَالْمُرَادُ السَّحَابُ.
ترجمہ: سماء کے معنی یہی لغوی ہیں - یعنی جو اوپر ہو اور بلند ہو اور مراد بادل ہے۔
علاوہ ازیں لغت کی مشہور و مستند کتاب المنجد میں ہے:
اَلسَّمَاءُ: مَا نُشَاهِدُهُ فَوْقَنَا كَقُبَّةٍ زَرْقَاءَ مُحِيطَةٍ بِالْأَرْضِ. مَا يُحِيطُ بِالْأَرْضِ مِنَ الْفَضَاءِ الْوَاسِعِ. كُلُّ مَا عَلَاكَ. رُوَاقُ الْبَيْتِ. سَقْفُ كُلِّ شَيْءٍ. ظَهْرُ الْفَرَسِ. الْمَطَرُ. السَّحَابُ.
سماء کے معنی مندرجہ ذیل ہیں: (1) وہ نیل گوں گنبد جو زمین کو گھیرے ہے جسے ہم اپنے اوپر دیکھتے ہیں (2) یہ کشادہ فضا جو زمین کو گھیرے ہے (3) ہر وہ چیز جو تیرے اوپر ہو (4) گھر کا پردہ (5) چھت (6) گھوڑے کی پیٹھ (7) بارش (8) بادل۔
جب سماء اتنے معنوں میں مشترک ہے، اور صرف آسمان کے معنی میں منفرد نہیں - نیز قرآن کریم میں سماء بمعنی بلندی اور بادل مستعمل ہے تو ان آیات میں جن میں یہ ذکر ہے کہ “چاند و سورج سماء میں بنائے” اس سے آسمان مراد لینا متعین نہیں، بمعنی بلندی اور فضائے محیط بھی ہو سکتا ہے - پس اگر خلائی کشتی کے مشاہدین کی بات صحیح ہے کہ چاند آسمان میں نہیں فضا میں ہے تو وہ ان آیات کے معارض نہیں اس لیے کہ بر تقدیرِ صدق قائل “سماء” سے مراد فضائے بسیط ہوگی اور آیت کے معنی یہ ہوں گے “پاک ہے وہ ذات! جس نے فضائے بسیط میں بروج بنائے، اور اس میں چاند و سورج بنائے”۔
یا “سماء” کے معنی مطلق بلندی کے لو تو اب یہ معنی ہوئے “پاک ہے وہ ذات! جس نے بلندی میں بروج بنائے اور اس میں چاند و سورج پیدا فرمائے” - بلندی کا مفہوم دونوں صورتوں میں صادق ہے، خواہ ستارے آسمان میں ہوں، خواہ فضا میں۔
رہ گیا یہ سوال کہ آسمان ہے کہاں؟ اس سوال کا جواب بھی ہمارے ذمہ ضروری نہیں، اس لیے کہ ہر شخص جانتا ہے کہ کسی چیز کی جگہ معلوم نہ ہونے سے اس کا عدم لازم نہیں۔ ہزاروں آدمیوں کو آپ بازاروں میں دیکھتے ہیں، پھر وہ اپنے گھر چلے جاتے ہیں، دوسرے دن پھر آتے ہیں، آپ کو یہ معلوم نہیں کہ درمیانی زمانہ میں یہ کہاں رہے مگر پھر بھی آپ یہ یقین کرتے ہیں کہ یہ درمیانی وقت میں موجود تھے۔ اسی طرح اگر بالفرض یہ معلوم نہ ہو کہ آسمان کہاں ہے، تو اس سے آسمان کے وجود پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ لیکن یہاں ایسا بھی نہیں نظر آتا اور اس لیے یہ نیل گوں فضا جو ہم دیکھتے ہیں، آسمان ہے۔ ارشاد ہے:
أَفَلَمْ يَنْظُرُوا إِلَى السَّمَاءِ [سورۃ ق: 6]
ترجمہ: کیا یہ آسمان کو نہیں دیکھتے۔
رہ گیا یہ ہم سے کتنی دور ہے - یہ اگر ہمیں معلوم نہ ہو تو اس سے بھی اس کے وجود پر کیسے جرح کی جا سکتی ہے۔ ہاں! ایسی چوٹیاں ہم میں سے ہزاروں انسان میلوں کی دوری سے دیکھتے ہیں، گر درمیانی مسافت کسی کو نہیں معلوم! تو اس سے ایسی بلند و بالا چوٹیوں کے وجود سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ جیسے میدانوں میں دور دراز کی بستی اندھیرے میں جھلکتی ہے۔ یہ معلوم نہ ہو کہ وہ کتنی دور ہے، تو کیا فاصلہ معلوم نہ ہونے کی بنیاد پر کوئی دانش مند اس کے وجود سے انکار کر سکتا ہے؟ اگر نہیں اور ہرگز نہیں تو اگر ہمیں زمین سے آسمان کے فاصلے کی مقدار معلوم نہیں تو ہم یا کوئی عقل والا آسمان کے وجود سے انکار نہیں کر سکتا۔
ان ساری باتوں کا خلاصہ یہ ہوا:
-
چاند یا دیگر سیاروں تک پہنچا جانا عقلاً ممکن اور شرعاً واقع ہے۔
-
شرعی طور پر یہ متعین نہیں کہ چاند و سورج آسمان میں مرکوز یا جڑے ہوئے ہیں۔
-
شرعی طور پر یہ قطعی ثابت نہیں کہ آسمان زمین سے کتنے فاصلے پر ہے۔
-
جن آیتوں کے ظاہر سے متبادر ہوتا ہے کہ چاند و سورج “سماء” میں ہیں - ان میں سماء کے معنی بلندی کے ہیں، یا فضائے بسیط کے۔
میں نے باوجود ہزاروں مصروفیات کے اور مشکلوں کے بعد یہ مختصر سی توضیح ناظرین کے سامنے عرض کر دی ہے - علماء سے اصلاح کا طالب ہوں، اور دیگر طبقے کے حضرات سے اس پر کمال غور و خوض کا - اس سلسلے میں ہر شک کے جواب کے لیے یا بصورتِ وضوحِ حق، حق قبول کرنے کے لیے حاضر ہوں۔
اس مضمون کا یہ بھی مطلب نہیں کہ میں نے خلائی بلند حوصلہ مسافرین کی ہر بات کو واقعی تسلیم کر لیا ہے - بلکہ ان میں بحث کی بہت کچھ گنجائش ہے، جس کے لیے مجھے بات بڑھانے کی ضرورت نہیں - آئندہ خود ساری دنیا سنے گی، اور دیکھے گی - لیکن عام لوگ چونکہ اس سے متاثر ہیں اور طرح طرح کے سوالات کر رہے ہیں - اس لیے میں نے خلائی پیمائوں کی باتوں کو بفرضِ محال مانے ہوئے یہ کلام کیا ہے۔
لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَلِكَ أَمْرًا
حواشی
(1) یہ مضمون ابتدائی کاوش ہے - بعد میں، میں نے اسی موضوع پر “اسلام اور چاند کا سفر” تصنیف کی، جس میں قابلِ انکار دلائل سے ثابت کیا کہ چاند، سورج، اور جملہ ستارے آسمان کے نیچے ہیں - اور اس پر ہونے والے جملہ شبہات کے جوابات درج ہیں - ان دلائل کا خلاصہ یہ ہے کہ “تفسیر مدارک” میں فلک کی تفسیر میں ہے:
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ الْمُرَادَ بِالْفَلَكِ السَّمَاءُ، وَالْجُمْهُورُ عَلَى أَنَّ الْفَلَكَ مَوْجٌ مَكْفُوفٌ تَحْتَ السَّمَاءِ تَجْرِي فِيهِ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُومُ.
ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ فلک سے مراد آسمان ہے - اور جمہور کا مذہب یہ ہے کہ فلک سے مراد “موج مکفوف” ہے جو آسمان کے نیچے ہے، جس میں سورج، چاند وغیرہ تارے چلتے ہیں۔
جمہور اور حضرت ابن عباس کا اختلاف اس میں ہے کہ اس آیت میں فلک کا کیا معنی ہے؟ آسمان یا موج مکفوف - مگر وہ بھی اسی کے قائل ہیں کہ چاند و سورج و ستارے آسمان کے نیچے ہیں۔
چنانچہ عینی اور فتح الباری میں اسی آیت کی تفسیر میں ان سے منقول ہے:
أَيْ يَدُورُونَ حَوْلَهُ
“یہ سب اس (آسمان) کے گرد گھومتے ہیں”، اور یہ متعین ہے کہ گرد سے مراد آسمان کا اوپری حصہ نہیں - اس لیے کہ خود انہی حضرت ابن عباس اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہم سے دوسری روایت یہ ہے:
إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وُجُوهُهُمَا مِمَّا يَلِي السَّمَاوَاتِ وَظُهُورُهُمَا مِمَّا يَلِي الْأَرْضَ. [مدارک]
چاند و سورج کے چہرے آسمان کی طرف ہیں اور ان کی پیٹھ زمین کی طرف - یہ اسی وقت درست ہوگا کہ چاند و سورج آسمان کے نیچے ہوں۔
علاوہ ازیں حسان بن عطیہ فرماتے ہیں:
اَلشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُومُ مُسَخَّرَةٌ فِي فَلَكٍ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ. [در منثور: ص 31]
سورج، چاند، ستارے، آسمان و زمین کے مابین ایک گھیرے میں مسخر ہیں - اسی میں ابن زید سے ہے کہ انہوں نے "كُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ" کی تفسیر میں فرمایا:
اَلْفَلَكُ الَّذِي بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ مَجَارِي النُّجُومِ وَالشَّمْسِ وَالْقَمَرِ.
زمین و آسمان کے درمیان وہ گھیرا ہے جو ستارے اور سورج چاند کی گزرگاہ ہے۔
ستاروں کے بارے میں حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کا قول ہے:
اَلنُّجُومُ مُعَلَّقَةٌ بِالْقَنَادِيلِ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ كَتَعْلِيقِ الْقَنَادِيلِ فِي الْمَسَاجِدِ. [فتح الباري: ص 282، ج 13]
ستارے پہلے آسمان اور زمین کے درمیان قندیلوں میں اس طرح لٹکے ہوئے ہیں جیسے مسجدوں میں قندیلیں ہوتی ہیں۔
تفسیر کبیر میں عطاء خراسانی کا قول ہے:
إِنَّهَا فِي قَنَادِيلَ مُعَلَّقَةٍ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ بِسَلَاسِلَ مِنَ النُّورِ وَذَلِكَ سَلَاسِلُ فِي أَيْدِي الْمَلَائِكَةِ. [ج: 8، ص: 138]
ستارے زمین و آسمان کے درمیان نورانی زنجیروں میں لٹکی ہوئی قندیلوں کے اندر ہیں اور یہ زنجیریں فرشتوں کے ہاتھوں میں ہیں۔
اور یہی مضمون حضرت ابن عباس و ابن عمر رضی اللہ عنہم سے تفسیر عزیزی میں بھی منقول ہے۔
یہ نصوص اس پر دلیل ہیں کہ صحابہ کرام اور تابعین عظام رحمہم اللہ کا اس پر اتفاق ہے کہ چاند و سورج اور ستارے آسمان کے نیچے ہیں۔
