| عنوان: | حیا اور پردہ خواتین اور مردوں کی عزت و وقار کا ذریعہ (قسط: دوم) |
|---|---|
| تحریر: | سمیر احمد فیضی ازہری |
| پیش کش: | محمد بلال قادری |
| منجانب: | جامعۃ المدینہ فیضان عطار ناگپور |
اس مقصد کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے سورۃ الاحزاب میں مزید تاکید کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِهِنَّ.
[سورۃ الاحزاب: 59]
(ترجمہ) اے نبی! اپنی بیویوں، بیٹیوں اور مومن عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی چادروں کو اپنے اوپر ڈال لیا کریں، تاکہ وہ پہچان لی جائیں اور انہیں تکلیف نہ دی جائے۔
یہ آیتِ کریمہ پردے کی حکمت اور فلسفہ کو واضح کرتی ہے کہ یہ عورت کے تحفظ، اس کی عزت و حرمت کی پاسداری، اور معاشرتی بگاڑ کے سدِ باب کے لیے ضروری ہے، تاکہ اسلامی معاشرے میں پاکیزگی، حیا، اور تقویٰ کی فضا قائم رہے۔
اسی حقیقت کو نبی کریم ﷺ نے اپنی مبارک احادیث میں بھی نہایت واضح اور جلی انداز میں بیان فرمایا ہے۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
الْمَرْأَةُ عَوْرَةٌ، فَإِذَا خَرَجَتِ اسْتَشْرَفَهَا الشَّيْطَانُ.
[سنن الترمذي، حدیث نمبر: 1173]
(ترجمہ) عورت سراپا پردہ ہے، جب وہ باہر نکلتی ہے تو شیطان اس پر نظریں گاڑ دیتا ہے۔
یہ حدیثِ مبارک عورت کی فطری نزاکت اور اس کے فتنے میں مبتلا ہونے یا فتنے کا سبب بننے کی نفسیاتی حقیقت کو اجاگر کرتی ہے، اور اسے اس امر پر متنبہ کرتی ہے کہ اس کا اصل مقام حجاب و ستر، اور حیاداری و وقار ہے، نہ کہ بے حجابی، اختلاط، اور عریانی۔
مزید برآں، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا ایک قول اس حقیقت کو مزید واضح کرتا ہے، چنانچہ وہ فرماتی ہیں:
فَوَاللَّهِ مَا دَخَلْتُهُ إِلَّا وَأَنَا مَشْدُودَةٌ عَلَيَّ ثِيَابِي حَيَاءً مِنْ عُمَرَ.
[مسند احمد، حدیث نمبر: 25703]
(ترجمہ) میں نبی کریم ﷺ اور والد ابو بکر رضی اللہ عنہ کی قبر کے پاس (آزادانہ آتی جاتی تھی)، لیکن جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی تدفین وہاں ہوئی تو میں ہمیشہ مکمل حجاب میں رہتی، کیونکہ مجھے ان سے حیا آتی تھی۔
یہ روایت نہایت لطیف انداز میں پردے کی فطری ضرورت کو اجاگر کرتی ہے کہ ایک حیادار عورت حتیٰ کہ قبر میں مدفون شخص سے بھی حیا محسوس کرتی ہے، تو وہ کیسے کسی غیر محرم کے سامنے بے پردہ ہو سکتی ہے؟
یہ تمام دلائل اس امر پر قطعی دلالت کرتے ہیں کہ پردہ محض ایک ثقافتی روایت یا معاشرتی رسم نہیں، بلکہ ایک شرعی فریضہ اور ایمان کا تقاضا ہے، جو عورت کی عزت و وقار، عفت و عصمت، اور طہارتِ کردار کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ پس ضروری ہے کہ مسلم خواتین شریعت کے اس حکم کو پوری دیانت و اخلاص کے ساتھ اپنائیں اور ہر اس چیز سے اجتناب کریں جو ان کی عفت، عزت، اور عصمت کے لیے ضرر رساں ہو، تاکہ اسلامی معاشرہ پاکیزگی، اخلاقی رفعت، اور فتنہ و فساد سے محفوظ رہ سکے۔
حیا اور پردہ اسلامی تہذیب و شریعت کے وہ اساسی اصول ہیں جو نہ صرف فرد کی عفت و عصمت کے محافظ ہیں بلکہ اجتماعی طہارت، اخلاقی رفعت اور معاشرتی امن کے ضامن بھی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں مردوں کو حکم دیا:
قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ.
[سورۃ النور: 30]
(ترجمہ) مومن مردوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نظریں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزہ ہے۔
نیز، رسول اللہ ﷺ نے مردوں کے پردے کی حدود متعین کرتے ہوئے فرمایا:
لَا يَنْظُرُ الرَّجُلُ إِلَىٰ عَوْرَةِ الرَّجُلِ وَلَا الْمَرْأَةُ إِلَىٰ عَوْرَةِ الْمَرْأَةِ.
[صحیح مسلم، حدیث نمبر: 338]
(ترجمہ) کوئی مرد دوسرے مرد کی شرمگاہ کی طرف نہ دیکھے، اور نہ ہی کوئی عورت دوسری عورت کی شرمگاہ کی طرف دیکھے۔
یہ احکام مردوں کے لیے بھی شرم و حیا، ستر پوشی اور عفت و عصمت کی حفاظت کو لازم قرار دیتے ہیں، تاکہ اسلامی معاشرہ پاکیزگی، اخلاقی وقار اور ہر قسم کے فتنہ و فساد سے مامون رہے۔
آخر میں، میں حیا اور پردے کے فوائد پر مختصر روشنی ڈالنا چاہتا ہوں:
عفت و عصمت: حیا اور پردہ فواحش و منکرات سے بچاؤ کا مضبوط قلعہ ہے، جو طہارتِ نفس اور پاکدامنی کو یقینی بناتا ہے۔
معاشرتی استحکام: بے پردگی اور بے حیائی فساد و انارکی کا موجب بنتی ہیں، جبکہ پردہ امن، وقار اور اجتماعی سکون کا ضامن ہے۔
خاندانی استحکام: حیا ازدواجی زندگی میں وفاداری، اعتماد اور مودّت کو فروغ دیتی ہے، جس سے خانگی نظام مضبوط ہوتا ہے۔
جرائم کی بیخ کنی: حیا اور پردہ زنا، اختلاطِ مرد و زن، اور چھیڑ چھاڑ جیسے اخلاقی زوال کے دروازے بند کر دیتا ہے۔
نفسیاتی طمانیت: حیادار افراد عزتِ نفس اور روحانی سکون سے بہرہ مند ہوتے ہیں، جو قلبی راحت و وقار کا ذریعہ بنتا ہے۔
خلاصۂ کلام: حیا اور پردہ محض شرعی احکام ہی نہیں، بلکہ فطرتِ انسانی کے عین مطابق اور معاشرتی فلاح و بقا کے ضامن ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حیا اور پردے کی کامل پاسداری کی توفیق مرحمت فرمائے، تاکہ ہم عزت و شرف کے ساتھ زندگی بسر کر سکیں، آمین!
[سہ ماہی القلم، شمارہ (11) رمضان المبارک تا ذو القعدہ 1446ھ، ص 108 تا 112]
