| عنوان: | حیا اور پردہ خواتین اور مردوں کی عزت و وقار کا ذریعہ (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | سمیر احمد فیضی ازہری |
| پیش کش: | محمد بلال قادری |
| منجانب: | جامعۃ المدینہ فیضان عطار ناگپور |
حیا اور پردہ دینِ اسلام کے نہایت مستحکم اور غیر متبدل اخلاقی اصولوں میں سے ہیں، جو فرد کی طہارتِ قلب و باطن، تزکیۂ نفس، اور روحانی بلندی کے ساتھ ساتھ معاشرتی عفت و عصمت، شرافت و نجابت، اور وقار و شائستگی کے قیام و استحکام میں انتہائی مؤثر اور بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ شریعتِ مطہرہ نے کتاب و سنت کے ذریعے ان کی تاکید و تلقین میں کسی قسم کی گنجائش باقی نہیں چھوڑی، بلکہ ان کی اہمیت کو بار بار اجاگر کیا، تاکہ اسلامی معاشرہ ہر قسم کی فحاشی، عریانی، بے حیائی اور اخلاقی انحطاط سے محفوظ رہے، اور اس میں وہ اعلیٰ اخلاقی اقدار، تقویٰ و طہارت، حیا و پاکدامنی، اور عفت و عصمت کی روح مستحکم ہو، جو ایک صالح، مہذب اور باوقار اسلامی تمدن کے قیام کے لیے ناگزیر ہیں۔
یہی وہ صفاتِ حمیدہ ہیں جو انسان کے اخلاق و کردار میں استحکام اور صلابت پیدا کرتی ہیں، اس کے باطن کو شیطانی وساوس، نفسانی خواہشات، اور مفسدانہ اثرات کی آلودگی سے محفوظ رکھتی ہیں، اور پورے معاشرے میں اخوت، طہارت، عفت اور نیکی کے فروغ کا مؤثر ذریعہ بنتی ہیں۔ گویا حیا انسان کی فطرتِ سلیمہ اور شرفِ انسانی کا لازمی تقاضا ہے، اور جب یہی صفت کمزور پڑ جائے تو انسان خیر و شر کی تمیز کھو بیٹھتا ہے اور گناہوں کی تاریکی میں جا گرتا ہے۔ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآنِ حکیم میں حیا کو اہلِ ایمان کی امتیازی صفت قرار دیا اور ارشاد فرمایا:
إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي أَنْ يَضْرِبَ مَثَلًا مَا بَعُوضَةً فَمَا فَوْقَهَا.
[سورۃ البقرہ: 26]
(ترجمہ) بے شک اللہ اس بات سے نہیں شرماتا کہ وہ (حق واضح کرنے کے لیے) مچھر یا اس سے بھی کمتر کسی چیز کی مثال بیان کرے۔
یہاں "حیا" کے ذکر سے یہ اصول مستنبط ہوتا ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ دینِ متین کے احکام بیان کرنے میں کسی ملامت، شرم یا جھجک کا شکار نہیں ہوتا، پس مخلوق کو بھی لازم ہے کہ وہ شرم و حیا کو اپنا شعار بنا کر دینِ حنیف کے جملہ احکام پر بلا تردد عمل پیرا ہو، کیونکہ جس دین کے احکام میں کسی قسم کی کمزوری یا نرمی نہیں، اس کے پیروکاروں کو بھی لازم ہے کہ وہ اپنی عملی زندگی میں اس مضبوطی اور وقار کا مظاہرہ کریں۔ اسی لیے نبی اکرم ﷺ نے حیا کو ایمان کا جزوِ لاینفک قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:
اَلْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الْإِيمَانِ.
[صحیح البخاری، حدیث نمبر: 9]
(ترجمہ) حیا ایمان کا ایک حصہ ہے۔
یعنی ایمان اور حیا لازم و ملزوم ہیں، اگر انسان میں حیا ہے تو اس کے ایمان میں استحکام ہے، اور اگر حیا زائل ہو جائے تو ایمان کا باقی رہنا بھی دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس حقیقت کو ایک اور جامع ارشاد میں یوں بیان فرمایا:
إِذَا لَمْ تَسْتَحِ فَاصْنَعْ مَا شِئْتَ.
[صحیح البخاری، حدیث نمبر: 3483]
(ترجمہ) جب تم میں حیا نہ رہے تو جو چاہے کرو۔
یہ حدیثِ مبارک اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ حیا انسان کو رذائل و قبائح سے باز رکھنے والی ایک مضبوط فطری رکاوٹ ہے، اور جب یہ وصف زائل ہو جاتا ہے تو انسان سے حسن و قبح، خیر و شر، اور معروف و منکر کی تمیز اٹھ جاتی ہے، اور وہ اس حدیثِ نبوی کی عملی تفسیر بن جاتا ہے جو بقولِ اہلِ فارس یوں بیان کی گئی ہے: ”بے حیا باش و آنچہ خواہی کن“ یعنی جب حیا ختم ہو جائے تو جو چاہے کر گزر، کوئی روکنے والا نہیں!
یہ مقولہ در حقیقت نبی کریم ﷺ کے مذکورہ فرمان ہی کی ترجمانی کرتا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ جب انسان حیا کو ترک کر دے، تو پھر اس کے لیے گناہ اور بداعمالی کے دروازے کھل جاتے ہیں، وہ کسی قید و بند کا پابند نہیں رہتا، نہ ہی کسی خیر و شر کی پرواہ کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی تعلیمات میں حیا کو بنیادی اخلاقی اصولوں میں شمار کیا گیا ہے، اور اسے ایمان کے لیے لازم و ملزوم قرار دیا گیا ہے، کیونکہ جہاں حیا ختم ہو جاتی ہے، وہاں شرافت، عزت، عفت، اور نیکی کے تمام اصول دم توڑ دیتے ہیں۔
لہذا، ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنی زندگی میں حیا کو راسخ کرے، کیونکہ یہی وصف انسان کو ذلت و رسوائی سے محفوظ رکھتا ہے اور اسے کامیابی و نجات کی راہ پر گامزن کرتا ہے۔ حیا در حقیقت انسان کے روحانی و اخلاقی وقار کی ضمانت ہے، اور جب تک یہ صفت باقی رہے، انسان اپنی حدود میں رہ کر زندگی بسر کرتا ہے، لیکن اگر یہ ختم ہو جائے، تو وہ بے راہ روی، گناہ اور تباہی کے دہانے پر جا پہنچتا ہے۔ پس لازم ہے کہ فرد اور معاشرہ، دونوں، حیا اور پردے کی ان اسلامی تعلیمات کو اپنی عملی زندگی میں راسخ کریں، جنہیں شارعِ حکیم نے عزت و وقار، طہارتِ اخلاق، اور تحفظِ ناموس کے ضامن کے طور پر متعین فرمایا ہے، تاکہ دین و دنیا کی فلاح و کامرانی مقدر بن سکے۔
اسی اصول کے تحت شریعتِ مطہرہ نے عورت کے لیے پردے کو واجب اور لازم قرار دیا، تاکہ وہ صنفِ نازک ہونے کے باوجود کسی भी قسم کی آفت، فتنہ و فساد، اور شیطانی ترغیب و تحریص سے محفوظ و مامون رہے۔ قرآنِ کریم اور احادیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں اس حوالے سے متعدد فرامینِ مبارکہ وارد ہوئے ہیں، جو پردے کی فرضیت، اس کی حکمت، اور اس کے فوائد پر صریح دلالت کرتے ہیں۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے سورۃ النور میں مؤمن عورتوں کو واضح الفاظ میں پردے کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:
وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا.
[سورۃ النور: 31]
(ترجمہ) اور ایمان والی عورتوں سے کہو کہ وہ اپنی نظریں نیچی رکھیں، اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں، سوائے اس کے جو از خود ظاہر ہو۔
یہ آیتِ مبارکہ عورت کے لیے حیادار طرزِ زندگی کو لازم قرار دیتی ہے اور اسے ہر اس رویے سے اجتعناب کا حکم دیتی ہے جو اس کے نسوانی وقار، عفت و عصمت، اور شرم و حیا کے منافی ہو۔
[سہ ماہی القلم، شمارہ (11) رمضان المبارک تا ذو القعدہ 1446ھ، ص 105 تا 108]
