| عنوان: | حضرت آسی کی شاعری کا اعتقادی و اصلاحی رنگ (قسط: دوم) |
|---|---|
| پیش کش: | محمد حیدر علی |
واعظو! اس کو دیکھ لو پہلے
پھر کہو حور کیا ہے جنت کیا
[ص: 104]
یادِ نبی اور حسرت و تمنا
وہاں پہنچ کے یہ کہنا صبا سلام کے بعد
کہ تیرے نام کی رٹ ہے خدا کے نام کے بعد
[ص: 115]
نہ میرے دل، نہ جگر پر، نہ دیدۂ تر پر
کرم کرے وہ نشانِ قدم تو پتھر پر
[ص: 120]
صلاحیت بھی تو پیدا کر اے دلِ مضطر
پڑا ہے نقشِ کفِ پاے یار پتھر پر
[ص: 120]
اخیر وقت ہے آسیؔ چلو مدینے کو
نثار ہو کے مرو تربتِ پیمبر پر
[ص: 120]
وصفِ رخِ انور و شمیمِ روح پرور
پرتوِ عارض ہے دریا نور کا
زلفِ صحرا ہے سکندرپور کا
[ص: 107]
تمہارے حسن کی تصویر کوئی کیا کھینچے
نظر ٹھہرتی نہیں عارضِ منور پر
[ص: 120]
وہ جسم تھا یا کوئی گلِ تر، شمیم جس کی وہ روح پرور
جدھر سے گزرے بسا وہ رستہ، بہا پسینہ گلاب ہو کر
[ص: 119]
امیدِ مغفرت، نازِ بندگی اور قوتِ رجا
واعظا! مرا معاملہ میرے خدا کو سونپ
بندہ گناہ گار، وہ آمرزگار ہے
[ص: 189]
اعمال کی پرسش تجھے، ہم کو یہ تفتّش
رحمت تری بڑھ کر ہے کہ تقصیر ہماری
[ص: 184]
نہ ستاری کو شرم آئے نہ غفاری کو غیرت ہو
قیامت میں ترا بندہ ترے آگے فضیحت ہو
[ص: 156]
گناہ گار کی سن لو تو صاف صاف یہ ہے
کہ لطفِ رحم و کرم کیا پھر انتقام کے بعد
[ص: 115]
اصل مطلوب دیدارِ باری و رضاے الٰہی، نہ حصولِ جنت و دوریِ جہنم
مری نظروں میں تو ہو، ڈر ترا، تیری محبت ہو
نہ دنیا ہو، نہ عقبیٰ ہو، نہ دوزخ ہو، نہ جنت ہو
[ص: 156]
سوا تیرے نہ مائل ہو کسی پر، وہ طبیعت دے
تری الفت ہو، تیرا عشق ہو، تیری محبت ہو
[ص: 156]
مجھ کو ہنگامۂ محشر سے غرض
بس تمنا ترے دیدار کی ہے
[ص: 199]
خوفِ دوزخ، نہ حرصِ جنت کی
بے غرض میں نے تجھ سے الفت کی
[ص: 177]
اس کے کوچے میں کہاں کشمکشِ بیم و رجا
خوفِ دوزخ بھی نہیں، خواہشِ جنت بھی نہیں
[ص: 149]
تابِ دیدار جو لائے مجھے وہ دل دینا
منہ قیامت میں دکھا سکنے کے قابل دینا
[ص: 92]
اصل فتنہ ہے قیامت میں بہارِ فردوس
جز ترے کچھ بھی نہ چاہے مجھے وہ دل دینا
[ص: 92]
اس سے مانگا بھی اگر کچھ تو اسی کو مانگا
دیکھنا حوصلہ و ہمتِ سائل کی طرف
[ص: 128]
صدقِ طلب اور علوِ ہمت کی تعلیم
عابدین میں کوئی جہنم کی کلفتوں سے بچنے کے لیے رب کی عبادت کرتا ہے، کوئی جنت کی آسائشیں پانے کے لیے مشقت و ریاضت میں لگا رہتا ہے مگر عارفین کا مطلوب جمالِ حق کا دیدار اور رضاے مولیٰ کا حصول ہوا کرتا ہے، اس لیے قاصرین کے حوصلوں کو مہمیز کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
اور ہمت بلند کر اے شیخ
طمع و خوف کی عبادت کیا
[ص: 104]
باغِ رضواں بھی باغ ہے آخر
سیرِ گل کے لیے ریاضت کیا
اس سے مل جو ہمیشہ ساتھ رہے
بے وفاؤں سے لطفِ صحبت کیا
عشق کی رہبری
عشق کامل ہو تو مرشد نہیں ایسا کوئی
خود وہی قبلہ وہی قبلہ نما ہوتا ہے
[ص: 226]
بدرقہ راہِ طلب میں نہیں ہمت کے سوا
راہبر کوئی نہیں جوشِ محبت کے سوا
[ص: 106]
فرماں روائیِ دل
کشور کشا وہی ہے جسے ہو فتحِ دل نصیب
شاہی اسی کی جو کہ ہو فرماں روائے دل
[ص: 136]
صدقے میں اپنے بازوے اطہر کے یا علی
آسیؔ کو اپنے کیجیے خیبر کشائے دل
[ص: 136]
اصلاحِ قلب کی تعلیم
دل ہی وہ مسکن ہے جہاں حسنِ محبوب جلوہ نما ہوتا ہے۔ اسے اگر آراستہ و پیراستہ نہ کیا تو استقبال و اکرامِ یار کا کچھ حق ادا نہ ہوا، دیگر مساکن کو بنانے سنوارنے میں اس کے خاص جلووں کو بسانے کا اہتمام کہاں؟ اس طویل و ناتمام بیان کو چند سادہ و عام فہم اور دل نشیں لفظوں میں بتمام و کمال سمیٹنا، ساتھ ہی طالبانِ راہ کی تربیت اور فہمائش کرنا کسی عارفِ سخنور اور مرشدِ کامل ہی کا حصہ ہو سکتا ہے۔ فرماتے ہیں:
دل جو تھا خاص گھر اس کا، نہ بنایا افسوس
مسجد و دَیر بنایا کرو، کیا ہوتا ہے
[ص: 226]
حالتِ دنیا پر تنبیہ اور زہد کی ترغیب
دنیا دل لگانے کے قابل نہیں، اس میں ہر دم کوئی تازہ آفت و مصیبت رونما ہوتی رہتی ہے، اس کے لیے بقا اور دوام نہیں اسی لیے دارِ فانی سے موسوم ہے، اس کا انجام بڑا بھیانک اور دردناک ہے۔ مضمون اگرچہ پامال ہے مگر اختصار کا کمال، طرزِ ادا کی دلکشی اور اثر آفرینی کا امتیاز اپنی جگہ آپ ہے۔ فرماتے ہیں:
مآل اس کا قیامت ہے قیامت
وہ آفت کی جگہ ہے دارِ فانی
[ص: 175]
دنیا کی رنگینیوں میں الجھنا، اپنے کو آفات و آلام کی زد پر لانا ہے اور اس سے بے تعلقی میں ہر طرح عافیت ہے مگر لوگوں کا حال یہ ہے کہ راحت چھوڑ کر بے فائدہ کلفت میں پھنستے ہیں۔
ترکِ دنیا تو ہے دنیا طلبی سے آسان
چھوڑ کر سہل، عبث جاتے ہیں مشکل کی طرف
[ص: 128]
مرشدِ کامل کی شان یہی ہے کہ وہ دلوں کو فریبِ دنیا سے آگاہ و خبردار اور دارِ بقا کی نعمتوں کا عاشق و طلب گار بنائے، اشعارِ بالا میں یہ شان جلوہ گر ہے۔
قتلِ حبِ مال
مال و دولت کی محبت انسان کو آخرت سے غافل اور بہت سی معصیتوں کا حامل بنا دیتی ہے اور مرشد کی ذمہ داری یہ ہے کہ انسان کو معصیت سے بیزار، نیکیوں کا خوگر اور آخرت کا شیدا بنائے اس لیے آخرت سے غافل اور معصیت کا مرتکب بنانے والی محبت سے جو دل کو خالی نہ کر سکے وہ اپنے فرض کی ادائیگی سے قاصر ہے اور جو اپنی تعلیم و تربیت کے ذریعہ حبِ مال کو بالکل فنا کے گھاٹ اتار دے وہی مرشدِ کامل ہے، بعض سلسلوں میں ارشاد کی تکمیل کیمیاگری کی تعلیم پر ہوتی ہے تاکہ حاجت و اضطرار کے وقت صاحبِ منصبِ ارشاد کسی کا دستِ نگر نہ ہو مگر سچی کیمیاگری سونا بنانے کا فن سکھانا نہیں بلکہ دل میں پائی جانے والی حبِ زر کو اچھی طرح کُشتہ کرنا ہے۔ فرماتے ہیں:
کیمیا گر وہی درویش ہے میرے نزدیک
ہوسِ زر کو کرے خوب جو کُشتہ دل میں
[ص: 136]
تاکید و ترغیبِ عمل
مریدوں بلکہ سارے مومنوں کو عمل کا پابند بنانا، آخرت کی رسوائی اور حسرت و افسوس سے بچانا اور حبِ بہ عمل کو مہمیز کرنا ایک عالم و مرشد کی اہم ذمہ داری ہے، اس کا کچھ نمونہ حضرت آسی کے اشعار میں بھی نمایاں ہے، ملاحظہ ہو:
روزِ بازارِ جزا ہے اور خالی اپنے ہاتھ
جب سمجھنا تھا نہ سمجھے، آج پچھتاتے ہیں کیوں
[ص: 145]
کارِ امروز بہ فردا مگزار اے آسیؔ
آج ہی چاہیے اندیشۂ فردا دل میں
[ص: 137]
رات ہے رات تو بس مردِ خوش اوقات کی رات
گریۂ شوق کی، یا ذوقِ مناجات کی رات
[ص: 111]
حُسنِ صورت کے لیے خوبیِ سیرت ہے ضرور
گل وہی جس میں کہ خوشبو بھی ہو رنگت کے سوا
[ص: 106]
تواضع کی تعلیم و تاکید
خاکساری سببِ آبروے سالک ہے
جو ملا خاک میں آنسو، دُرِ نایاب ہوا
[ص: 82]
سربلندوں کو ہے جھکنا لازم
یہ صدا گنبدِ دَوّار کی ہے
[ص: 199]
عادت رکھنا فروتنی کی اے دل
نخوت نہیں بھاتی ہے کسی کی اے دل
کھول آنکھ حبابِ بحر سے عبرت لے
بے مغز ہے جس نے سرکشی کی اے دل
[ص: 286]
ذرے سے جو دیکھنے میں کم تر ہوں گے
تیرے لیے وہ بھی مہرِ انور ہوں گے
اے دل نہ برابری کسی کی کرنا
ہاں خاک کے اک روز برابر ہوں گے
[ص: 281]
اور بھی کچھ دل کش موضوعات اور دل نواز اشعار تھے جو میں نے فرصت کی کمی کے باعث ترک کر دیے، جیسے شاملِ مضمون اشعار پر تھوڑا تھوڑا تبصرہ اسی وجہ سے قلم انداز ہوا۔
بہر حال حضرتِ آسیؔ کی غزلیں جہاں ان کے مذاقِ عشق اور ذوقِ معرفت کی ترجمانی کرتی ہیں وہیں ان کے حسنِ اعتقاد، بلندیِ اخلاق، اور جذباتِ اصلاح و عمل کی بھی عکاسی کرتی ہیں۔ اور اظہار کی برجستگی، طرزِ ادا کی دل کشی، قوتِ تخئیل کی کارفرمائی اور معنی آفرینی تو پورے کلام پر چھائی ہوئی ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ اہلِ ذوق نے مختلف جہتوں سے “عین المعارف” کا جائزہ لیا ہے اور ہمیں حضرتِ آسیؔ کے شاعرانہ کمالات سے بھی روشناس کیا ہے۔ خدا کرے اس کی ضوفشانی عام سے عام تر ہو۔
