| عنوان: | حضرت آسی کی شاعری کا اعتقادی و اصلاحی رنگ (قسط: اول) |
|---|---|
| پیش کش: | محمد حیدر علی |
آسی مست کا کلام سنو
وعظ کیا پند کیا نصیحت کیا
حضرت آسی کا کلام دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ایک عنفوانِ شباب اور دورِ جوانی کا، جب مشقِ سخن اور مشاعروں میں شرکت کا زمانہ تھا۔ اس دور کی شاعری میں معشوقانِ مجازی کا بھی ذکر ملے گا اور اسے شیخ یا کسی بزرگ یا باری عزوجل پر محمول کرنا بہت زیادہ تکلف کے بغیر ممکن نہ ہوگا۔
مثلاً ایک بار صفیر بلگرامی نے مومن کا یہ شعر طرحِ مشاعرہ میں دیا:
کھول دو وعدہ کہ تم پردہ نشیں ہو نہ وصال
اپنی زلفوں کی طرح بات بناتے کیوں ہو
اس شعر میں “وعدہ کھولنا” خلافِ محاورہ ہے اور وصال کی پردہ نشینی بھی محلِ کلام ہے حضرت آسی نے اس طرح پر غزل کہی جس میں متعدد اشعار بلا تکلف حسنِ حقیقی پر محمول ہو سکتے ہیں۔ مگر مشاعرے میں غزل پڑھتے پڑھتے جب اس شعر پر پہنچے تو صفیر صاحب سے آنکھ ملا کر فرمایا کہ دیکھئے محاورہ یوں نظم کرتے ہیں۔ اشارہ یہ تھا کہ مومن محاورہ نظم کرنا چاہتے تھے، نظم نہیں کر سکے۔ شعر یہ ہے:
تم پری زاد ہو، وعدہ تو پری زاد نہیں
آپ اڑتے ہو اڑو، بات اڑاتے کیوں ہو
دوسرا حصہ بعد کی شاعری کا ہے جس میں پختگی، سلاست اور برجستگی کے ساتھ یہ بھی نظر آئے گا کہ اس کا تعلق عشقِ حقیقی سے ہے یا اس کے ذیل میں ہے مثلاً اپنے مرشد، کسی شیخِ سلسلہ، ذاتِ سرورِ کائنات یا ان کے آل واصحاب میں سے کسی کو ملحوظِ نظر رکھ کر شعر کہا گیا ہے۔ اور بیش تر مقامات پر عشقِ مجازی کا شیدا اشعار کو باآسانی اپنے مطلب پر بھی محمول کر سکتا ہے۔
حضرت آسی کے کلام کا بڑا حصہ وحدۃ الوجود کے گرد نغمہ سرا ہے مگر اس میں بھی جو اظہار کا بانکپن، اندازِ بیان کا تنوع، طرزِ تفہیم کی دل کشی، معانی کی شوکت اور خیالات کی ندرت ہے وہ آپ کے قلم کا خاص حصہ ہے۔ فرماتے ہیں:
پوچھتے ہو کہ سِرِّ وحدت کیا
ما سوا کی بھلا حقیقت کیا
[ص: 104]
وہ کیا ہے ترا جس میں جلوہ نہیں ہے
نہ دیکھے تجھے کوئی اندھا نہیں ہے
[ص: 197]
بصارت ملی ہے ان آنکھوں کو جب سے
سوا تیرے کچھ میں نے دیکھا نہیں ہے
[ص: 197]
بے حجابی یہ کہ ہر شے میں ہے جلوہ آشکار
گھونگھٹ اس پر وہ کہ صورت آج تک نادیدہ ہے
[ص: 209]
تم نہیں کوئی، تو سب میں نظر آتے کیوں ہو
سب تمہیں تم ہو تو پھر منہ کو چھپاتے کیوں ہو
[ص: 157]
کیا نیستیِ ہست نما کی ہستی
دھوکے سے بھری ہے ما سوا کی ہستی
آسیؔ اس دھوکے میں نہ آنا ہرگز
ہستی ہے اگر تو بس خدا کی ہستی
کلام آسی کا بیش تر حصہ غزلوں پر مشتمل ہے، یہاں تک کہ خود فرمایا:
کسی کی مدح خوانی نہ کی ہم نے جز غزل خوانی
[ص: 274]
مگر غزل کا دامن بڑا وسیع ہوتا ہے، اس میں ہر قسم کے مضامین سما سکتے ہیں اور اس میں ہر شعر مستقل ہوتا ہے، اس لیے الگ الگ اشعار میں متنوع اور مختلف خیالات کا اظہار باآسانی ہو جاتا ہے۔
میں نے غور کیا تو حضرت آسی کی غزلوں میں جہاں وحدۃ الوجود اور حسن و عشق کا جلوہ کثرت سے ہے وہیں عقائد کا بیان، حسنِ عمل کی ترغیب، آرائشِ قلب کی تاکید، صدقِ طلب کی تعلیم اور راہِ سلوک کے رموز بھی جابجا جلوہ فشاں ہیں۔ سب پر باضابطہ تبصرہ تو مشکل ہے لیکن میں چاہتا ہوں کہ چند عنوانات قائم کر کے اشعار پیش کرتا چلوں تاکہ کلامِ آسی کا یہ رخ بھی ملحوظِ خاطر اور زیبِ نظر ہو۔
صفات کے افعال و مظاہر پر نظر ہو تو ہر آن ایک نئی شان ہے
مزا ہر آن میں ہے شانِ نو کا
مگر جب دل نہ ہو غافل ہمارا
[ص: 94]
نورِ مصطفیٰ علیہ التحیہ والثناء ہر مخلوق میں جلوہ نما
حدیث پاک کی روشنی میں اہلِ سنت کا عقیدہ ہے کہ سب سے پہلے نورِ مصطفیٰ علیہ التحیہ والثناء کی تخلیق ہوئی، پھر اسی سے ساری کائنات پیدا کی گئی اس لیے ہر شے کے وجود میں نورِ مصطفیٰ کا شمول و ظہور ہے۔ اسی حقیقت کا اظہار کرتے ہوئے نغمہ زن ہیں:
جو شے تری نگاہ سے گزرے درود پڑھ
ہر جزو و کل ہے مظہرِ انوارِ مصطفیٰ
[ص: 201]
وہی نور ہے اصلِ ارکانِ عالم
انہیں نے بڑھائی ہے سب شانِ عالم
وہی جسمِ اطہر ہوا جانِ عالم
“بروے زمیں گشت سلطانِ عالم
کے کو بود پامالِ محمد” صلی اللہ علیہ وسلم
[تضمین بر کلام جامی، ص: 27]
محبت کی کارفرمائی
جو دل تخمِ عشق سے آباد ہے اس کے لیے ساری آسائشیں تیار ہیں اور جو اس سے خالی اور ویران ہے وہ دائمی سوزش اور کلفتوں کا شکار ہے۔ بڑی صفائی سے فرماتے ہیں:
جس نے کچھ تخمِ محبت کا نہ بویا دل میں
ایسا ہی دل ہے سدا آگ میں جلنے کے لیے
[ص: 235]
جس نے کچھ تخمِ محبت کا ہے بویا دل میں
ہے سدا باغ میں وہ پھولنے پھلنے کے لیے
[ص: 235]
بارگاہِ رسول تک رسائی خدا تک رسائی ہے
اسے کتنی تاکید اور یقینِ محکم کے ساتھ بیان فرماتے ہیں:
عشق بازو جو شیہ ہر دوسرا تک پہنچا
وہ خدا تک، وہ خدا تک، وہ خدا تک پہنچا
[ص: 94]
جوازِ توسل
توسل کے خلاف منکرین کتنی ہرزہ سرائیاں کرتے اور اسے شرک تک پہنچانے کی جسارتِ ناروا کرتے ہیں مگر حضرت آسی بڑی سنجیدگی اور دلکشی کے ساتھ ان کا رد کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
نسبتِ شرک بجز تہمتِ بے جا کیا ہے
دل ہے جب اس کی طرف، رخ ہے وسائل کی طرف
[ص: 128]
ملنے والوں سے راہ پیدا کر
اس کے ملنے کی اور صورت کیا؟
[ص: 104]
راہِ حق کی ہے اگر آسیؔ تلاش
خاکِ رہ ہو مردِ حق آگاہ کی
[ص: 181]
عقیدہ شفاعت
شفاعت کا مضمون بہت سے بزرگوں نے اپنے اشعار میں گوناگوں انداز میں باندھا ہے۔ حضرت آسی کے بھی انداز کی نزاکت اور اعتقاد کی صداقت دیکھیں:
گناہ گار ہوں میں واعظو! تمہیں کیا فکر
مرا معاملہ چھوڑو شفیعِ محشر پر
[ص: 120]
واہ رے الفت اپنی امت کی
مجھ سے بے کس کی بھی شفاعت کی
[ص: 177]
ہم ایسے غرقِ دریائے گنہ جنت میں جا نکلے
توانِ لَطمۂ موجِ شفاعت ہو تو ایسی ہو
[ص: 154]
نعیم و جحیم، حُسن کے دو متضاد جلوے
نعیم کیسی جحیم کیسی، کرشمے سارے یہ حسن کے ہیں
کسی کو لوٹا ثواب ہو کر، کسی کو مارا عذاب ہو کر
[ص: 119]
اختیار و استمداد
سرورِ کائنات علیہ الصلوات والتسلیات اپنے رب کی عطا سے صاحبِ تصرف و اختیار ہیں، جہاں چاہیں پل بھر میں پہنچ سکتے ہیں، دور افتادہ دردمندوں کی چارہ سازی اور طالبانِ امداد کی فریادرسی ان کی رحمتِ عام اور اختیارِ عظیم کے حضور کسی طرح قابلِ انکار و ارتیاب نہیں۔
کیوں نہ پہنچے میری فریاد کو وہ پل بھر میں
جو پلک مارنے میں عرشِ خدا تک پہنچا
[ص: 94]
حبِ آلِ رسول
زندگی کا نہ ادا خاک ہوا حق آسیؔ
جان جب خاکِ رہِ آلِ پیمبر نہ ہوئی
[ص: 173]
ہے فخرِ جہاں آسیؔ اُن کی غلامی
اُسی میں کمالات کی ہے تمامی
نہیں رہتی ہے پختہ کاروں میں خامی
“بصدق و صفائے چناں گشت جامیؔ
غلامِ غلامانِ آلِ محمد” صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ وسلم
[تضمین، ص: 247]
چار یار
چار یارانِ نبی میں آسیؔ
تبعیت مجھے ہر یار کی ہے
طلبِ راہِ خدا میں لیکن
پیروی حیدرِ کرار کی ہے
[ص: 199]
بارگاہِ قادریت
دل ہے آسیؔ فدائے غوثِ پاک
جانِ شیدا مبتلائے غوثِ پاک
جانیے اس کو ولی اللہ کا
جس کے دل میں ہو ولائے غوثِ پاک
گردنیں ہوں اولیا کی، زیرِ پا
کون ایسا ہے سوائے غوثِ پاک
زیرِ فرماں ہیں زمین و آسماں
رشکِ سلطاں ہے گدائے غوثِ پاک
روزِ محشر آسیؔ بے چارہ کو
بخشوا یا رب برائے غوثِ پاک
[ص: 131]
پوچھتے ہو شہِ جیلاں کے فضائل آسیؔ
ہر فضیلت کے وہ جامع ہیں نبوت کے سوا
[ص: 106]
شوقِ دیدارِ رسول
کہتے ہیں تم کو جو دیکھا تو خدا کو دیکھا
خواب میں بھی تو میسر ہو یہ دولت مجھ کو
[ص: 166]
دیدارِ الٰہی
ہوں گنہگار مگر حسرتِ دیدار نہ پوچھ
جلوہ تیرا ہو تو دوزخ بھی ہے جنت مجھ کو
[ص: 166]
