| عنوان: | حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر کیے گئے اعتراضات اور ان کے جوابات (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی |
| پیش کش: | محمد سلمان العطاری |
| منجانب: | مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان عطار نیپال گنج |
پیارے قارئین کرام! حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی ذات پر کچھ لوگ اعتراض کرتے ہیں۔ ہم ان کے اعتراضات کو نقل کرنے کے بعد اپنے مدلل جوابات پیش کریں گے۔ آپ لوگ بغور سماعت فرمائیں۔
پہلا اعتراض:
یہ ہے کہ امیر معاویہ نے ہزاروں مسلمانوں کو قتل کیا اور کرایا۔ اگر یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جنگ نہ کرتے تو مسلمانوں کا اتنا قتل نہ ہوتا اور مومن کو قتل کرنے والا ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔ خدائے تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِناً مُتَعَمِّداً فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِداً فِيهَا وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَاباً عَظِيماً[سورۃ النساء: 93]
ترجمہ: جو شخص کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کا بدلہ جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اللہ تعالیٰ اس پر غضب اور لعنت فرمائے گا اور اس کے لیے بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ لہٰذا امیر معاویہ اس آیت کے احکام میں داخل ہیں۔
جواب:
اس اعتراض کے دو جواب ہیں۔ اول الزامی اور وہ یہ ہے کہ پھر تو حضرت عائشہ صدیقہ، حضرت طلحہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہم پر بھی یہی الزام عائد ہو سکتا ہے اس لیے کہ ان لوگوں نے بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جنگ کی جس میں ہزاروں مسلمان شہید ہوئے۔ جبکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا جنتی ہونا ایسا ہی یقینی ہے جیسا کہ جنت کا ہونا اس لیے کہ ان کے جنتی ہونے پر قرآن کی آیت شاہد ہے۔ اور حضرت طلحہ و حضرت زبیر رضی اللہ عنہما بھی قطعاً جنتی ہیں اس لیے کہ یہ دونوں حضرات عشرہ مبشرہ میں سے ہیں۔
اس اعتراض کا دوسرا جواب حقیقی ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ مومن کے قتل کی تین صورتیں ہیں۔ ایک تو یہ کہ اس کے قتل کو حلال سمجھے اور یہ کفر ہے۔ اس لیے کہ مومن کا قتل حرامِ قطعی ہے اور حرامِ قطعی کو حلال سمجھنا کفر ہے اور آیتِ کریمہ میں قتل کی یہی صورت مراد ہے۔ اس لیے کہ کفر والا ہی جہنم میں ہمیشہ رہے گا نہ کہ ایمان والا۔ دوسرے یہ کہ مومن کے قتل کو حلال نہیں سمجھتا مگر دنیاوی جھگڑے میں اسے قتل کر دیا۔ یہ کفر نہیں ہے بلکہ فسق اور گناہِ کبیرہ ہے جیسے حلال نہ سمجھتے ہوئے شراب پینا اور نماز کا قصداً ترک کرنا۔ اور تیسری صورت خطائے اجتہادی سے ایک مومن کا دوسرے مومن کو قتل کرنا۔ یہ نہ کفر ہے نہ فسق۔ اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی جنگ اسی تیسری قسم میں داخل ہے، آپ مجتہد تھے جیسا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے فرمان سے پہلے معلوم ہو چکا ہے۔ اور مجتہد اگر اپنے اجتہاد میں خطا کرے تو اس پر کوئی مواخذہ نہیں۔
اگر ہمارا یہ جواب معترض کو تسلیم نہیں تو پھر یہی اعتراض حضرت علی رضی اللہ عنہ پر بھی ہو گا کہ انہوں نے بھی حضرت عائشہ اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہما کی جنگ میں بے شمار مومنوں کو قتل کیا اور کرایا۔ خدائے عزوجل سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔
دوسرا اعتراض:
یہ کیا جاتا ہے کہ امیر معاویہ کے دل میں اہلِ بیت سے دشمنی تھی اس لیے انہوں نے اہلِ بیت کو ستایا اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جس نے علی کو ستایا اس نے مجھ کو ستایا اور امیر معاویہ نے اہلِ بیت سے جنگ کی اور حضور نے فرمایا ہے جس نے ان سے جنگ کی اس نے مجھ سے جنگ کی اور سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کرنے والا مومن کب ہو سکتا ہے۔
جواب:
اس اعتراض کے بھی دو جواب ہیں۔ اول الزامی اور وہ یہ ہے کہ حضرت عائشہ، حضرت طلحہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہم پر بھی یہی اعتراض وارد ہو گا کہ ان حضرات نے بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جنگ کی ہے بلکہ کوئی مخالف حضرت علی کے بارے میں بھی یہی کہہ سکتا ہے کہ ان کے دل میں حضرت عائشہ، حضرت طلحہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہم سے بغض و عداوت تھی اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام صحابہ کے بارے میں فرمایا ہے:
مَنْ أَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ
یعنی جس نے صحابہ سے بغض رکھا اس نے میرے بغض کے سبب ان سے بغض رکھا۔ غرضیکہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر اس قسم کا اعتراض کرنے سے بہت سے صحابہ اور اہلِ بیت پر اعتراض وارد ہو گا۔ خدائے تعالیٰ ایسے لوگوں کو ہدایت نصیب فرمائے۔
اب اس اعتراض کا دوسرا جواب تحقیقی ہے اور وہ یہ ہے کہ مخالفتِ اہلِ بیت کی تین قسمیں ہیں۔ اول حضور کے اہلِ بیت ہونے کی بنیاد پر ان سے جلنا اور یہ کفر ہے۔ کیونکہ اس بنیاد پر ان سے جلنا حضور سے دشمنی کی خبر دیتا ہے جو کفر ہے۔ دوسرے کسی دنیاوی وجہ سے ناراض ہونا اگر اس میں نفسانیت شامل ہے تو گناہ ہے ورنہ نہیں۔ جیسے کہ حضرت علی و حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہما کے مابین خانگی معاملات میں بارہا شکر رنجی ہوئی ہے۔ تیسرے خطائے اجتہادی کی بنیاد پر اہلِ بیت سے نا اتفاقی ہو جائے۔ یہ نہ کفر ہے اور نہ گناہ۔ حضرت امیر معاویہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی تمام جنگیں اسی تیسری قسم کی تھیں۔ ان سب کے سینے ایک دوسرے کے کینے سے پاک تھے۔
حضرت امام احمد بن حنبل اپنے مسند میں روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے کوئی مسئلہ پوچھا، آپ نے فرمایا:
اسْأَلْ عَنْهَا عَلِيّاً فَهُوَ أَعْلَمُ
اس مسئلہ کو حضرت علی سے پوچھو کہ وہ بڑے عالم ہیں۔ اس نے کہا آپ ہی مسئلہ بتا دیں کہ آپ کا جواب مجھے ان کے جواب سے زیادہ پسند ہے۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تو نے بہت بری بات کہی ہے۔ کیا تو ان سے نفرت کرتا ہے جن کی عزت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے اور جن سے حضور نے فرمایا:
أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى، إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي
یعنی اے علی! تم میرے لیے ایسے ہو جیسے حضرت موسیٰ کے لیے حضرت ہارون لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ پھر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے مسئلہ پوچھنے والے! سن۔ حضرت علی کی عظمت کا یہ حال ہے کہ جب حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کو کوئی مشکل مسئلہ درپیش ہوتا تو وہ حضرت علی سے حل کراتے تھے، اتنا فرمانے کے بعد آپ نے اس سے فرمایا:
قُمْ، لَا أَقَامَ اللَّهُ رِجْلَيْكَ
تو میرے پاس سے اٹھ جا۔ اللہ تعالیٰ تیرے پیروں کو قیام نصیب نہ فرمائے۔ وہ شخص آپ کے یہاں سے وظیفہ پاتا تھا مگر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شان میں اس بے ادبی کے سبب آپ نے اس کا نام وظیفہ پانے والے رجسٹر سے خارج کروا دیا۔ [الناہیہ، ص: 27]
اور محمد بن محمود آملی نے نفائس الفنون میں تحریر فرمایا ہے کہ حضرت امیر معاویہ کی مجلس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا علی شیر تھے۔ علی چودہویں رات کا چاند تھے اور علی رحمتِ خدا کی بارش تھے۔ حاضرین میں سے کسی شخص نے پوچھا کہ آپ افضل ہیں یا علی؟ تو آپ نے فرمایا:
خُطُوطٌ مِنْ عَلِيٍّ خَيْرٌ مِنْ آلِ أَبِي سُفْيَانَ
علی کے نقشِ قدم ابو سفیان کی آل سے بہتر ہیں۔ [الناہیہ، ص: 28]
اور شیخ نور الحق بخاری شریف کے ترجمہ میں تحریر فرماتے ہیں کہ جنگِ جمل کے دن حضرت علی نے حضرت طلحہ جو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ تھے، ان کی لاش کو دیکھا تو حضرت علی اس قدر روئے کہ ان کی داڑھی آنسوؤں سے تر ہو گئی۔ [الناہیہ، ص: 12]
اور علامہ فرہاروی مؤلف نبراس لکھتے ہیں کہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ جنگِ جمل سے الگ ہو کر نماز پڑھ رہے تھے کہ اسی حالت میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ایک سپاہی عمرو بن جرموز نے ان کو شہید کر دیا اور جب ان کی تلوار حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پیش کی گئی تو آپ نے فرمایا مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:
بَشِّرْ قَاتِلَ ابْنِ صَفِيَّةَ بِالنَّارِ
ابن صفیہ یعنی حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے قاتل کو جہنم کی خوشخبری دے دو۔ یہ سن کر عمرو بن جرموز نے کہا اے علی! آپ کا معاملہ عجیب ہے۔ اگر ہم آپ سے لڑیں تو جہنمی اور آپ کی طرف سے لڑیں تو جہنمی۔ یہ کہہ کر غصہ میں اس نے اپنے پیٹ میں تلوار گھونپ کر خودکشی کر لی۔ [الناہیہ، ص: 13]
ان واقعات سے واضح طور پر معلوم ہوا کہ صحابہ کرام میں اختلاف ضرور ہوا مگر وہ ایک دوسرے کی عزت کرتے تھے، آپس میں محبت رکھتے تھے، ان کے سینے ایک دوسرے کے بغض و عداوت اور کینے سے پاک تھے جیسے کہ بھائی بھائی میں اختلاف ہو جاتا ہے یہاں تک کہ نوبت لڑائی تک پہنچ جاتی ہے مگر ایک دوسرے سے بغض و عداوت نہیں رکھتا۔ خلاصہ یہ کہ اختلاف اور چیز ہے اور بغض و عداوت اور چیز ہے۔ صحابہ کا آپس میں اختلاف رہا مگر کینہ اور بغض نہیں۔
اختلاف کی وجہ:
پیارے قارئین کرام! حضرت علی اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہما میں اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ امیر المؤمنین حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے گھر کو مصر کے بلوائیوں نے گھیر لیا، ان پر پانی بند کر دیا اور پھر ان کو نہایت بے دردی کے ساتھ شہید کر دیا۔ اس کے بعد مہاجرین و انصار کے اتفاقِ رائے سے جب امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ عنہ خلیفہ مقرر ہوئے تو ان سے خونِ عثمان کے قصاص کا مطالبہ کیا گیا مگر وہ بعض مصلحتوں کی بنا پر قاتلین سے قصاص نہ لے سکے۔ جب یہ خبر ملکِ شام میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو انہوں نے حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کو پیغام بھیجا کہ امیر المؤمنین حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا مدینہ طیبہ میں شہید کر دیا جانا بہت اہم معاملہ ہے۔ لہٰذا جلد سے جلد قاتلین کو پوری سزا دی جائے اور ان پر قصاص جاری کیا جائے مگر حضرت علی رضی اللہ عنہ موجودہ حالات سے مجبور تھے اس لیے وہ قاتلین کو کوئی سزا نہیں دے سکے۔ عبداللہ بن سبا کا گروہ جو اس فتنہ کی جڑ تھا اور مسلمانوں کو آپس میں لڑا کر اسلام کی طاقت کو کمزور کرنا چاہتا تھا ان میں سے بہت سے لوگوں نے ملکِ شام پہنچ کر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو یہ یقین دلایا کہ علی قصاص لینے میں کوتاہی کر رہے ہیں۔ تو حضرت امیر معاویہ نے مسلسل کئی قاصدوں کو بھیج کر قصاص کا شدت سے مطالبہ کیا۔ اور جب حضرت علی رضی اللہ عنہ اب بھی قاتلین پر قصاص جاری نہ کر سکے تو اب حضرت امیر معاویہ کے دل میں یہ بات جم گئی کہ علی خلافت کے لائق نہیں کیونکہ جب ایسے اہم خون کا وہ قصاص نہیں لے سکتے اور قاتلین کو کوئی سزا نہیں دے سکتے تو خلافت کے دیگر امور وہ کیا انجام دے سکتے ہیں۔ حضرت علی سے حضرت امیر معاویہ کے اختلاف کی اصل وجہ یہی ہے اور حضرت عائشہ صدیقہ و حضرت علی کے مابین بھی اسی بنیاد پر اختلاف ہوا۔ (رضی اللہ عنہم اجمعین) [خطبات محرم، ص: 317]
