Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر کیے گئے اعتراضات اور ان کے جوابات (قسط: دوم)|مفتی جلال الدین احمد امجدی

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر کیے گئے اعتراضات اور ان کے جوابات (قسط: دوم)
عنوان: حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر کیے گئے اعتراضات اور ان کے جوابات (قسط: دوم)
تحریر: فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی
پیش کش: محمد سلمان العطاری
منجانب: مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان عطار نیپال گنج

تیسرا اعتراض:

جو بہت اہم سمجھا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ امیر معاویہ نے اپنی زندگی میں یزید کو اپنا خلیفہ مقرر کر دیا۔ اس میں انہوں نے تین غلطیاں کیں۔ اول یہ کہ خلیفہ کا انتخاب عام لوگوں کی رائے سے ہونا چاہیے انہوں نے یزید کو خود کیوں خلیفہ بنا دیا۔ دوسرے یہ کہ اپنے بیٹے کو اپنا جانشین بنانا قانونِ اسلام کے خلاف ہے۔ تیسرے یزید جیسے فاسق و فاجر کے ہاتھ میں حکومت کی باگ ڈور دے دینا ان کا سب سے بڑا جرم ہے۔ کربلا کے سارے واقعات کی ذمہ داری انہی پر ہے۔ اگر وہ یزید کو خلیفہ نہ بنائے ہوتے تو کربلا کا ایسا دردناک واقعہ نہ ہوتا۔ اور جب یزید جیسے فاسق و فاجر کو نماز کا امام بنانا درست نہیں تو اسے امام المسلمین بنانا کیسے جائز ہو سکتا ہے؟

جواب:

یہ ہے کہ خلیفہ کا اپنی زندگی میں دوسرے کو خلیفہ بنانا جائز ہے اس لیے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنی زندگی میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو خلیفہ مقرر کیا تھا۔ رہا اپنے بیٹے کو اپنا جانشین بنانا تو یہ قرآن و حدیث سے منع نہیں، اسی لیے آج کل عام طور پر صوفیہ و مشائخ اپنی اولاد کو اپنا جانشین بناتے ہیں، جن لوگوں کو بیٹے کے جانشین بنانے پر اعتراض ہے وہ قرآن و حدیث سے اس کا غلط ہونا ثابت کریں۔

رہی یہ دلیل کہ خلفائے اربعہ میں سے کسی نے اپنے بیٹے کو جانشین مقرر نہیں کیا اس لیے یہ ناجائز ہے۔ تو یہ دلیل غلط ہے اس لیے کہ خلفائے اربعہ کے نہ کرنے کے سبب اگر ناجائز ہو جائے تو انہوں نے بہت سا کام نہیں کیا ہے جیسے قرآن مجید پر اعراب لگانا، حدیث شریف کو کتابی شکل میں جمع کرنا اور فقہ کی تدوین وغیرہ یہ سب کام ناجائز ہو جائیں گے۔

رہا یزید کا فسق و فجور تو یہ کہیں ثابت نہیں کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی زندگی میں یزید فاسق و فاجر تھا اور نہ یہ ثابت ہے کہ انہوں نے یزید کو فاسق و فاجر جانتے ہوئے اپنا جانشین بنایا۔ یزید کا فسق و فجور دراصل حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد ظاہر ہوا اور فسق ظاہر ہونے کے بعد فاسق قرار دیا جاتا ہے نہ کہ پہلے۔ دیکھیے ابلیس لعین پہلے معلم الملکوت اور عزت و عظمت والا تھا پھر جب اس سے کفر ظاہر ہوا تب اسے کافر قرار دیا گیا۔ تو فسق ظاہر ہونے سے پہلے یزید کو فاسق کیسے ٹھہرایا جا سکتا ہے اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کیسے موردِ الزام ہو سکتے ہیں۔

اگر کوئی روایت ایسی ہو جس سے یہ ثابت ہو کہ حضرت امیر معاویہ کو یزید کے فسق و فجور کی خبر تھی اس کے باوجود انہوں نے اسے اپنا ولی عہد مقرر کیا تو وہ روایت جھوٹی ہے اور اس کا راوی کذاب ہے اس لیے کہ وہ صحابی کا فسق ثابت کرتا ہے جبکہ سارے صحابہ کا عادل، متقی اور پرہیزگار ہونا جمہور کے نزدیک مسلم ہے۔

رہی یہ بات کہ یزید کو خلیفہ بنانے کے سبب کربلا کے سارے واقعات کی ذمہ داری حضرت امیر معاویہ پر ہے تو کوئی کہہ سکتا ہے نہیں، بلکہ حضرت امام حسن پر ہے اس لیے کہ چالیس ہزار سپاہی جنہوں نے جان قربان کرنے کی آپ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی اگر آپ ان کو لے کر حضرت امیر معاویہ کا مقابلہ کرتے تو اسی زمانہ میں ان کا قلع قمع ہو جاتا۔ یزید کو سارے ممالکِ اسلامیہ کے خلیفہ بنائے جانے کا سوال ہی نہیں رہ جاتا مگر اس کے بجائے حضرت امام حسن نے خلافت ان کے سپرد کر دی اور انہوں نے یزید کو اپنا جانشین بنا دیا تو دراصل واقعاتِ کربلا کی ساری ذمہ داری امام حسن پر ہے۔

اور پھر کوئی یہ بھی کہے گا کہ حضور کے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی بیوی حضرت ام الفضل رضی اللہ عنہا کو جب بچہ پیدا ہوا اور وہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے کر حاضر ہوئیں تو حضور نے بچے کا نام عبداللہ رکھا اور فرمایا:

اذْهَبِي بِأَبِي الْخُلَفَاءِ

خلفاء کے باپ کو لے جا۔ پھر فرمایا:

هَذَا أَبُو الْخُلَفَاءِ حَتَّى يَكُونَ مِنْهُمُ السَّفَّاحُ، حَتَّى يَكُونَ مِنْهُمُ الْمَهْدِيُّ

یہ خلفاء کا باپ ہے، انہی میں سے سفاح ہو گا، انہی میں سے مہدی۔ [دلائل النبوۃ، بحوالہ الدولۃ المکیہ، ص: 154]

دیکھیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی پیٹھ سے کئی پشت کے بعد پیدا ہونے والوں کے بارے میں بتا دیا کہ وہ خلیفہ ہوں گے اور ان کے نام بھی بتا دیے۔ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم خوب جانتے تھے کہ حضرت امیر معاویہ کی پشت سے یزید پیدا ہو گا تو انہوں نے حضرت امیر معاویہ سے کیوں نہیں وصیت کر دی کہ تم یزید کو خلیفہ ہرگز مت بنانا۔ اور جب ساری باتوں کو جانتے ہوئے حضور نے منع نہیں فرمایا تو واقعاتِ کربلا کی ساری ذمہ داری انہی پر ہے۔

اور پھر کوئی بدبخت یہ بھی کہے گا کہ اللہ تعالیٰ نے یزید کو پیدا ہی کیوں کیا تھا۔ اور اگر پیدا کر دیا تھا تو حضرت امیر معاویہ ہی کی زندگی میں اس پر موت واقع کر دیتا مگر اس نے ایسا نہیں کیا۔ تو اس میں کسی کی کوئی خطا نہیں ہے، کربلا کے خونی واقعہ کی ساری ذمہ داری اللہ تعالیٰ پر ہے۔

پیارے قارئین کرام! دیکھا آپ لوگوں نے کہ اعتراض کرنے والے کہاں سے کہاں تک پہنچے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اور خدائے تعالیٰ کو بھی نہیں چھوڑا اور ان پر بھی اعتراض کر دیا۔ لہٰذا اے ہمارے سنی بھائیو! سلامتی اسی میں ہے کہ صحابہ کرام کے مابین جو اختلافات ہوئے ہیں ان میں بحث نہ کرو ان کا معاملہ خدائے تعالیٰ کے سپرد کرو کہ اس میں پڑنے سے ایمان جانے کا اندیشہ ہے۔

“غنیۃ الطالبین” جو شیخ عبد القادر جیلانی حضور غوثِ پاک رضی اللہ عنہ کی تصنیفِ مشہور ہے اس کے صفحہ 175 کے ارشاد کا ترجمہ یہ ہے کہ حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم نے حضرت طلحہ، حضرت زبیر، حضرت عائشہ صدیقہ اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہم سے جو جنگ کی ہے اس کے بارے میں امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ نے تصریح فرمائی ہے کہ اس میں اور صحابہ کی تمام جنگوں میں بحث کرنے سے باز رہنا چاہیے اس لیے کہ علی مرتضیٰ ان صحابہ سے جنگ کرنے میں حق پر تھے اور جو کوئی ان کی اطاعت سے خارج ہوا اور ان کے مقابل جنگ آزما ہوا اس نے امامِ برحق سے بغاوت کی لہٰذا اس سے جنگ جائز ہوئی۔ اور جن لوگوں نے علی مرتضیٰ سے جنگ کی جیسے حضرت طلحہ، حضرت زبیر اور حضرت امیر معاویہ تو انہوں نے حضرت عثمان کے خون کے بدلے کا مطالبہ کیا جو کہ خلیفۂ برحق اور مظلوم ہو کر شہید کیے گئے اور حضرت عثمان کے قاتلین حضرت علی کی فوج میں شامل تھے۔ لہٰذا ان میں سے ہر ایک صحیح تاویل کی طرف گئے۔

اور اسی “غنیۃ الطالبین” کے صفحہ 178 پر ہے۔ سارے اہلِ سنت اس بات پر متفق ہیں کہ صحابہ کرام کی جنگوں میں بحث سے باز رہا جائے۔ اور انہیں برا کہنے سے پرہیز کیا جائے۔ ان کے فضائل اور ان کی خوبیاں ظاہر کی جائیں اور ان بزرگوں کا معاملہ رب کے سپرد کیا جائے جیسے وہ اختلافات جو حضرت علی، حضرت عائشہ، حضرت معاویہ، حضرت طلحہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہم میں واقع ہوئے۔

اور حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ “فقہ اکبر” میں فرماتے ہیں:

نَتَوَلَّاهُمْ جَمِيعاً وَلَا نَذْكُرُ الصَّحَابَةَ إِلَّا بِخَيْرٍ

یعنی ہم اہلِ سنت تمام صحابہ سے محبت کرتے ہیں اور انہیں بھلائی سے ہی یاد کرتے ہیں۔

اور حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی رحمۃ اللہ علیہ جو اکابرینِ اولیاء میں سے ہیں ارشاد فرماتے ہیں:

“جو جھگڑے اور لڑائیاں صحابہ کرام میں ہوئیں وہ نفسانیت کی بنا پر نہ تھیں اس لیے کہ صحابہ کے نفوس حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت سے پاک ہو چکے تھے”۔ [مکتوبات، ج: 1، ص: 86]

پیارے قارئینِ اہلِ سنت! آپ لوگوں نے حضرت غوثِ اعظم، حضرت امامِ اعظم اور حضرت مجدد الف ثانی رضی اللہ عنہم کے ارشاداتِ مبارکہ کو سن لیا۔ اگر واقعی آپ ان بزرگوں کے ماننے والے ہیں اور ان سے محبت کرنے والے ہیں تو ان کے فرمان پر عمل کریں۔ صحابہ کرام کی جنگوں کے متعلق بحث نہ کریں، ان کے معاملے کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کریں، حضرت امیر معاویہ اور کسی صحابی سے بغض و عناد نہ رکھیں، سب سے محبت کریں اور سب کو بھلائی ہی سے یاد کریں، کسی بھی صحابی پر لعن طعن نہ کریں کہ یہ اللہ و رسول کی ناراضگی کا سبب ہے۔ جل جلالہ و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وعلیٰ آلہ واصحابہ اجمعین وبارک وسلم۔ [خطبات محرم، ص: 323 تا 327]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!