Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

حضرت امیر ابو العلاء: حیات و تعلیمات|شاہ ریان ابو العلائی

حضرت امیر ابو العلاء: حیات و تعلیمات
عنوان: حضرت امیر ابو العلاء: حیات و تعلیمات
تحریر: شاہ ریان ابو العلائی
پیش کش: زریں امجدی
منجانب: مجلسُ القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مراد آباد

نام، نسب اور والدین: آپ کا اسمِ گرامی امیر ابو العلاء اور تخلص انسان ہے۔ آپ کا لقب سیدنا سرکار، محبوبِ جل و علا، سرتاجِ آگرہ وغیرہ ہے۔ والدِ ماجد کا نام سید امیر ابو الوفا بن امیر عبد السلام اور والدہ ماجدہ کا اسمِ گرامی المعروف بیگم صاحبہ بنت خواجہ فیضی ہے۔ والدِ ماجد کی طرف سے آپ کا سلسلۂ نسب حضرت سیدنا امام حسین علیہ السلام سے جا ملتا ہے اور والدہ ماجدہ کی طرف سے آپ احراری ہیں۔ [نجاتِ قاسم، مصنف: حضرت شاہ محمد قاسم ابو العلائی، ص: 35، مطبوعہ 1856ء]

ولادت و مولد: حضرت محبوبِ جل و علا کی ولادتِ با سعادت 990ھ / 1582ء بمقام قصبہ نریلہ میں ہوئی، جو دہلی سے کچھ دور واقع ہے۔ [نجاتِ قاسم]

پدری نسب نامہ: حضرت محبوبِ جل و علا اویسی علی مرتضیٰ امیر ابو العلاء اکبر آبادی ابن امیر ابو الوفا بن امیر عبد السلام ابن امیر عبد الملک ابن امیر عبد الباسط ابن امیر تقی الدین کرمانی ابن امیر شہاب الدین محمود ابن امیر عماد الدین امر جاج ابن امیر سید علی ابن امیر نظام الدین ابن امیر سید اشرف ابن امیر اعز الدین ابن امیر شرف الدین ابن امیر سید مجتبیٰ ابن امیر سید گیلانی ابن امیر سید بادشاہ ابن امیر سید حسن ابن امیر سید حسین ابن امیر سید محمد ابن امیر سید عبد اللہ ابن امیر سید محمد ابن امیر سید علی ابن امیر سید عبد اللہ ابن امیر سید حسین ابن امیر سید اسماعیل ابن امیر سید محمد ابن امیر سید عبد اللہ باہر ابن حضرت امام زین العابدین ابن حضرت سید الشہداء امام حسین ابن حضرت امیر المؤمنین اسد اللہ الغالب علی ابن ابی طالب عَلَيْهِمُ التَّحِيَّةُ وَالثَّنَاءُ۔ [حجۃ العارفین، نجاتِ قاسم، ص: 33]

خاندانی پس منظر: آپ کے آبا و اجداد سمرقند کے رہنے والے تھے۔ سمرقند میں آپ کے خاندان کے افراد دولت و ثروت اور جاہ و منصب کے علاوہ شجاعت و بہادری اور زہد و تقویٰ میں مشہور تھے۔ آپ کے جدِ امجد حضرت خواجہ امیر عبد السلام سمرقند سے سکونت ترک کر کے اکبر بادشاہ کے عہدِ حکومت میں ہندوستان تشریف لائے۔ قصبہ نریلہ میں، جو دہلی سے کچھ دور واقع ہے، پہنچ کر وہاں قیام فرمایا۔ کچھ عرصے وہاں قیام کر کے مع اہل و عیال فتح پور سیکری رہے۔ حضرت امیر عبد السلام کے چار لڑکے تھے: سب سے بڑے لڑکے خواجہ ابو الوفا، پھر خواجہ ابو نصیر، خواجہ امیر عبد اللہ اور خواجہ امیر ابو الصفا تھے۔ [نجاتِ قاسم، ص: 36]

بچپن میں صدمہ: ابھی کم سن ہی تھے کہ والدہ ماجدہ کا سایۂ عاطفت آپ کے سر سے اٹھ گیا۔ آپ کے والدِ ماجد کو دردِ قولنج کی شکایت ہوئی اور اس میں انہوں نے وفات پائی۔ ان کی نعشِ مبارک کو دہلی میں مدرسہ لعل دروازہ کے قریب سپردِ خاک کیا گیا۔ آپ کے یتیم ہونے کے بعد آپ کے جدِ امجد حضرت امیر عبد السلام آپ کا ہر طرح سے خیال رکھتے تھے۔ امیر عبد السلام حرمین شریفین کی زیارت کے لیے روانہ ہوئے، پھر ہندوستان تشریف نہ لا سکے اور وہیں جنت البقیع میں مدفون ہوئے۔ آپ کے دادا محترم نے سفر سے قبل آپ کو اپنے عمِ محترم کے سپرد کر دیا تھا۔ ابھی اچھی طرح سنِ شعور کو بھی نہ پہنچے تھے کہ آپ کے نانا حضرت خواجہ فیض نے ایک مہم میں جامِ شہادت نوش فرمایا۔ [نجاتِ قاسم، ص: 36]

تعلیم و تربیت: آپ کے نانا حضرت خواجہ فیض المعروف خواجہ فیضی بردوان میں نظامت کے عہدے پر فائز تھے۔ وہ آپ کو اپنے ہمراہ بردوان لے گئے۔ آپ کی تعلیم و تربیت آپ کے نانا حضرت خواجہ محمد فیض المعروف خواجہ فیض کی نگرانی میں ہوئی۔ آپ نے علومِ باطنی کے ساتھ علومِ ظاہری میں بھی اعلیٰ قابلیت حاصل کی۔ آپ نے تفسیر، حدیث، فقہ، منطق، بلاغت، صرف اور نحو میں مہارت حاصل کی اور فارسی زبان پر عبور حاصل کیا۔ جلد ہی تحصیلِ علومِ ظاہری اور کمالاتِ باطنی میں ماہر ہوئے اور فصاحت و بلاغت کے لیے مشہور ہوئے۔ آپ معاملہ فہمی, راست گوئی، خوش تدبیری، استقلال، ہمت، شجاعت، جواں مردی، دلیری اور بہادری کا بہت جلد اعلیٰ نمونہ بن گئے۔ [نجاتِ قاسم، ص: 36]

خواب: ایک رات آپ نے تین بزرگوں کو خواب میں دیکھا کہ آپ سے فرماتے ہیں: “اے سید ابو العلاء! یہ کیا وضع اختیار کی ہے؟ چھوڑو! ہماری طرح اختیار کرو، اگر فکرِ معیشت ہے تو اسے سمجھو!”

اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضِ [سورۃ النور: 35]

کوئی خطرہ یا اندیشہ دل میں نہ لاؤ۔” اس کے بعد ان بزرگوں میں سے ایک بزرگ نے استرہ لیا اور آپ کے سر کے بال تراشے، دوسرے بزرگ نے آپ کو کفنی پہنائی اور تیسرء بزرگ نے آپ کے سر پر عمامہ رکھا۔ بردوان پہنچ کر آپ نے پھر ایک خواب دیکھا، جس میں آپ نے بجائے تین بزرگوں کے چار بزرگوں کی زیارت کی۔ ان بزرگوں میں تین تو وہی تھے، جن کو پہلے دیکھ چکے تھے، چوتھے بزرگ، جن کی زیارت سے آپ اس خواب میں مشرف ہوئے، پیکرِ نور تھے۔ ان کا چہرہ مبارک اس قدر تاباں تھا کہ آنکھ نہیں ٹھہرتی تھی۔ ان بزرگوں نے آپ کو حکم دیا کہ “اے فرزندِ دلبند، اپنا طریقۂ آبائی اختیار کرو۔” ان بزرگوں کے متعلق، جن کی زیارت سے آپ پہلے اور دوسرے خواب میں مشرف ہوئے، ہر کس و ناکس کو نہیں بتاتے تھے، خاص لوگوں سے ہی آپ ان بزرگوں کے متعلق فرمایا کرتے تھے کہ “جن کی زیارتِ پیشیں خواب میں حاصل ہوئی، ان سے بے علم تھا، ہاں دوبارہ جب شرفِ زیارت سے مشرف ہوا تو آگاہ ہوا کہ جن بزرگ کا چہرہ مبارک نورانی آفتاب سے زیادہ مجلی اور ماہتاب سے زیادہ منور تھا، وہ لاریب جناب حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور وہ تین بزرگ، جو خوابِ اول اور دوم میں تشریف لائے، ان میں سے جن بزرگ نے میرے سر کے بال تراشے، وہ امام الاولیاء حضرت سیدنا علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ تھے اور باقی دو صاحبزادے حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہما تھے۔ [نجاتِ قاسم، ص: 39]

بادشاہ کے دربار میں بادشاہ کو جواب: جہانگیر کا دربار رات کو خوب آراستہ و پیراستہ تھا۔ رات کے آخری حصے میں خاص خاص امراء، ارکانِ دولت اور اعیانِ مملکت کے سوا کوئی دربار میں نہ آیا تھا۔ ایک دن جہانگیر نے اپنے امراء کا امتحان لینا طے کیا۔ سب نے تیر اندازی کی کوشش کی، لیکن کسی کا نشانہ ٹھیک نہ بیٹھا۔ فوراً خیال آیا، حکم دیا کہ نواب ابو العلاء کو بلاؤ۔ آپ دربار میں تشریف لائے۔ آپ کا نشانہ خطا ہوا، مگر دوسرا نشانہ ٹھیک بیٹھا۔ جہانگیر نے آپ کو جام پیش کیا۔ آپ نے شاہی دربار کے آداب کو ملحوظ رکھا، جام تو لے لیا، لیکن آستین میں گرا دیا۔ جہانگیر نے دوبارہ جام پیش کیا، آپ نے پھر ویسے ہی کیا، شراب پھینک دی اور جام ساقی کو دے دیا۔ اب جہانگیر تاب نہ لا سکا، نشے میں تو تھا ہی، غصے میں آپ سے کہنے لگا: “یہ خود نمائی، بے اعتنائی و لاپرواہی! کیا تم غضبِ سلطانی سے نہیں ڈرتے؟” یہ سن کر آپ نے بے پروائی سے جواب دیا: “ہاں، غضبِ سلطانی سے نہیں ڈرتا ہوں۔” اتنا کہہ کر زور سے نعرہ لگایا۔ نعرے کی آواز پر دو شیرِ غراں نمودار ہوئے۔ آپ نے ان پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا: “بہر صورت کہ می آئی شناسم۔” جہانگیر فوراً دربار کے اندر چلا گیا۔ [نجاتِ قاسم، ص: 42]

خواجہ غریب نواز کے آستانے پر: دوسرے روز صبح کو آپ نے ایک چادر اوڑھی، سفید تہبند باندھا، جو نقد و جنس اور مال باقی تھا، وہ بھی فقراء اور مساکین میں تقسیم کر دیا۔ آگرہ سے اجمیر معلیٰ جانے کا آپ نے یہ پروگرام بنایا کہ آگرہ سے دہلی جایا جائے اور وہاں قطب الاقطاب حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی اوشی اور سلطان المشائخ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء کے مزارات پر حاضر ہوا جائے، اور پھر دہلی سے اجمیر شریف۔ دربارِ معلیٰ اجمیر میں خواجہ غریب نواز بصورتِ مثالی آپ سے مخاطب ہوئے، آپ پر توجۂ عینی فرمائی۔ آپ کے سلسلے کے افراد اس “توجۂ عینی” پر فخر کرتے ہیں۔ آپ خواجہ غریب نواز کے آستانے پر اعتکاف میں رہنے لگے۔ ایک رات پھر خواجہ بزرگ بصورتِ مثالی جلوہ گر ہوئے۔ خواجہ صاحب نے ایک سرخ رنگ کی چیز کو، جو تسبیح کے دانے کے برابر تھی، آپ کے منہ میں ڈال دی۔ اس سرخ چیز کو کھاتے ہی آپ کا قلب روشن ہوا، حجابات اٹھ گئے، اب سیر فی اللہ کا آغاز ہوا، کام پورا ہوا۔ خواجہ صاحب کے حکم سے آپ آگرہ پہنچ کر اپنے عمِ محترم حضرت سیدنا امیر عبد اللہ نقشبندی کے حلقۂ ارادت میں داخل ہوئے اور ان ہی کی صاحبزادی سے نکاح کیا۔ [نجاتِ قاسم، ص: 46]

بیعت و خلافت و جانشین: سلطان الہند حضرت خواجہ غریب نواز اجمیری کے حکم سے آپ حضرت امیر عبد اللہ نقشبندی اکبر آبادی سے مرید ہوئے اور کچھ عرصے بعد پیر و مرشد نے خرقۂ خلافت سے آپ کو سرفراز فرمایا۔ آپ کو تبرکات تفویض فرمائے، اپنا جانشین و سجادہ مقرر کیا، آپ کی اہلیت و قابلیت اور اپنی محبت کا ثبوت دے کر آپ کو ممتاز و سرفراز کیا۔ [نجاتِ قاسم، ص: 47]

خلفاء کرام: آپ نے اپنی زندگی میں اپنے بڑے صاحبزادے حضرت سید شاہ امیر نور العلاء اکبر آبادی (متوفی 1090ھ) کو اپنا خلیفہ و جانشین مقرر فرمایا۔ آپ کے نامدار چند مشہور خلفاء حسبِ ذیل ہیں: حضرت سید شاہ امیر نور العلاء اکبر آبادی متوفی 1090ھ (صاحبزادے و جانشین)، حضرت سید شاہ امیر فیض العلاء اکبر آبادی (متوفی 1081ھ) (صاحبزادے)، حضرت سید شاہ امیر نور اللہ (پوتا)، حضرت سید شاہ امیر عبد الماجد اکبر آبادی، حضرت خواجہ محمدی عرف خواجہ فولاد اکبر آبادی، حضرت سید شاہ محمد افضل اکبر آبادی، حضرت حافظ محمد صالح عرف خواجہ وفا اکبر آبادی، حضرت میر سید محمد جعفر اکبر آبادی، حضرت میاں لاڈ خاں صاحب، حضرت میر سید محمد کالپوی (متوفی 1071ھ) (جدِ اعلیٰ مارہرہ مطہرہ)، حضرت سید شاہ دوست محمد برہان پوری اور حضرت ملا ولی محمد اکبر آبادی، حضرت شیخ محمد رفیع اکبر آبادی۔ [نجاتِ قاسم، ص: 98]

آگرہ میں آمد: آپ بسلسلۂ ملازمت بردوان میں ہی مقیم تھے کہ شہنشاہ اکبر 1605ء میں فوت ہوا اور جہانگیر تختِ شاہی پر رونق افروز ہوا۔ جہانگیر نے عنانِ حکومت ہاتھ میں لینے کے بعد ایک فرمان اس امر کا جاری کیا کہ امراء، ناظم اور صوبے دار کے منصب، قابلیت، لیاقت، وجاہت، ذہانت اور شخصیت کو پرکھنا نہایت ضروری ہے۔ آپ تو خود ہی ملازمت سے بیزار تھے اور بردوان سے آگرہ جانا چاہتے تھے۔ جب یہ شاہی فرمان بردوان پہنچا تو آپ نے اس امر کو تائیدِ غیبی سمجھا اور آگرہ کی راہ لی۔ [نجاتِ قاسم، ص: 41]

سلسلہ ابو العلائیہ: حضرت سید سرکار شاہ امیر ابو العلاء اکبر آبادی سلسلۂ ابو العلائیہ کے روحِ رواں ہیں۔ آپ شریعت کے احکام کی سختی سے پابندی کرتے اور سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی ہر حالت میں کرتے تھے۔ آپ کا طریقہ اتباعِ شریعت فی الحقیقت تھا۔ آپ نے حضرت خواجہ غریب نواز سے بھی فیض پایا تھا۔ آپ اپنے سلسلے کے بارے میں خود فرماتے ہیں: “میرے سلسلے کی نسبت بیٹھنے والے کشتی کے کی سی ہے، روانی اس کو اس وقت تک محسوس نہیں ہوتی کہ جس وقت تک وہ گھاٹ یعنی مقامِ مقصود تک نہیں پہنچ جاتا ہے۔” ایک اور موقع پر آپ نے فرمایا: “ایں نعمت کہ من دارم بس است فرزندانِ مرا یعنی ایں نعمت کافی وافی است برائے فرزندانِ من۔” سلسلۂ ابو العلائیہ سلسلۂ نقشبندیہ کی شاخ ہے۔ سلسلہ ابو العلائیہ کو ہندوستان اور بیرونِ ملک میں کافی مقبولیت حاصل ہوئی، مثلاً آگرہ، عظیم آباد (پٹنہ)، داناپور شریف، حیدرآباد، رام پور، لکھنؤ، راجستھان، دہلی، ممبئی وغیرہ۔ اس سلسلے کے مشہور و معروف اور ممتاز بزرگوں کے نام درج کیے جاتے ہیں: حضرت خواجہ شاہ محمد فرہاد ابو العلائی دہلوی، حضرت برہان الدین خدا نما لکھنوی، حضرت مخدوم شاہ محمد منعم پاک باز عظیم آبادی، حضرت خواجہ شاہ رکن الدین عشق عظیم آبادی، حضرت خواجہ ابو البرکات عظیم آبادی، اعلیٰ حضرت سید شاہ قمر الدین حسین ابو العلائی عظیم آبادی، سید الطریقت حضرت سید شاہ محمد قاسم ابو العلائی داناپوری، قطبِ داناپور حضرت مخدوم سید شاہ محمد سجاد ابو العلائی داناپوری اور حضرت سید شاہ محمد اکبر ابو العلائی۔ [تذکرۃ الابرار، ص: 58، مطبوعہ 1359ھ]

وصالِ حق: آپ ایک مدت تک بیمار رہے۔ آپ پر پہلے تو فالج کا حملہ ہوا، جس سے آپ کو نشست و برخاست میں تکلیف ہوتی۔ جب آپ کو قدرے افاقہ ہوا تو حرقۃ البول کی شکایت ہوئی، سوزاک کی شکایت آپ کو پہلے سے تھی۔ بیماری نے طول کھینچا، روز بروز کمزور ہوتے گئے۔ آخری ایام میں آپ کا کھانا پینا برائے نام ہو گیا۔ 8 صفر المظفر کا واقعہ ہے کہ حضرت امیر نور العلاء نے خواب میں دیکھا کہ آپ ان سے فرماتے ہیں: “بابا! ابھی میں نہیں جاتا ہوں، ان شاء اللہ صبح تک ہوں۔” ان کی آنکھ فوراً کھل گئی۔ آپ کی حالت نازک پائی، معلوم ہوتا تھا کہ آپ محبوبِ حقیقی سے ملنے کو بے تاب و بے قرار ہیں۔ 9 صفر المظفر کو آپ نے صبح کی نماز اشارے سے ادا فرمائی، پھر غفلت آپ پر طاری ہوئی۔ صبح کی نماز کے بعد 9 صفر المظفر 1061ھ کو آپ جوارِ رحمت میں داخل ہوئے۔ آپ کی عمر مبارک 71 برس کی ہوئی۔ لوحِ مبارک پر آپ کی تاریخِ وصال کندہ ہے، جس کو حضرت امیر افضل احراری نے لکھا ہے:

ساعتِ دو روزِ وصالِ افضل جست
شد سہ شنبہ نہم ماہِ صفر صبح پگاہ

1061ھ۔ آپ کا مزار اکبر آباد (آگرہ) میں حاجت روائے خلق ہے۔ آپ کا عرس ہر سال منایا جاتا ہے اور صوفی مشائخ حضرات تشریف لاتے ہیں۔ [ماہنامہ کنز الایمان، دہلی، دسمبر 2016ء]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!