Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

امتیازاتِ امام احمد رضا|محمد رحمت اللہ صدیقی

امتیازاتِ امام احمد رضا
عنوان: امتیازاتِ امام احمد رضا
تحریر: محمد رحمت اللہ صدیقی
پیش کش: محمد احسان مصطفیٰ
منجانب: جامعۃ المدینہ فیضانِ عطار ناگ پور

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری برکاتی قدس سرہ (1272ھ / 1856ء) اپنے زمانے میں ایک عظیم الشان اور عبقری شخصیت کے مالک تھے۔ ربِ کائنات نے اپنے خصوصی فضل و کرم سے انہیں علمی دنیا میں ایک بلند و بالا مقام عطا فرمایا تھا؛ اتنا بڑا کہ آپ کے عہد میں پورے عالمِ اسلام میں علم و تحقیق کے میدان میں کوئی آپ کے ہم پلہ نظر نہیں آتا۔ آپ کسی ایک فن میں ماہر نہیں تھے، بلکہ اپنے دور میں رائج تمام مروجہ علوم و فنون پر آپ کو کامل دسترس حاصل تھی، اور بعض فنون تو ایسے تھے جن کے آپ خود موجد تسلیم کیے گئے۔ یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جن فنون میں آپ کو کمال حاصل تھا، ان تمام میں آپ کی گراں قدر تالیفات و تصنیفات موجود ہیں۔

ایک دانشور نے راقم سے ایک ملاقات کے دوران فرمایا تھا کہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری کی ذات میں جن علوم و فنون کے دریا موجزن تھے، ان کا عکس آپ کے نعتیہ دیوان “حدائقِ بخشش” میں صاف دیکھا جا سکتا ہے۔ لیکن اس حقیقت کا عرفان اسی کو حاصل ہو سکتا ہے جس کا اپنا علمی افق وسیع اور مطالعہ عمیق ہو۔ آج کے دور کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ اعلیٰ حضرت کی تالیفات و تصنیفات کو گہرائی سے سمجھنے والوں کا حلقہ دن بہ دن سمٹتا جا رہا ہے۔ کسی کو بھی محض عقیدت کی بنیاد پر “مظہرِ علومِ اعلیٰ حضرت” لکھ دینا آسان ہے، مگر اسے علمی سطح پر ثابت کرنا انتہائی مشکل ہے۔ ہمارے یہاں القاب و آداب اتنے ارزاں ہو گئے ہیں کہ کوئی بھی کسی کے بارے میں کچھ بھی لکھ دیتا ہے۔ جماعتِ اہل سنت میں ماہرینِ علوم و فنون کی کمی نہ کل تھی اور نہ آج ہے، لیکن کسی کا اپنے فن میں ماہر ہونا الگ بات ہے اور “مظہرِ علومِ اعلیٰ حضرت” ہونا بالکل الگ بات؛ یہ زمین کو آسمان سے ملانے جیسا ہے۔ جماعتی شخصیات کا تعارف بڑے پیمانے پر ہونا چاہیے، مگر اس تعارف میں واقعیت اور سچائی کا ہونا لازمی ہے۔

یوں ہی آج جسے دیکھیے، وہ کسی نہ کسی کے نام کے ساتھ “اعلیٰ حضرت” کا لقب جوڑ دیتا ہے، حالانکہ سب جانتے ہیں کہ جب بھی “اعلیٰ حضرت” کا لفظ زبان پر آتا ہے یا صفحات پر لکھا جاتا ہے، تو ذہن فوراً بریلی شریف پہنچ جاتا ہے اور امام احمد رضا کی تصویر آنکھوں کے سامنے گھوم جاتی ہے۔ لغت میں الفاظ اور القاب کی کوئی کمی نہیں ہے، اس لیے جو لقب جس ہستی کے نام کا خاص حصہ بن چکا ہو، اسے کسی اور کے لیے دانستہ یا نا دانستہ استعمال کرنا علمی دیانت داری کے خلاف ہے۔ اس طرح کے استعمال سے غیر ارادی طور پر امام احمد رضا ہی کا تعارف ہوتا ہے۔ اگر خدانخواستہ کسی کے دل میں یہ ارادہ ہو کہ لفظِ “اعلیٰ حضرت” کو دوسروں کے لیے اتنا کثرت سے استعمال کیا جائے کہ مولانا احمد رضا کے لیے اس کی انفرادیت ہلکی ہو جائے، تو یاد رکھیے کہ چڑھتے سورج کی طرح ان کی عظمت کی روشنی وقت کے ساتھ بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ یہ ایک مدنی عطیہ اور نبوی فیضان ہے، اسے بھلا کون گھٹا سکتا ہے! مشہور شاعر اسد اقبال نے اسی پس منظر میں کیا خوبصورت اور حقیقت افروز خیال پیش کیا ہے:

تمہارے ماتھے پر کیوں شکن ہے جو کہہ رہا ہوں میں اعلیٰ حضرت
میرے رضا کو جو اعلیٰ حضرت بنا رہا ہے میرا نبی ہے

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان کثیر الجہات شخصیت کے مالک تھے۔ جس طرح سمندر کی گہرائیوں میں موجود مچھلیوں کی اقسام اور ان کی صحیح تعداد کا تعین کرنا کسی ماہر ملاح یا ماہرِ مچھلیات کے لیے ناممکن ہے، بالکل اسی طرح آپ کی حیات و خدمات کی علمی جہتوں کا احاطہ کرنا بھی اب تک ممکن نہیں ہو سکا۔ ماہرین، محققین اور مدبرین جب بھی آپ کی زندگی کے گوشوں کی فہرست تیار کرتے ہیں اور ان کے مطالعے میں مزید وسعت آتی ہے، تو ان کی اپنی بنائی ہوئی فہرست خود ان کی نگاہ میں ادھوری لگنے لگتی ہے۔ ہر آنے والا وقت آپ کی حیات کی نئی تب و تاب لے کر سامنے آتا ہے۔ کسی نے آج تک آسمان کو زمین پر اترتے ہوئے نہیں دیکھا، مگر محققین کہتے ہیں کہ اگر کسی کے دل میں آسمانِ علم کو زمین پر چلتا پھرتا دیکھنے کی خواہش ہو، تو وہ اعلیٰ حضرت کی جامع شخصیت کا مطالعہ کر لے۔

اعلیٰ حضرت کی تالیفات و تصنیفات کا ایک بڑا حصہ اب بھی غیر مطبوعہ شکل میں موجود ہے۔ ابھی کچھ عرصہ قبل ان کے کچھ غیر مطبوعہ قلمی نسخے دستیاب ہوئے ہیں، جن میں سے ایک نایاب کتاب رضا اکیڈمی ممبئی کے پلیٹ فارم سے “اکسیرِ اعظم” کے نام سے منظرِ عام پر آئی ہے۔ یہ کتاب آج سے تقریباً 139 برس قبل حضور سیدنا غوثِ اعظم رضی اللہ عنہ کی شانِ اقدس میں لکھی گئی تھی، جو عشاقِ غوثِ پاک کے لیے یقیناً ایک بہترین علمی تحفہ ہے۔ رفتہ رفتہ اعلیٰ حضرت کے یہ غیر مطبوعہ علمی و فنی شہ پارے زیورِ اشاعت سے آراستہ ہو رہے ہیں اور ان شاء اللہ ایک دن یہ سب منظرِ عام پر آئیں گے، کیونکہ انہوں نے جو کچھ بھی لکھا، اس کا اولین مقصد صرف رضائے الٰہی اور محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی تھا۔

آپ کی کتب کی تعداد ایک ہزار کے قریب بتائی جاتی ہے، اور کمالِ ادراک یہ ہے کہ ان ہزاروں کتابوں میں پھیلے ہوئے علمی مباحث کہیں بھی ایک دوسرے سے متصادم یا متضاد نہیں ہیں۔ جو مسئلہ انہوں نے ایک بار لکھ دیا، پینتیس چالیس برس کے بعد دوبارہ وہی سوال آنے پر بھی وہی جواب دیا جو پہلے دیا تھا۔ یہ ہے آپ کی تدقیق اور بے مثال تحقیقی استقامت۔ یہ خامی عام طور پر کثیر التصانیف بننے کا شوق رکھنے والے مصنفین کے ہاں نظر آتی ہے کہ وہ دوسری بار لکھتے وقت بھول جاتے ہیں کہ پہلے انہوں نے کیا موقف اختیار کیا تھا، جس سے ان کی اپنی تحریریں آپس میں ٹکرا جاتی ہیں اور قارئین کشمکش میں پڑ جاتے ہیں۔ اس کے برعکس، اعلیٰ حضرت نے صرف کتابوں کا انبار یا قطاریں کھڑی نہیں کیں، بلکہ جو کچھ بھی لکھا، وہ کتاب و حکمت کے اصولوں کے مطابق اور ٹھوس دلائل سے مزین لکھا۔ ہزار کتابوں کا مصنف ہونا اپنی جگہ کمال ہے، مگر کمال بالائے کمال یہ ہے کہ تحریر میں کہیں جھول نہ ہو، دلائل میں نقص نہ ہو اور پیشکش میں کمزوری نہ ہو؛ اسی خوبی نے امام احمد رضا کو آفاقی شخصیتوں میں ممتاز و منفرد کیا ہے۔ آپ کی بہت سی کتابیں دیمک کی نذر ہو گئیں اور کچھ مفقود الخبر ہوئیں، تب بھی یہ تعداد ہزار تک پہنچتی ہے۔ آپ خود لکھتے ہیں کہ “فقیر کے چار نعتیہ بیاض گم ہو چکے ہیں لیکن فقیر کو اس کا غم نہیں ہے۔” فتاویٰ رضویہ کی بھی ایک جلد کے غائب ہونے کا ذکر ملتا ہے۔ سیرت و سوانح کے مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ آپ کے ابتدائی پانچ سات سالوں کے فتاویٰ کو جمع کرنے کا اہتمام نہیں کیا گیا، اگر وہ سب محفوظ ہوتے تو فتاویٰ رضویہ کی جلدوں کی تعداد کہیں زیادہ ہوتی۔ فتاویٰ رضویہ معلومات کا ایک ایسا بحرِ بے کنار ہے جس کی مثال جدید و قدیم تاریخ میں نہیں ملتی، اسی لیے محققین، علماء اور فقہاء نے اسے فقہ کا انسائیکلوپیڈیا قرار دیا ہے۔

اگر اعلیٰ حضرت کے امتیازات کی فہرست تیار کی جائے تو اس کے لیے خود ایک مستقل کتاب درکار ہوگی۔ مفتیانِ کرام اور فقہائے اسلام سے ہماری اسلامی تاریخ کا ہر ورق روشن ہے۔ اسلامی عدالت میں ایک مفتی کی حیثیت ایک ماہر وکیل، مدبر جج اور چیف جسٹس کی ہوتی ہے، جس کے شرعی فیصلے کے سامنے وقت کے سلاطین کو بھی سر تسلیم خم کرنا پڑتا تھا۔ فقہاء کی تاریخ بتاتی ہے کہ ان میں بعض علاقائی سطح پر پہچانے گئے اور بعض صوبائی یا عالمی سطح پر، مگر ان سب میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان کئی جہات سے ممتاز نظر آتے ہیں۔ آپ کے زمانے میں کئی ایسے پیچیدہ عالمی مسائل ابھرے جن کا حل قوم و ملت شدت سے تلاش کر رہی تھی اور وقت کے فقہاء ان کا اطمینان بخش حل پیش کرنے سے قاصر تھے۔ ایسے میں آپ نے کرنسی نوٹ، منی آرڈر، علمِ غیبِ رسالت، اور سائنسی تھیوریز جیسے جدید اور معرکۃ الآراء مسائل کا ایسا سنجیدہ، علمی اور دلائل و براہین سے مزین حل پیش فرمایا کہ وقت کے فقہاء کی پیشانیاں مسرت سے چمک اٹھیں اور امت کی الجھنیں دور ہو گئیں۔ مذکورہ مسائل پر اعلیٰ حضرت کی باضابطہ عربی کتب موجود ہیں، جو بارہا اردو ترجمے کے ساتھ شائع ہو کر اہل علم سے داد پا چکی ہیں۔

ہمارے ایک دوست، جن کا شمار علماء، شعراء اور ناقدینِ زبان و ادب میں ہوتا ہے اور وہ بہترین علمی صلاحیتوں کے مالک ہیں، انہوں نے ایک رسالے میں لکھا تھا کہ اعلیٰ حضرت کی شخصیت اور فن کو بھی تنقید کے دائرے میں لانے کی ضرورت ہے۔ یہ ان کی اپنی سوچ ہو سکتی ہے، حالانکہ وہ خود اعلیٰ حضرت کی ذات سے بے پناہ عقیدت رکھتے ہیں اور اسی موضوع پر پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی حاصل کر چکے ہیں اور ان کا مقالہ بھی اسی پہلو پر ہے۔ یہاں اختصار کے ساتھ یہ بتاتا چلوں کہ تنقید اسی فن پارے پر ہو سکتی ہے جو انسانی شعور کی گرفت میں آ سکے، مگر جو فن پارہ ناقدین کے فکر و شعور کی پرواز سے بھی آگے نکل جائے، اس پر تنقید کیسے ممکن ہے؟ ناقدین کی صف میں ایک بھی ایسا نظر نہیں آتا جو اعلیٰ حضرت کے کسی علمی فن پارے کو مکمل طور پر سمجھنے کا دعویٰ کر سکے۔ آپ کی شخصیت کا ہر گوشہ عام ناقدین کی دسترس سے باہر ہے، یہی وجہ ہے کہ جب آپ کے کسی کام پر گفتگو ہوتی ہے تو اچھے اچھے ناقدین یہ کہتے ہوئے آگے بڑھ جاتے ہیں کہ:

جس کو ہو جان و دل عزیز تیری گلی میں جائے کیوں

اعلیٰ حضرت کے نام پر قلم کو جیسے پر لگ جاتے ہیں؛ جب ان کے علمی، فکری اور لسانی فن پاروں کی بات چلتی ہے تو قلم رکنے کا نام نہیں لیتا۔ ان کے علوم و فنون کی قندیلیں آسمان کے ستاروں کی طرح پھیلی ہوئی ہیں، جنہیں یکجا کرنا دورِ حاضر کے کسی ایک انسان کے بس کا روگ نہیں ہے۔ جو کوئی بھی جس سطح پر کام کر رہا ہے، وہ اپنی بساط کے مطابق لائقِ مبارکباد ہے کہ اس کا رشتہ اس عظیم علمی آستانے سے جڑا ہوا ہے۔ ہماری اسلامی تاریخ مصلحینِ امت کے علمی و فکری کارناموں سے روشن ہے اور محققین کی جماعت ان پر کام بھی کر رہی ہے، مگر مصلحینِ امت کی پوری تاریخ میں کوئی ایسا مصلح نظر نہیں آتا جس کی ذات اور خدمات پر ایک ہزار سے زائد کتب و رسائل لکھے گئے ہوں۔ یہ صرف اعلیٰ حضرت امام احمد رضا کا منفرد امتیاز ہے کہ آپ کی حیات و خدمات کے حوالے سے اب تک دنیا کی مختلف زبانوں میں 1200 سے زائد کتب، رسائل اور تحقیقی مقالے منظرِ عام پر آ چکے ہیں۔ یہ ایک ایسا عالمی ریکارڈ ہے جسے چیلنج کرنا سورج پر کمند ڈالنے کے مترادف ہے، اور اگر سنجیدگی سے مزید تحقیق کی جائے تو اس تعداد میں یقیناً مزید اضافہ ہوگا۔ [دو ماہی ‘الرضا’ انٹرنیشنل، پٹنہ، جنوری فروری 2016ء، ص: 36]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!