| عنوان: | مفتی اعظم کے ایک فتوے کا تقابلی مطالعہ |
|---|---|
| پیش کش: | شیخ کنیز فاطمہ |
کسی شخصیت کے علمی فضل و کمال سے آشنائی کے لیے دو ہی طریقے زیادہ کارگر اور معتبر ہوتے ہیں، ایک یہ کہ خود اس کی علمی گفتگو سنی جائے اور مختلف موضوعات پر اس سے کلام کر کے اس کی وسعت نظر، استحضار اور علمی گہرائی کا اندازہ کیا جائے، دوسرے یہ کہ اگر اس کے رشحاتِ قلم موجود ہوں اور متعدد موضوعات پر اس کے مضامین و کتب دستیاب ہوں تو انہیں پڑھ کر اس کے علمی منصب و مقام کا تعین کیا جائے، ماضی کی شخصیات کے بارے میں یہی دوسرا طریقہ زیادہ استعمال ہوتا ہے، اور باوثوق سمجھا جاتا ہے اور دوسروں کی زبانی فضل و کمال کا جو اجمالی تعارف و تذکرہ ہوتا ہے اس سے کسی محقق کی پوری تسکین نہیں ہوتی، خصوصاً اگر بیان کرنے والے افراد کا علم و کمال اور ثقاہت و تقویٰ اس کے نزدیک زیادہ قوی نہ ہو تو اس کے لیے اعتماد اور مشکل ہو جاتا ہے۔
ہم نے مفتی اعظم کی علمی مجلسیں تو بالکل نہ پائیں یا بہت ہی کم پائیں، اس لیے ہمارے لیے ان کی تصانیف اور ان کے رشحاتِ قلم ہی مشعلِ راہ کا کام کر سکتے ہیں اور بحمدہٖ تعالیٰ جب ہم ان کا مطالعہ کرتے ہیں تو نہ صرف فقہ و فتویٰ بلکہ تفسیر و حدیث، عقائد و کلام، عربیت و بلاغت، حسنِ انشاء، کمالِ تفہیم، حالاتِ زمانہ سے آشنائی اور حکمت و تدبیر جیسے بہت سے محاسن مفتی اعظم کی ذات میں یکجا نظر آتے ہیں، اس اجمال کی تفصیل یا اس دعوے کی تصدیق کے لیے میں کچھ شواہد پیش کر رہا ہوں، تاکہ عام قارئین بھی مفتی اعظم کی جلالتِ شان سے کسی قدر روشناس ہو سکیں۔
فتوے کا کام کوئی نئی چیز نہیں، مفتی اعظم کے زمانے میں اور اس عصر سے پہلے اور بعد میں بھی یہ کام برابر ہوتا رہا ہے اور آج بھی جاری ہے مگر جب فتاویٰ کا تقابلی مطالعہ کیا جائے اور ہر مفتی کے خاص کمال کو گہری نظر سے دیکھنے کی کوشش کریں تو ہر ایک کا جوہر نمایاں ہوتا ہے اور جو ان میں ممتاز ہے اس کی امتیازی حیثیت عیاں ہوتی ہے۔
حسنِ اتفاق سے مجھے ایک سوال ایسا ملا جس کا جواب مفتی اعظم کے ساتھ ان کے معاصر متعدد اربابِ فتویٰ نے رقم کیا ہے، ان جوابات میں جو فرق میں نے محسوس کیا وہ بیان کرنے میں اگر کامیاب ہو گیا تو کسی حد تک مفتی اعظم کے افتا کا کمال واضح ہو سکے گا۔
قصہ یہ ہے کہ تحریکِ خلافت کے دوران مسٹر ظفر بی اے کی ایک نظم بعنوان ”نالۂ خلافت“ کئی بار شائع ہوئی، پھر ۷ جون ۱۹۲۵ء کے اخبار زمیندار میں وہی نظم ”فیصلہ کفر و اسلام“ کے عنوان سے دوبارہ چھپی، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہ کے خلیفہ و شاگرد مولانا سید احمد ابوالبرکات قادری رضوی قدس سرہ (۱۳۱۲ھ - ۱۳۹۸ھ) نے اس نظم کے تین اشعار سے متعلق مفتیانِ کرام سے استفتا کیا اور ان کے جوابات شائع کیے (بعض حضرات سے سوالات میں اس سے قبل کے بھی دو اشعار ارسال کیے گئے تھے) اشعار یہ ہیں :
یہ سچ ہے کہ اس پہ خدا کا چلا نہیں قابو
مگر ہم اس بتِ کافر کو رام کر لیں گے
بجائے کعبہ خدا آج کل ہے لندن میں
وہیں پہنچ کے ہم اس سے کلام کر لیں گے
جو مولوی نہ ملے گا تو مالوی ہی سہی
خدا خدا نہ سہی رام رام کر لیں گے
ذوقِ ایمانی رکھنے والا ہر شخص ان اشعار کو سن کر ہی متنفر و بیزار ہو جائے گا اور پکار اٹھے گا کہ یہ کسی ایمانی فکر و ذہن کی پیداوار نہیں ہے اور شاعر حریمِ اسلام سے قدم باہر نکال چکا ہے مگر جب ایک مفتی سے اس کے متعلق سوال ہوگا تو وہ محض اپنے ذوق کے حوالہ سے جواب نہیں دے سکتا، بلکہ عقل و استدلال کی کسوٹی پر پرکھ کر اور شرعی اصول پر ہر شعر کو جانچ کر واشگاف انداز میں دلائل و وجوہ کے ساتھ واضح کر کے اسے جواب دینا پڑے گا، اب آئیے دیکھیں کہ مفتیانِ کرام نے کیا جوابات تحریر فرمائے۔
(۱) مفتی مدرسہ ارشاد العلوم رامپور، مولانا ارشاد حسین مجددی نے ان تین اشعار اور ان سے قبل کے دو اشعار دیکھ کر جو حکم تحریر فرمایا ہے وہ ان کے الفاظ میں یہ ہے : ”صورتِ مسئولہ میں تیسرے شعر کا پہلا مصرع اور چوتھا شعر، اور پانچویں شعر کا آخری مصرع لزومِ کفر میں صریح ہے، اس وجہ سے کہ تیسرے شعر کے پہلے مصرع میں قائل خدائے تعالیٰ کے عاجز ہونے کی تصریح کرتا ہے۔ وَهَلْ هَٰذَا إِلَّا كُفْرٌ صَرِيحٌ۔ اور چوتھے شعر کو بالفرض اگر تعریض پر محمول کیا جائے تب بھی ایسی تعریضیں کہ جن سے حق سبحانہ و تعالی کی شان کی تنقیص مترشح ہو اور اس کی تنزیہ و تقدیس کے خلاف ہوں قطعاً کفر ہیں۔ خدا خدا نہ ہوا بلکہ ان یاوہ گو۔ الشُّعَرَاءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ۔ [سورۃ الشعراء: 224] کے تعریضات اور تمسخر کا آلہ ہو گیا کہ کبھی کسی کافر سے خدا کو تعبیر کر دیا، اور کبھی مشرک ہے، كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ [سورۃ الکہف: 5] کا حَقّ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، معبودِ برحق اور کجا رام و لچھمن کہ جو دو شخص اہلِ ہنود کے معبودِ باطل، جن کو وہ نعوذ باللہ خدا مانتے اور جانتے ہیں۔ مؤخر الذکر تین شعروں کے بعض الفاظ صریح کفر ہیں اور شرعاً حکمِ کفر اس پہ ہوتا ہے جس پر صراحتہً قائل کا لفظ دلالت کرے اگرچہ قائل نے قصدِ کفر نہ کیا ہو۔“
مذکورہ اشعار کے حکم میں کل اتنی ہی بات ہے جو اس فتوے میں لکھی گئی اور قائل پر حکم کی صراحت قیدِ تحریر میں نہ آئی، ہاں ابتدائی تمہید اور بعد کی عبارتیں ایک ساتھ ملانے کے بعد یہی متعین ہوتا ہے کہ صاحبِ فتویٰ کے نزدیک ان اشعار کے قائل کی تکفیر ہی ہوگی۔ وجہِ کفر میں صرف ایک بات واضح طور پر بیان کی گئی کہ پہلے مصرع میں قائل نے خدا کے عاجز ہونے کی تصریح کی ہے، اس کے باوجود یہ فرمایا کہ لزومِ کفر میں صریح ہے اور بطورِ ابہام یہ لکھا ہے کہ تین شعروں کے بعض الفاظ صریح کفر ہیں، جب کہ ان الفاظ کی صراحت اور وجہِ کفر کی وضاحت کے لیے قاری کی جستجو اور دریافت کو سخت تشنگی محسوس ہوتی ہے۔
(۲) دوسرا فتویٰ پاکستان کے مشہور عالم مولانا عبد الکریم درس مفتیِ کراچی کا ملاحظہ ہو، ان کے پاس مذکورہ تین اشعار اور ان سے قبل کے دو اشعار ارسال ہوئے تھے، وہ تحریر فرماتے ہیں : ”نیچے کے تینوں شعر متوازی بکفر و محتوی ارتداد ہیں، ان تینوں شعروں میں کوئی لفظ ایسا نہیں جس کا حقیقی معنی مہجور یا متعذر یعنی ایسا متروک الاستعمال ہو جس میں تاویل کی گنجائش ہو، تیسرے شعر کے جملہ ”یہ سچ ہے“ سے شائبہ شک بھی دور ہو گیا، اور نعوذ باللہ من سوء ذاک الاعتقاد، خالق کا اپنی مخلوق پر قابو نہ چلنے کی تحقیق اور تاکید ہو گئی اور آیہ کریمہ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ [سورۃ ہود: 4] سے صاف صاف انکار ہو چکا۔ وَهَٰذَا كُفْرٌ صَرِيحٌ۔ اور دوسرے مصرع میں ذاتِ خداوندی پر اپنی نِدِّیت ثابت کی ہے۔ خاک بدہن قائلش چوتھے شعر کے پہلے مصرع سے اس موجودِ حقیقی کا کعبہ سے خلو، اور لندن کو اس لامکان ذات کا مکان اور مقام قرار دینا کفر نہیں تو اور کیا ہے ؟ اور دوسرا مصرع پہلے مصرع کا موید یعنی ”وہیں پہنچ کر ہم اس سے کلام کر لیں گے“ اور ”کلام کر لیں گے“ سے کلیم اللہ بننا سب سفسطہ اور الحاد ہے۔ پانچویں شعر میں آیہ کریمہ وَمَا يَسْتَوِي الْأَعْمَىٰ وَالْبَصِيرُ [سورۃ فاطر: 19] کا انکار ہے۔ مولوی اور مالوی یعنی مومن اور کافر، عارف اور اجنبی یعنی غیر عارف دونوں مسٹر ظفر کے سامنے برابر ہیں، مالوی، مولوی تو مولوی ایک فاسق مسلم کے برابر بھی نہیں ہو سکتا، ان شعروں کا قائل کافر اور مرتد ہے، إِلَّا أَنْ يَرْجِعَ وَيَتُوبَ۔“
اس فتوے میں وجوہِ کفر کو وضاحت سے بیان کیا گیا ہے، جو حسبِ ذیل ہیں :
-
یہ کہنا کہ مخلوق پر خالق کا قابو نہ چلا۔
-
اپنے کو ذاتِ الٰہی کا مساوی و مقابل ٹھہرانا۔
-
ذاتِ لا مکان کے لیے مکان قرار دینا۔
-
کلیم اللہ بننے کا دعویٰ اور خیال۔
-
مومن اور غیر مومن کو یکساں قرار دینا اور دونوں میں فرق نہ جاننا۔
ساتھ ہی قائل کا حکم آخر میں واضح کر دیا گیا ہے، اس لحاظ سے یہ فتویٰ پہلے فتوے سے زیادہ وقیع اور تشفی بخش ہے، بیان میں اجمال اور عربی الفاظ کے کثرت سے استعمال کی شکایت کی جا سکتی ہے۔ وہ غالباً اس وجہ سے ہے کہ مستفتی خود ہی زبردست عالم ہیں۔ بہرحال بحیثیتِ مجموعی پہلے فتوے سے یہ بدرجہا واضح و جامع ہے۔
(۳) تیسرا فتویٰ مولانا محمد ابراہیم قادری مدرسِ اول دار العلوم شمس العلوم بدایوں کا ملاحظہ ہو۔ وہ لکھتے ہیں : ”فقہائے کرام علیہم الرحمہ نے فرمایا کہ جو شخص خدائے تعالیٰ کو معاذ اللہ ایسے وصفوں سے متصف کرے کہ اس کے لائق نہ ہوں، یا خدائے تعالیٰ کو جاہل، عاجز ٹھہرائے یا اس کے نام کے ساتھ تمسخر کرے اور اختیاراً ایسے قول کہے (وہ تعریضاً اور نقلاً نہ ہوں) اگرچہ کہنے والا اسے کفر نہ جانے اور اس کا اعتقاد نہ رکھے، وہ شرعاً ایسے قول کی بنا پر کافر ہو جاتا ہے“ اس بیان کی موید عبارتیں نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں : ”جو شخص نثراً، نظماً یہ کہے کہ خدا کا اس بتِ کافر پر قابو نہ چلا مگر میں اس کو مطیع کر لوں گا یا خدا، خدا کی جگہ رام رام باتباعِ فلاں کافر کر لوں گا تو یہ کلمات صریحاً کفر کے ہیں، جس میں تاویل کی گنجائش نہیں، اگرچہ کہنے والا اعتقاد نہ رکھے۔“
اس فتوے کی تمہید میں چند وجوہِ کفر ذکر کرنے کے بعد ان کے قائل کا حکم بیان کیا اور اس کی تائید میں کتبِ فقہ کی عبارتیں پیش کر دیں، آخر میں شعر سے متعلق کفر کی دو وجہیں تحریر کیں، ایک خدا کو عاجز اور اپنے کو قادر بتانا اور دوسری خدا کی جگہ باتباعِ کافر رام رام کرنا، ان سب کو کفریہ کلمات بتایا، اور قائلِ خاص کا حال غالباً تمہیدِ فتویٰ کی روشنی میں فہمِ ناظرین پر چھوڑا۔
بہر حال اس میں دو وجہیں بہت صراحت کے ساتھ بیان کیں، اور قائل کا حکم بھی کسی قدر ظاہر کر دیا، اگرچہ بہ الفاظِ خویش صراحت نہ کی، اس لحاظ سے یہ فتویٰ پہلے فتوے سے بہتر اور دوسرے فتوے سے کم تر ہے۔
(۴) چوتھا فتویٰ امام احمد رضا قدس سرہ کے سچے اور جاں نثار حامی، ہمارے مخدومِ گرامی حضرت مولانا سید اولادِ رسول محمد میاں قادری برکاتی سجادہ نشین سرکارِ مارہرہ شریف رحمہ اللہ تعالیٰ ورحمنا بہ کا ہے، ان کی ابتدا واشگاف اور واضح و غیر مبہم ہے اور جو کچھ تحریر فرمایا ہے اس میں کسی شہرت گیر اخبار کے ایڈیٹر کے ادنیٰ سے ادنیٰ پاس و لحاظ سے بہت دور ہو کر دین و ایمان اور حقیقت و حقانیت کی پاس داری کا جذبہ بہت عیاں ہے۔ جو اس خاندانِ والا شان کی ہر دور میں نمایاں روایت رہی ہے اور بفضلہٖ تعالیٰ آج بھی جاری ہے۔ رقم طراز ہیں : ”شعر نمبر ۳: یقیناً قطعاً کفرِ خالص ہے۔ اس میں نہایت صاف واضح الفاظ میں خدا کو عاجز کہا اور عاجز بھی کیسا کہ جس بتِ کافر پر بقول اس شاعرِ کافر کے خود یہ قادر ہے، خدا کا اس پر کچھ بس نہیں چلا اور یہ خدا کی طرف عجز کی نسبت اور وہ بھی ایسی، یقیناً قطعاً اجماعاً کفرِ خالص ہے۔“
اس کے بعد تائیدی عبارتیں نقل کی ہیں۔ پھر فرماتے ہیں : ”یہ شعر اپنے اس معنی کفری میں نہایت واضح و صاف، متعین ناقابلِ تاویل و توجیہ ہے، جس میں کسی ایسی تاویل کی جو اسے کفر سے نکال سکے اصلاً گنجائش نہیں، نہ ایسے کفرِ صریح میں ادعائے تاویل مقبول و صحیح۔“
پھر شفا نسیم الریاض کی عبارتیں پیش کرنے کے بعد لکھتے ہیں : ”اس شاعر کے خسار و بوار کے لیے اس کا یہی ایک ملعون شعر کیا کم تھا کہ اس نے آگے اور کفر کا اور شعر نمبر ۴: کے پہلے مصرع میں مشرک کو اپنا رہبر و رہنما، ہادی و پیشوا بنانے کی اپنی مشرک پرستی کو ایک تعلیقِ موہوم کی بے معنی آڑ کے ساتھ ظاہر کرنے کے بعد دوسرے مصرع میں صاف صاف کہہ دیا کہ- خدا خدا نہ سہی رام رام کر لیں گے۔“
اس مشرک پرستی پر تو ردِ کامل علمائے اہل سنت کے رسائل میں ہے۔ یہاں کہنا یہ ہے کہ اس دوسرے مصرع میں کلمہ اسلام خدا خدا کو ایک کلمہ کفر رام رام سے مساوی ماننا اور اس کلمہ اسلام کو چھوڑ کر اس کلمہ ملعونہ یعنی رام رام کو اختیار کرنا ہے، اور یہ دونوں یقیناً کفر ہیں۔
کفر کو اسلام کے مساوی جاننے کا کفر ہونا تو بدیہی ہے، اور رام کے معنی ہیں رما ہوا، سمایا ہوا، مشرک خدا کو اسی لیے رام کہتے ہیں کہ وہ ان کے زعمِ فاسد میں ہر شے ہر خلا میں رما ہوا، سمایا ہوا ہے اور خدا کو کسی چیز میں رما ہوا جاننا یقیناً کفر ہے۔ [اعلام ابن حجر و شفا]
اور کفر اس وقت کرے یا آئندہ اس کے کرنے کا ارادہ کرے بہرحال اسی وقت کافر ہو جائے گا۔ [ہندیہ عن الخلاصة]
[مقالاتِ مصباحی، ص: ۱۲۱-۱۲۵]
