| عنوان: | ہم میلاد کیوں مناتے ہیں؟ (دوسری قسط) |
|---|---|
| تحریر: | مولانا نہال قادری |
| پیش کش: | عائشہ فاطمہ |
| منجانب: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد |
مخالفین کے اعتراضات اور ان کے مدلل جوابات
اعتراض نمبر (1): مخالفین کی طرف سے ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ جشن عید میلاد النبی صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم سے ثابت نہیں ہے، جب صحابہ نے نہیں منایا ہے جو کام صحابہ نے نہیں کیا تو وہ کام کیونکر جائز ہو سکتا ہے؟
جواب: یہ اعتراض اکثر میلاد کے دشمن کرتے رہتے ہیں اور یہ اعتراض اور سوال محض جہالت پر مبنی ہے اور دین کے اصول و قوانین سے عدم وابستگی کا صلہ ہے۔ میں ان اعتراض کرنے والوں سے کہوں گا کیا جو کام صحابہ سے ثابت نہیں ہے وہ کام شریعت میں ناجائز ہے یا حرام ہے؟ قرآن کریم میں کون سی آیت کریمہ ہے جس میں فرمایا گیا ہے کہ جو کام صحابہ سے ثابت نہ ہو وہ حرام ہے یا بدعت ہے؟ یا کون سی حدیث ہے جس میں فرمایا گیا ہے جو کام صحابہ سے ثابت نہیں ہے وہ حرام ہے، ناجائز ہے یا بدعت ہے؟ اگر ایسی کوئی نص ہو تو ہمیں بھی دکھائیں تاکہ ہم بھی عمل کریں؛ اور اگر مخالفین کے اس خود ساختہ اصول کی طرف نظر کی جائے تو پوری امت حرام اور ناجائز اور بدعت کرنے سے نہیں بچ سکتی، اس لیے کہ بے شمار کام ایسے ہیں جو صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے نہیں کئے ہیں اور وہ کیے جا رہے ہیں، جیسا کہ مخالفین کا سیرت النبی کے جلسے وغیرہ کرنا، یہ صحابہ سے کہاں ثابت ہے؟ کوئی مخالف نہیں دکھا سکتا۔ اور بھی دیگر کام ہیں جو صحابہ سے ثابت نہیں ہیں لیکن کیے جاتے ہیں اور جائز و مستحسن ہیں۔ لہذا یہ اعتراض کرنا کہ صحابہ نے نہیں کیا یا یہ صحابہ سے ثابت نہیں ہے، محض باطل ہے اور صحابہ سے کسی بات کا ثبوت نہ ہونا اس کے ناجائز ہونے کی دلیل نہیں ہے۔
اعتراض نمبر (2): اسلام میں عیدین دو ہی ہیں، تیسری عید عیدِ میلاد کہاں سے آگئی؟
جواب: یہ بھی بالکل غلط اور سراسر جھوٹ ہے کہ اسلام میں صرف دو عیدیں ہیں۔ حدیث میں یومِ عرفہ کو عید کا دن فرمایا گیا ہے، حدیث میں یومِ جمعہ کو مسلمانوں کی عید فرمایا گیا ہے، اس سے پتا چلتا ہے کہ صرف دو عیدیں ہی نہیں ہیں بلکہ اسلام میں اور بھی عیدیں ہیں، لہذا یہ کہنا کہ صرف دو عیدیں ہیں، باطل ہے۔
اعتراض نمبر (3): ہم مانتے ہیں سرکار ﷺ نے اپنا میلاد منایا ٹھیک ہے، لیکن سرکار ﷺ نے روزہ رکھ کر منایا اور تم روزہ نہیں رکھتے بلکہ جشن عید میلاد مناتے ہو؛ اور یہ بات ظاہر ہے جس دن روزہ ہوتا ہے اس دن عید نہیں اور جس دن عید ہوتی ہے اس دن روزہ نہیں، جب سرکار ﷺ نے روزہ رکھا تو عید اس دن نہیں ہو سکتی۔
جواب 1: یہ اعتراض بھی جہالت پر مبنی ہے، حدیث میں جمعہ کے دن کو عید فرمایا گیا ہے، اب آپ دیکھیں رمضان میں کتنے جمعے آتے ہیں اور ان میں روزے بھی رکھے جاتے ہیں۔
جواب 2: ہم جو عید میلاد مناتے ہیں تو یہاں عید کے لغوی معنی مراد ہیں جو کہ "خوشی" کے ہیں، نہ کہ وہ اصطلاحی عید مراد ہے جس میں روزہ رکھنا مکروہ ہے اور جو اللہ کی طرف سے ضیافت کا دن ہے۔
جواب 3: واضح ہو کہ جس دن کھانا پینا ہوتا ہے اس دن بھی عید ہوتی ہے، قرآن پاک میں ہے کہ بنی اسرائیل نے اپنے نبی سے سوال کیا کہ اللہ ہمارے لیے آسمان سے دستر خوان اتارے جس میں طرح طرح کا کھانا ہو اور وہ دن ہمارے لیے اور ہمارے بعد آنے والوں کے لیے عید کا دن ہو گا۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ جس دن بنی اسرائیل کے لیے آسمان سے کھانا اترے وہ دن عید کا دن ہو سکتا ہے، تو جس دن ہمارے سرکار ﷺ تشریف لائے جن کے صدقے ساری نعمتیں ملی ہیں، وہ دن عید کا دن کیوں نہیں ہو سکتا؟
جشنِ عید منانے والوں سے گزارش
تمام عاشقانِ رسول سے بھی گزارش ہے کہ جشنِ میلاد منانا غلط نہیں بلکہ باعثِ اجر و ثواب ہے، لیکن یہ ثواب تب ہی ہو گا جب ہم جشنِ عید میلاد شریعت کی حدود میں رہ کر منائیں۔ اس وقت میلاد کے موقع پر کچھ نااہل لوگ اس طرح سے خوشی مناتے ہیں جو شریعتِ مصطفیٰ ﷺ میں بالکل روا نہیں ہے، جس سے مخالفین کو بھی اہل سنت پر اعتراض کرنے کا موقع ملتا ہے اور رب تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی ناراضگی الگ ہوتی ہے۔ لہذا جشنِ عید میلاد منائی جائے، ضرور منائی جائے لیکن شریعت کی حد میں رہ کر۔ اللہ تعالیٰ تمام اہل سنت کو شریعتِ مصطفیٰ ﷺ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔
[حوالہ:- ماہنامہ افکار حصہ 3 صفحہ نمبر 41/44]
