| عنوان: | ہم میلاد کیوں مناتے ہیں؟ (پہلی قسط) |
|---|---|
| تحریر: | مولانا نہال قادری |
| پیش کش: | عائشہ فاطمہ |
| منجانب: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد |
پیش لفظ
اللہ تعالی نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا جس کا مفہوم یہ ہے کہ جب تم اپنے رب کا فضل اور اسکی رحمت پا جاؤ تو اس کے فضل و رحمت کے پا جانے پر خوب خوب خوشی مناؤ اللہ تعالی کے اس فرمان عبرت نشان پر عمل کرتے ہوئے ہم اہل سنت و الجماعت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کی پیدائش کے موقع پر خوشی کا اظہار کرتے ہیں آپس میں ایک دوسرے کو تہنیت پیش کرتے ہیں اور اس خوشی کو جشن عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم سے تعبیر کرتے ہیں لیکن کچھ لوگ اسکے مخالف ہیں اور ہمارے اس عمل پر طرح طرح کے اعترضات کرتے ہیں اور بڑے خاص اہتمام کے ساتھ اسکا رد بلیغ کرتے ہیں اور عید میلاد د النبی صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کو بدعت بتاتے ہیں لہذا اپنی اس تحریر میں واضح کریں گے ہم میلاد النبی صلی اللہ علیہ و آلہ واصحابہ وسلم کیوں مناتے ہیں اور ساتھ مخالفین کے کچھ اعترضات کے جوابات بھی دیں گے اللہ تعالی کے مبارک نام سے اس کی ابتدا ہے اور اسی پر بھروسہ ہے۔
عید اور میلاد کے معنی
عید کے لغوی معنی جشن۔ تہوار ۔ تقریب۔ ہر وہ دن جس میں کسی صاحب فضل یا کسی بڑے واقعہ کی یاد مناتے ہیں۔ (مصباح اللغات )
اور اصطلاح میں عید اس خاص دن کو کہتے ہیں جس میں اللہ تعالی کی عبادت کی جاتی ہے اور جو اللہ تعالی کی طرف سے بندوں کی ضیافت کا دن ہے اور اس میں روزہ رکھنا مکروہ ہے۔
میلاد کے لغوی معنی پیدائش کے ہیں اب عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ و سلم کا مطلب ہو گا نبی صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کی پیدائش کی خوشی۔
سرکار ﷺ کی تاریخ ولادت
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کی تاریخ ولادت میں اختلاف ہے لیکن تمام امت مسلمہ اور جمہور علماء اسلام کا جو موقف ہے وہ بارہ ربیع الاول شریف مطابق 20 اپریل 571 عیسوی ہے اسی تاریخ کو سرکار دو عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ واصحابہ وسلم پیدا ہوئے اسی تاریخ کو صدیوں سے اہل سنت و الجماعت حضور کی آمد کی خوشی مناتے ہیں اور طرح طرح کے اہتمام کرتے ہیں اور تمام عالم اسلام میں اسی تاریخ کو اپنے طریقے سے سرکار آمد کی خوشی منائی جاتی ہے۔
قرآن اور میلاد
کسی کی میلاد منانا قرآن کے مخالف نہیں ہیں اس وجہ سے قرآن عظیم میں خود مختلف لوگوں کی ولادت کا تذکرہ کیا گیا ہے اور تذکرہ بھی ایسا جو مقام مدح میں واقع ہوا ہے چنانچہ قرآن عظیم میں ارشاد ہوا حضرت یحیی علیہ الصلوۃ والسلام کے بارے میں وسلام علیہ یوم ولد ترجمہ اور سلام ہو اس دن پر جس دن حضرت یحییٰ علیہ السلام پیدا ہوئے اور حضرت عیسی علیہ السلام کے بارے میں ارشاد ہوا حضرت عیسی علیہ السلام نے فرمایا والسلام علي يوم ولدت یعنی حضرت عیسی علیہ السلام نے فرمایا سلام ہو اس دن پر جس دن میں پیدا ہوا کس شان سے ان پیغمبروں کی ولادت کا تذکرہ قرآن عظیم میں موجود ہے اور باقاعدہ ولادت کا ذکر ہے جب ان کی ولادت کا تذکرہ اور ان کی ولادت پر سلام بھیجنا قرآن کریم کے مطابق اور قرآن کریم میں موجود ہے تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا میلاد منانا اور نبی کی پیدائش کے دن نبی پر درود و سلام بھیجنا کیوں کر غلط ہو گا ہر گز ہر گز غلط نہیں ہو گا بلکہ قرآن عظیم فرقان حمید کے عین مطابق ہو گا جب قرآن عظیم میں ان پیغمبروں کی پیدائش پر سلام بھیجا گیا ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت پر سلام بھیجنا کیوں کر جائز نہیں ہو گا اور خوشی منانا کیوں کر جائز نہیں ہو گا۔
ہم میلاد کیوں مناتے ہیں ؟
قرآن عظیم میں اللہ تبارک و تعالی نے سورہ یونس میں ارشاد فرمایا جس کا مفہوم یہ ہے اے محبوب تم فرمادو جب اللہ کی رحمت اور اس کا فضل پا جاؤ تو اس کی رحمت اور اس کے فضل پا جانے پر خوب خوب خوشی مناؤ یہ تمہارے مال جمع کرنے سے بہتر ہے۔
یہاں سے بات واضح ہو جاتی ہے جب جب رب تعالی کا فضل کسی کو ملے جب رب تعالی کی رحمت کسی کو ملے تو چاہیے کہ وہ رب تعالی کی رحمت اور اس کے فضل پر خوب خوب خوشی منائے اب ذرا دیکھیے رب تعالی نے اپنی رحمت اور فضل پر خوب خوب خوشی منانے کا حکم دیا ہے اب بات واضح ہو جائے گی کہ ہم میلاد کیوں مناتے ہیں اللہ تبارک و تعالی نے ارشاد فرمایا اے محبوب ہم نے تمام جہان والوں کے لئے تمہیں رحمت بنا کر بھیجا تو ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم رب تعالی کی رحمت ہے اور سراپا رحمت ہے اور سب سے بڑی رحمت ہیں اور دوسری جگہ اللہ تبارک و تعالی نے ارشاد فرمایا جس کا مفہوم یہ ہے اللہ تبارک و تعالی نے احسان فرمایا مومنوں پر کہ ان میں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا اللہ تبارک و تعالی نے بے شمار فصل و احسان کئے کسی بھی فضل پر اپنا احسان نہیں جتایا لیکن جب اپنے حبیب پاک علیہ الصلاة والسلام کی باری آئی تو رب تعالی نے فرمایا کہ رب تعالی کا احسان ہے کہ اس نے اپنے رسول کو تم میں معبوث فرمایا یعنی رب تعالی کا ایسا فضل ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم جس پر اللہ تعالی احسان جتارہا ہے تو پتہ یہ چلا کہ نبی سے بڑھ کر کوئی رحمت نہیں ہے نبی سے بڑھ کر کوئی اللہ کا فضل نہیں ہے تو جب اللہ کا سب سے بڑا فضل اور اللہ کی سب سے بڑی رحمت ہمیں جس دن ملیں تو کیوں نہ ہم اس دن جشن منائے اور آپس میں ایک دوسرے کو تہنیت کریں کیونکہ قرآن عظیم میں خود فرمادیا گیا کہ رب تعالی کے فضل اور اس کی رحمت پر خوب خوب خوشیاں مناؤ تو لہذا ہمارا میلاد نبی صلی اللہ علیہ وسلم منانا یہ قرآن عظیم کے عین مطابق ہے مخالف نہیں ہے نہ ہی نا جائز بدعت ہے۔
حضور ﷺ نے بھی اپنا میلاد منایا
روایت میں آتا ہے سرکار مدینہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم پیر کے دن روزہ رکھا کرتے تھے حضور کی بارگاہ میں عرض کیا کہ حضور اس دن روزہ کیوں رکھتے ہیں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر ارشاد فرمایا کہ اس دن میری پیدائش ہوئی تھی یعنی پیر کا دن میری پیدائش کا دن ہے اس لیے میں اپنی پیدائش کی خوشی میں اللہ تبارک کے لیے روزہ رکھتا ہو اسکی عبادت کرتا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ولادت کی خوشی کا اظہار روزہ رکھ کر فرمارہے ہیں تو امتی کیوں نہ نبی کی ولادت پر خوشی کا اظہار کر سکتا ہے؟ ضرور کر سکتا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کی خوشی میں روزہ بھی رکھ سکتا ہے اور غریبوں مسکینوں یتیموں کو کھانا بھی کھلا سکتا ہے اور دوسرے طریقوں (جو شریعت سے نہ ٹکرایں) سے بھی اپنی خوشی کا اظہار کر سکتا ہے یہ بالکل جائز اور مستحسن ہے۔
[حوالہ:- ماہنامہ افکار حصہ 3 صفحہ نمبر 37/41]
