| عنوان: | علم یا تشہیر؟ |
|---|---|
| تحریر: | انیس الرحمن حنفی رضوی بہرائچ شریف |
| منجانب: | جامعہ رضویہ زینت العلوم، سرس کھیڑا مرادآباد (یوپی) |
زمانہ بدلتا ہے تو فتنے بھی نئی شکلوں میں سامنے آتے ہیں۔ کبھی انسان مال کی محبت میں گرفتار ہوتا ہے، کبھی منصب اور اقتدار کی طلب اسے بے چین کرتی ہے، اور کبھی شہرت کا ایسا خمار سر پر سوار ہو جاتا ہے کہ اسے ہر وقت اپنی نمائش کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ افسوس یہ ہے کہ یہ بیماری اب ان حلقوں تک بھی پہنچ چکی ہے جن سے سنجیدگی، وقار، اخلاص اور خود فراموشی کی توقع کی جاتی تھی۔
آج بعض دینی درسگاہوں میں داخل ہوں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے تعلیم و تربیت کا ماحول کم اور میڈیا کوریج کا ماحول زیادہ ہو۔ استاد سبق پڑھا رہے ہیں تو کیمرہ آن ہے، طلبہ سبق دہرا رہے ہیں تو موبائل ان کی طرف متوجہ ہے، کوئی مہمان آ جائے تو ویڈیو، کوئی نشست ہو تو ویڈیو، چند افراد چائے پی رہے ہوں تو ویڈیو، دسترخوان بچھا ہو تو ویڈیو، سفر ہو رہا ہو تو ویڈیو۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ زندگی کا کوئی لمحہ کیمرے کی گرفت سے آزاد نہیں رہا۔ سوال یہ ہے کہ آخر یہ سب کیوں ہو رہا ہے؟ کیا علم کی خدمت کا تقاضا یہی ہے یا پھر کہیں نہ کہیں شہرت کی ایک ایسی پیاس کارفرما ہے جو بجھنے کا نام نہیں لے رہی؟
یہاں بحث تصویر اور ویڈیو کے جواز یا عدمِ جواز کی نہیں، بلکہ اس انتہا پسندی کی ہے جس نے ہر کام کو نمائش کا محتاج بنا دیا ہے۔ آخر وہ کون سا جذبہ ہے جو ایک شخص کو ہر وقت یہ احساس دلاتا رہتا ہے کہ لوگ اسے دیکھتے رہیں، اس کی مصروفیات سے باخبر رہیں، اس کی ہر نشست اور ہر حرکت سوشل میڈیا پر موجود رہے؟ اگر کسی ادارے کا مختصر تعارف مقصود ہو تو کبھی کبھار اس کی گنجائش سمجھی جا سکتی ہے، لیکن جب پورا ماحول ہی کیمرے کے گرد گھومنے لگے تو پھر نیتوں اور ترجیحات دونوں پر سوال اٹھنا فطری بات ہے۔
سب سے زیادہ افسوس اس وقت ہوتا ہے جب معصوم طلبہ اس نمائش کا مستقل حصہ بن جاتے ہیں۔ وہ بچے جو علم حاصل کرنے آئے ہیں، جنہیں یکسوئی، توجہ اور تربیت کی ضرورت ہے، وہ لاشعوری طور پر سوشل میڈیا کے مواد میں تبدیل کر دیے جاتے ہیں۔ کبھی ان کے چہرے دکھائے جا رہے ہیں، کبھی ان کی حرکات، کبھی ان کی نشستیں اور کبھی ان کے معمولات۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے بعض لوگوں کو یہ احساس ہی نہیں کہ ہر انسان کی ایک نجی زندگی بھی ہوتی ہے اور ہر طالب علم کوئی نمائشی شے نہیں جسے ہر وقت عوام کے سامنے پیش کیا جائے۔
حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ جن لوگوں کو اخلاص، تواضع اور گمنامی کے فضائل بیان کرنے چاہئیں، وہی بعض اوقات عملی طور پر اس کے برعکس راستے پر چلتے دکھائی دیتے ہیں۔ اکابرین کی زندگیاں اٹھا کر دیکھیے، ان کے کارنامے پہاڑوں سے بلند تھے لیکن ان کی تشہیر نہ ہونے کے برابر تھی۔ آج معاملہ الٹ ہو گیا ہے؛ کام کم ہو یا زیادہ، تشہیر ہر صورت ہونی چاہیے۔ گویا اصل مقصد خدمت نہیں بلکہ اس خدمت کا دکھانا بن گیا ہے۔
سوشل میڈیا ایک ذریعہ ہے، مقصد نہیں۔ لیکن جب ذریعہ مقصد بن جائے تو پھر انسان انجانے میں اپنی سنجیدگی، وقار اور اخلاص سب کچھ داؤ پر لگا دیتا ہے۔ ہر وقت کی ریکارڈنگ اور مسلسل نمائش انسان کے اندر ایک ایسی نفسیات پیدا کر دیتی ہے جس میں وہ لوگوں کی نظروں کا محتاج ہو جاتا ہے۔ پھر اسے یہ فکر کم رہتی ہے کہ کام کتنا مفید ہے، اور یہ فکر زیادہ رہتی ہے کہ ویڈیو کتنی دیکھی جائے گی۔
دینی درسگاہیں وہ مقامات ہیں جہاں دلوں کی اصلاح ہوتی ہے، کردار بنتے ہیں اور علم کی شمعیں روشن ہوتی ہیں۔ ان کا ماحول سکون، وقار اور یکسوئی کا متقاضی ہے۔ اگر وہاں بھی ہر وقت کیمرے گردش کرتے رہیں اور ہر منظر سوشل میڈیا کی زینت بنتا رہے تو آہستہ آہستہ درسگاہ کی روح متاثر ہوتی ہے۔ جو جگہ فکر و علم کا مرکز ہونی چاہیے، وہ غیر محسوس طور پر نمائش گاہ بنتی چلی جاتی ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم رک کر سوچیں۔ کیا واقعی ہر کام کو دنیا کو دکھانا ضروری ہے؟ کیا خاموش خدمت کی اب کوئی قدر نہیں رہی؟ کیا اخلاص کی جگہ تشہیر نے لے لی ہے؟ اور کیا طلبہ کی تعلیم و تربیت سے زیادہ اہم یہ ہو گیا ہے کہ ہماری ویڈیوز پر کتنے ویوز اور کتنے تبصرے آتے ہیں؟ اگر ان سوالات کا جواب نفی میں ہے تو پھر ہمیں ماننا پڑے گا کہ بعض مقامات پر ہم حد سے آگے بڑھ چکے ہیں، اور ہر حد سے بڑھی ہوئی چیز بالآخر اپنے مقصد کو نقصان پہنچاتی ہے۔ علم کی دنیا کو نمائش کے شور سے بچانا ہوگا، ورنہ ایک وقت آئے گا جب کیمرے تو بہت ہوں گے، مگر اخلاص، وقار اور سنجیدگی نایاب ہو جائیں گے۔
