| عنوان: | امام احمد رضا اور علوم حدیث (قسط: دوم) |
|---|---|
| تحریر: | فیضان المصطفیٰ قادری |
| پیش کش: | فاطمہ خاتون |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
علم متونِ حدیث
ربِ قدیر جَلَّ جَلَالُهُ وَعَمَّ نَوَالُهُ اپنے فضل و کرم سے جن لوگوں کو احادیثِ نبویہ کی خدمات سپرد فرماتا ہے، انہیں قوتِ حافظہ کی دولت بھی عطا فرماتا ہے، کیوں کہ بغیر قوتِ حافظہ کے اس فن میں کام کرنا تقریباً ناممکن ہے۔
حضراتِ محدثین کے حیرت انگیز قوتِ حافظہ کے واقعات کتبِ تاریخ کا روشن حصہ ہیں، حضرت امام مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ اب لوگوں کا حافظہ کمزور ہو گیا ہے، میں متعدد اساتذہ کی خدمت میں جاتا اور ہر ایک سے پچاس سے لے کر سو حدیثوں تک سنتا اور سب کی حدیثوں کو محفوظ کر لیتا، روایتوں میں اختلاط بالکل نہ ہوتا۔
امام بخاری فرماتے ہیں کہ مجھے ایک لاکھ صحیح احادیث اور دو لاکھ غیر صحیح احادیث محفوظ ہیں۔
حضرت عبدالرحمن بن مہدی کے بارے میں مذکور ہے کہ اختلافِ محدثین کے وقت آپ ہی کی بات فیصل ہوتی تھی۔ قواریری فرماتے ہیں کہ آپ نے مجھ سے بیس ہزار حدیثیں زبانی تحریر کرائیں۔
اس طرح سینکڑوں واقعات اس بات پر شاہد ہیں کہ محدثین قوتِ حافظہ میں اپنی مثال نہیں رکھتے۔
امام احمد رضا محدث بریلوی کے بارے میں محدثِ اعظم کچھوچھوی فرماتے ہیں:
“علم حدیث کا انداز اس سے کیجیے کہ جتنی حدیثیں فقہ حنفی کی مآخذ ہیں، ہر وقت پیشِ نظر رہتیں اور جن حدیثوں سے فقہ حنفی پر بظاہر زد پڑتی ہے اس کی روایت و درایت کی خامیاں ہر وقت ازبر۔” محدث صاحب کے اس قول پر چند شہادتیں ملاحظہ فرمائیں:
(۱) حضور رسولِ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو دافع البلاء والوباء کہنا جائز ہے یا نہیں؟ اس سلسلے میں آپ سے استفتا ہوا، اس کے جواب میں آپ نے “الْأَمْنُ وَالْعُلَى” نامی کتاب تصنیف فرمائی، اور اس میں تین سو احادیثِ کریمہ کا ذخیرہ جمع فرما دیا۔
(۲) ایک سوال یہ آیا کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم تمام انبیا و مرسلین سے افضل کیسے ہیں؟ اور اس پر کیا دلیلیں ہیں؟ تو آپ نے اس کے جواب میں ایک کتاب تصنیف فرمائی جس کا نام “تَجَلِّي الْيَقِينِ بِأَنَّ نَبِيَّنَا سَيِّدُ الْمُرْسَلِينَ” ہے۔ اس کتاب میں استحضارِ علمی اپنے شباب پر ہے علوم و فنون کا سمندر پوری توانائی کے ساتھ موجیں لے رہا ہے، رسالہ مبارکہ کے آخر میں فرماتے ہیں:
“الحمد للہ کہ کلام اپنے منتہیٰ کو پہنچا، اور دس آیتوں، سو حدیثوں کا وعدہ، بہ نہایت آسانی بہت زیادہ ہو کر پورا ہوا، اس رسالہ میں قصداً استیعاب نہ ہونے پر خود یہی رسالہ گواہی دے گا کہ تیس سے زائد حدیثیں مفیدِ مقصد ایسی ملیں گی جن کا شمار ان سو میں نہ کیا، تعلیقات تو اصلاً تعداد میں نہ آئیں، اور ہیکلِ اول میں زیرِ آیات بہت حدیثیں ثبتِ مراد گزریں، انہیں بھی حساب سے زیادہ رکھا۔”
زیرِ آیت ثالثہ کہ چھ حدیثیں نصوصِ جلیلہ اور قابلِ ادخالِ جلوہ اول تا تابش دوم تھیں، ان چھ کے یاد دلانے میں میری ایک غرض یہ بھی ہے کہ تابشِ چہارم میں روایت ہفتم سے روایت یازدہم تک جو چھ حدیثیں قولِ قیافہ و کاہن و مناماتِ صادقہ کی گزریں، اگر بعض حضرات ان پر راضی نہ ہوں تو ان چھ تصریحاتِ جلیلہ کو ان چھ کا نعم البدل سمجھیں اور سو احادیثِ مسندہ معتمدہ کا عدد ہر طرح کامل جانیں، وللہ الحمد۔ [فتاویٰ رضویہ جدید، ج: 30، ص: 262]
(۳) مرزا غلام احمد قادیانی کے ردِ بلیغ میں ایک تصنیف “جَزَاءُ اللّٰهِ عَدُوَّهُ” کیا خوب تصنیف ہے، اس کتاب میں مرزا کے دعوٰی نبوت کو خاک میں ملا دیا ہے اور اپنے ہر دعوٰی پر دلائل و براہین کا انبار جمع فرما دیا ہے، اس کتاب میں ایک سو اکیس احادیثِ کریمہ ذکر فرمائی ہیں۔
(۴) ایک مرتبہ بعض شہروں میں سخت قحط اور وبائی امراض کا ماحول پیدا ہو گیا، لوگ سخت پریشانیوں میں مبتلا ہو گئے، ان پریشانیوں سے نجات کے لیے اجتماعی طور پر خیرات و صدقات کا اہتمام، نیز فقراء و غرباء کے خورد و نوش کا انتظام کی طرف لوگ مائل ہوئے، بعض کم علم مولویوں نے اسے ناجائز تصور کیا، پھر علم دوست لوگوں نے اس سلسلے میں سیدی اعلیٰ حضرت سے استفتاء کیا، آپ نے جواب میں ایک رسالہ “زَادُ الْقَحْطِ وَالْوَبَاءِ بِدَعْوَةِ الْجِيرَانِ وَمُوَاسَاةِ الْفُقَرَاءِ” تصنیف فرمایا، اور اس میں اٹھائیس احادیثِ کریمہ ذکر فرمائیں۔
(۵) جمعہ کے دن اذانِ ثانی کے موضوع پر آپ نے “شَمَائِمُ الْعَنْبَرِ فِي آدَابِ النِّدَاءِ أَمَامَ الْمِنْبَرِ” انتہائی عظیم و جلیل کتاب تصنیف فرمائی، جس میں پینتالیس احادیثِ کریمہ سے کتاب کو مزین فرمایا۔
(۶) ایک دفعہ آپ کے سامنے تخلیقِ ملائکہ سے متعلق سوال پیش کیا گیا، تو آپ کے قلمِ فیض رقم نے احادیث کے بحرِ زخار میں غوطہ لگایا اور اکیس موتی نکال کر اہلِ علم کے روبرو پیش کر دی اور اس مجموعہ کا نام “الْهِدَايَةُ الْمُبَارَكَةُ فِي خَلْقِ الْمَلَائِكَةِ” تجویز فرمایا۔
(۷) ایک مسئلہ یہ پیش کیا گیا کہ مردہ اپنی قبروں میں سننے کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں؟ اس کے جواب میں ایک کتاب “حَيَاةُ الْمَوَاتِ فِي بَيَانِ سَمَاعِ الْأَمْوَاتِ” معرضِ وجود میں آئی، دوسری تصنیفات کی طرح یہ بھی کافی اہم ہے، بلکہ دیگر کتب میں اس کی شان بہت ہی بلند ہے، اس میں ساٹھ احادیثِ مرفوعہ ذکر کی ہیں اور اقوالِ صحابہ و آثارِ تابعین کی ایک دنیا آباد کر دی ہے۔ ارشاد فرماتے ہیں:
“اس مسئلہ میں ہمارے مذہب کی تصریح و تلویح و تنصیص و تلمیح و تائید و ترجیح و تسلیم و تصحیح میں ارشاداتِ متکاثرہ و اقوالِ متوافرہ ہیں۔ حضراتِ عالیہ صحابہ کرام و تابعینِ عظام و اتباعِ اعلام و مجتہدینِ اسلام و سلف و خلف علمائے عظام سے فقیر اگر بقدرِ قدرت ان کے حمد و استقصا کا ارادہ کرے موجز عُجالم حدِ مجلد سے گزرے، لہٰذا اولاً صرف سو ائمہ دین و علمائے کاملین کے اسمائے طیبہ شمار کرتا ہوں جن کے اقوال اس وقت میرے پیشِ نظر اور اس رسالہ کے فصول و مقاصد میں جلوہ گر۔ پھر دس نام ان عالموں کے بھی حاضر کروں گا، جن پر اعتماد میں مخالف مضطر۔”
یہاں گیارہ صحابہ کرام کے اسما تحریر فرمانے کے بعد فرماتے ہیں: “اور میں ان کے سوا ان صحابہ کرام کے نام یہاں شمار نہیں کرتا، جنہوں نے سماع و ادراکِ موتیٰ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے روایت کیا یا حضور پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی زبانِ پاک سے سنا، مثل عبداللہ بن عباس، انس بن مالک، ابو ذر، براء بن عازب، ابوطلحہ، عمارہ بن حزم، ابو سعید خدری، عبداللہ بن زید انصاری، ام سلمہ، قیلہ بنت مخرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم، اگرچہ معلوم کہ ارشادِ والا حضور اعلیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سن کر ان کے خلاف پر اعتقاد حضراتِ صحابہ سے معقول نہیں، نہ مقام مقامِ احکام کہ احتمالِ خلافِ بعلمِ ناسخ ہو، تاہم جب قصداً استیعاب نہیں تو انھیں پر اقتصار جن کے خود اقوال و افعال دلیلِ مسئلہ ہیں۔” [فتاویٰ رضویہ جدید، ج: 9، ص: 376]
(۸) سیدی سرکار اعلیٰ حضرت کے والدِ ماجد حضرت علامہ نقی علی خاں رحمۃ اللہ علیہ نے ایک رسالہ تحریر فرمایا، جس کا نام “أَحْسَنُ الْوِعَاءِ لِآدَابِ الدُّعَاءِ” ہے، جس میں مصنف نے آدابِ دعا کی ہدایت جمع فرمائی ہے۔
سرکار اعلیٰ حضرت نے اس کی شرح لکھی اور ہر ادب کو متعدد احادیث سے ثابت فرمایا اور ساتھ ہی ہر حدیث کی سند بیان فرمائی، اصل رسالہ کے اعداد اکیاون پہ جا کر رکے، لیکن اعلیٰ حضرت نے ساٹھ تک پہنچائے، مصنف نے اجابت کے اوقات بیان فرمائے تو اعلیٰ حضرت نے تمام اوقات کو احادیثِ کریمہ سے ثابت و مدلل کیا، مصنف نے چھتیس کی گنتی کے بعد وغیرہا کا اشارہ فرمایا، تو اعلیٰ حضرت پینتالیس کے عدد پر پہنچ کر قلم کو روک لیا کہ کہیں بے ادبی نہ ہو جائے، مصنف نے اماکنِ اجابت کی گنتی 23 تک رقم کی، اعلیٰ حضرت نے 44 تک کی تعداد تک رسائی فرمائی اور ایک ایک عدد کو احادیث سے مزین کیا، مصنف نے اسمِ اعظم کے 9 کلمات لکھے، اعلیٰ حضرت نے 20 تحریر کیے، اور ہر ایک اسمِ اعظم کی سند صحیح حدیث سے بتائی، مصنف نے دعا کی عدمِ قبولیت کے 9 سبب بتائے، اعلیٰ حضرت نے مزید 10 کا اضافہ کیا اور ہر ایک کا مأخذ احادیثِ صحیحہ سے ثابت کیا، مصنف نے دعا میں کیا چیز نہ مانگی جائے ان کی تعداد کل 12 بتائی، اعلیٰ حضرت نے 37 کا اضافہ فرمایا اور ہر ایک پر حدیث بیان کی۔ مصنف نے جن کی دعا قبول نہیں ہوتی ان کی تعداد 8 بتائی، اعلیٰ حضرت نے احادیثِ مقدسہ کی روشنی میں ان کی تعداد 19 تک پہنچادی۔ [امام احمد رضا اور علمِ حدیث، ص: 26]
(۹) والدین کے حقوق پر اکیانوے حدیث ذکر کیں۔
(۱۰) سجدۂ تحیت کی حرمت پر 70 حدیثوں سے استدلال کیا۔
(۱۱) داڑھی کی ضرورت و اہمیت پر 56 احادیثِ کریمہ بیان کی۔
(۱۲) شفاعت کے عنوان پر 20 حدیثیں پیش کیں۔
(۱۳) تصاویر کے عدمِ جواز پر 27 حدیثوں سے استدلال کیا۔
(۱۴) ایک سائل نے پوچھا کہ روس کی شکر ہڈیوں سے صاف کی جاتی ہے اور صاف کرنے والوں کو کچھ احتیاط نہیں کہ وہ ہڈیاں پاک ہیں یا نہیں؟ حلال جانوروں کی ہیں یا مردار کی؟ سنا گیا ہے کہ اس میں شراب کی آمیزش بھی کی جاتی ہے۔
اس پر قلم اٹھایا اور اڑتیس صفحات پر مشتمل “الْأَحْلَى مِنَ السُّكَّرِ لِطَالِبِ سُكَّرٍ وَسُكَّرِ” قلم بند فرمایا، اس پر 10 مقدمات تمہید فرمائے اور ہر مقدمہ کو احادیث کی روشنی میں بیان کیا، بعض بعض مقدمات میں دس دس پندرہ پندرہ حدیثیں ذکر کیں۔
(۱۵) بد مذہبوں کی اقتدا میں نماز کے عدمِ جواز پر ایک رسالہ “النَّهْيُ الْأَكِيدُ عَنِ الصَّلَاةِ وَرَاءَ عَدِيمِ التَّقْلِيدِ” لکھی، اس میں اولیائے کرام کی فضیلت پر بارہ حدیثیں بیان کر کے 78 احادیث سے وہابیوں کی پیدائش اور ان کے نشانات بیان فرمائے۔
(۱۶) آپ کا ایک رسالہ “الْحَرْفُ الْحَسَنُ فِي الْكِتَابَةِ عَلَى الْكَفَنِ” ہے، اس رسالہ میں مجموعی طور پر تیس حدیثیں بیان ہوئی ہیں۔
صحابہ کرام احکامِ شرعیہ کے اولین مخاطبین ہیں، فرامینِ رسول کے شارح اور افعالِ رسول کے عینی شاہدین ہیں، اسی لیے ان کے افعال و اقوال سے صرفِ نظر ممکن نہیں، چنانچہ محدثین کی اصطلاح میں صحابہ کے اقوال و افعال حدیثِ موقوف کے نام سے موسوم ہوئے، اور فقہ کے باب میں بطورِ حجت تسلیم کیے گئے، بالخصوص احناف تو اسے انشراحِ صدر کے ساتھ قبول کرنے میں حضرت امامِ اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:
مَا جَاءَ عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فَبِالرَّأْسِ وَالْعَيْنِ، وَمَا جَاءَ عَنِ الصَّحَابَةِ فَلَا أَتْرُكُهُ
راقم الحروف نے اپنے مضمون “حدیثِ موقوف کی شرعی حیثیت” میں اس پر تفصیلی گفتگو کی ہے، اس لیے یہاں اسے معرضِ بحث میں نہیں لایا۔
امام احمد رضا محدث بریلوی کی عقابی نگاہ جس طرح احادیثِ مرفوعہ کا احاطہ کرتی ہے، اسی طرح احادیثِ موقوفہ یعنی صحابہ کرام کے اقوال و افعال کو بھی محیط ہے، کسی مسئلہ کے استدلال کے وقت جہاں وہ قرآنی آیات، احادیثِ مرفوعہ کا ذخیرہ جمع فرما دیتے ہیں، وہیں اقوالِ صحابہ کا بھی خزانہ صفحۂ قرطاس پر بکھیرتے نظر آتے ہیں۔
(۱) سماعِ موتی کے عنوان پر دلائلِ قاہرہ پیش کرتے ہوئے حضرت امام نے صحابہ کرام تابعین و تبع تابعین کے اقوال کی طرف رخ کیا تو یہاں بھی وہی جولانیتِ نگاہ و قلم برداشتہ اکیانوے احادیثِ موقوفہ و آثارِ متقدمہ کا پتہ دیا۔
