Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

امام احمد رضا اور فن مناقب (قسط: سوم) | محمد اشرف رضا جیلانی

حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے علم و فضل، تقویٰ و پرہیزگاری کا ڈنکا چار دانگِ عالم میں بج رہا ہے۔ آپ کے بارے میں نبی غیب داں حضور رحمتِ عالم، نورِ مجسم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے پہلے ہی خبر دے دی تھی کہ دین اگر ثریا پر ہوتا تو فارس کا ایک شخص اسے پالیتا۔ امام اعظم کی سوانح، حالات و مناقب پر بہت سی کتابیں لکھی گئیں۔ ایک رسالہ “جمیلُ ثناءِ الائمہ علی علمِ سراجِ الامہ” بھی ہے، جسے اعلیٰ حضرت نے تحریر فرمایا، مگر تلاشِ بسیار کے بعد بھی ہاتھ نہ آسکا۔ امام اعظم کے بارے میں اعلیٰ حضرت نے فتاویٰ رضویہ و ملفوظات میں یوں ارشاد فرمایا:

“سیدنا امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ اولادِ سلاطینِ کیان سے ہیں، اور ان کا مرتبہ ان سے اجل و اعلیٰ ہے کہ نسب سے انھیں فخر ہو، ان کا یہ شرف نہیں کہ وہ دنیوی بادشاہوں کی اولاد ہیں۔ ان کا یہ فضل ہے کہ ہزارہا دینی بادشاہوں کے باپ ہیں۔ سیدنا امام شافعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:”

الْفُقَهَاءُ كُلُّهُمْ عَلَى عِيَالِ أَبِيْ حَنِيْفَةَ

تمام مجتہدین ابوحنیفہ کے بال بچوں کی طرح ہیں۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: 12، ص: 22، 23، رضا اکیڈمی، ممبئی]

امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ خلقِ خدا سے محبت و مروت کس قدر فرماتے تھے، یہ ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت کے اس اقتباس سے ظاہر ہوتا ہے:

“ایک شخص پر حضور (یعنی امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کے دس ہزار دینار آتے تھے۔ وعدے گزرے، مدت ہو چکی تھی۔ ایک مرتبہ آپ تشریف لیے جاتے تھے، سامنے سے وہ آتا تھا، آپ کو دیکھ کر ڈر کے مارے ایک گلی میں ہو گیا۔ قسمت کی بات وہ گلی سربستہ (بند) تھی۔ امام وہیں تشریف لے گئے۔ فرمایا: کیوں تم ادھر کیسے آ گئے؟ سبب بتایا کہ میں حضور کا مقروض ہوں، وعدہ گزر گیا، میں ڈرا کہ حضور تقاضا فرمائیں گے اور میرے پاس اس وقت موجود نہیں، اس لیے میں اس طرف آ گیا۔ فرمایا: دس ہزار بھی ایسی چیز ہیں کہ کسی مسلمان کا قلب پریشان کیا جائے، میں نے معاف کیے۔” [ملخصاً ملفوظات اعلیٰ حضرت، ص: 330، مکتبۃ المدینہ]

15: مناقب امام ابو یوسف رضی اللہ تعالیٰ عنہ

حضرت امام ابو یوسف رضی اللہ تعالیٰ عنہ، امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے شاگرد اور مجتہد فی المذہب ہیں۔ آپ کے علم و فضل اور زہد و تقویٰ سے متعلق فتاویٰ رضویہ کا یہ اقتباس پیشِ خدمت ہے:

“اولیا فرماتے ہیں: امام ابو یوسف سردارانِ اہلِ کشف و مشاہدہ ہیں۔” [فتاویٰ رضویہ، ج: 1، ص: 245، رضا اکیڈمی، ممبئی]

“الملفوظ” میں امام ابو یوسف رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے متعلق ایک حکایت بھی موجود ہے، آپ فرماتے ہیں:

“کتبِ فقہ میں ہے کہ ایک مرتبہ آپ “یوم الشک” میں یعنی جس روز شبہ ہو کہ وہ رمضان کی پہلی ہے، یا شعبان کی تیس، آپ بعد ضحویٰ کبریٰ کے بازار میں تشریف لائے اور فرمایا کہ روزہ کھول دو۔ اس وقت کی وضع منقول ہے کہ سیاہ گھوڑے پر سوار تھے، سیاہ لباس پہنے تھے، سیاہ عمامہ باندھے تھے، غرض کہ سوائے ریش مبارک کے کوئی چیز سفید نہ تھی۔ اس سے یہ مسئلہ استنباط کیا گیا کہ سواد (سیاہ رنگ) کا پہننا جائز ہے۔ ایک صاحب نے سوال کیا کہ آپ کا روزہ ہے یا نہیں؟ چپکے سے کان میں فرمایا: “أَنَا صَائِمٌ” میں روزے سے ہوں۔ اس سے یہ مسئلہ نکلا کہ مفتی خود یوم الشک میں روزہ رکھے اور عوام کو نہ رکھنے کا حکم دے۔” [ملفوظات اعلیٰ حضرت، ص: 384، مکتبۃ المدینہ]

16: مناقب حضور غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ

حضور غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے امام احمد رضا کی عقیدت کا اندازہ آپ کی شان میں لکھے گئے قصائد و مناقب سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ آپ نے بارگاہِ غوثیت مآب میں قصیدہ “اکسیرِ اعظم” و “نظمِ معطر” اور اس کے علاوہ فارسی و اردو میں کئی منقبت بھی تحریر فرمائی ہے۔ آپ فرماتے ہیں:

واہ کیا مرتبہ اے غوث ہے بالا تیرا
اونچے اونچوں کے سروں سے قدم اعلیٰ تیرا

فتاویٰ رضویہ شریف میں بھی آپ نے غوثِ پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شان بیان فرمائی ہے۔ آپ فرماتے ہیں:

“ائمہ کبار نے سندِ صحیح کے ساتھ بہجۃ الاسرار وغیرہ معتبرات میں روایت کی کہ: آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا گیا: حضور! آپ کا لقب محی الدین کیسے ہوا؟ آپ نے جواب دیا میں 511ھ میں اپنی کسی سیاحت سے جمعہ کے دن بغداد لوٹ رہا تھا، اس وقت میرے پاؤں میں جوتے بھی نہ تھے۔ راستہ میں ایک کمزور اور نحیف، رنگ بریدہ مریض آدمی پڑا ہوا ملا، اس نے مجھے عبدالقادر کہہ کر سلام کیا۔ میں نے اس کا جواب دیا تو اس نے مجھے اپنے قریب بلایا اور کہا: آپ مجھے بٹھا دیجئے۔ میرے بٹھاتے ہی اس کا جسم تروتازہ ہو گیا، صورت نکھر گئی اور رنگ چمک اٹھا، مجھے اس سے خوف معلوم ہوا تو اس نے کہا: مجھے پہچانتے ہو؟ میں نے لاعلمی ظاہر کی، تو اس نے بتایا کہ میں ہی دینِ اسلام ہوں، اللہ تعالیٰ نے آپ کی وجہ سے مجھے زندگی دی، اور آپ محی الدین ہیں۔ میں وہاں سے جامع مسجد کی طرف چلا، ایک آدمی نے آگے بڑھ کر جوتے پیش کیے اور مجھے محی الدین کہہ کر پکارا۔ میں نماز پڑھ چکا تو لوگ چہار جانب سے مجھ پر ٹوٹ پڑے، میرا ہاتھ چومتے اور مجھے محی الدین کہتے۔ اس سے قبل مجھے کسی نے محی الدین نہیں کہا تھا۔” [فتاویٰ رضویہ، ج: 28، ص: 58، 59، رضا فاؤنڈیشن، لاہور]

17: مناقب حضور خواجہ غریب نواز رضی اللہ تعالیٰ عنہ

حضرت خواجہ غریب نواز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فیضان صرف ہندوستان ہی نہیں، بلکہ پورے عالمِ اسلام پر برس رہا ہے۔ پوری دنیا آپ کے علمی و روحانی فیضان سے مالا مال ہو رہی ہے۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ سے بڑی عقیدت اور محبت رکھتے تھے اور اکثر عرس میں شرکت بھی فرمایا کرتے تھے۔ آپ کے روحانی فیوض و برکات سے متعلق ارشاد فرماتے ہیں:

“حضرت خواجہ غریب نواز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مزار سے بہت کچھ فیوض و برکات حاصل ہوتے ہیں۔ مولانا برکات احمد صاحب مرحوم جو میرے پیر بھائی ہیں اور میرے والدِ ماجد رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد تھے، انھوں نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ ایک ہندو جس کے سر سے پیر تک پھوڑے تھے، ٹھیک دوپہر کو آتا اور درگاہِ شریف کے سامنے گرم کنکروں اور پتھروں پر لوٹتا اور کہتا: خواجہ اگن (یعنی اے خواجہ غریب نواز جلن) لگی ہے۔ تیسرے روز میں نے دیکھا کہ بالکل اچھا ہو گیا ہے۔” [ملفوظات اعلیٰ حضرت، ص: 384، مکتبۃ المدینہ]

18: مناقب حضرت شیخ بہاء الدین نقشبند رضی اللہ تعالیٰ عنہ

“حضرت شیخ بہاء الحق والدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کے امام ہیں۔ آپ سے کسی نے عرض کیا: حضرت تمام اولیا سے کرامتیں ظاہر ہوتی ہیں، حضور سے بھی کوئی دیکھیں! فرمایا: اس سے بڑھ کر اور کیا کرامت کہ اتنا بڑا بھاری بوجھ گناہوں کا سر پر ہے اور زمین میں دھنس نہیں جاتا۔” [ملفوظات اعلیٰ حضرت، ص: 433، مکتبۃ المدینہ]

19: مناقب حضرت سید احمد کبیر رفاعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ

حضرت سید احمد کبیر رفاعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فضائل و مناقب سے کون نا آشنا ہوگا۔ آپ اپنے وقت کے جلیل القدر قطب اور ولی تھے۔ آپ کی عظمتِ رفیع اور شان و بزرگی کا اندازہ فتاویٰ رضویہ کے اس اقتباس سے لگائیے:

“حضرت عظیم البرکت سیدنا سید احمد کبیر رفاعی قدسنا اللہ بسرہ بیشک اکابر اولیا و اعظم محبوبانِ خدا سے ہیں۔ امام اجل اوحد سیدی ابوالحسن علی بن یوسف نور الملۃ والدین لخمی شطنونی قدس سرہ العزیز کتابِ مستطاب بہجۃ الاسرار شریف میں فرماتے ہیں: (ترجمہ) حضرت سیدی احمد رفاعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سردارانِ مشائخ و اکابر عارفین و اعاظم محققین و افسرانِ مقربین سے ہیں، جن کے مقامات بلند اور عظمتِ رفیع اور کرامتِ جلیل اور احوالِ روشن اور افعالِ خارقِ عادات اور انفاسِ سچے عجیب فتح اور چمکا دینے والے کشف اور نہایت نورانی دل اور ظاہر تر سر اور بزرگ تر مرتبہ والے۔ یونہی دو ورق میں اس جنابِ رفعتِ قباب کے مراتبِ عالیہ و مناقبِ سامیہ و کراماتِ بدیعہ و فضائلِ رفیعہ ذکر فرماتے ہیں۔ حضرت ممدوح قدس سرہ الشریف کا روضہِ انور سید اطہر صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر حاضر ہونا اور یہ اشعار عرض کرنا ہے:”

فِي حَالَةِ الْبُعْدِ رُوْحِيْ كُنْتُ أُرْسِلُهَا
تُقَبِّلُ الْأَرْضَ عَنِّيْ وَهْيَ نَائِبَتِيْ

وَهٰذِهِ نَوْبَةُ الْأَشْبَاحِ قَدْ حَضَرَتْ
فَامْدُدْ يَمِيْنَكَ كَيْ تَحْظَى بِهَا شَفَتِيْ

“زمانہ دوری میں میں اپنی روح کو حاضر کرتا تھا، وہ میری طرف سے زمین بوسی کرتی، اب جسم کی نوبت ہے کہ حاضرِ بارگاہ ہے، حضور دستِ مبارک بڑھائیں کہ میرے لب سعادت پائیں، اس پر حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا دستِ مبارک روضہ انور سے باہر کرنا اور حضرت احمد رفاعی کا اس کے بوسہ سے مشرف ہونا مشہور و مأثور ہے۔” [فتاویٰ رضویہ، ج: 29، ص: 492، 493، بریلی]

20: مناقب حضرت قطب الدین بختیار کاکی قدس سرہ

حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی رسمِ بسم اللہ خوانی کی منظر کشی اعلیٰ حضرت یوں فرماتے ہیں:

“حضرت خواجہ قطب الحق والدین بختیار کاکی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عمر جس دن چار برس، چار مہینے، چار دن ہوئی، تقریبِ بسم اللہ مقرر ہوئی۔ لوگ بلائے گئے، حضرت خواجہ غریب نواز رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی تشریف فرما تھے، بسم اللہ پڑھنا چاہی، مگر الہام ہوا کہ ٹھہرو! حمید الدین ناگوری رحمۃ اللہ علیہ آتا ہے، وہ پڑھائے گا۔ ادھر ناگور میں قاضی حمید الدین صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو الہام ہوا کہ جلد جا، میرے ایک بندے کو بسم اللہ پڑھا! قاضی صاحب فوراً تشریف لائے اور آپ سے فرمایا: صاحبزادے پڑھئے! بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ آپ نے پڑھا: أعوذ باللہ من الشیطان الرجیم، بسم اللہ الرحمن الرحیم اور شروع سے لے کر پندرہ پارے حفظ سنا دیئے۔ حضرت قاضی صاحب اور خواجہ صاحب نے فرمایا: صاحبزادے آگے پڑھئے! فرمایا: میں نے اپنی ماں کے شکم میں اتنے ہی سنے تھے اور اسی قدر ان کو یاد تھے، وہ مجھے بھی یاد ہو گئے۔” [ملفوظات اعلیٰ حضرت]

21: مناقب حضرت شیخ فرید الدین گنج شکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ

“حضرت شیخ فرید الحق والدین گنج شکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایک مرتبہ اسی (80) فاقے ہو چکے تھے، نفس بھوکا تھا، الجوع الجوع (ہائے بھوک، ہائے بھوک) پکار رہا تھا، اس کے بہلانے کے لیے کچھ سنگ ریزے (کنکر) اٹھا کر منہ میں ڈالے، ڈالتے ہی شکر ہو گئے، جو کنکر منہ میں جاتا، شکر ہو جاتا اسی وجہ سے آپ “گنجِ شکر” مشہور ہیں۔” [ملفوظات اعلیٰ حضرت، ص: 482، مکتبۃ المدینہ]

22: مناقب حضرت محبوب الٰہی رضی اللہ تعالیٰ عنہ

اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب حضرت محبوب الٰہی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بارگاہ میں حاضر ہوتے ہیں تو وہاں کا حال یوں بیان فرماتے ہیں:

“میری عمر کا تیسواں سال تھا کہ حضرت محبوب الٰہی رحمۃ اللہ علیہ کی درگاہ میں حاضر ہوا۔ احاطہ میں مزامیر وغیرہ کا شور مچا تھا، طبیعت منتشر ہوتی تھی۔ میں عرض کیا: حضور! میں آپ کے دربار میں حاضر ہوا ہوں، اس شور و شغب سے مجھے نجات ملے، جیسے ہی پہلا قدم روضہ مبارک میں رکھا کہ معلوم ہوا سب ایک دم چپ ہو گئے۔ میں سمجھا کہ واقعی سب لوگ خاموش ہو گئے۔ قدم درگاہِ شریف (مزار شریف) سے باہر نکلا، پھر وہی شور و غل تھا، پھر اندر قدم رکھا، پھر وہی خاموشی، معلوم ہوا کہ یہ سب حضرت کا تصرف (کرامت) ہے۔ یہ بین کرامت دیکھ کر مدد مانگنی چاہی، بجائے حضرت محبوب الٰہی کے نامِ مبارک کے “یا غوثاہ” زبان سے نکلا۔ وہیں میں نے اکسیرِ اعظم قصیدہ بھی تصنیف کیا۔”

پھر فرمایا: “ارادت شرطِ اہم ہے بیعت میں، بس مرشد کی ذرا سی توجہ (عنایت) درکار ہے اور دوسری طرف (یعنی مرید کی طرف سے) اگر ارادت (اعتقاد) نہیں، تو کچھ نہیں ہو سکتا۔” [ملفوظات اعلیٰ حضرت، ص: 401، مکتبۃ المدینہ]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!