Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

امام احمد رضا اور فن مناقب (قسط: دوم) | محمد اشرف رضا جیلانی

امام احمد رضا اور فن مناقب (قسط: دوم)
عنوان: امام احمد رضا اور فن مناقب (قسط: دوم)
تحریر: مولانا محمد اشرف رضا جیلانی مصباحی
پیش کش: محمد طارق القادری بنارسی
منجانب: مجمع التصانیف

یوں تو محبوبِ خدا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے تمام اصحاب حاملِ فضل و کمال اور صاحبِ جاہ و جلال ہیں، لیکن حضراتِ خلفائے اربعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کی شان سب سے ممتاز ہے۔ جو لوگ حضراتِ خلفائے اربعہ میں سے کسی ایک کی شان بیان کرتے ہیں اور دوسرے صحابہ کرام کی توہین کر کے اپنی زبان پلید کرتے ہیں، ان کو متنبہ کرتے ہوئے اعلیٰ حضرت فتاویٰ رضویہ میں ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں:

“صحابہ کرام میں سب سے افضل و اکمل و اعلیٰ و اقرب الی اللہ، خلفائے اربعہ رضی اللہ عنہم تھے، اور ان کی فضیلت، ولایت بترتیبِ خلافت، یہ چاروں حضرات سب سے اعلیٰ درجے کے کامل، مکمل ہیں، اور دارائے نیابتِ نبوت ہونے میں شیخین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا پایہ ارفع ہے، اور دارائے تکمیل ہونے میں حضرت مولیٰ علی مرتضیٰ شیرِ خدا مشکل کشا رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔” [فتاویٰ رضویہ، ج: 29، ص: 243، مرکز اہل سنت، گجرات]

حضراتِ خلفائے اربعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے بارے میں ایک جگہ ارشاد فرماتے ہیں:

“ابوبکر الشافعی غیلانیات میں راوی: یعنی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: بیشک میرے حوض پر چار ارکان ہیں۔ پہلا رکن ابوبکر کے ہاتھ ہوگا، دوسرا عمر، تیسرا عثمان، چوتھا علی کے ہاتھ میں رضی اللہ عنہم اجمعین، تو جو محبتِ ابوبکر کا دعویٰ کرے اور عمر سے کینہ رکھے، ابوبکر صدیق اسے آبِ کوثر نہ پلائیں گے، اور جو عمر سے دوستی جتائے اور ابوبکر کا محب نہ ہو، عمر فاروق اسے نہ پلائیں گے، اور جو محبتِ عثمان کا مدعی، علی سے بغض رکھے، عثمان ذوالنورین اسے نہ پلائیں گے، اور جو دوستیِ علی کا ادعا کرے اور عثمان کا دوست دار نہ ہو، اسے علی مرتضیٰ نہ پلائیں گے رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین۔” [فتاویٰ رضویہ، ج: 19، ص: 26، امام احمد رضا اکیڈمی، بریلی]

6: مناقب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ

حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جنھیں بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے صدیقِ اکبر کا لقب ملا، سفر و حضر میں آپ حضور کے ساتھی بنے، مسلمانوں کے پہلے خلیفہ مقرر ہوئے، حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ذریعہ آپ کو مصلیٰ امامت عطا کیا گیا، ان کے مناقب بیان کرتے ہوئے اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں:

“اہلِ سنت کے نزدیک بعد انبیا علیہم الصلوٰۃ والسلام تمام اولین و آخرین سے افضل امیر المؤمنین سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ، پھر امیر المؤمنین سیدنا فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔” [فتاویٰ رضویہ، ج: 29، ص: 229، مرکز اہل سنت، گجرات]

حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا کس قدر قرب حاصل تھا اس کا اندازہ اس عبارت سے لگائیں:

“جب سے خدمتِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میں حاضر ہوئے، کسی وقت جدا نہ ہوئے، یہاں تک کہ بعدِ وفات پہلوئے اقدس میں آرام فرما ہیں۔ ایک مرتبہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے داہنے دستِ اقدس میں حضرت صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ہاتھ لیا اور بائیں دستِ مبارک میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ہاتھ لیا اور فرمایا:”

هٰكَذَا نُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ

ہم قیامت کے دن یوں ہی اٹھائے جائیں گے۔ [جامع الترمذی، رقم الحدیث: 3686]

اصدق الصادقین، سید المتقین
چشم و گوشِ وزارت پہ لاکھوں سلام

یعنی اس افضل الخلق بعد الرسل
ثانیِ اثنینِ ہجرت پہ لاکھوں سلام

7: مناقب حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ

جن کی ہدایت کے لیے رسولِ خدا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے دعا مانگی، جن کے ایمان لانے سے اسلام کو مضبوطی اور طاقت و قوت حاصل ہوئی، جن کی ہیبت سے کفارِ مکہ مرعوب ہو گئے۔ ان کے فضائل اپنے ملفوظ میں اعلیٰ حضرت یوں بیان فرماتے ہیں:

“حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس وقت ایمان لائے جب کل مرد و عورت 39 مسلمان تھے، آپ چالیسویں مسلمان ہیں۔ اسی واسطے آپ کا نام “متمم الاربعین” ہے، یعنی چالیس مسلمانوں کے پورا کرنے والے۔ جب آپ مسلمان ہوئے تو یہ آیت نازل ہوئی:”

يٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ حَسْبُكَ اللّٰهُ وَ مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ

اے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم! تجھ کو کافی ہے اللہ عزوجل اور اس قدر لوگ جو اب تک مسلمان ہو گئے۔

کفار نے جب سنا تو کہا: آج ہم اور مسلمان آدھوں آدھ ہو گئے۔ جبرئیل علیہ الصلاۃ والسلام حاضر ہوئے۔ عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم! حضور کو خوش خبری ہو، آج آسمانوں پر عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اسلام لانے پر شادی (یعنی جشن) رچائی گئی ہے۔ [سنن ابن ماجہ، ملفوظات اعلیٰ حضرت، ص: 397]

امام موصوف آپ کی شجاعت و بہادری اور واقعہ ہجرت کو اس انداز میں بیان فرماتے ہیں:

“جب ضعفائے مسلمین (یعنی کمزور مسلمانوں) نے ہجرت کی تو کفار سے چھپ چھپ کر چلے گئے۔ انھوں نے جب ہجرت فرمائی (تو) ایک ایک مجمعِ کفار (یعنی کافروں کے ہجوم) میں ننگی شمشیر لے جا کر فرمایا: جس نے مجھے جانا، اس نے جانا اور جس نے نہ جانا ہو، اب جان لے، پہچان لے کہ میں ہوں عمر، جسے اپنی عورت بیوہ اور اپنے بچے یتیم کرنا ہو، وہ میرے سامنے آئے! میں اب ہجرت کرتا ہوں، پھر یہ نہ کہنا کہ عمر بھاگ گیا۔ تمام کفار سر جھکائے بیٹھے رہے، کسی نے چوں بھی نہ کی۔” [کنز العمال بحوالہ ملفوظات اعلیٰ حضرت، ص: 399]

وہ عمر جس کے اعدا پہ شیدا سقر
اس خدا دوست حضرت پہ لاکھوں سلام

فاروقِ حق و باطل، امام الہدیٰ
تیغِ مسلولِ شدت پہ لاکھوں سلام

8: مناقب حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ

جامعِ قرآن، حضرت عثمان ذوالنورین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جامعِ قرآن کیوں کہا جاتا ہے، اس سے متعلق اعلیٰ حضرت نے ایک رسالہ: “جمع القرآن و بم عزوہ لعثمان” تحریر فرمایا۔ اسی رسالے سے ایک اقتباس ملاحظہ کریں۔ اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک حدیث نقل فرماتے ہیں:

“یعنی عثمان کے حق میں سوائے کلمہِ خیر کے کچھ نہ کہو، خدا کی قسم! معاملہِ مصاحف میں انھوں نے جو کچھ کیا، ہم سب کے مشورہ سے کیا۔ انھوں نے ہم سے کہا: تم ان مختلف لہجوں میں کیا کہتے ہو؟ مجھے خبر پہنچی ہے کہ کچھ لوگ اوروں سے کہتے ہیں: میری قرأت تیری قرأت سے اچھی ہے، اور یہ بات کفر کے قریب تک پہنچتی ہے۔ ہم نے کہا: بھلا آپ کی کیا رائے ہے؟ فرمایا: میری رائے یہ ہے کہ سب لوگوں کو ایک مصحف پر جمع کر دیں کہ پھر باہم نزاع و اختلاف نہ ہو، ہم سب نے کہا: آپ کی رائے بہت خوب ہے۔” [فتاویٰ رضویہ، ج: 19، ص: 258، بریلی]

ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت سے متعلق فرماتے ہیں:

“امیر المؤمنین عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں جب بلوائیوں نے ہنگامہ کیا، تمام مدینہ منورہ میں ان کا شور تھا۔ امیر المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مکان کو گھیرے ہوئے تھے۔ نماز بھی وہی پڑھاتے تھے۔ سوال ہوا کہ ان کے پیچھے نماز پڑھی جائے یا نہیں؟ ارشاد فرمایا: وہ لوگ جب برائی کریں تو ان سے علاحدہ رہو، اور جب بھلائی کریں تو ان کے شریک بنو۔” [صحیح البخاری بحوالہ ملفوظات اعلیٰ حضرت، ص: 340]

درِ منشورِ قرآں کی سلکِ بہی
زوجِ دو نورِ عفت پہ لاکھوں سلام

یعنی عثمان صاحبِ قمیصِ ہدیٰ
حلہ پوشِ شہادت پہ لاکھوں سلام

9: مناقب حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ

حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی عظمتِ شان کا کیا پوچھنا کہ آپ اہل بیت سے ہیں، اور دامادِ مصطفیٰ ہیں۔ اجلہ صحابہ میں آپ کا شمار ہوتا ہے۔ فتاویٰ رضویہ شریف میں اعلیٰ حضرت آپ کے مناقب بیان کرتے ہوئے ایک روایت نقل فرماتے ہیں:

“امام احمد کتاب المناقب میں سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:”

أُعْطِيَ عَلِيٌّ خَمْسًا هُنَّ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيْهَا، وَأَمَّا الثَّالِثَةُ فَوَاقِفٌ عَلَى عَقْرِ حَوْضِيْ يَسْقِي مَنْ عَرَفَ مِنْ أُمَّتِيْ

“علی کو پانچ چیزیں وہ ملیں جو مجھے تمام دنیا و مافیہا سے زیادہ عزیز ہیں۔ ازاں جملہ یہ کہ وہ میرے حوض کے گھاٹ پر کھڑا ہوگا، جسے میری امت سے پہچانے گا، اسے پانی پلائے گا۔” [فتاویٰ رضویہ، ج: 19، ص: 25، 26، امام احمد رضا اکیڈمی، بریلی]

“تنزیہ المکانۃ الحیدریہ” جو کہ مقامِ حیدری کو اجاگر کرنے والی کتاب ہے۔ اس کا ایک اقتباس ملاحظہ کریں:

“حضرت مولیٰ نے حضور مولیٰ الکل، سید الرسل صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے کنارِ اقدس میں پرورش پائی۔ حضور کی گود میں ہوش سنبھالا، آنکھ کھلتے ہی محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا جمالِ جہاں آرا دیکھا، حضور ہی کی باتیں سنیں، عادتیں سیکھیں، تو جب سے اس جنابِ عرفان مآب کو ہوش آیا قطعاً، یقیناً رب عزوجل کو ایک ہی مانا، ہرگز ہرگز بتوں کی نجاست سے ان کا دامنِ پاک کبھی آلودہ نہ ہوا، اسی لیے لقبِ کریم “کرم اللہ وجہہ” ملا۔” [تنزیہ المکانۃ الحیدریہ، ص: 31، رضا اکیڈمی، ممبئی]

مرتضیٰ شیرِ حق، اشجع الاشجعین
ساقیِ شیر و شربت پہ لاکھوں سلام

شیرِ شمشیر زن، شاہِ خیبر شکن
پرتوِ دستِ قدرت پہ لاکھوں سلام

10: مناقب حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ

اعلیٰ حضرت سے سوال ہوا کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم اور آلِ رسول امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے لڑ کر خلافت حاصل کی، اور صحابہ کرام کے درمیان جنگیں ہوئیں۔ اعلیٰ حضرت نے اس کا جواب تحریر فرمایا، جس سے مقامِ صحابیت اور شانِ امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اظہار ہوتا ہے۔ فرماتے ہیں:

“علامہ شہاب الدین خفاجی نسیم الریاض شرح شفا امام قاضی عیاض میں فرماتے ہیں:”

وَمَنْ يَكُوْنُ يَطْعَنُ فِيْ مُعَاوِيَةَ فَذٰلِكَ كَلْبٌ مِنْ كِلَابِ الْهَاوِيَةِ

ترجمہ: جو حضرت امیر معاویہ پر طعن کرے، وہ جہنم کے کتوں میں سے ایک کتا ہے۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: 19، ص: 30، امام احمد رضا اکیڈمی، بریلی]

11: مناقب حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ

اعلیٰ حضرت نے اپنے ملفوظات میں زم زم شریف کی فضیلت بیان کرنے کے دوران حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ایک واقعہ تحریر فرمایا:

“ابوذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ، جب ضعفِ اسلام تھا صحابہ علیہم الرضوان 40 تک نہ پہنچے تھے، اس زمانے میں مکہ معظمہ آئے۔ وہاں نہ کسی سے شناسائی، نہ کسی سے ملاقات۔ ایک مہینہ کامل وہی زم زم شریف پیا، حالت یہ ہوئی کہ پیٹ کی بلٹیں الٹ پڑیں (یعنی خوب توانائی آگئی)۔” [ملفوظات اعلیٰ حضرت، ص: 436، مکتبۃ المدینہ]

12: مناقب حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما

“حضرت عبداللہ ابن عباس فرماتے ہیں: جب میں بغرضِ تحصیلِ علم حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے درِ دولت پر جاتا اور وہ باہر تشریف نہ رکھتے ہوتے تو براہِ ادب ان کو آواز نہ دیتا، ان کی چوکھٹ پر سر رکھ کر لیٹا رہتا۔ ہوا، خاک اور ریت اڑا کر مجھ پر ڈالتی، پھر جب حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کاشانہِ اقدس سے تشریف لاتے، فرماتے: ابنِ عمِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم! آپ نے مجھے اطلاع کیوں نہ کرادی؟ میں عرض کرتا: مجھے لائق نہ تھا کہ میں آپ کو اطلاع کراتا۔” [ملفوظات اعلیٰ حضرت، ص: 144، مکتبۃ المدینہ]

13: مناقب حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ

امام احمد رضا سے حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شان میں اہانت کے تعلق سے سوال کیا گیا تو آپ نے اس کے جواب میں ارشاد فرمایا:

“سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ جلیل القدر صحابہ کرام سے ہیں۔ ان کی شان میں گستاخی نہ کرے گا، مگر رافضی۔ جس کتاب میں ایسی باتیں ہوں، اس کا پڑھنا، سننا مسلمان سنیوں پر حرام ہے۔ ایسے مسئلہ میں کتابوں کی کیا حاجت، اہل سنت کے مسنون عقائد میں تصریح ہے:”

الصَّحَابَةُ كُلُّهُمْ عُدُوْلٌ لَا نَذْكُرُهُمْ إِلَّا بِخَيْرٍ

صحابہ سب کے سب اہلِ خیر و عدالت ہیں، ہم ان کا ذکر نہ کریں گے، مگر بھلائی سے۔ [منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر، ص: 7]

پھر کئی احادیث ترمذی و مسندِ امام احمد بن حنبل اور مسندِ ابو یعلیٰ سے نقل کرنے کے بعد حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جلالتِ شان کا اظہار کرتے ہوئے ایک اور حدیث اسی جگہ سے نقل کرتے ہیں، جس کا ترجمہ ہے:

“بہت لوگ وہ ہیں کہ اسلام لائے، مگر عمرو بن العاص ان میں ہیں جو ایمان لائے۔” [فتاویٰ رضویہ، ج: 29، ص: 98، 99، مرکز اہل سنت، گجرات]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!