| عنوان: | امام احمد رضا اور علم عقائد و کلام |
|---|---|
| تحریر: | فیضان المصطفیٰ قادری |
| پیش کش: | مہر تاج |
| منجانب: | اقراء القرآن اکیڈمی |
کفر و تکفیر کی بحث اور اصولِ احتیاط
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہ نے کفر کی دو اقسام بیان فرمائی ہیں: کفرِ لزومی اور کفرِ التزامی۔
-
کفرِ التزامی: یہ ہے کہ کوئی شخص ضروریاتِ دین میں سے کسی شے کا صراحتاً انکار کرے۔ یہ قطعاً اور اجماعاً کفر ہے، خواہ وہ کتنا ہی اسلام کا دعویٰ کرے۔
-
کفرِ لزومی: یہ کہ جو بات کہی گئی وہ عین کفر تو نہیں، مگر اس کے لوازمات سے کسی ضروریِ دین کا انکار لازم آتا ہے۔ اس میں علمائے اہل سنت کا اختلاف ہے، تاہم تحقیق یہ ہے کہ یہ بدعت، گمراہی اور ضلالت تو ہے، مگر اسے صریح کفر نہیں کہا جائے گا۔
تکفیر کے اصول اور احتیاط
اعلیٰ حضرت نے تکفیر کے مسئلے میں انتہائی احتیاط برتی ہے۔ آپ کے نزدیک تکفیر بہت بڑا معاملہ ہے۔ اگر کسی کلام میں اسلام کا ایک پہلو اور کفر کے ننانوے پہلو بھی نکلتے ہوں، تو مفتی پر لازم ہے کہ اسلام والے پہلو کی طرف جائے۔ آپ کا فرمان ہے: "تکفیر میں جلدی نہ کرنی چاہیے، کوئی محتاط فی الدین اس کی جسارت نہیں کرے گا مگر اسی وقت جب اس کے دلائل آفتاب سے زیادہ روشن ہو جائیں۔"
شکوک و شبہات کا ازالہ
اعلیٰ حضرت نے ان اعتراضات کا علمی جواب دیا جو مخالفین نے تکفیرِ کلامی پر اٹھائے تھے:
-
"من قال لا الہ الا اللہ دخل الجنة": اس حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ صرف کلمہ پڑھ لینے سے ہر گستاخ اور منکرِ ضروریاتِ دین مسلمان رہے گا۔ بلکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ جب تک کوئی منافیِ اسلام فعل یا عقیدہ صادر نہ ہو، ہم اسے مسلمان جانیں گے۔
-
اہلِ قبلہ کی تکفیر: امام اعظم کا یہ فرمان کہ "ہم کسی اہل قبلہ کو کافر نہیں کہتے"، ان لوگوں کے بارے میں ہے جو تمام ضروریاتِ دین پر ایمان رکھتے ہوں۔ جو شخص ضروریاتِ دین میں سے کسی ایک کا بھی منکر ہو، وہ اجماعاً کافر ہے۔
اعلیٰ حضرت کی احتیاطِ علمی
مخالفین نے یہ الزام لگایا کہ اعلیٰ حضرت معمولی باتوں پر کافر کہہ دیتے ہیں۔ اعلیٰ حضرت نے اپنے سابقہ فتاویٰ (جیسے سبحان السبوح، الکوکبۃ الشہابیۃ وغیرہ) کے حوالے سے ثابت کیا کہ آپ نے ہمیشہ اکابرین کے کفر کے لزوم پر تو بات کی، لیکن قائل کی تکفیر میں انتہائی گریز اور احتیاط سے کام لیا۔ آپ نے تب تک کسی پر حکمِ کفر نہیں لگایا جب تک کہ ان کی گستاخیاں آفتاب کی طرح روشن اور کسی تاویل سے پاک نہ ہو گئیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ جب کسی کے کفر پر آفتاب کی طرح اجماع ہو جائے، تو اس وقت تکفیر نہ کرنا خود ایمان کو خطرے میں ڈالنا ہے۔
