| عنوان: | امام احمد رضا اور علم عقائد و کلام |
|---|---|
| ترتیب: | فیضان المصطفیٰ قادری |
| پیش کش: | مہر تاج |
| منجانب: | اقراء القرآن اکیڈمی |
اہلِ فترت کے احکام و مباحث
”اہلِ فترت“ سے مراد وہ لوگ ہیں جن تک انبیاء کی دعوت نہیں پہنچی۔ امام احمد رضا قدس سرہ نے اپنے رسالہ ”تنزیہ المکانۃ الحیدریہ“ میں اس موضوع پر سیر حاصل بحث فرمائی ہے۔ آپ کے مطابق اہلِ فترت تین قسم کے ہیں:
-
موحد: جو اس تاریک دور میں بھی توحید پر قائم رہے (جیسے قس بن ساعدہ)۔
-
مشرک: جو غیرِ خدا کو پوجنے لگے۔
-
غافل: جنہیں دنیاوی مصروفیات کے سبب اس مسئلہ سے بحث نہ تھی۔
اہلِ سنت کا اختلافِ مذہب
اس مسئلہ پر اہل سنت کے تین اہم اقوال ہیں:
-
جمہور اشاعرہ: یہ کہ جب تک بعثتِ نبویؐ کی دعوت ان تک نہ پہنچے، یہ سب فرقے (موحد، مشرک، غافل) ناجی و غیر معذب ہیں۔
-
بعض اشعری علما (جیسے امام نووی، رازی): کہ مشرک معاقب (عذاب کے مستحق) ہیں، جبکہ موحد و غافل مطلقاً ناجی ہیں۔
-
جمہور ماتریدیہ: کہ مشرک معاقب ہیں، موحد ناجی ہیں، اور غافلوں میں سے جس نے فکر و تامل کی مہلت پائی وہ معاقب ہے، ورنہ ناجی۔
اعلیٰ حضرت کی تحقیق
اعلیٰ حضرت نے جمہور ماتریدیہ کے موقف کو ترجیح دی ہے۔ جمہور اشاعرہ نے آیتِ کریمہ ”وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولاً“ سے استدلال کیا تھا، جس کا جواب دیتے ہوئے اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں کہ یہ آیت اس بات کی دلیل نہیں کہ عذابِ الٰہی مطلقاً بند ہے۔ احادیثِ صحیحہ میں عمرو بن لُحی اور صاحبِ مِحجَن جیسے اہل فترت کے عذاب کا ذکر صراحت سے موجود ہے۔ آپ نے فرمایا کہ یہ آیت ”قطعی الدلالہ“ نہیں ہے، لہذا اسے صحیح حدیث کے معارضہ (رد) کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
حدیثِ امتحان کا پہلو
اعلیٰ حضرت نے ”احادیثِ امتحان“ کی روشنی میں اس بحث کو مزید وسعت دی۔ ان احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ روزِ قیامت اہل فترت کا امتحان لیا جائے گا، جو حکمِ الٰہی مانے گا وہ کامیاب ہوگا اور جو نہیں مانے گا اسے عذاب دیا جائے گا۔ امام احمد رضا نے اشارہ کیا کہ ان احادیث کے بعد جمہور اشاعرہ کے اس قول کی گنجائش کم رہ جاتی ہے کہ سب اہل فترت مطلقاً ناجی ہیں۔ تاہم، آپ نے اس مقام پر تحقیق کا حق ادا کرتے ہوئے یہ کہہ کر بات سمیٹی کہ اس مسئلے میں مزید دقیق تحقیق کی ضرورت ہے، اور آپ نے اختصار کے پیشِ نظر اس بحث کو یہاں مکمل فرمایا۔
