| عنوان: | امام احمد رضا اور علم عقائد و کلام |
|---|---|
| تحریر: | فیضان المصطفیٰ قادری |
| پیش کش: | مہر تاج |
| منجانب: | اقراء القرآن اکیڈمی |
تقدیر کا بیان
تقدیر کے متعلق اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہ کا رسالہ ”ثلج الصدر فی ایمانِ القدر“ علمِ کلام کا ایک اہم حصہ ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اعضاء و جوارح اور ارادہ عطا فرمایا، پھر اسے عقل سے ممتاز کیا تاکہ نفع و ضرر کو پہچان سکے۔ بندے کا جو فعل بھی ہوتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے ارادہ و تخلیق سے ہوتا ہے۔ زید اگر کوئی ارادہ کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کے ارادے کے مطابق وہ فعل پیدا فرما دیتا ہے۔ انسان نہ تو پتھر کی طرح مجبورِ محض ہے اور نہ ہی خود مختار، بلکہ ان دونوں کے درمیان ایک حالت ہے جس کی حقیقت رازِ الٰہی ہے۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے اس الجھن کو دو فقروں میں حل فرما دیا: ایک یہ کہ جب ایک شخص نے پوچھا کہ کیا معاصی بے ارادہِ الٰہی ہوتے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: ”کیا کوئی زبردستی اللہ کی نافرمانی کر سکتا ہے؟“۔ دوسری بات یہ کہ جزا و سزا پر اعتراض کرنے والوں کو آپ نے سمجھایا کہ اللہ تعالیٰ نے کائنات کو بناتے وقت کسی سے مشورہ نہیں لیا تھا، وہ مالکِ حقیقی ہے اور مالک سے اس کی ملکیت کے بارے میں سوال نہیں کیا جا سکتا۔
تقدیرِ مبرم اور معلق کا بیان
تقدیر کی چار اقسام کا ذکر ملتا ہے: علمِ الٰہی میں تقدیر، لوحِ محفوظ میں تقدیر، رحمِ مادر میں تقدیر، اور مقدر امور کا اپنے اوقات تک پہنچنا۔ قضا دو قسم ہے: مبرم (اٹل) اور معلق (جو دعا یا صدقہ سے بدل سکے)۔
قضائے مبرم کے بارے میں امام احمد رضا نے نہایت دقیق تحقیق پیش فرمائی ہے۔ آپ نے ان احادیث کی وضاحت کی جن میں قضائے مبرم کے ٹلنے کا ذکر ہے۔ آپ کے نزدیک احکامِ تکوینیہ دو طرح کے ہیں:
-
مقید بالوقت: جیسے ملک الموت کو حکم ہو کہ فلاں کی روح قبض کر لو مگر یہ کہ وہ دعا کر دے۔ یہ ظاہری طور پر مبرم لگتی ہے مگر حقیقت میں معلق ہوتی ہے۔
-
مطلق عن الوقت: یہ علمِ الٰہی میں یا تو نافذ (حقیقی مبرم) ہے، یا پھر دعا سے پھیرے جانے والی ہے۔
اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں کہ جس حدیث میں قضائے مبرم کی تبدیلی کا ذکر ہے، اس سے مراد وہی معلق شبیہ بالمبرم ہے جو لوگوں کی نظر میں مبرم (اٹل) ہوتی ہے کیونکہ اس کے وقت کا تعین ظاہر نہیں کیا گیا۔ رہی ”قضائے مبرمِ حقیقی“، تو اسے اللہ کے سوا کوئی ٹالنے والا نہیں، کیونکہ اگر وہ بدل جائے تو علمِ الٰہی میں تبدیلی (نعوذ باللہ) کا وہم لازم آئے گا، جو محال ہے۔ یہ تحقیق اعلیٰ حضرت کے علمِ کلام پر گہری مہارت اور باریک بینی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
