| عنوان: | امام احمد رضا قادری اور فن صرف (قسط: ہفتم) |
|---|---|
| تحریر: | طارق انور مصباحی |
| پیش کش: | نازیہ ظفر بنت محمد شہاب الدین |
| منجانب: | لباب اکیڈمی |
“نصرۃ، کرامت و بعثرۃ” کا نام مجرد رکھا جاتا ہے، باوجود یہ کہ اس میں تاء زائدہ ہے، اس لیے کہ “نصر، کرم و بعثر” مجرد ہے، اور مزید فیہ کی مثال اگرچہ نہیں پائی جاتی ہے، لیکن مجرد پر اس کو قیاس کیا جائے گا، اور اس کی تائید وہ بھی کرتا ہے جو فصول اکبری میں ہے کہ: “لکن مصدر و مشتق مجرد و مزید فیہ کے اطلاق میں اپنے فعل ماضی کے تابع ہیں”۔ اور اگرچہ یہ استدلال بھی پہلے والے چار استدلال کی طرح کمزور ہے، لیکن میں نے اسے ان کے پہلے والے استدلال کے مطابق ان کے کلمات سے استخراج کیا ہے۔ اسے محفوظ کر لو۔
توضیح و تلخیص دلائل
دلیل اول، دوم، سوم کے مفاہیم آسان ہیں، اس لیے ان کی تلخیص ترک کی جاتی ہے۔
تلخیص دلیل چہارم
فعل عامل ہوتا ہے اور مصدر مفعول مطلق کی صورت میں معمول ہوتا ہے، اور مشتق منہ مقدم ہوتا ہے اور مشتق مؤخر ہوتا ہے، پس اگر فعل کو مشتق تسلیم کیا جائے تو فعل کا مؤخر ہونا لازم آئے گا، حالاں کہ عامل ہونے کی صورت میں فعل، مصدر پر مقدم ہوتا ہے، پھر فعل کو مشتق تسلیم کرنے کی صورت میں اس کا مصدر سے مؤخر ہونا لازم آئے گا، اور جب مشتق منہ یعنی مصدر کا وجود ہو ہی نہیں تو ایسی صورت میں مشتق یعنی فعل کے وجود کا قول کیسے کیا جا سکتا ہے، اور جب فعل پایا ہی نہیں گیا تو پھر فعل عامل کی شکل میں مصدر سے پہلے وجود میں کیسے آ گیا اور فعل یقینی طور پر عامل اور مصدر یقینی طور پر معمول ہوتا ہے تو اب دفع اشکال کی صورت یہ ہے کہ فعل کو مشتق منہ تسلیم کیا جائے۔
تلخیص دلیل پنجم
مجرد و مزید فیہ ہونے میں مصدر تابع ہے اور فعل متبوع ہے۔ متبوع راجح ہوتا ہے اور تابع مرجوح ہوتا ہے۔ اگر مصدر کو اصل قرار دے دیا جائے تو مرجوح کا راجح ہونا لازم آئے گا، کیوں کہ اصل راجح ہوتی ہے، اور فرع مرجوح ہوتی ہے، پس اس صورت میں راجح کا مرجوح ہونا لازم آئے گا۔ دلیل اول و دوم و سوم میں بھی اسی طرح بعض اعتبار سے فعل کو راجح اور مصدر کو مرجوح ثابت کرنے کے لیے دلیل قائم کی گئی ہے۔
معارضہ کی توضیح
معارضہ کی تعریف
الْمُعَارَضَةُ: إِقَامَةُ الدَّلِيلِ عَلَى خِلَافِ مَا أَقَامَ الدَّلِيلَ عَلَيْهِ الْخَصْمُ. [مناظرہ رشیدیہ، ص: 22 - مطبع مصطفوی، لاہور]
ترجمہ: معارضہ: اس کے خلاف پر دلیل قائم کرنا ہے، جس پر خصم نے دلیل قائم کی ہو۔
النَّقْضُ: وَهُوَ فِي اللُّغَةِ الْكَسْرُ، وَفِي اِصْطِلَاحِ النُّظَّارِ: إِبْطَالُ الدَّلِيلِ، أَيْ دَلِيلِ الْمُعَلِّلِ، بَعْدَ تَمَامِهِ مُتَمَسِّكًا بِشَاهِدٍ يَدُلُّ عَلَى عَدَمِ اِسْتِحْقَاقِهِ لِلِاسْتِدْلَالِ بِهِ. [مناظرہ رشیدیہ، ص: 20 - مطبع مصطفوی، لاہور]
ترجمہ: نقض: لغت میں توڑنا ہے اور باب مناظرہ کی اصطلاح میں معلل کی دلیل کے تمام ہونے کے بعد اس کو باطل کرنا ہے، کسی شاہد سے استدلال کر کے جو اس کے استدلال کے لائق نہ ہونے پر دلالت کرے۔
امام احمد رضا قادری نے فرمایا کہ اہل کوفہ کے استدلال اول، دوم، سوم اور استدلال پنجم کو اہل بصرہ کے استدلال دوم کا معارضہ بناتا ہوں، کیوں کہ اہل کوفہ کے ان چار استدلال میں فعل کو راجح اور مصدر کو مرجوح قرار دینے کے دلائل پیش کیے گئے ہیں، اور اہل بصرہ نے استدلال دوم میں مصدر کے راجح اور فعل کے مرجوح ہونے کو ثابت کیا ہے، پس اہل کوفہ کے مذکورہ بالا چاروں استدلال اہل بصرہ کے استدلال کے برخلاف ہوئے، یعنی اہل کوفہ نے اس کے خلاف پر دلیل قائم کی، جس پر اہل بصرہ نے دلیل قائم کی تھی۔ اہل کوفہ نے فعل کے راجح ہونے اور مصدر کے مرجوح ہونے پر دلیل قائم کی، اور اہل بصرہ نے مصدر کے راجح ہونے اور فعل کے مرجوح ہونے پر دلیل قائم کی، پس ہر ایک کا دعویٰ دوسرے کے دعویٰ کے خلاف ہوا، اور ہر ایک نے اپنے دعویٰ پر دلیل قائم کی ہے۔
مصطفیٰ اعظم نمبر ماہنامہ “پیغام شریعت” 759
اہل بصرہ کی دلیل دوم میں بتایا گیا کہ مصدر فی نفسہ مستقل ہے اور فعل سے بے نیاز ہے جب کہ فعل اسم کا محتاج ہے، پس وہ غیر مستقل ہے، اور مستقل راجح ہوتا ہے اور غیر مستقل مرجوح ہوتا ہے، پس اگر فعل اشتقاق میں اصل ہو، اور اصل راجح ہوتی ہے تو فعل کو اصل قرار دینے سے مرجوح کو ترجیح دینا لازم آئے گا، اور یہ محال ہے۔
اہل کوفہ کے دلائل کا رد
اہل کوفہ نے دلیل پنجم میں کہا کہ باب اشتقاق میں مصدر کو اصل قرار دینے سے مصدر کا راجح ہونا اور فعل کا مرجوح ہونا لازم آتا ہے اور مصدر باب تعلیل میں مرجوح ہے اور فعل راجح ہے اسی طرح دلیل اول، دلیل دوم و دلیل سوم میں بھی فعل راجح اور مصدر مرجوح ہے، پس اگر مصدر کو مشتق منہ قرار دیا جائے تو مصدر راجح ہو جائے گا اور فعل مرجوح ہو جائے گا اور راجح کا مرجوح ہونا محال ہے۔
اہل کوفہ کے استدلال کا جواب یہ ہے کہ جب حیثیت و اعتبار بدل جائے تو مذکورہ بالا استحالہ لازم نہیں آئے گا، پس اہل کوفہ کے یہ دلائل ناقابل تسلیم ہیں۔ اس طرح اہل کوفہ کے یہ چاروں دلائل کمزور ہو گئے۔ اسی طرح اہل بصرہ کا استدلال دوم بھی اسی اصول کے مطابق ناقابل تسلیم قرار پائے گا، کیوں کہ مصدر کا مرجوح ہونا کسی اور حیثیت سے ہے اور راجح ہونا کسی دوسرے اعتبار سے ہے۔
اہل کوفہ کی دلیل چہارم میں یہ بتایا گیا کہ فعل مصدر میں عمل کرتا ہے، جیسے “ضرب زید ضرباً”، تو اس میں فعل نے زید کو فاعل اور “ضرباً” مصدر کو نصب دیا تو فعل عامل ہوا، اور مصدر معمول ہوا، اور معمول مؤخر ہوتا ہے تو اگر فعل کو باب اشتقاق میں فرع قرار دیا جائے تو مصدر معمول مقدم ہو جائے گا۔ یہ دلیل بھی ناقابل تسلیم ہے، کیوں کہ فعل باب عمل میں مقدم ہے، اور مصدر کو باب اشتقاق میں اصل تسلیم کرنے سے ہر باب میں مصدر کا مقدم ہونا لازم نہیں آتا۔ باب اشتقاق میں مصدر مقدم ہے اور کسی دوسرے باب میں یا کسی دوسری حیثیت سے فعل مقدم ہو جائے تو کوئی حرج نہیں، کیوں کہ تقدم و تاخر کے اعتبارات جدا گانہ ہیں۔
بہت مشہور مقولہ ہے:
لَوْلَا الْاِعْتِبَارَاتُ لَبَطَلَتِ الْحِكْمَةُ
اگر اعتبارات کا لحاظ نہ کیا جائے تو علم و حکمت باطل ہو جائیں گے۔ اہل کوفہ کے پانچوں استدلال میں فعل کا مقدم ہونا کسی دوسری حیثیت سے ہے، باب اشتقاق میں اصل ہونے کے اعتبار سے یہ تقدم نہیں ہے۔ ایسی صورت میں اگر مصدر باب اشتقاق میں مقدم ہو جائے تو کوئی استحالہ لازم نہیں۔ جیسے باپ اپنے بیٹے سے بالذات و وجود مقدم ہوتا ہے۔ اب اگر علم، تقوی، دولت، عہدہ، و دیگر بے شمار اعتبارات سے بیٹے سے مؤخر ہو جائے تو کوئی استحالہ نہیں۔ اسی طرح کوئی علم میں کسی سے راجح ہو، اور تقوی میں اس سے مرجوح ہو تو کوئی استحالہ نہیں۔ لازم محال کی شرط اول یہی ہے کہ جس حیثیت سے اور جس زمانہ میں تقدم و ترجیح ہے، اسی حیثیت سے اسی زمانہ میں تاخر و مرجوحیت تسلیم کی جائے۔ یہاں پانچوں استدلال میں محض تقدم و ترجیح کو دیکھ کر لازم محال ثابت کیا گیا ہے، لازم محال کے شرط و اصول کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا گیا۔
فریقین کا دعویٰ ایک
امام احمد رضا قادری نے تحریر فرمایا کہ فریقین کی بعض عبارات پر غور کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں کا دعویٰ ایک ہے، یعنی دونوں فریق مصدر یا فعل کے اشتقاق و تعلیل میں اصل ہونے کے قائل ہیں؛ فعل تعلیل میں اصل ہے اور مصدر اشتقاق میں اصل ہے۔
وَيُفْهَمُ مِنْ عِبَارَةِ بَعْضِ الْكُتُبِ أَنَّ دَعْوَى الْبَصْرِيِّينَ وَالْكُوفِيِّينَ كِلَيْهِمَا أَصَالَةُ الْمَصْدَرِ أَوِ الْفِعْلِ فِي الِاشْتِقَاقِ وَالْإِعْلَالِ جَمِيعًا، وَأَنْتَ لَا يَخْفَى عَلَيْكَ أَنَّ أَصْحَابَ كِلَا الْمَذْهَبَيْنِ عُقَلَاءُ كَيْفَ يَتَفَوَّهُونَ بِهَكَذَا الْأَمْرِ الْمَفْضُولِ وَالدَّعْوَى الْمَرْذُولِ، فَإِنَّ الْبَصْرِيِّينَ مُتَّفِقُونَ مَعَ الْكُوفِيِّينَ فِي أَصَالَةِ الْفِعْلِ فِي الْإِعْلَالِ، فَإِنَّ كُتُبَ تَابِعِيهِمْ مَمْلُوءَةٌ عَنْ هَذَا الْمَعْنَى، فَكَيْفَ يُخَالِفُونَهُمْ فِي هَذَا الْأَمْرِ الْمُجْمَعِ عَلَيْهِ؟ [مخطوط: تَبْلِیغُ الْكَلَامِ إِلَى دَرَجَةِ الْكَمَالِ فِي تَحْقِيقِ أَصَالَةِ الْمَصْدَرِ وَالْأَفْعَالِ، ص: 5]
مصطفیٰ اعظم نمبر ماہنامہ “پیغام شریعت” 760
ترجمہ: بعض کتابوں کی عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل بصرہ و اہل کوفہ دونوں کا دعویٰ مصدر یا فعل کے اشتقاق و تعلیل دونوں میں اصل ہونے کا ہے، اور یہ بات غفلت میں مبتلا کر دے گی کہ دونوں مذہب کے ذمہ داران عقل مند ہیں، وہ دو ایسی کمزور بات اور ایسا گھٹیا دعویٰ کیسے کر سکتے ہیں، اس لیے کہ اہل بصرہ، اہل کوفہ کے ساتھ باب تعلیل میں فعل کے اصل ہونے میں متفق ہیں، کیوں کہ ان کی جمیع کتابیں اس مفہوم سے بھری ہوئی ہیں، پس وہ لوگ اس اجماعی امر میں اہل کوفہ کی مخالفت کیسے کر سکتے ہیں؟
توضیح
امام موصوف کی عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل بصرہ و اہل کوفہ دونوں فریق بعض اعتبار سے فعل کو اصل مانتے ہیں اور بعض اعتبار سے مصدر کو اصل مانتے ہیں۔ اہل کوفہ و اہل بصرہ دونوں فریق باب تعلیل میں فعل کو اصل قرار دیتے ہیں اور باب تعلیل میں مصدر کو فعل کے تابع قرار دیتے ہیں۔ گویا تعلیل کے مرحلے میں دونوں فریق فعل کو اصل قرار دیتے ہیں، پھر باب اشتقاق میں اہل بصرہ مصدر کو اصل قرار دیتے ہیں اور اہل کوفہ فعل کو اصل قرار دیتے ہیں۔ اس طرح باب تعلیل میں دونوں نے فعل کو اصل قرار دیا، پھر باب اشتقاق میں دونوں متفرق ہو گئے۔
فریقین کے دلائل کا رد
امام احمد رضا قادری نے فریقین کے دلائل نقل کرنے کے بعد دونوں کے دلائل کا رد فرمایا ہے۔ اہل بصرہ کا مذہب ہے کہ مصدر اصل ہے اور فعل مصدر سے مشتق ہوتا ہے۔ اہل کوفہ کا مذہب ہے کہ فعل اصل ہے اور مصدر فعل سے مشتق ہے۔ امام موصوف نے تحریر فرمایا:
تَمَّتِ اسْتِدْلَالَاتُ الْفَرِيقَيْنِ إِلَى هُنَا، وَالْآنَ نَشْرَعُ فِي رَدِّ اسْتِدْلَالَاتِهِمْ فَنَقُولُ وَبِهِ نَسْتَعِينُ: إِنَّ كُلَّ دَلِيلِ الْبَصْرِيِّينَ مَرْدُودٌ، وَالْوَقْتُ أَعَزُّ مِنْ أَنْ يُخَاضَ فِيهِ، Бَلْ مِنْ أَنْ يُلْتَفَتَ إِلَيْهِ. أَمَّا الدَّلِيلُ الْأَوَّلُ فَلِأَنَّا لَا نَقُولُ بِأَنَّ الْمَصْدَرَ هَاهُنَا بِمَعْنَى مَا صَدَرَ عَنْهُ الشَّيْءُ، بَلْ هُوَ مَصْدَرٌ مِيمِيٌّ، وَقَدْ تَقَرَّرَ فِي مَوْضِعِهِ أَنَّ الْمَصْدَرَ قَدْ يَجِيءُ بِمَعْنَى الْفَاعِلِ أَيْضًا كَالْعَدْلِ بِمَعْنَى الْعَادِلِ، فَالْمَصْدَرُ بِمَعْنَى الصَّادِرِ. [مخطوط: تَبْلِیغُ الْكَلَامِ إِلَى دَرَجَةِ الْكَمَالِ فِي تَحْقِيقِ أَصَالَةِ الْمَصْدَرِ وَالْأَفْعَالِ، ص: 5]
ترجمہ: یہاں تک فریقین کے استدلال مکمل ہو گئے، اور اب ہم ان کے استدلال کا رد شروع کرتے ہیں، پس ہم رب تعالیٰ سے استقامت طلب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اہل بصرہ کی ہر دلیل قابل رد ہے، اور وقت بہت کم ہے کہ اس میں غور و خوض کیا جائے، بلکہ وقت اس سے بہت کم ہے کہ اس جانب توجہ دی جائے، لیکن دلیل اول کا قابل رد ہونا تو اس لیے کہ ہم نہیں کہتے ہیں کہ یہاں مصدر “ما صدر عنه الشیء” کے معنی میں ہے، بلکہ یہ مصدر میمی ہے اور مصدریت کی بحث میں ثابت ہو چکا ہے کہ مصدر کبھی فاعل کے معنی میں بھی ہوتا ہے، جیسے عدل، عادل کے معنی میں ہے، پس مصدر، صادر کے معنی میں ہے۔
توضیح
اہل کوفہ نے لفظ مصدر کو دیکھ کر یہ سمجھا کہ یہ اسم ظرف کا صیغہ ہے، یعنی مصدر محل صدور ہے، اور فعل اس سے صادر ہوتا ہے، امام موصوف نے فرمایا کہ لفظ مصدر اسم ظرف کا صیغہ نہیں، بلکہ مصدر میمی ہے اور مصدر کبھی اسم فاعل کے معنی میں بھی ہوتا ہے، پس اس اعتبار سے مصدر کا معنی “صادر” ہوگا۔ جب مصدر، صادر کے معنی میں ہے تو اب محل صدور اور مشتق منہ مراد لینا نہیں ہوگا، بلکہ خود مشتق اور صادر ہوگا۔ اس طرح اہل بصرہ کا استدلال اول باطل ہو گیا۔
اس کے بعد امام موصوف نے فریقین کے دلائل کا رد فرمایا ہے، جیسا کہ ان کے کلام سے ظاہر ہے۔ چوں کہ کتاب کے آخری صفحات دستیاب نہ ہو سکے، اس لیے امام موصوف کے محاکمہ و فیصلہ سے ہم محروم ہو چکے، اس رسالہ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امام موصوف دیگر علوم و فنون کی طرح علم صرف میں رتبہٴ اجتہاد پر فائز تھے۔
وَمَا تَوْفِيقِي إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى حَبِيبِهِ الْكَرِيمِ وَآلِهِ الْعَظِيمِ.
