Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

اسلام اور دیگر مذاہبِ عالم (قسط: دوم)|علامہ قمرالزماں مصباحی اعظمی

اسلام اور دیگر مذاہبِ عالم (قسط: دوم)
عنوان: اسلام اور دیگر مذاہبِ عالم (قسط: دوم)
تحریر: علامہ قمرالزماں مصباحی اعظمی
پیش کش: فاطمہ خاتون
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

عقیدہٴ رسالت

اسلام کے علاوہ دوسرے ادیان و مذاہب میں رسالت کا جو تصور ہے وہ تصورِ الٰہ کی طرح ہی سے ناقص، نامکمل، مائل بہ ابتذال، غیر مؤثر اور منصبِ رسالت سے فروتر ہے، اِس لیے کہ "رسالت" جس مہتم بالشان منصب کا نام ہے اس کے حامل کی حیثیت خواہ کتنی ہی عظیم کیوں نہ ہو مگر مذاہبِ قدیمہ کے ارباب نے ان کو اس طور پر پیش کیا ہے کہ ان کی حیثیت ایک عام مصلح اور ایک عام قائد سے آگے نہیں بڑھتی۔ عہدِ عتیق اور عہدِ جدید کی تمام تحریروں کا مطالعہ کیجیے تو یہ کھل کر سامنے آ جائے گا کہ مجرمینِ تحریف نے انبیاء کی زندگی کو تضاد کا حامل بنا کر پیش کیا ہے۔ ایک طرف انبیاءِ کرام میں سے بعض افراد کو وہ خدا کا بیٹا اور الٰہ تصور کرتے ہیں تو دوسری طرف انبیاء و رُسل کو نبی مان کر بھی انہیں لائقِ گردن زدنی، لائقِ صلیب و دار، باغی و مجرم وغیرہ کے الفاظ سے یاد کرتے ہیں۔

یہود کی تاریخ کو اٹھا کر دیکھیے؛ نہ معلوم کتنے انبیاءِ کرام کے خونِ ناحق سے ان کے ہاتھ رنگے ہوئے نظر آئیں گے۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ جن انبیاء و رُسل کے قوانین کو وہ معیار مانتے ہیں، خود اُن کو گناہ گار، خطا شعار اور مجرم ثابت کرنے میں بڑے جری واقع ہوئے ہیں۔ ان کی بے باکیاں اس قدر بڑھ گئی ہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام جو ابو الانبیاء ہیں اور جن کی ذاتِ پاک کے بارے میں تمام مذاہب جو منزلِ من اللہ ہیں یا ہونے کے دعوے دار ہیں، متحد القول ہیں کہ وہ جلیل القدر پیغمبر تھے، مگر ان کی نبوت کا اقرار کرتے ہوئے بھی یہود و نصاریٰ ان کو مجرم و خاطی تصور کرتے ہیں۔ حضرت آدم علیہ السلام کی ذاتِ پاک سے منسوب کر کے انہوں نے یہ عقیدہ وضع کر لیا ہے کہ ہر انسان پیدائشی گناہ گار ہے۔ اس لیے کہ حضرت آدم علیہ السلام نے گناہ کیا تھا اور ان کے گناہ کے نتیجے میں ان کی اولاد فطرتاً اور خلقتاً گناہ گار ہے۔

کتنی حیرت انگیز بات ہے کہ مصلحتِ ایزدی کی بنیاد پر حضرت آدم علیہ السلام سے سرزد ہونے والے فعل کو وہ گناہ کہتے ہیں۔ غور فرمائیں کہ گناہ کے نتیجے میں ہمیشہ تباہیاں اور بربادیاں ہوتی ہیں، مگر ابوالبشر حضرت آدم علیہ السلام کا یہ کیسا گناہ ہے کہ جس کے نتیجے میں آبادیاں بڑھتی ہیں، ویرانے ختم ہو جاتے ہیں، زندگی سنورتی ہے، ابنائے آدم خلافتِ ارض کے مستحق قرار پاتے ہیں، انسان اشرف المخلوقات بنا، "لَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ" کے تاجِ کرامت سے نوازا گیا، "لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ" [سورۃ التین: 4] کے مظاہرِ حسن جلوہ گر ہوئے، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ان کی نسلِ پاک سے سید المعصومین، حاصلِ تخلیقِ کائنات، شاہِ کارِ عالمِ ایجاد و سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم جلوہ گر ہوئے۔ کیا یہ ساری عظمتیں اور سربلندیاں انسان کو حضرت آدم کے مفروضہ گناہ کے ثمرے میں ملیں؟ العیاذ باللہ!

اس عقیدے کی ایک دردناک تصویر یہ ہے کہ انہوں نے انسان کو پیدائشی مجرم قرار دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ عیسائیوں اور اربابِ کلیسا نے فوراً عقیدۂ کفارہ کو جنم دیا، یعنی انسان پیدائشی مجرم تو ہے مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے صلیب و دار قبول فرما کر تمام انسانوں کے گناہ بخشوا دیے۔ وہاں مایوسی نے انہیں گناہ پر مجبور کیا تھا، اور یہاں نجات کے یقین نے انہیں گناہوں میں ڈبو دیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تمام لوگوں کے گناہوں کا کفارہ بن چکے ہیں، تو پھر گناہ کیوں نہ کیے جائیں۔

ایک اور زاویۂ نگاہ سے غور کریں تو یہ بات اور زیادہ واضح ہو جائے گی کہ صرف یہی نہیں کہ انہوں نے اپنے انبیاء کے مقدّس منصب کی توہین کی، بلکہ انہوں نے ان کے مشن، ان کی تحریک اور ان کے اخلاقِ حسنہ پر تحریف و تبدیل کے پردے ڈال دیے۔ مشہور مستشرق پروفیسر رینان لکھتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیاتِ گرامی کے متعلق انہیں صرف اتنا معلوم ہے کہ وہ بن باپ کے پیدا ہوئے، کچھ معجزات پیش کیے، جب لوگوں کو ان کی نبوت کا یقین ہو گیا تو وہ غائب ہو گئے۔ 32 سال کی عمر میں ظاہر ہوئے، کچھ چرواہوں کو وعظ فرمایا اور پھر انہیں صلیب دے دی گئی۔ کیا صرف اتنی ہی زندگی سے دستورِ حیات تیار ہو سکتا ہے؟ اگر معاشرتی مسائل، سلطنت و حکومت، حقوق اللہ اور حقوق العباد، یا قانونِ ازدواج کے متعلق سوال کیا جائے تو ان کی مشہور زندگی میں ان سوالوں کا کوئی جواب نہیں ہے۔

یہ تو اسلام اور پیغمبرِ اسلام کا احسانِ عظیم ہے کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پیغمبر اور "وَجِيهًا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ" [سورۃ آل عمران: 45] قرار دے کر عیسائیت کی آبرو رکھ لی۔ غالباً اسی بات کی طرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے آخری خطبہ میں اشارہ فرمایا تھا: "دنیا نے اپنے سردار کے پہچاننے میں غلطی کی ہے، جب وہ روح الحق فارقلیط [احمد صلی اللہ علیہ وسلم] جلوہ گر ہوگا تو میری صحیح حیثیت کو دنیا کے سامنے پیش کرے گا۔"

اسلام کا عقیدہٴ رسالت

اسلام نے جو عقیدۂ رسالت پیش کیا ہے وہ جامع، کامل، عظیم، واضح اور روشن ہے۔ اسلام انبیاء اور رُسل کو مصطفیٰ اور برگزیدہ تصور کرتا ہے، وہ ان کی ہر حرکت و عمل کو من جانب اللہ یقین کرتا ہے، وہ ان کے نطقِ پاک کو خدا کا کلام قرار دیتا ہے، انہیں بشریتِ عامہ کی سطح سے بہت بلند تصور کرتا ہے، اس طور پر کہ ایک غیر نبی لاکھ ترقی کر جائے مگر نبی نہیں ہو سکتا، اور ان میں سب سے بڑھ کر یہ عقیدہ ہے کہ وہ "عصمتِ انبیاء" کا قائل ہے۔ اسلام کی نگاہ میں ہر نبی اور رسول معصوم عن الخطاء ہے، اس لیے کہ اگر نبی خطا کر سکتا ہے تو یقیناً جو قانون وہ عطا کرے گا اُس کو ہم خطا سے پاک تصور نہیں کر سکتے۔ اسلام نے نبی علیہ السلام کو بشر تو فرمایا ہے مگر عام انسانوں جیسا نہیں، بلکہ سیّد البشر؛ امام الانبیاء؛ حاملِ سیادتِ مطلقہ و افضلیتِ عامہ۔ ظاہر ہے اس عقیدۂ رسالت کے بعد نبی کی حیاتِ پاک ہر لغزش اور ہر خطا سے معصوم ہے۔ جو مذہب اس قدر پاکیزہ تصورِ رسالت پیش کرتا ہو، اُس کو حق ہے کہ وہ ایک عالم گیر نظامِ حیات کے حامل ہونے کا دعویٰ کر سکے اور کائنات اس کے دعوے پر ایمان لائے۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!