Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

یقین محکم اور عمل پیہم کی ضرورت (قسط: اول)

یقین محکم اور عمل پیہم کی ضرورت (قسط: اول)
عنوان: یقین محکم اور عمل پیہم کی ضرورت (قسط: اول)
تحریر: خطیب اعظم علامہ قمر الزماں خان اعظمی
پیش کش: آفرین فاطمہ رضویہ
منجانب: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد

اسلام ایک مکمل نظامِ زندگی ہے، پیدائش سے لے کر موت تک زندگی کا کوئی ایسا گوشہ نہیں ہے جس کے رہنما اصول اسلام کے اندر موجود نہ ہوں، جغرافیائی، لونی، لسانی اور اقتصادی بنیادوں پر منقسم کوئی ایسا طبقہ نہیں ہے جس کے لیے اسلام یکساں ممکن العمل نہ ہو، اسلام تمام انسانوں کا مذہب ہے، اجتماعی طور پر تمام اقوام اور انفرادی طور پر ابنِ آدم کے لیے مکمل ضابطۂ حیات ہے۔

اسلام ایک معزز اور باوقار زندگی کی دعوت دیتا ہے، اور اپنے ماننے والوں کو پستیوں سے نکال کر حیاتِ انسانی کی عظمتوں سے ہمکنار کرتا ہے:

وَأَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ ۝ [سورۃ آل عمران: 139]

“تم ہی سر بلند ہو اگر تم مومن ہو۔”

ایمانِ کامل اور سربلندی دونوں لازم و ملزوم چیزیں ہیں، یہی وجہ ہے کہ ایمان کے بعد یا تو سر بلندی میسر ہو یا سر بلندی کے لیے جدوجہد جاری رہے، تو خیر؛ ورنہ اگر ذلت و نکبت میسر ہو اور اس پر قناعت کر لی جائے تو ایسے ماحول میں ایمان کے دعویداروں کو “علیٰ وجہ البصیرت” اپنے بارے میں غور کرنا ہوگا کہ وہ حقیقی معنوں میں مومن ہیں یا نہیں؟

اگر آپ مسلمانوں کے عروج و زوال کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ ماضی میں امتِ مسلمہ کے سامنے کئی ایسے موڑ آئے جب اس سے اس کا اقتدار چھین لیا گیا اور اسے ذلت و پستی کے غار میں دھکیل دیا گیا، لیکن اس کا احساس زندہ تھا، احساسِ زیاں نے اسے جھنجھوڑا، دوبارہ عمل کی طرف مائل کیا، اس کی منتشر قوتوں کو اکٹھا کیا اور باطل کے مقابلے میں صف آرا ہو گئی، الحاصل اس نے پھر اپنا کھویا ہوا وقار حاصل کیا۔

صلاح الدین ایوبی کے لیے ستائیس رجب کی دردناک ترین وہ رات تھی، جب وہ مسجدِ اقصیٰ کے تصور میں لرز رہا تھا اور خدائے برتر و بالا کے سامنے گڑگڑا رہا تھا کہ اے پروردگارِ عالم! قومِ مسلم پر اس سے دردناک رات اور کوئی نہ آئے گی کہ جس مسجد میں آج شب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انبیاء علیہم السلام کی امامت کی تھی، آج وہی عظیم و جلیل مسجدِ اقصیٰ عیسائیوں کے قبضہ میں ہے۔ اسلام کا وہ فرزندِ عظیم شبِ معراج کی فجر تک روتا رہا، اور جب خدائے پاک کی جانب سے قدرے اطمینان ہوا تو اس نے مسجدِ اقصیٰ کی طرف رخ کر کے کہا: اے قبلۂ اول! آنے والی شبِ معراج سے پہلے ہم تجھے دشمنوں کے تسلط سے آزاد کر لیں گے، ان شاء اللہ تعالیٰ! اور آنے والی شبِ معراج میں ہمارا یہ سجدۂ اضطراب سجدۂ شکر میں تبدیل ہو جائے گا۔ پھر تاریخ شاہد ہے کہ اس نے ایک سال کے اندر ہی صلیبی قوتوں کو مکمل شکست دے دی، اور نہ صرف یہ کہ اپنا کھویا ہوا وقار حاصل کر لیا، بلکہ صلیب برداروں سے بعض ایسے علاقے بھی حاصل کر لیے جو پہلے سے مسلم مملکت کی حدود میں نہ تھے۔

شہاب الدین غوری نے پہلی بار شکست کھانے کے بعد قسم کھائی تھی کہ جب تک میں ہندوستان میں اسلام کی صداقت کا پرچم بلند نہ کر لوں گا، میں اپنے اوپر زندگی کی تمام آسائشیں حرام کرتا ہوں، کھانا بس اتنا ہی کھاؤں گا جس سے بس زندگی باقی رہ سکے اور لباس اتنا ہی پہنوں گا جو ستر کے لیے کافی ہو، تخت کے بجائے زمین پر سوؤں گا، اور پھر اس بطلِ عظیم نے اسی طرح ایک سال گزار دیا، راتوں کو خدا کی بارگاہ میں روتا اور تڑپتا رہتا اور دن بھر فوجوں کی ترتیب، نئے فوجیوں کے داخلے اور سامانِ جنگ کی فراہمی کا کام کرتا:

هُمْ بِاللَّيْلِ رُهْبَانٌ وَبِالنَّهَارِ فُرْسَانٌ

“مسلمان رات کے عابد و شب زندہ دار اور دن کے مجاہد ہیں۔”

آخر اس کا گریۂ پیہم مستجابِ بارگاہِ خداوندی ہوا اور خواجۂ اعظم سلطان الہند غریب نواز کے ذریعے مشیت نے یہ ظاہر کر دیا کہ دوبارہ محاذ پر ڈٹ جاؤ، فتح و نصرت تمہارے قدم چومے گی۔ اور پھر ایک سال کے احساسِ شکست کا درد اٹھانے کے بعد شہاب الدین غوری نے دوبارہ ہندوستان پر حملہ کیا، اور خواجۂ ہند نے ارشاد فرمایا: “میں نے پرتھوی راج کو زندہ مسلمانوں کے حوالے کر دیا۔” پرتھوی راج گرفتار ہو چکا تھا، اور شہاب الدین حضرت خواجہ غریب نواز علیہ الرحمہ کے حضور میں نذرِ عقیدت پیش کر رہا تھا کہ حضور یہ سب آپ کی دعاؤں کا نتیجہ ہے۔

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اگر کسی قوم کو شکست کا منہ دیکھنا پڑے، لیکن اس کا احساسِ زیاں زندہ ہو تو پھر وہ دوبارہ فتح حاصل کر لیتی ہے، لیکن وہ قوم دوبارہ زندہ نہیں ہو سکتی جسے پے در پے شکستیں ہو رہی ہوں اور وہ اپنی ذلتوں اور شکستوں کو مقدر سمجھ کر انہی پر قانع ہو گئی ہو۔

آج کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ایک تو مسلمان اپنی زندگی کے ہر میدان میں دنیا کی دوسری اقوام سے پیچھے ہے، خواہ وہ سیاسی ہو یا ثقافتی، معاشرتی ہو یا اقتصادی، تعلیمی ہو یا تجرباتی۔ گزرے ہوئے سو سال میں کسی بھی شعبے میں اس نے کوئی قابلِ قدر کارنامہ انجام نہیں دیا۔ سیاسی اعتبار سے آج سے صدیوں پہلے ہمارے اسلاف نے اپنے مفتوحہ علاقے جو ہم تک ورثتاً منتقل کیے تھے ان میں سے چند ایک قابلِ لحاظ خطوں کو گنوا دینے کے علاوہ ہم نے ایک قدم آگے نہیں بڑھایا ہے۔

تہذیب و تمدن کے میدان میں، ماضی میں ہماری عظیم الشان خدمات سے دنیا کی تاریخ بھری پڑی ہے، لیکن حال میں ہمارا شمار دنیا کی غیر متمدن اور غیر مہذب قوموں میں ہو رہا ہے۔ ماضی میں اقتصادی میدان میں بھی ہم نے دنیا کے لیے نئی راہیں ہموار کی تھیں، اور صدیوں تک ایک آسودہ، مطمئن اور خوشحال معاشرے میں زندگی گزارنے کے بعد ہم آج سب سے زیادہ بدحال اور اقتصادی پسماندگی کا شکار ہیں۔ تحقیقی اور تجرباتی میدان میں ہم نے سب سے پہلے اقدام کیا تھا، اور دنیا کو فطرت کے ان پوشیدہ خزانوں سے آشنا کیا تھا جس سے کام لے کر آج دنیا کی قومیں بہت آگے نکل چکی ہیں، اور ہم صدیوں کی نیند سے اٹھے تو دیکھا کہ ہمارے تحقیقی خزانوں پر دوسروں کا قبضہ ہے، اور اب ہم سرِ راہ بیٹھے یارانِ تیز گام کی عظمتوں کی پیمائش کر رہے ہیں۔

لیکن سب سے روح فرسا بات یہ ہے کہ ہم اپنی انہی ذلتوں پر قانع اور انہی فاقہ مستیوں میں مست ہیں، اور ہر طرح کی پسماندگی اور محکومی کو اپنا مقدر سمجھ کر ہم نے جدوجہد کے تمام دروازے مقفل کر دیے، وقت کا ایک سیلاب جو ہمیں تنکوں کی طرح نامعلوم سمت کی طرف لے جا رہا ہے ہمیں معلوم نہیں کہ ہماری منزل کیا ہے، اور آئندہ ہمارا حشر کیا ہونے والا ہے، اور نہ ہی آنکھ کھول کر ہم مستقبل کے ان بھیانک غاروں کی طرف دیکھ رہے ہیں جن کی طرف ہم تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمارا یہ حال خود بخود ہو گیا ہے یا ہم لاشعوری طور پر کسی باشعور حریف طبقے کی جانب سے پیش کردہ زہر کو تریاق سمجھ کر حلق سے نیچے اتارتے چلے جا رہے ہیں، جو ہمارے قویٰ پر اضمحلال، ہمارے قلوب میں افسردگی اور ہماری قوتِ عمل پر موت کی خاموشی مسلط کرنا چاہتا ہے اور بڑی حد تک کامیاب بھی ہے۔

اگر ہم حالات و واقعات کو ترتیب دیں، اور بعض تحریکوں کا جائزہ لیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ دوسری بات صحیح ہے۔ ناکامیوں سے ناکامی کا سبق لینا اور شکستوں کا احتساب کر کے فتح مندیوں کی طرف قدم اٹھانا یہ قومِ مسلم کا شعار ہے، لیکن اب ایسا نہیں ہو رہا ہے تو اس کا کھلا ہوا مفہوم یہ ہے کہ مذہب نے حرکت و عمل کی جو زندگی دی تھی، وہ مر چکی ہے اور اس کا سبب وہی زہر ہے، جو شہد کی حلاوت کے ساتھ ساتھ رفتہ رفتہ قومِ مسلم کے رگ و ریشے میں سرایت کرتا جا رہا ہے۔

رہ گئی رسمِ اذاں روحِ بلالی نہ رہی
فلسفہ رہ گیا، تلقینِ غزالی نہ رہی

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!