| عنوان: | طلاق کے احکام و مسائل (قسط چہارم) |
|---|---|
| تحریر: | پیر محمد تبسم بشیر اویسی |
| پیش کش: | شہربانو نعیم قادریہ |
احادیثِ مبارکہ اور شروحِ حدیث کی روشنی میں:
امام بدر الدین العینی اور امام حافظ ابن حجر العسقلانی رحمہما اللہ اس (گزشتہ قسط میں مذکورہ احادیث کی) شرح میں بتاتے ہیں کہ: "ظاہر ہے کہ یہ تین اکٹھی طلاقیں تھیں۔" (عمدۃ القاری و فتح الباری)
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
طَلَّقَنِي زَوْجِي ثَلَاثًا وَهُوَ خَارِجٌ إِلَى الْيَمَنِ، فَأَجَازَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ۔
ترجمہ: میرے شوہر یمن روانہ ہوتے وقت مجھے تینوں طلاقیں (اکٹھی یک مشت) دے گئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں مؤثر قرار دیا۔ (سنن ابن ماجہ، ابواب الطلاق، باب من طلق ثلاثا فی مجلس واحد، ص 147)
غیر مقلد حضرات کے مشہور محدث شیخ محمد ناصر الدین البانی نے اس حدیث کے بارے میں کہا: "صحیح، یہ حدیث صحیح ہے۔" (صحیح سنن ابن ماجہ للالبانی، کتاب الطلاق، حدیث 1644)
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا تعامل و فتاویٰ:
اور بھی بہت سی احادیثِ مقدسہ ہیں جن میں یہ مسئلہ اسی طرح بیان کیا گیا ہے۔ حضرت عمر فاروق، حضرت عثمان ذوالنورین، حضرت علی المرتضیٰ، حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ، حضرت ام المومنین ام سلمہ، حضرت ام المومنین حفصہ، حضرت عبد اللہ بن مسعود، حضرت عبد اللہ بن عباس، حضرت عبد اللہ بن عمر، حضرت عبد اللہ بن زبیر، حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص، حضرت امام حسن، حضرت زید بن ثابت الانصاری، حضرت ابوسعید الخدری، حضرت ابو ہریرہ، حضرت مغیرہ بن شعبہ، حضرت انس بن مالک، حضرت عمران بن حصین، حضرت عبد اللہ بن مغفل، اور حضرت عبد اللہ بن ابی ربیعہ رضی اللہ عنہم جیسے جلیل القدر اکابر صحابہ کرام کے اس مسئلے پر بیسیوں فیصلے اور فتوے کتبِ احادیث میں سینکڑوں مقامات پر پھیلے ہوئے ہیں کہ بیک وقت تین طلاقیں دیں تو تین ہی ہوں گی۔
ائمہ اربعہ، محدثین اور مفسرین کا اجماع:
بہت سے اکابرِ دین، اعاظمِ مفسرین و افاضلِ محدثین مثلاً امام ابوبکر الجصاص رازی، امام حافظ ابن حجر العسقلانی، امام قرطبی اور امام جد ابن تیمیہ (مجد الدین ابوالبرکات ابن تیمیہ) اور دیگر حضرات نے اس پر صحابہ کرام کا اجماع نقل فرمایا ہے کہ ایک وقت کی تین طلاقیں تین ہی ہوتی ہیں۔
اس پر چاروں فقہوں کے چاروں اماموں؛ امامِ اعظم ابوحنیفہ، امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ کا اجماع و اتفاق ہے، اور یہی مذاہبِ اربعہ کے ہزاروں، لاکھوں فقہاء و مفسرین، محدثین و ائمہ دین کا متفقہ فیصلہ ہے۔ آپ وقت کی سینکڑوں کتب، شروحِ حدیث اور کتبِ فقہ و فتاویٰ بر مذاہبِ اربعہ دیکھ سکتے ہیں۔
یہاں تک کہ سعودی عرب کی فتویٰ دینے والی اتھارٹی کا بھی یہی فیصلہ ہے کہ ایک وقت کی تین طلاق سے تین طلاقیں ہی واقع ہوتی ہیں۔ (الفقہ علی المذاہب الاربعہ)
(ختم شد)
(محرر: علامہ پیر محمد تبسم بشیر اویسی)
