Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

اسلامک ٹائم مینجمنٹ (قسط: دوم)|مہتاب پیامی

اسلامک ٹائم مینجمنٹ: فرصت کے لمحات کا مثبت استعمال (قسط: دوم)
عنوان: اسلامک ٹائم مینجمنٹ: فرصت کے لمحات کا مثبت استعمال (قسط: دوم)
تحریر: مہتاب پیامی
پیش کش: انس احمد خان العطاری
منجانب: جامعۃ المدینہ فیضان عطار نیپال گنج

فرصت کے لمحات کو صرف جسمانی آرام یا وقتی تفریح تک محدود کرنا ان کی وسعت کو کم کر دینا ہے۔ یہ وقت اگر درست سمت میں لگایا جائے تو علم، صحت، رشتوں اور سماجی خدمات میں تنوع اور بہتری لائی جاسکتی ہے۔ مطالعہ، تخلیقی سرگرمیاں، ورزش، فنی مشاغل، یہ سارے عوامل صلاحیتوں کو نکھارنے کے ساتھ ساتھ ذہنی توانائیوں کو تازہ کرتے ہیں، اس طرح جب انسان دوبارہ کام کی طرف لوٹتا ہے تو صرف بار بردار مزدور نہیں ہوتا بلکہ تازہ حوصلے اور واضح شعور کا متحرک اور زندہ استعارہ ہوتا ہے۔

اگر کام انسان کی پوری زندگی کو گھیر لے تو وہ رفتہ رفتہ ایک کارآمد مگر بے روح مشین میں بدل جاتا ہے۔ اگر فرصت کے لمحات کو علم و عمل، صحت و تندرستی اور سماجی تعلقات اور خانگی رشتوں کی مضبوطی کے لیے استعمال کیا جائے تو زندگی میں توازن پیدا کیا جا سکتا ہے۔ اپنے گھر خاندان کے ساتھ وقت گزارنا، دوستوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا، بزرگوں کی دل جوئی کرنا، بچوں پر مشفقانہ نگاہ رکھنا، یہ سارے رنگ مل کر زندگی کو قوس قزح میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ اسی طرح رضاکارانہ خدمات، کسی ضرورت مند کی مدد اور معاشرتی فلاح و بہبود کے کاموں میں حصہ لینا انسان کو اپنی ذات سے بلند کر کے ایک وسیع تر معنوی دائرے میں داخل کرتا ہے۔ جب انسان دوسروں کے لیے وقت نکالتا ہے تو دراصل وہ اپنے وجود کو وسعت دیتا ہے۔ یاد رکھیں اگر کام زندگی کی ضرورت ہے تو “فرصت” اس کی روح، اور جس زندگی میں روح باقی نہ رہے، وہاں کامیابی بھی ادھوری رہ جاتی ہے۔ فرصت ایسا وقفہ ہے جس میں انسان اپنی تھکن اتار سکتا ہے، کمر سیدھی کر سکتا ہے، اطمینان کا سانس لے سکتا ہے اور اپنے باطن کے شیشے پر جمے ہوئے گرد و غبار کو جھاڑ سکتا ہے۔ کام کی مشینی رفتار سے نکل کر جب آدمی چند لمحے خود کو دیتا ہے تو وہ صرف آرام نہیں کرتا بلکہ اپنی ذہنی و جذباتی توانائی کو بھی بحال کرتا ہے۔

لیکن اس کے برعکس ایک کیفیت اور بھی ہے سستی اور لاپروائی کی۔ یہ وہ حالت ہے جس میں انسان تعمیری آرام کی بجائے طویل بے مقصد مصروفیت میں پناہ لیتا ہے، گھنٹوں اسکرین کے سامنے بیٹھ کر لایعنی کاموں میں اپنا وقت خرچ کرتا ہے، بے سود پوسٹس اور ویڈیوز کے درمیان خود کو الجھا کر وقتی تسکین تو ضرور حاصل کرتا ہے، لیکن پھر اس کے بعد مایوسی، پھر احساسِ جرم، اور پھر ادھورے کاموں کا بوجھ اس کے دل میں اضطراب کی موجیں پیدا کرتے ہیں۔

جدید سرمایہ دارانہ نظام نے فرصت کے وقت کو ایک منڈی بنا دیا ہے۔ اب انسان صرف کام میں پیداوار کا ذریعہ نہیں بلکہ فرصت میں کھپت کا ذریعہ بھی ہے۔ تعطیلات، سفر، فلمیں، آن لائن گیمز، یہ سب ایک معاشی چکر کا حصہ ہیں۔ اس طرح فرصت کے لمحات سکون کا کم اور صارفیت کا موقع زیادہ بن گئے ہیں۔

فرصت کے لمحات اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز:

ظاہری طور پر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز انسان کو انتخاب کی آزادی دیتے ہیں۔ مگر در حقیقت الگورتھمز ہماری ترجیحات کا تجزیہ کر کے ہمیں وہی دکھاتے ہیں جو ہمیں زیادہ دیر تک اسکرین سے جوڑے رکھے۔ یوں ہمارا وقت خاموشی کے ساتھ ایک تجارتی وسیلہ بن جاتا ہے۔ ان پلیٹ فارمز کا اعلان کردہ مقصد “آپس میں ایک دوسرے کو جوڑنا” ہے، مگر اس جوڑ گانٹھ کے چکر میں اکثر لوگ تنہائی کا شکار نظر آتے ہیں۔ وہ وقت جو تخلیق، ورزش، غور و فکر، مطالعہ وغیرہ میں صرف ہو سکتا تھا، نہ ختم ہونے والی اسکرولنگ میں گم ہو جاتا ہے۔ یوں فرصت کا سنہری موقع خاموشی سے ضائع ہو جاتا ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ سوشل میڈیا بذات خود نہ مکمل خیر ہے نہ مکمل شر، محض ایک آلہ ہے، اور ہر آلے کی طرح یہ بھی اپنے استعمال سے پہچانا جاتا ہے۔ اگر اسے سیکھنے، مثبت رابطے، دعوت، اور صحت مند تفریح کے لیے برتا جائے تو یہ نعمت بن سکتا ہے، ورنہ زحمت۔

اسلامک ٹائم مینجمنٹ:

انسانی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ اس کا وقت ہے۔ مال کھو کر واپس آسکتا ہے، صحت کسی حد تک بحال ہو سکتی ہے، مگر گزرا ہوا لمحہ کبھی واپس نہیں آتا۔ اس حقیقت کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد نے نہایت جامع انداز میں واضح کیا ہے، فرماتے ہیں:

لَا تَزُولُ قَدَمَا عَبْدٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُسْأَلَ عَنْ أَرْبَعٍ: عَنْ عُمْرِهِ فِيمَا أَفْنَاهُ، وَعَنْ شَبَابِهِ فِيمَا أَبْلَاهُ، وَعَنْ مَالِهِ مِنْ أَيْنَ اكْتَسَبَهُ وَإِلَى أَيِّ مَحَلٍّ صَرَفَهُ. [المبسوط للسرخسي]

یعنی قیامت کے دن بندے کے قدم اس وقت تک نہیں ہٹیں گے جب تک اس سے اس کی عمر، اس کے علم، اس کے مال اور اس کے جسم کے بارے میں سوال نہ کر لیا جائے۔

حکمتوں کے بیش بہا خزانے تقسیم کرتی اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ عمر محض وقت کا بہاؤ نہیں بلکہ ایک امانت ہے، اور امانت ہمیشہ جواب دہی چاہتی ہے۔

اسلامی اور ایمانی نقطۂ نظر سے وقت کا تصور بنیادی طور پر ذمہ داری سے منسلک ہوا ہے۔ مومن جانتا ہے کہ اس کا ہر دن، ہر گھنٹہ اور ہر لمحہ اس کے نامۂ اعمال کا حصہ بن رہا ہے۔ اس کے برعکس جب انسان وقت کو صرف ذاتی ملکیت سمجھتا ہے تو وہ اسے اپنی خواہش کے مطابق خرچ کرنے میں کسی جواب دہی کا احساس نہیں رکھتا۔ یہی فرق ایمان اور مادیت کے درمیان ایک بنیادی امتیاز پیدا کرتا ہے۔

ایمانی تصور میں وقت کا اصل مقصد رضائے الٰہی کا حصول اور زمین کی اصلاح و تعمیر ہے۔ دنیاوی کامیابی، معاشی استحکام، ترقی اور خوش حالی یہ سب اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن یہ سب کی سب ایک بڑے مقصد کے تابع ہیں۔ مومن کے لیے کام، علم، خاندان، سماجی تعلقات اور حتیٰ کہ تفریح بھی اسی وقت بامعنی ہے جب وہ اس کی آخرت اور اخلاقی ذمہ داری سے ہم آہنگ ہو۔ اس کے برعکس مادی اور لبرل تصورِ حیات میں وقت کی تنظیم کا مرکزی ہدف عموماً ذاتی کامیابی، زیادہ آمدنی، شہرت اور زیادہ سے زیادہ لطف کا حصول ہوتا ہے۔ وہاں کسی ماورائی جواب دہی یا اعلیٰ مقصد کی شرط نہیں ہوتی۔

اسلامک ٹائم مینجمنٹ صرف شیڈول بنانے کا نام نہیں بلکہ ترجیحات کے تعین کا عمل ہے۔ انسان زمین پر خلیفہ کی حیثیت سے بھیجا گیا ہے، اس لیے اس کا وقت بھی اس کی خلافت کا حصہ ہے۔ عبادت اس کے وقت کا روحانی پہلو ہے جو دل کو زندہ رکھتی ہے۔ کام اور حلال کمائی اس کی معاشی اور تمدنی ذمہ داری ہے جس کے ذریعے وہ زمین کو آباد کرتا ہے۔ خاندان اور رشتے اس کے سماجی فرائض ہیں جن کے ذریعے معاشرہ مستحکم ہوتا ہے۔ تحصیلِ علم اور تدریس اس کے شعوری اور فکری ارتقا کا ذریعہ ہیں، اسی طرح جائز تفریح اور آرام بھی ضروری ہے تاکہ جسم و ذہن میں توازن قائم رہے۔

اسلام کام کو محض دنیاوی سرگرمی نہیں سمجھتا بلکہ اسے عبادت کا درجہ دیتا ہے، بشرطیکہ اس کے ساتھ نیتِ صالح ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انسان نے اپنے ہاتھ کی کمائی سے بہتر کوئی کھانا نہیں کھایا۔ اس ارشاد سے معلوم ہوتا ہے کہ محنت ہی عزت کا ذریعہ ہے اور رزقِ حلال روحانی بالیدگی پیدا کرنے کا واحد کارآمد ذریعہ۔ یہ بھی فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ اس شخص سے محبت کرتا ہے جو کوئی کام کرے تو اسے احسن طریقے سے انجام دے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ وقت کی قدر صرف اس میں نہیں کہ کتنے گھنٹے کام کیا گیا، بلکہ اس میں ہے کہ کام کس معیار اور اخلاص کے ساتھ کیا گیا۔

تاہم اسلامی تعلیمات یہ بھی واضح کرتی ہیں کہ کام ہی زندگی کا کل مقصد نہیں۔ اگر انسان کام میں اس قدر ڈوب جائے کہ والدین، اہلِ خانہ، صحت اور روحانی زندگی سب نظر انداز ہو جائیں تو یہ توازن کے خلاف ہے۔ اسلام اعتدال کی دعوت دیتا ہے۔ رزق صرف محنت کا نتیجہ نہیں بلکہ برکت کا بھی نام ہے، اور برکت اخلاقی و روحانی رویوں سے وابستہ ہے۔ صلہ رحمی کو رزق کی کشادگی سے جوڑنا اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ مادی زندگی بھی روحانی اقدار سے جدا نہیں۔

ایمانی زندگی میں احتساب ایک اہم عنصر ہے۔ مومن وقتاً فوقتاً خود سے سوال کرتا ہے کہ اس کا دن کس طرح گزرا؟ اس کے اعمال کس حد تک اس کی اصل غایت کے قریب ہیں؟ یہ خود احتسابی اسے غفلت سے بچاتی ہے اور اس کے وقت کو بامعنی بناتی ہے۔ اس کے برعکس اگر انسان کا معیار صرف دولت، عہدہ اور شہرت رہ جائے تو اس کا وقت بھی انہی پیمانوں کے گرد گھومنے لگتا ہے، چاہے اس کے باطن میں خلا ہی کیوں نہ پیدا ہو جائے۔ خلاصہ یہ کہ ایمان وقت کو نئی معنویت عطا کرتا ہے۔ وہ کام کو بوجھ نہیں بلکہ عبادت بناتا ہے، اور فرصت کے لمحات کو غفلت نہیں بلکہ تجدید کا موقع قرار دیتا ہے۔ جب انسان ہر لمحہ شعور، نیت اور مقصد کے ساتھ جیتا ہے تو اس کی روزمرہ زندگی بھی عبادت کا رنگ اختیار کر لیتی ہے۔ اسی شعور کے ساتھ جیا ہوا وقت ہی حقیقی کامیابی کی بنیاد بنتا ہے۔

اسلامی آئیڈیالوجی میں وقت کو غیر معمولی تقدس اور اعلیٰ قدر حاصل ہے۔ یہ عبادت، نیک عمل اور لوگوں کو فائدہ پہنچانے کا ذریعہ ہے۔ اسلام تعلیم دیتا ہے کہ ضائع شدہ وقت وہ نہیں جو مال پیدا نہ کرے، بلکہ ضائع شدہ وقت وہ ہے جو خیر اور زمین کی آباد کاری میں استعمال نہ ہو۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!