Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

اسلامک ٹائم مینجمنٹ: صحت اور فرصت (قسط: سوم)|مہتاب پیامی

اسلامک ٹائم مینجمنٹ: فرصت کے لمحات کا مثبت استعمال (قسط: سوم)
عنوان: اسلامک ٹائم مینجمنٹ: فرصت کے لمحات کا مثبت استعمال (قسط: سوم)
تحریر: مہتاب پیامی
پیش کش: انس احمد خان العطاری
منجانب: جامعۃ المدینہ فیضان عطار نیپال گنج

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

نِعْمَتَانِ مَغْبُونٌ فِيهِمَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ: الصِّحَّةُ وَالْفَرَاغُ. [صحيح البخاري]

یعنی دو نعمتیں ایسی ہیں جن میں بہت سے لوگ گھاٹے میں رہتے ہیں: صحت اور فراغت۔

یہ حدیثِ مبارکہ جامع صغیر اور بخاری شریف کی ان احادیث میں سے ہے جو انسانی زندگی کے اصلی جوہر یعنی وقت اور صحت کی اہمیت کو نہایت بلیغ انداز میں اجاگر کرتی ہے۔ محدثین فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں دنیا کو “بازار” اور انسان کو ایک “تاجر” سے تشبیہ دی گئی ہے۔ “مغبون” عربی میں اس تاجر کو کہتے ہیں جسے کسی سودے میں ایسا خسارہ ہو جائے کہ اس کا اصل سرمایہ (Capital) بھی ڈوب جائے۔ اور انسان کا اصل سرمایہ اس کی صحت اور فراغت (فرصت کے لمحات) ہے۔ اگر وہ ان دونوں کو اللہ کی اطاعت اور نفع بخش کاموں میں استعمال نہیں کرتا، تو وہ اس تاجر کی طرح ہے جو اپنا قیمتی مال کوڑیوں کے بھاؤ بیچ دے۔

کبھی انسان تندرست تو ہوتا ہے لیکن روزی روٹی یا دنیاوی الجھنوں کی وجہ سے اسے نیک کاموں کے لیے وقت نہیں ملتا اور کبھی انسان فارغ تو ہوتا ہے لیکن بیماری کی وجہ سے کچھ کر نہیں پاتا۔ مکمل کامیابی تبھی ممکن ہے جب یہ دونوں نعمتیں یکجا ہوں، لیکن اکثر لوگ ان دونوں کے ہوتے ہوئے بھی غفلت کا شکار رہتے ہیں۔

اس حدیث میں فرمایا گیا کہ اکثر لوگ خسارے میں ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان دو نعمتوں سے صحیح طور پر فائدہ اٹھانے والے لوگوں کی تعداد بہت کم ہے۔ بیشتر لوگ صحت کو گناہوں یا فضول کاموں میں گنوا دیتے ہیں اور فراغت و فرصت کو سستی، کاہلی اور بے معنی بحثوں میں ضائع کر دیتے ہیں۔ پھر شیطان تو ہمیشہ انسان کو یہ دھوکا دیتا رہتا ہے کہ صحت ابھی برقرار رہے گی اور وقت ابھی بہت ہے۔ یہی وہ دھوکا (الغبن) ہے جس کی وجہ سے انسان آج کے کاموں کو کل پر ٹالتا رہتا ہے۔ اس کو عربی میں “تسویف”، اردو میں “ٹال مٹول” اور جدید نفسیاتی اصطلاح میں پروکراسٹینیشن (procrastination) کہتے ہیں۔ اسلامی اخلاقیات میں تسویف کو ایک خطرناک عادت سمجھا گیا ہے، خصوصاً نیکیوں کے معاملے میں۔ کیوں کہ انسان کو یہ یقین نہیں کہ اسے کل نصیب ہوگا یا نہیں۔ اسی لیے کہا جاتا ہے:

التَّسْوِيفُ مِنْ جُنُودِ إِبْلِيسَ.

یعنی ٹال مٹول شیطانی لشکروں میں سے ہے۔ تسویف کا نقصان یہ ہے کہ ارادے کمزور ہو جاتے ہیں، اعمال مؤخر ہوتے رہتے ہیں، دل پر غفلت کی تہ جمتی جاتی ہے اور بالآخر انسان عادتِ سستی اور تاخیر کا شکار ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ اچانک بیماری یا موت اسے آ لیتی ہے۔

اس حدیثِ مبارک کا انتہائی واضح پیغام یہ ہے کہ صحت کو بیماری سے پہلے غنیمت سمجھنا چاہیے، کیوں کہ بیمار انسان ویسی عبادت نہیں کر پاتا جو تندرستی میں ممکن تھی۔ فراغت کو مصروفیت سے پہلے غنیمت سمجھنا چاہیے کہ دنیا کے جھمیلے انسان کو نیکی کے مواقع سے محروم کر دیتے ہیں۔ بیشک جو شخص ان دونوں نعمتوں کو آخرت کی تجارت میں لگا دیتا ہے، وہی اصل میں “کامیاب تاجر” ہے۔ یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ فراغت کا وقت اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے، مگر اکثر لوگ اس کی حقیقی قدر کو نہیں پہچانتے اور نہ ہی اسے درست طور پر استعمال کرتے ہیں۔ وہ گویا ایک ایسی تجارت میں خسارے میں رہتے ہیں جس میں وہ نفع کما سکتے تھے، مگر انھوں نے اپنی جہالت، غفلت اور غلط اندازے کے سبب اسے ضائع کر دیا۔ اگر فرصت کے لمحات کی نعمت کو بے مقصد اور بے شعوری کے ساتھ گزار دیا جائے تو منفی سوچ بیدار ہوتی ہے اور زندگی میں کئی طرح کی پریشانیوں کا باعث بنتی ہے، اس لیے فرصت محض خالی وقت نہیں جسے کسی بھی چیز سے بھر دیا جائے، بلکہ یہ آرام کے ذریعے تسلسل اور تفریح کے ذریعے نشوونما کا موقع ہے۔

اس حدیث کی خاص بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فراغت کو صحت کے برابر نعمت قرار دیا ہے۔ عام مشاہدہ یہ ہے کہ صحت کی اہمیت پر تو سب متفق ہیں لیکن خالی وقت کو عموماً معمولی سمجھا جاتا ہے اور اسے بے فائدہ مصروفیات، فضول مشغولیات، گپ شپ اور بازاروں میں ضائع کر دیا جاتا ہے، جس کا نتیجہ اندرونی خلا اور بے چینی کی صورت میں نکلتا ہے۔ اسلامی آئیڈیالوجی میں وقت کا کوئی بھی دورانیہ بالکل بے مصرف یا ذمہ داری سے آزاد نہیں، یہاں عبادت کا مفہوم اتنا جامع ہے کہ تمام انسانی سرگرمیوں کو محیط ہے۔ انسان کا کام، فکر، سکون، آرام، سنجیدگی، خوشی، کھانا پینا، سونا جاگنا، یہ ساری چیزیں عبادت کے درجے میں داخل ہیں اگر وہ صحیح نیت کے ساتھ ہوں۔ مؤمن اپنی زندگی کے ہر لمحے میں ایک ذمہ داری اور پیغام کا حامل ہوتا ہے۔ اس کے لیے وقت اور عمر دونوں اللہ کے سامنے جواب دہی کا معاملہ ہیں۔

جو وقت ضروری مصروفیات سے خالی ہو، اسے عبادت، مفید کام، صلہ رحمی، تعلیم و تعلم، کسی کی مشکل آسان کرنے یا کسی مریض کی عیادت میں لگایا جا سکتا ہے۔ اگر نیت خالص ہو تو ان کاموں میں انسان کو گہری خوشی اور سکون حاصل ہوتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، حدیثِ قدسی کا مفہوم ہے: “اللہ جل شانہ قیامت کے دن فرمائے گا: اے ابن آدم! میں بیمار ہوا تو تو نے میری عیادت نہ کی؟ بندہ عرض کرے گا: اے رب! میں تیری عیادت کیسے کرتا جبکہ تو رب العالمین ہے؟ تو اللہ فرمائے گا: کیا تجھے معلوم نہ تھا کہ میرا فلاں بندہ بیمار تھا، اگر تو اس کی عیادت کرتا تو مجھے اس کے پاس پاتا۔”

یہ اور اس جیسی دیگر تمام احادیث انسان کو ترغیب دیتی ہیں کہ وہ اپنے دستیاب اوقات کو اللہ کی رضا اور معاشرے کے روابط مضبوط کرنے میں صرف کرے، خاص طور پر کمزوروں اور ضرورت مندوں کی خدمت میں، کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ سے قربت کا ذریعہ ہے۔

تفریح اور فرصت:

مستند اسلامی تصور میں فراغت یعنی فرصت کا تعلق ترویح یعنی جائز اور متوازن آرام سے ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے فرمایا: “روزہ بھی رکھو اور افطار بھی کرو، قیام بھی کرو اور سو بھی جاؤ، کیوں کہ تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے۔” یعنی انسان پر اس کے جسم اور اہل و عیال کے حقوق بھی لازم ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: “دل بھی تھک جاتے ہیں جیسے جسم تھک جاتے ہیں، اس لیے ان کے لیے حکمت کی نئی باتیں تلاش کرو۔” فرمایا: “اپنے نفس کو کچھ کچھ وقفے سے راحت دو، کیوں کہ جب دل تھک جائیں تو اندھے ہو جاتے ہیں۔”

اور مسلسل تھکن انسان کو معنوی اندھا پن میں مبتلا کر دیتی ہے، دل سخت ہو جاتا ہے اور سمجھنے کی صلاحیت کمزور پڑ جاتی ہے۔ اس لیے جائز تفریح اور جسمانی و ذہنی آرام انسان کے لیے ضروری ہیں تاکہ وہ عبادت، کام اور زندگی کو توازن کے ساتھ جاری رکھ سکے۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ دینی التزام کا مطلب سختی اور تفریح سے دوری ہے، حالانکہ یہ درست نہیں ہے۔ شریعتِ مطہرہ انسانی فطرت کا لحاظ رکھتی ہے اور توازن، راحت اور خوشی کی حوصلہ افزائی کرتی ہے، بشرطیکہ تفریح جائز حدود میں اور اعتدال کے ساتھ ہو۔ انسان مباح اور خوبصورت چیزوں سے لطف اندوز ہو سکتا ہے جب تک وہ دینی اقدار سے متصادم نہ ہوں۔

اسلَامک ٹائم مینجمنٹ کا مقصد:

اسلامک ٹائم مینجمنٹ کا اصل مقصد انسان کی شعوری تعمیر اور رضائے الٰہی کا حصول ہے۔ انسان کا ہر عمل چاہے کوئی پرائیویٹ کام ہو یا دفتری ذمہ داریاں، سماجی رابطے ہوں یا تفریح، یہ سب کچھ ایمانی شناخت کے مطابق ہونا چاہیے، نہ کہ محض صارفانہ ثقافت یا دوسروں کی اندھی تقلید۔ جب انسان وقت کی قدر، اس کی غایت اور اس کی تنظیم کو سمجھ لیتا ہے تو وہ زندگی کے تمام تقاضوں اور فرصت کے لمحات کے درمیان توازن قائم کر لیتا ہے۔ یوں اس کی ذمہ داریاں بوجھ نہیں رہتیں بلکہ زمین کی آباد کاری میں حصہ بن جاتی ہیں، اور فرصت کے لمحات ترقی اور نشوونما کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!