Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

جادو جہنم کا راستہ | محمد حامد نوری

جادو جہنم کا راستہ
عنوان: جادو جہنم کا راستہ
تحریر: محمد حامد نوری
پیش کش: خان یاسمین

شاید ہی کوئی ایسا ہوگا جو جادو کے بارے میں نہ جانتا ہو؟ جادو، سحر، ٹونا ان سب کا معنی ایک ہی ہے۔ جادو وہ مرضِ عام ہے جو ہمارے معاشرے میں بہت زیادہ زور پکڑ چکا ہے، جس کے جال میں پھنس کر مسلمان اپنی دنیا و آخرت تباہ کر بیٹھتے ہیں۔ ہم سبھی جانتے ہیں کہ جادو کے ذریعے رشتوں کے بیچ نفرت کی کھائی کھودی جاتی ہے، میاں بیوی کے رشتۂ الفت کا قتل کر دیا جاتا ہے، کسی کو بھی تکلیف میں مبتلا کر دیا جاتا ہے۔ جادو کی زد میں آنے والا امن کا چمن بھی اختلافات کا جوالا بن جاتا ہے کہ جس کی لپیٹ سے محبتوں کا شہر بھی ویران ہو جاتا ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگا سکتے ہیں کہ اگر کسی کو شک ہو جائے کہ اس پر جادو کیا گیا ہے، تو اس کی رات کی نیند اور دن کے چین کا جنازہ نکل جاتا ہے، نتیجتاً اس کا سموچا گھر لڑائی کے اکھاڑے میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ کاش جادو کرنے والے اور کروانے والے جانتے کہ اس میں سوسائٹی کا کتنا بڑا نقصان ہے۔ اللہ عزوجل فرماتا ہے:

وَلَقَدْ عَلِمُوْا لَمَنِ اشْتَرٰىهُ مَا لَهُ فِي الْاٰخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ ؕ وَلَبِئْسَ مَا شَرَوْا بِهٖٓ اَنْفُسَهُمْ ؕ لَوْ كَانُوْا يَعْلَمُوْنَ [سورۃ البقرة: 102]

ترجمہ: اور یقیناً انہیں معلوم ہے کہ جس نے یہ سودا لیا ہے آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہیں اور انہوں نے اپنی جانوں کا کتنا برا سودا کیا ہے، کیا ہی اچھا ہوتا اگر یہ جانتے۔

یہ بات بھی مسلم ہے کہ جادو کی حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ جادو کا وجود قرآن کریم سے ثابت ہے، اس کا انکار کرنے والا کفر و گمراہی کے دلدل میں جا پڑتا ہے۔ حکیم الامت حضرت مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: “اس زمانے کے بعض روشن دماغ لوگ جنات اور جادو کے منکر ہیں، مگر یہ انکار گمراہی ہے۔” [تفسیرِ نعیمی، ج: 1، ص: 559]

قرآن مقدس میں کئی بار جادو کے بارے میں ذکر آیا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

وَمَا كَفَرَ سُلَيْمٰنُ وَلٰكِنَّ الشَّيٰطِيْنَ كَفَرُوْا يُعَلِّمُوْنَ النَّاسَ السِّحْرَ [سورۃ البقرة: 102]

ترجمۂ کنز الایمان: اور سلیمان نے کفر نہ کیا، ہاں شیطان کافر ہوئے، لوگوں کو جادو سکھاتے ہیں۔

اسی طرح جب حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کے سامنے فرعون کے جادوگروں نے اپنی رسیاں پھینکیں تو وہ سانپ بن گئیں۔ اللہ عزوجل فرماتا ہے:

فَاِذَا حِبَالُهُمْ وَعِصِيُّهُمْ يُخَيَّلُ اِلَيْهِ مِنْ سِحْرِهِمْ اَنَّهَا تَسْعٰى [سورۃ طٰہٰ: 66]

ترجمۂ کنز الایمان: جبھی ان کی رسیاں اور لاٹھیاں ان کے جادو کے زور سے ان کے خیال میں دوڑتی معلوم ہوئیں۔

جادو کی ابتدا

جادو فرمانبردار اور نافرمان لوگوں کے درمیان فرق و امتیاز کرنے اور آزمائش کے لیے نازل ہوا ہے۔ جو اس کو سیکھ کر اس پر عمل کرے کافر ہو جائے گا، بشرطیکہ اس جادو میں ایمان کے خلاف کلمات اور افعال ہوں، اور اگر کفریہ کلمات اور افعال نہ ہوں تو کفر کا حکم نہیں ہے۔ مذکورہ بالا آیتوں سے یہ معلوم ہوا کہ جادو کے علم بردار شیطان ہیں، اس کا سلسلہ وہی شروع کیے اور آج تک انسان نما شیطان اس ڈیپارٹمنٹ کو سنبھالے ہوئے ہیں۔ لبادۂ انسانی میں ملبوس انہی جادوگروں کے دامِ فریب میں پھنس کر بھولے بھالے مسلمان اپنے ایمان کا سودا کر ڈالتے ہیں۔ یہاں ایک بات اور ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ جو جتنا بڑا بدبخت، بدگو، بدکردار، گندا، سرکش اور بے ایمان ہوگا، وہ اتنا ہی بڑا جادوگر ہوگا، جو جتنا شیطان کے قریب ہوگا اس کا جادو اتنا ہی اثر دار ہوگا۔ جادو کے ذریعے ہوا میں اڑنا، انسان کو گدھے اور گدھے کو انسان میں بدلنا، پانی پر چلنا وغیرہ یہ سب کیا جا سکتا ہے۔ بہت سے بھولے بھالے مسلمان ان سب شعبدوں کو دیکھ کر جادو اور کرامت میں فرق نہیں کر پاتے، جادو کو کرامت سمجھ کر اپنے ایمان کو ضائع کر دیتے ہیں، لہٰذا ضروری ہے کہ جادو اور کرامت میں فرق بیان کر دیا جائے۔

جادو اور کرامت میں فرق

علمائے کرام نے جادو اور کرامت میں بہت سے فرق بیان فرمائے ہیں، ان میں سے چند یہ ہیں:

  1. پہلا فرق: جادو خبیث اور شریر نفس سے صادر ہوگا جبکہ کرامت نفسِ کریمہ اور مومنہ سے ظاہر ہوگی۔

  2. دوسرا فرق: جادو مخصوص برے کاموں سے حاصل ہوتا ہے جبکہ کرامت میں ایسا نہیں ہے، بلکہ وہ محض خدا کے فضل اور شریعتِ نبوی کی پابندی سے حاصل ہوتی ہے۔

  3. تیسرا فرق: جادو سیکھنے سکھانے سے آتا ہے جبکہ کرامت میں صدور و ظہور کے لحاظ سے تعلیم و تعلم کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔

  4. چوتھا فرق: جادو کا پاور ہر وقت نہیں رہتا بلکہ مخصوص اوقات، معین مقامات اور مفروضہ صورتوں میں ہوتا ہے، جبکہ کرامت کے لیے کسی مقامات و اوقات کا تعین نہیں۔

  5. پانچواں فرق: جادوگر نجاست و گندگی کا پلندہ ہوتا ہے اور دین و شریعت کے خلاف کرنے کا حکم دے گا جبکہ صاحبِ کرامت ہمیشہ دین و شریعت کے موافق حکم دے گا۔

جادو کی اقسام

جادو کی بہت سی اقسام ہیں، ہمارے معاشرے میں دو قسم کے جادو کا چلن زیادہ ہے۔ ایک خیال کا بدل جانا، جس کو شعبدہ بازی کہتے ہیں اور دوسرا شیطان کے تعاون سے کیا جاتا ہے۔ پہلی قسم کے تعلق سے شارحِ بخاری امام بدر الدین عینی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:

مَا يَقَعُ بِخِدَاعِ تَخْيِيلَاتٍ لَا حَقِيقَةَ لَهَا نَحْوَ مَا يَفْعَلُهُ الْمُشَعْوِذُ مِنْ صَرْفِ الْأَبْصَارِ عَمَّا يَتَعَاطَاهُ بِخِفَّةِ يَدِهِ

یعنی یہ تخیلات ہیں، فریب سے خیالات بدل جاتے ہیں، ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ہے۔ جادوگر لوگوں کی آنکھوں میں جادو کر دیتے ہیں۔ قرآنِ مقدس میں اس قسم کا ذکر موجود ہے۔ جس وقت فرعون کے جادوگروں نے رسیاں پھینکیں تو وہ سانپ بن گئیں۔

يُخَيَّلُ اِلَيْهِ مِنْ سِحْرِهِمْ اَنَّهَا تَسْعٰى [سورۃ طٰہٰ: 66]

ترجمۂ کنز الایمان: ان کے جادو کے زور سے ان کے خیال میں دوڑتی معلوم ہوئیں۔

یعنی حقیقت میں وہ ایسی نہ تھیں بلکہ خیال دیا گیا۔

فَلَمَّآ اَلْقَوْا سَحَرُوْٓا اَعْيُنَ النَّاسِ [سورۃ الاعراف: 116]

ترجمۂ کنز الایمان: جب انہوں نے ڈالا، لوگوں کی نگاہوں پر جادو کر دیا۔

جیسے کھیل دکھانے والا مداری مٹی کے پیسے تو کبھی رسی کا سانپ بنا دیتا ہے، یہ سب ہاتھ کی صفائی کا کمال ہے یا آنکھ کا دھوکہ، نظر بندی کا کھیل ہے۔ اصل میں وہ مٹی اور رسی ہی ہوتے ہیں، مگر خیال بدل جانے پر ہمیں پیسے اور سانپ نظر آتے ہیں، اسے شعبدہ بازی کہتے ہیں۔

دوسری قسم

جس کا ہمارے معاشرے میں زیادہ رواج ہے، شیطان کا تعاون حاصل کرنا، شیطان کے تقرب کے ذریعے سے۔ [عمدة القاري، كتاب الطب، باب السحر، ج: 21، ص: 415]

یعنی اس جادوگر نے اتنے اعمالِ بد کر لیے کہ یہ شیطان کا چہیتا ہو گیا، پھر ان سے مدد لے کر لوگوں کو نقصان پہنچاتا ہے، میاں بیوی کے درمیان نفرت کی دیوار اٹھاتا ہے۔

جادو اور جادوگر کی مذمت

دینِ اسلام میں شرک سے بڑا کوئی گناہ نہیں مانا گیا ہے، شرک کے بعد اسلام میں جادو کو مہلک گناہ قرار دیا گیا ہے، چنانچہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “تم سات ہلاک کرنے والی چیزوں سے بچو۔” صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے دریافت کیا کہ اللہ کے رسول! وہ کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

  1. ایک: شرک۔

  2. دو: جادو۔

  3. تین: کسی ایسی جان کو ناحق قتل کرنا جسے اللہ نے حرام کیا ہو۔

  4. چار: سود کھانا۔

  5. پانچ: یتیم کا مال کھانا۔

  6. چھ: میدانِ جنگ سے پیٹھ پھیر کر بھاگنا۔

  7. سات: پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانا۔ [صحيح البخاري، كتاب الوصايا، باب قول الله تعالى إن الذين يأكلون أموال اليتامى الخ، رقم الحديث: 2766]

اسی طرح ایک جگہ اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ تین باتیں ایسی ہیں کہ اگر کسی شخص میں ان میں سے ایک بھی نہ پائی جائے، تو اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے اس کے علاوہ گناہ بخش دیتا ہے، وہ یہ ہیں:

  1. ایک: جو اس حال میں مرے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو۔

  2. دو: جادوگروں کے پیچھے چلنے والا جو جادوگر نہ ہو۔

  3. تین: وہ اپنے بھائی سے کینہ نہ رکھتا ہو۔

اسی طرح رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمانِ ذی شان ہے: “وہ ہم میں سے نہیں جس نے جادو کیا یا کروایا، جو کاہن کے پاس گیا یا اس کے ذریعے سے کہانت کی۔”

جادو کا علاج

جب جادو میں نقصان اور ضرر کی تاثیر ہے، تو قرآنِ مقدس اور دیگر کلماتِ مطہرہ میں شفا کی تاثیر ہے۔ مشائخ کا ذکر اللہ کر کے دم کرنے میں بھی شفا ہے۔ اسی طرح جب جادوگر اپنے جادو سے نقصان پہنچا سکتے ہیں، تو اللہ والے کرامت کے ذریعے نفع پہنچا سکتے ہیں۔ ہمیں بزرگوں کے دامن سے وابستہ رہنا چاہیے تاکہ ہم ان ہلاکت خیز بلاؤں سے محفوظ رہیں۔ اگر کسی پر جادو اثر کر گیا ہے تو اس کے لیے چند علاج پیشِ خدمت ہیں:

عجوہ کھجور

حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “جو شخص روزانہ صبح کے وقت سات عجوہ کھجوریں کھا لے، تو اس دن رات اسے زہر اور جادو نقصان نہ پہنچائے گا۔” [صحيح البخاري، كتاب الطب، باب الدواء بالعجوة للسحر، رقم الحديث: 5767]

سورۂ فاتحہ

مصیبت زدہ پر سات بار سورۂ فاتحہ پڑھی جائے۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: 24، ص: 185]

سورۂ مومنون کی آیت: “اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا” سے ختمِ سورہ تک صبح و شام ایک ایک بار پڑھیں، شیطان و جن و آفات سے محفوظی ہوگی۔ اگر کوئی پڑھ نہ پاتا ہو تو اسے کسی ایسے عامل سے ملنا چاہیے جو شریعت و سنت کا پابند ہو، اس سے اپنا علاج کروانا چاہیے۔

خلاصہ

شیطان رب العالمین کا دشمن ہے اور جادو شیطان کے تعاون سے حاصل ہوتا ہے۔ لہٰذا جادو شیطانی عمل اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ شیطان ظاہری اور باطنی نجاست کا پلندہ ہوتا ہے اور جادو تبھی کارگر ہوگا جب جادوگر اور جادو کروانے والے کا دامن کفر و شرک اور حرام کاریوں سے آلودہ ہوگا۔ جادو کا حاصل کرنے والا اور اس سے عقیدت رکھنے والا اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ سے دھتکارا ہوا ہے۔ مسلمان کبھی نہیں چاہے گا کہ وہ اللہ اور رسول کی بارگاہوں سے ہنکالا جائے۔ لہٰذا مسلمانوں کو ایسے ناپاک کاموں سے بچنا چاہیے۔ بچنے کا سب سے آسان راستہ کسی جامع شرائط شیخ سے بیعت ہو جانا بھی ہے۔ [سہ ماہی القلم، شمارہ: 10، ص: 131-139]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!