| عنوان: | اگر آپ کے بچے ہیں تو یہ پیغام آپ کے لیے ہے |
|---|---|
| تحریر: | مفتی وسیم اکرم رضوی مصباحی، ٹٹلا گڑھ، اڈیشہ |
| پیش کش: | لباب اکیڈمی |
اللہ تعالیٰ نے اولاد کے دل میں والدین کی محبت پیدائشی طور پر رکھی ہے۔ بچہ ماں باپ کے بغیر نہیں رہ سکتا، اسی لیے جب وہ ان سے دور ہوتا ہے تو بے قرار ہو جاتا ہے۔
اب والدین کی ذمہ داری ہے کہ اس محبت کو سنبھال کر رکھیں۔ ایک بزرگ کا قول ہے:
”تم سے محبت کرنے والے کو اتنی مدت تک نہ چھوڑو کہ وہ تمہارے بغیر جینا سیکھ جائے۔“
لیکن افسوس کہ والدین یہاں ایک بڑی غلطی کر بیٹھتے ہیں۔ اپنی مصروفیات کی وجہ سے وہ اولاد پر توجہ نہیں دیتے اور انہیں موبائل کا عادی بنا دیتے ہیں۔ بچہ ذرا ضد کرے تو موبائل تھما دیا جاتا ہے۔ کھانا کھلانا ہو تو موبائل، کھانا بنانا ہو تو موبائل، خود کوئی کام کرنا ہو تو موبائل۔ مہمان آ جائیں اور بچہ شور کرے تو موبائل، اسکول کی چھٹی ہو اور بچہ گھر میں ہو تو بھی موبائل۔
یوں حال یہ ہو جاتا ہے کہ بچہ بھی موبائل میں مگن اور والدین بھی موبائل میں مصروف۔
نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بچہ چھوٹی عمر ہی میں والدین کے بغیر جینا سیکھ لیتا ہے۔ جو فطری محبت اللہ تعالیٰ نے اس کے دل میں رکھی تھی، اس کے کم ہونے کا سبب خود والدین بن جاتے ہیں۔
پھر جب بچہ بڑا ہوتا ہے تو والدین اسے بوجھ محسوس ہونے لگتے ہیں۔ اور جب وہ مزید بڑا ہو جائے، شادی ہو جائے، اس کے اپنے بچے ہو جائیں اور والدین بوڑھے ہو جائیں، تو پھر اولڈ ہاؤس کے سوا وہ ان کے ساتھ اور کیا سلوک کرے گا؟
آج وقت ہے کہ اپنی اولاد کو وقت دیا جائے۔
کل اگر اولاد نے آپ کو وقت نہ دیا تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا؟
