| عنوان: | رزق میں اضافے کے اسباب |
|---|---|
| تحریر: | رئیس الدین عطاری ناگواری (جامعۃ المدینہ، احمد آباد) |
| پیش کش: | خان یاسمین |
| منجانب: | امجدی global اکیڈمی |
رزق میں اضافے کے اسباب
رب تبارک و تعالیٰ نے بنی آدم پر بے شمار انعام و اکرام فرمائے، اور اسے "وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِيٰٓ آدَمَ" کا تاجِ زریں سجا کر اس خوبصورت و حسیں جہاں میں بسایا۔ اس پر قوتِ تسخیر بخشی، غلبہ دیا، اور زندگی کا گزر بسر کرنے کے لیے جہاں کئی ذرائع اور چیزیں عطا کیں، وہیں اس کے رزق کی ضمانت اپنے ذمہِ کرم پر لازم فرما کر احسانِ عظیم فرمایا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ اپنی مقدس کتاب میں فرماتا ہے:
وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا ۚ كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُبِينٍ [سورۃ ہود: 6]
ترجمہ: اور زمین پر چلنے والا کوئی ایسا نہیں جس کا رزق اللہ کے ذمہِ کرم پر نہ ہو اور وہ جانتا ہے کہ کہاں ٹھہرے گا اور کہاں سپرد ہوگا، سب کچھ ایک صاف بیان کرنے والی کتاب میں ہے۔
حدیثِ شریف میں ہے:
عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ: "إِنَّ أَحَدَكُمْ يُجْمَعُ خَلْقُهُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، ثُمَّ يَكُونُ عَلَقَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يَكُونُ مُضْغَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يُرْسَلُ الْمَلَكُ فَيَنْفُخُ فِيهِ الرُّوحَ، وَيُؤْمَرُ بِأَرْبَعِ كَلِمَاتٍ: بِكَتْبِ رِزْقِهِ، وَأَجَلِهِ، وَعَمَلِهِ، وَشَقِيٌّ أَوْ سَعِيدٌ. فَوَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلَّا ذِرَاعٌ فَيَسْبَقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ فَيَدْخُلُهَا، وَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلَّا ذِرَاعٌ فَيَسْبَقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيَدْخُلُهَا." [صحیح البخاری / صحیح مسلم]
ترجمہ: حضرت سیدنا ابو عبدالرحمن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صادق و مصدوق (یعنی سچے اور تصدیق کیے ہوئے رسول ﷺ) نے ہم سے بیان فرمایا کہ تم میں سے ہر ایک کو اس کی ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک نطفہ کی شکل میں جمع کیا جاتا ہے، پھر اتنے ہی دن وہ خون کا لوتھڑا (علقہ) رہتا ہے، پھر اتنے ہی دن گوشت کا ٹکڑا (مضغہ) رہتا ہے، پھر اللہ پاک اس کی طرف ایک فرشتہ بھیجتا ہے، وہ اس میں روح پھونکتا ہے اور اسے چار چیزیں لکھنے کا حکم دیا جاتا ہے: اس کا عمل، اس کی موت کا وقت، اس کا رزق، اور وہ نیک بخت ہے یا بدبخت۔ پس اس کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں! بے شک تم میں سے کوئی جنتیوں جیسے عمل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ جنت اور اس کے درمیان صرف ایک گز کا فاصلہ رہ جاتا ہے، پس تقدیر اس پر غالب آ جاتی ہے تو وہ جہنمیوں جیسے عمل کر کے جہنم میں داخل ہو جاتا ہے؛ اور بے شک تم میں سے کوئی جہنمیوں جیسے عمل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جہنم کے درمیان صرف ایک گز کا فاصلہ رہ جاتا ہے، پس تقدیر اس پر غالب آ جاتی ہے اور وہ جنتیوں جیسے عمل کر کے جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ بندے کا رزق متعین ہے جو شکمِ مادر ہی میں لکھا جا چکا ہے۔ رزاق صرف رب تعالیٰ کی ذات ہے جو ہر جاندار کو اس کے ٹھکانے پر رزق پہنچاتا ہے۔
حلال روزی کمانے کی اہمیت
پیارے اسلامی بھائیو! حلال روزی کمانے کی دینِ اسلام میں بہت زیادہ اہمیت ہے۔ قرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہ میں کئی مقامات پر رزقِ حلال کھانے اور حرام سے بچنے کا حکم اور ترغیب دی گئی ہے۔ جیسے اللہ کے پیارے نبی محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
طَلَبُ كَسْبِ الْحَلَالِ فَرِيضَةٌ بَعْدَ الْفَرِيضَةِ [شعب الایمان، 11/175، حدیث: 8367]
یعنی حلال کمائی کی تلاش، ایک فرض (عبادت) کے بعد دوسرا فرض ہے۔
ہر رسول کو ان کے زمانے میں یہ ندا فرمائی گئی اور حلال کھانے اور نیک اعمال کرنے کا حکم دیا گیا۔ پاک رسولوں کو دیے گئے اس حکم کو ذکر کرنے کا ایک مقصد یہ ہے کہ رزقِ حلال اور اعمالِ صالحہ (نیکیوں) کی عظمت اور اہمیت اجاگر ہو۔ دوسری حکمت یہ ہے کہ ہر نبی علیہ السلام کا عمل اس کی امت کے لیے نمونہ ہوتا ہے۔ یوں جب امت اپنے نبی علیہ السلام کے عمل یعنی رزقِ حلال کو نہایت اہمیت دینے اور نیکیوں کی طرف رغبت کا مشاہدہ کرے گی تو ان اعمال میں پیروی کرے گی؛ جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاقِ حسنہ اور عبادت و ریاضت کے واقعات بیان کیے جائیں تو لوگوں کو بہت ترغیب ملتی ہے۔
رزقِ حلال کھانے کا یہی حکم اہلِ ایمان کو بھی دیا گیا، چنانچہ اسی آیت کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: "اللہ تعالیٰ پاک ہے اور پاک چیز کے سوا اور کسی چیز کو قبول نہیں فرماتا، اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو وہی حکم دیا ہے جو رسولوں کو حکم دیا تھا؛ چنانچہ رسولوں سے فرمایا: 'اے رسولوں! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور اچھا کام کرو، بے شک میں تمہارے کاموں کو جانتا ہوں' [پارہ 18، سورۃ المؤمنون: 51]، اور اہلِ ایمان سے فرمایا: 'اے ایمان والو! ہماری دی ہوئی ستھری چیزیں کھاؤ' [صحیح مسلم، ص: 393، حدیث: 2346]۔" "طیبات" یعنی پاکیزہ چیزوں سے مراد حلال چیزیں ہیں اور "صالحاً" یعنی اچھے کام سے مراد شریعت کے احکام پر استقامت کے ساتھ عمل کرنا ہے۔
خدا کی بندگی اور اطاعت میں رزقِ حلال کی بڑی بنیادی حیثیت ہے، کیونکہ تقویٰ اور خوفِ خدا کا سب سے اہم پہلو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچنا ہے، اور نافرمانی کے کاموں میں رزقِ حرام نہایت شدید اور گھناؤنا ہے۔ افسوس کہ آج لوگ حلال و حرام کمائی کا خیال کرنے میں بہت بے پرواہ ہو چکے ہیں اور حدیثِ پاک میں بیان کردہ آخری زمانے کے آثار نظر آتے ہیں کہ: "لوگوں پر ایک ایسا زمانہ بھی آئے گا جب آدمی یہ پرواہ نہیں کرے گا کہ وہ جو کچھ حاصل کر رہا ہے وہ حلال سے ہے یا حرام سے۔" [صحیح البخاری، ج: 2، ص: 7، حدیث: 2059]
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ یا رسول اللہ! آپ دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ مجھے مستجاب الدعوات بنا دے (یعنی میری سب دعائیں قبول ہوں)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "لقمہِ حلال اپنے لیے لازم کر لو تو مستجاب الدعوات ہو جاؤ گے۔" [المعجم الاوسط، ج: 5، ص: 34، حدیث: 6495؛ الترغیب والترہیب، ج: 2، ص: 345، حدیث: 8]
تنگدستی کے اسباب
آئیے اب ہم تنگدستی کے چند اہم اسباب پر غور کر لیتے ہیں تاکہ ان سے بچا جا سکے:
-
1) بیکار میں وقت ضائع کرنا۔
-
2) محنت مزدوری سے جی چرانا اور آرام طلبی اختیار کرنا۔
-
3) وہ لوگ مفلس اور تنگدست رہتے ہیں جو ایک ہی پیشہ اور ایک ہی روزگار کے پابند بنے بیٹھے رہتے ہیں اور دوسرے روزگار یا پیشے کو طرح طرح کے حیلے بہانے کر کے نہیں اپناتے، اور کہتے ہیں کہ جو روزگار ہم ہمیشہ سے کرتے آئے ہیں اس کے سوا دوسرا پیشہ ہم سے نہیں ہو سکتا۔
-
4) وہ لوگ مفلس ہوتے ہیں جن کو ایک دم بہت سا روپیہ آ جانے کی تمنا ہوتی ہے، اس لیے وہ تھوڑی آمدنی کا کام کرنا نہیں چاہتے اور برسوں بےکار بیٹھے رہتے ہیں۔
-
5) وہ گھرانے مفلس ہوتے ہیں جن کے گھروں کی عورتیں پھوہڑ ہوں اور وہ آمدنی کو کفایت شعاری اور سلیقے کے ساتھ خرچ کرنا نہ جانتی ہوں۔
اسی طرح اور بھی بہت سے اسبابِ مفلسی ہیں، ناظرین کو چاہیے کہ ہر سبب اور اس کے علاج پر غور کر کے دیکھیں کہ ان کے اندر وہ اسباب موجود ہیں یا نہیں۔ [رزق میں برکت کے وظائف، ص: 6]
لیکن بسا اوقات یوں بھی ہوتا ہے کہ بندہ محنت و مشقت کے ساتھ گھر سے نکلا ہوتا ہے اور کسبِ معاش کے لیے لگا رہتا ہے، اس کے باوجود اس کی خارجی اور داخلی ضروریات ادھوری رہ جاتی ہیں اور یوں وہ مایوس و پریشان رہنے لگتا ہے۔ ایسوں کو چاہیے کہ مذکورہ بالا اسباب پر غور کریں اور درج ذیل ہدایات کو استقامت کے ساتھ بجا لائیں۔
رزق میں اضافے کے مزید اسباب اور وظائف
اللہ رب العزت کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم نے امتیوں کے لیے کئی طرح سے رحمتوں اور وسعتوں کے دروازے کھولے ہیں۔ احادیثِ مبارکہ کا مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ بظاہر چھوٹی چھوٹی نیکیوں پر بڑے بڑے ثوابوں کی بشارتیں ہیں؛ اسی طرح کئی ایسے اعمال بھی ارشاد فرمائے گئے ہیں کہ جن سے رزق میں وسعت، برکت اور کشادگی ملتی ہے۔
1۔ وہ تسبیح جس کی برکت سے روزی دی جاتی ہے:
ایک صحابی رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے اور رزق کی تنگی کے بارے میں بتاتے ہوئے عرض کی: "دنیا نے مجھ سے پیٹھ پھیر لی ہے۔" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "کیا وہ تسبیح تمہیں یاد نہیں جو فرشتوں کی تسبیح ہے اور جس کی برکت سے روزی دی جاتی ہے؟ طلوعِ فجر کے ساتھ سو بار یہ کہا کر: 'سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهِ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ'، دنیا تیرے پاس ذلیل و خوار ہو کر آئے گی۔" وہ صحابی رضی اللہ عنہ چلے گئے، پھر کچھ دن بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگے: "یا رسول اللہ! دنیا میرے پاس اس کثرت سے آئی ہے کہ میں حیران ہوں کہاں اٹھاؤں اور کہاں رکھوں!"
[لسان المیزان، 4/303، حدیث: 5100؛ ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت، ص: 128 ملخصاً]
2۔ آیت الکرسی کا عمل:
آیت الکرسی کسی چیز پر لکھ کر اس کا کتبہ مکان میں کسی اونچی جگہ پر آویزاں کر دیا جائے، ان شاء اللہ اس گھر میں کبھی فاقہ نہ ہوگا بلکہ روزی میں برکت اور اضافہ ہوگا اور اس مکان میں کبھی چور نہ آ سکے گا۔
3۔ صدقہ و خیرات کی کثرت:
قرآن و حدیث میں صدقہ و خیرات کرنے اور اللہ پاک کی راہ میں خرچ کرنے کے کئی فضائل آئے ہیں۔ راہِ خدا میں خرچ کرنا انسان کی اپنی ذات کے لیے بھی مفید ہے۔ جو دل کھول کر نیکی کے کاموں میں خرچ کرتے ہیں، غریبوں اور محتاجوں کی مدد کرتے ہیں، ان کے مال میں حیرت انگیز طور پر ترقی و برکت ہوتی چلی جاتی ہے۔ چنانچہ پارہ 3، سورۃ البقرہ، آیت نمبر 261 میں ارشاد ہوتا ہے:
مَثَلُ الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنْبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِي كُلِّ سُنْبُلَةٍ مِائَةُ حَبَّةٍ ۗ وَاللَّهُ يُضَاعِفُ لِمَنْ يَشَاءُ ۗ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ [سورۃ البقرۃ: 261]
ترجمہ کنز العرفان: ان لوگوں کی مثال جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں، اس دانے کی طرح ہے جس نے سات بالیاں اگائیں، ہر بالی میں سو دانے ہیں؛ اور اللہ اس سے بھی زیادہ بڑھائے جس کے لیے چاہے، اور اللہ وسعت والا، علم والا ہے۔
اس آیتِ مبارکہ کے تحت "تفسیر صراط الجنان" جلد 1، صفحہ 395 پر لکھا ہے: "راہِ خدا میں خرچ کرنے والوں کی فضیلت ایک مثال کے ذریعے بیان کی جا رہی ہے کہ یہ ایسا ہے جیسے کوئی آدمی زمین میں ایک دانہ بیج ڈالتا ہے جس سے سات بالیاں اگتی ہیں اور ہر بالی میں سو دانے پیدا ہوتے ہیں، گویا ایک دانہ بیج کے طور پر ڈالنے والا سات سو گنا زیادہ حاصل کرتا ہے۔ اسی طرح جو شخص راہِ خدا میں خرچ کرتا ہے، اللہ پاک اسے اس کے اخلاص کے اعتبار سے سات سو گنا زیادہ ثواب عطا فرماتا ہے اور یہ بھی کوئی حد نہیں بلکہ اللہ پاک کے خزانے بھرے ہوئے ہیں اور وہ کریم و جواد ہے، جس کے لیے چاہے اسے اس سے بھی زیادہ ثواب عطا فرما دے۔" [تفسیر صراط الجنان، 1/395]
معلوم ہوا کہ صدقہ دینے سے بظاہر مال کم ہو رہا ہوتا ہے لیکن درحقیقت صدقہ نامہِ اعمال کو نیکیوں سے بھر رہا ہوتا ہے۔ جس طرح کنویں کا پانی نکالنے سے کم نہیں ہوتا بلکہ بڑھتا ہے، اسی طرح راہِ خدا میں خرچ کیا ہوا مال بھی کم نہیں ہوتا بلکہ اس میں مزید برکت اور اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ اللہ پاک ہمیں شریعت کے دائرے میں رہ کر رزقِ حلال عطا فرمائے اور اس میں خوب خوب برکتیں عطا فرمائے۔ آمین!
[سہ ماہی القلم، شمارہ (10)، جمادی الآخر تا شعبان، ص: 121 تا 129]
