Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

خطبۂ حجۃ الوداع کا عالمی پیغام|محمد مقصود عالم قادری دیناج پوری

خطبۂ حجۃ الوداع کا عالمی پیغام
عنوان: خطبۂ حجۃ الوداع کا عالمی پیغام
تحریر: محمد مقصود عالم قادری دیناج پوری
پیش کش: مدحت فاطمہ ضیائی

خطبۂ حجۃ الوداع کا عالمی پیغام

پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے 9 ذی الحجہ 11ھ کو اپنے حج کے موقع پر عرفات کے میدان میں تقریباً ایک لاکھ 24 ہزار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے اور ان نفوسِ قدسیہ کی وساطت سے قیامت تک کے انسانوں سے خطاب فرمایا، جس کو خطبۂ حجۃ الوداع کہتے ہیں۔ اس خطبے کا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دیگر خطبات سے ایک علیحدہ اور منفرد مقام و مرتبہ ہے، کیونکہ یہ خطبہ اسلامی تعلیمات کا لبِ لباب اور نچوڑ ہے، ساتھ ہی معاشی، معاشرتی، سماجی، خاندانی، سیاسی، تجارتی الغرض انسانی زندگی کے تمام تر معاملات کی کامل رہنمائی بھی کرتا ہے، نیز معاشرے میں امن و سکون، اخوت و بھائی چارگی اور مساوات کو قائم رکھنے کے لیے یہ خطبہ نہایت ہی مفید اور مؤثر ہے۔ آئیے ہم اس خطبے کے چند اہم نکات قلم بند کرتے ہیں، ملاحظہ فرمائیے:

انسانی مساوات کا درس

جیسے جیسے زمانہ ترقی کر رہا ہے انسانی مساوات ناپید ہوتی چلی جا رہی ہے۔ سرمایہ دار طبقہ اپنے آپ کو بہت معزز اور دوسروں کو حقیر سمجھتا ہے، لیکن پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے امیر غریب کا فرق مٹانے اور نسل اور خاندان کی بنیاد پر فخر کو ختم کرنے کے لیے چودہ سو سال پہلے خطبۂ حجۃ الوداع میں انسانی مساوات کا درس دیتے ہوئے فرمایا: “بے شک اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں شاخیں اور قبیلے کیا کہ آپس میں پہچان رکھو، بے شک اللہ کے یہاں تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہے۔ پس کسی عربی کو عجمی پر کوئی فضیلت نہیں اور نہ ہی کسی عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت ہے اور نہ کسی کالے کو گورے پر اور نہ کسی گورے کو کالے پر برتری ہے سوائے تقویٰ کے”۔ [المعجم الكبير، رقم الحديث: 16]

امن و رواداری

آج کچھ شرپسند لوگ دینِ اسلام کو بدنام کرنے کے لیے دہشت گردی کو اسلام جیسے پرامن مذہب کے ساتھ جوڑنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں، ایسے لوگ تعصب اور عداوت کی عینک اتار کر ذرا رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبے کے اس حصے کو بغور پڑھیں: “بے شک تمہارے خون، تمہارے مال اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے کے لیے اسی طرح حرام ہیں جس طرح اس شہر (مکہ) میں، اس ماہ (ذو الحجۃ الحرام) میں آج کا دن عزت و حرمت والا ہے۔ عنقریب تم اپنے رب سے ملو گے تو وہ تم سے تمہارے اعمال کے متعلق سوال فرمائے گا”۔ [صحيح البخاري، رقم الحديث: 4406]

حقوقِ نسواں

رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے خطبے میں میاں بیوی کے حقوق بیان کرتے ہوئے فرمایا: “آگاہ رہو! بے شک تمہاری عورتوں پر تمہارے کچھ حقوق ہیں اور تمہاری عورتوں کے بھی تم پر کچھ حقوق ہیں۔ پس تمہارا اپنی عورتوں پر یہ حق ہے کہ وہ اپنی عزت کی حفاظت کریں اور جو تمہیں پسند نہیں اسے گھر میں نہ آنے دیں، آگاہ رہو کہ تمہاری عورتوں کا تم پر حق ہے کہ تم انہیں اچھا کھلاؤ اور اچھا پہناؤ”۔ [سنن الترمذي، رقم الحديث: 1166]

آج لوگ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان پر اگر عمل پیرا ہو جائیں تو آئے دن جو طلاق کے مسائل اور میاں بیوی کے درمیان جو جھگڑے ہو رہے ہیں ان سب کا سدِ باب ہو جائے گا۔

امانت کی حفاظت

امانت کی حفاظت کا درس دیتے ہوئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “اگر کسی کے پاس امانت رکھوائی جائے تو اس بات کا پابند ہے کہ امانت رکھوانے والے کو امانت پہنچا دے”۔

معاشی عدل

نبیِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس خطبے میں معاشی عدل کو برقرار رکھنے کے لیے سود کی حرمت کو بھی بیان کیا۔ خلاصہِ کلام یہ ہے کہ تمام مسلمان بلکہ پوری انسانیت اگر اس خطبے میں موجود فرامین پر عمل کر لے تو ہمارا معاشرہ امن و سکون کا گہوارہ بن جائے گا، لہٰذا پوری انسانیت کو اس پیغامِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی زندگی کا لائحہِ عمل بنانا چاہیے کہ اسی میں سب کی فلاح و بہبود مضمر اور پوشیدہ ہے۔ [سہ ماہی القلم، شمارہ نمبر: 12، ذی الحجہ 1446ھ تا صفر المظفر 1447ھ، ص: 11 تا 13]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!