Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

اختیاراتِ مصطفیٰ ﷺ (قسط: اول)|سید حسان احسنی مصباحی

اختیاراتِ مصطفیٰ ﷺ (قسط: اول)
عنوان: اختیاراتِ مصطفیٰ ﷺ (قسط: اول)
تحریر: سید حسان احسنی مصباحی
پیش کش: مدحت فاطمہ ضیائی

اللہ قادرِ مطلق عزوجل نے اپنے پیارے حبیب کو کل کائنات کے ہر سیاہ و سپید کا مالک و مختار اور حاکم بنایا اور عالمین کی ہر شے پر حضور کو تصرف بخشا۔ آقائے کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے عطا کردہ اختیارات و کمالات کی بدولت کبھی اپنی انگلی کے اشارے سے چاند کو دو ٹکڑے کیا تو کبھی ڈوبے ہوئے سورج کو واپس آنے کا حکم فرمایا، کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبانِ حق ترجمان سے کسی کو جنت کا مژدہ سنایا، کبھی جمادات و نباتات کو قوتِ گویائی سے سرفراز فرمایا، آپ کی ٹھوکر سے کبھی مردہ زندہ ہو گیا تو کبھی کسی لاعلاج مریض کو آپ نے شفایاب فرمایا، ایک جماعت کو پیالہ بھر دودھ سے شکم سیر کیا تو کبھی اپنی انگشتِ مبارک سے پانی کا چشمہ رواں فرمایا۔

لیکن دورِ حاضر میں بنامِ مسلمان ایک جماعت ایسی بھی ہے جو خود کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا امتی ہونے کا دعویٰ کرتی ہے۔ لیکن جب ان کے سامنے مدنی آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف و توصیف کی جائے اور آپ کے اوصافِ حمیدہ بیان کیے جائیں تو ان کے پیٹ میں درد ہونے لگتا ہے اور ان کو اس میں شرک و غلو کی بو آنے لگتی ہے اور وہ “بشریت” کا راگ الاپنے لگ جاتے ہیں۔ اس جماعت کا مزعومہ نظریہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ عزوجل نے کسی طرح کا اختیار نہیں عطا فرمایا، دنیا کا سارا کام اللہ ہی کے چاہنے اور کرنے سے ہوتا ہے، رسول کے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا، نیز انبیائے کرام و اولیائے عظام لاچار و مجبور اور بے بس ہیں۔ العیاذ باللہ تعالیٰ۔ چند عقائد پیشِ نظر ہیں ان کو ملاحظہ فرمائیں:

  1. جس کا نام محمد یا علی ہے اس کو کسی چیز کا اختیار نہیں۔

  2. دنیا کا سارا کاروبار اللہ ہی کے چاہنے سے ہوتا ہے رسول کے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا۔

  3. معلوم ہوا کہ جتنے اللہ کے مقرب بندے ہیں خواہ انبیاء ہوں یا اولیاء ہوں وہ سب اللہ کے بے بس بندے ہیں اور ہمارے بھائی ہیں مگر حق تعالیٰ نے انہیں بڑائی بخشی تو ہمارے بڑے بھائی کی طرح ہوئے ہمیں ان کی فرمانبرداری کا حکم ہے کیونکہ ہم چھوٹے ہیں لہٰذا ان کی تعظیم انسانوں کی سی کرو۔

معاذ اللہ ثم معاذ اللہ، جبکہ ہرگز یہ عقیدہ قرآن و حدیث کے مطابق نہیں، بلکہ آیاتِ کریمہ و احادیثِ نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آثارِ صحابہ کی صریح مخالفت اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اولیائے کرام کی کھلی گستاخی ہے۔

اختیار کی لغوی تعریف

اختیار عربی زبان کا لفظ ہے جو “خیر” سے ماخوذ ہے، جس کے معنی ہیں اچھا، بہتر یا منتخب کرنا۔ لغوی طور پر اختیار کے معنی ہیں کسی چیز کا انتخاب کرنا، کسی عمل کو انجام دینے کی آزادی یا کسی معاملے میں فیصلہ کرنے کا حق رکھنا۔

اختیار کی اصطلاحی تعریف

اصطلاح میں اختیار سے مراد وہ قوت یا صلاحیت ہے جو کسی فرد یا ہستی کو کسی مخصوص دائرہ کار میں عمل کرنے، فیصلے کرنے یا احکامات جاری کرنے کا حق دیتی ہے۔ یہ قدرت اور ارادہ دونوں پر مشتمل ہوتا ہے اور شریعت میں یہ ذاتی طور پر حق اللہ تعالیٰ کو اور عطائے وہابِ حقیقی سے کسی منتخب افراد کو بھی میسر ہوتا ہے۔ ان عطائی اختیارات سے قدرتِ ربِ قدیر پر فرق نہیں پڑتا بلکہ مزید اظہارِ قدرت کا احساس ہوتا ہے۔ اسی لیے معجزاتِ انبیاء علیہم السلام اور کراماتِ اولیائے عظام علیہم الرضوان اہلِ سنت کے متفقہ عقائد میں سے ہے۔ نبیِ مختار صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے مخصوص اختیارات عطا کیے ہیں جو آپ کے فرائضِ نبوت کی ادائیگی کے لیے ضروری تھے۔ اللہ رب العزت نے اپنے حبیب کو مختارِ کل بنا کر مبعوث فرمایا اور آپ کے دستِ قدرت میں دونوں عالم کے خزانوں کی کنجیاں عطا فرمائیں۔ ان اختیارات و تصرفات کی دو قسمیں ہیں: تکوینی اختیارات و تشریعی اختیارات۔

1۔ اختیاراتِ تکوینی

یہ وہ اختیارات ہیں جن کا تعلق کائنات کے امور میں تصرف اور اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ قدرت سے ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کے حکم سے کائنات میں مافوق الاسباب یا کہیے امورِ غیر عادیہ میں بھی تصرف کا اختیار دیا گیا۔ جیسے:

1۔ درختوں کا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلنا

حضرت سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلے، یہاں تک کہ ایک کشادہ وادی میں پڑاؤ ڈالا۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے، میں پانی کا برتن لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چلا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ادھر ادھر نگاہِ اقدس اٹھائی مگر ستر اور پردہ کے لیے کوئی شے نظر نہ آئی۔ یکا یک وادی کے کنارے دو درخت نظر آئے۔ حضور سرورِ عالم، نورِ مجسم صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے ایک کے پاس تشریف لے گئے، اس کی ٹہنیوں میں سے ایک ٹہنی اور شاخ کو پکڑ کر فرمایا: اللہ تعالیٰ کے حکم سے میرے ساتھ میری اطاعت و فرمانبرداری میں چل، وہ درخت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سر جھکا کر یوں چلا جیسے کہ نکیل والا اونٹ اپنے قائد کے ساتھ سر جھکا کر چلتا ہے، حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے درخت کے پاس تشریف لائے اور اس کی شاخ پکڑ کر ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ کے حکم سے میری اِتباع کر اور میرے پیچھے چل، وہ درخت بھی پہلے درخت کی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چل پڑا حتیٰ کہ دونوں قریب ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان کھڑے ہو کر حکم دیا: اللہ تعالیٰ کے حکم سے مجھ پر مل کر پردہ بناؤ چنانچہ وہ دونوں جڑ گئے۔

حضرت سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں دوڑتا ہوا وہاں سے نکلا تا کہ کہیں حضور سرورِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم میرے قریب ہونے کا احساس فرماتے ہوئے مزید دُور جانے کی تکلیف نہ فرمائیں۔ میں دُور جا کر بیٹھ گیا اور کسی خیال میں گم ہو گیا، اچانک دیکھا تو محبوبِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا رہے ہیں اور وہ دونوں درخت جُدا ہو کر اپنی جگہ کھڑے ہو چکے ہیں۔ [الوفا، ابن جوزی، مترجم، ص: 344]

کیا یہ روایت اللہ عزوجل کے پیارے حبیب اور ہمارے مدنی آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے مختارِ کل ہونے پر شاہدِ عدل نہیں؟ کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں مغالطہ پیش کرنے والے اب بھی اس امر کے مدعی ہو سکیں گے کہ معاذ اللہ “رسول کے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا” یا “جس کا نام محمد یا علی ہے اس کو کسی چیز کا اختیار نہیں”۔ شرم مگر ان کو آتی نہیں۔

2۔ اللہ رب العزت نے اپنے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو زمین کے خزانوں کی کنجیاں عطا فرمائیں

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن باہر تشریف لائے اور احد کے شہیدوں پر اس طرح نماز پڑھی جیسے میت پر پڑھی جاتی ہے۔ پھر منبر پر تشریف لائے اور فرمایا: دیکھو میں تم سے پہلے جا کر تمہارے لیے میرِ سامان بنوں گا اور میں تم پر گواہ رہوں گا۔

وَاللَّهِ لَأَنْظُرُ إِلَى حَوْضِي الْآنَ، وَإِنِّي أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِ الْأَرْضِ، أَوْ مَفَاتِيحَ الْأَرْضِ [رقم الحديث: 1344]

اور قسم اللہ کی میں اس وقت اپنے حوض کو دیکھ رہا ہوں، اور مجھے زمین کے خزانوں کی کنجیاں دی گئی ہیں، یا (یہ فرمایا کہ) مجھے زمین کی کنجیاں دی گئی ہیں، اور قسم خدا کی مجھے اس کا ڈر نہیں کہ میرے بعد تم شرک کرو گے بلکہ اس کا ڈر ہے کہ تم لوگ دنیا حاصل کرنے میں رغبت کرو گے۔

اس حدیثِ مبارکہ سے یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ اللہ رب العزت نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو روئے زمین کے تمام خزانوں کی کنجیاں عطا فرمائیں۔ اور حقیقت یہ ہے کہ کنجیاں مالک کو دی جاتی ہیں یا اس کے ماذون و مختار کو۔ جو کچھ زمین پر ہے انسان و حیوان، چرند و پرند، لعل و گوہر، سونا چاندی، گو دنیا کی ہر شے کی کنجی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کی گئی اور اللہ کی عطا سے حضور ہر چیز کے مالک و مختار ہیں۔

3۔ انگشتِ مبارک سے پانی کے چشمے جاری فرمانا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ صلحِ حدیبیہ کے دن لوگوں کو پیاس لگی ہوئی تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک چھاگل رکھا ہوا تھا آپ نے فرمایا:

مَا لَكُمْ؟ قَالُوا: لَيْسَ عِنْدَنَا مَاءٌ نَتَوَضَّأُ وَلَا نَشْرَبُ إِلَّا مَا بَيْنَ يَدَيْكَ. فَوَضَعَ يَدَهُ فِي الرَّكْوَةِ، فَجَعَلَ الْمَاءُ يَثُورُ بَيْنَ أَصَابِعِهِ كَأَمْثَالِ الْعُيُونِ، فَشَرِبْنَا وَتَوَضَّأْنَا. قُلْتُ: كَمْ كُنْتُمْ؟ قَالَ: لَوْ كُنَّا مِائَةَ أَلْفٍ لَكَفَانَا، كُنَّا خَمْسَ عَشْرَةَ مِائَةً، لَوْ كُنَّا مِائَةَ أَلْفٍ لَكَفَانَا.

کیا بات ہے؟ لوگوں نے کہا کہ جو پانی آپ کے سامنے ہے، اس پانی کے سوا نہ تو ہمارے پاس وضو کے لیے کوئی دوسرا پانی ہے اور نہ پینے کے لیے، آپ نے اپنا ہاتھ چھاگل میں رکھ دیا، تو پانی آپ کی انگلیوں کے درمیان میں سے چشمے کی طرح پھوٹ پڑا۔ پھر ہم سب لوگوں نے اس پانی کو پیا بھی اور اس سے وضو بھی کیا۔ میں نے پوچھا آپ لوگ کتنی تعداد میں تھے؟ کہا کہ اگر ہم ایک لاکھ بھی ہوتے تو وہ پانی کافی ہوتا۔ ویسے ہماری تعداد اس وقت پندرہ سو تھی۔

اللہ اکبر! کیا یہ حدیثِ مبارکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیارات کو نہیں بتاتی؟ صحابی کا عقیدہ تو یہ ہے کہ اللہ رب العزت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اختیار عطا فرمایا کہ تشنہ لبوں کو اپنی انگشتِ مبارک سے چشمہ جاری فرما کر سیراب فرما دیں اور اس چشمہِ مبارکہ سے فیضیاب ہونے والے ایک دو نہیں بلکہ اگر ہم ایک لاکھ بھی ہوتے تو وہ پانی کافی ہوتا۔ اور وہابی کہتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیار میں کچھ نہیں۔ اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنت فرماتے ہیں:

انگلیاں ہیں فیض پر ٹوٹے ہیں پیاسے جھوم کر
ندیاں پنج آبِ رحمت کی ہیں جاری واہ واہ

[سہ ماہی القلم، شمارہ نمبر: 12، ذی الحجہ 1446ھ تا صفر المظفر 1447ھ، ص: 14 تا 18]

جاری۔۔۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!