| عنوان: | کوفیوں کی شرارت اور امام مسلم رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کی شہادت |
|---|---|
| تحریر: | عبد الوحید قادری |
جب اہلِ کوفہ کو یزید خبیث کی تخت نشینی اور امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ سے بیعت طلب کئے جانے اور امام کے مدینہ منورہ چھوڑ کر مکے تشریف لے آنے کی خبر پہنچی، تو انہیں اپنی فریب دہی و عیاری کی پرانی روش یاد آئی۔ وہ سلیمان بن صرد خزاعی کے مکان پر جمع ہوئے، مشورہ کیا اور عرضی لکھی کہ آپ تشریف لائیے اور ہمیں یزید کے ظلم سے بچائیے۔ جب ڈیڑھ سو عرضیاں جمع ہو گئیں تو امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ نے تحریر فرمایا کہ: "میں اپنے معتمد چچا زاد بھائی مسلم بن عقیل رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کو بھیجتا ہوں، اگر وہ تمہارا معاملہ ٹھیک دیکھ کر اطلاع دیں گے تو ہم جلد تشریف لائیں گے۔"
حضرت مسلم رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کوفہ پہنچے۔ ادھر کوفیوں نے امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ کے ہاتھ پر بیعت کرنے اور مدد دینے کا وعدہ کیا، بلکہ اٹھارہ ہزار افراد داخلِ بیعت ہو گئے۔ انہوں نے حضرت مسلم رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کو باتوں میں لے کر ایسا اطمینان دلایا کہ انہوں نے امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ کو کوفہ تشریف لانے کی نسبت لکھ دیا۔
ابنِ زیاد کا ظلم اور حضرت مسلم رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کی گرفتاری
ادھر یزید پلید کو جب یہ خبر ملی تو اس نے ابنِ زیاد کو حاکم بنا کر بھیجا اور حکم دیا کہ مسلم رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کو شہید کرے یا کوفہ سے نکال دے۔ جب یہ مردود کوفہ پہنچا تو اس نے دھمکیوں اور لالچ سے لوگوں کو توڑنا شروع کیا۔ یہاں تک کہ تھوڑی ہی دیر میں امام مسلم رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کے ساتھ صرف تیس آدمی رہ گئے۔ حضرت امام مسلم رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ یہ دیکھ کر مسجد سے باہر نکلے کہ کہیں پناہ لیں۔ جب دروازے سے باہر آئے تو ایک بھی ساتھ نہ تھا۔
آخر ایک گھر میں پناہ لی۔ ابنِ زیاد نے فوج بھیجی تو شیرِخدا کے بھتیجے نے اکیلے ہی ان روباہ منشوں (لومڑی صفت لوگوں) کو مکان سے باہر نکال دیا، مگر جب ان نامردوں کا اس اکیلے مردِخدا پر کچھ بَس نہ چلا تو وہ چھتوں پر چڑھ گئے اور پتھر اور آگ کے گولے پھینکنے شروع کیے۔ شیرِ مظلوم کا تن ان ظالموں کے پتھروں سے لہولہان تھا، مگر وہ تیغ بکف حملہ کرتے ہوئے باہر نکلے۔ آخرکار ابنِ اشعث نے امان کا جھوٹا وعدہ کر کے انہیں تھکنے پر دیوار سے پیٹھ لگا کر بیٹھنے پر مجبور کر دیا، اور اس طرح آپ کو گرفتار کر لیا گیا۔
شہادت اور بے پناہ مظلومیت
ابنِ زیاد کے دربار میں جب امام مسلم رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کو لایا گیا تو آپ پیاس کی شدت میں تھے۔ آپ نے پانی مانگا تو سنگ دلوں نے آپ کو ٹھنڈا پانی پینے سے بھی روک دیا اور ایک شخص نے کہا: "تم جہنم میں کھولتا ہوا پانی پیو گے۔" حضرت مسلم رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے اسے اس کے ظلم پر ٹوکا۔ جب پینے کے لیے پانی کا پیالہ منگوایا تو وہ آپ کے خون سے بھر گیا، تین بار ایسا ہی ہوا تو آپ نے فرمایا: "خدا کو شاید یہی منظور ہے۔"
بالآخر حکمِ الٰہی سے ابنِ زیاد کے حکم پر جلاد آپ کو قصر کے اوپر لے گیا۔ امام مسلم رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ برابر تسبیح و استغفار میں مشغول رہے، یہاں تک کہ شہید کر دیے گئے اور ان کا سرِ مبارک یزید کے پاس بھیج دیا گیا۔ (آئینہ قیامت، ص 30 تا 33، مصنف: حضرت علامہ مولانا حسن رضا خان رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ)
