Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

کربلا کا خونی منظر (قسط: اوّل)|فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی

کربلا کا خونی منظر (قسط: اوّل)
عنوان: کربلا کا خونی منظر (قسط: اوّل)
تحریر: فقیہِ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی
پیش کش: محمد عارف رضا قادری امجدی
منجانب: جامعہ امجدیہ رضویہ، گھوسی

حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مکہ شریف سے روانگی

تحریر: فقیہِ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی

پیشکش: محمد عارف رضا قادری امجدی | منجانب: جامعہ امجدیہ رضویہ، گھوسی

وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ * الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ [سورۃ البقرہ: 155، 156]

انسان کے لیے جہاں پر مرنا یا شہید ہونا مقدر ہوتا ہے، منجانب اللہ ایسے حالات و اسباب پیدا ہوتے ہیں کہ ہزار رکاوٹوں کے باوجود انسان آخری وقت میں اسی جگہ پر جانے کے لیے مجبور ہو جاتا ہے۔ سید الشہداء حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ جن کا کربلا میں شہید ہونا ازل میں مقدر ہو چکا تھا، ان کے لیے ایسے حالات پیدا ہوئے کہ کربلا کی طرف جانا ان کا ضروری ہو گیا۔

حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خط آنے کے بعد امام عالی مقام کو کوفیوں کی درخواست قبول کرنے میں کوئی معقول عذر باقی نہ رہا تو آپ عراق جانے کے لیے تیار ہو گئے۔ جلیل القدر صحابہ، جیسے حضرت عبد اللہ بن عباس، حضرت عبد اللہ بن عمر، حضرت جابر، حضرت ابو سعید خدری اور حضرت ابو واقد لیثی رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے آپ کو کوفہ جانے سے منع کیا اور خدشہ ظاہر کیا کہ کوفہ والے دھوکا دیں گے اور آپ کو بے یارو مددگار چھوڑ دیں گے۔ مگر امامِ عالی مقام نے فرمایا کہ میں خدا سے خیر کا طالب ہوں۔

حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے جب اصرار کیا کہ آپ مکہ ہی میں رہیں، تو آپ نے فرمایا: "میں نے اپنے والد گرامی حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث سنی ہے کہ ایک مینڈھا مکہ معظمہ کی حرمت کو حلال کر دے گا، تو میں وہ مینڈھا نہیں بننا چاہتا۔" آپ نے فرمایا کہ بخدا اگر میں حشرات الارض کے کسی سوراخ میں بھی چھپوں گا تو لوگ مجھے وہاں سے بھی نکال لیں گے۔ آخرکار، 3 ذی الحجہ 60ھ کو آپ اپنے اہل بیت اور موالی و خدام کل بیاسی (82) نفوس کے ساتھ مکہ شریف سے عراق کے لیے روانہ ہو گئے۔

شہادت کی کشش اور اسبابِ سفر

آپ کی روانگی کی ایک ظاہری وجہ گرفتاری کا اندیشہ بھی تھا، جس کا تذکرہ آپ نے شاعر فرزدق سے ملاقات کے دوران کیا کہ "اگر میں اتنی جلدی نہ کرتا تو وہیں گرفتار کر لیا جاتا۔" حقیقت یہ تھی کہ شہادت کی کشش آپ کو کربلا کی طرف کھینچے لیے جا رہی تھی۔

کربلا کے قافلہ میں شامل اہل بیت

اس سفر میں امام عالی مقام کے ہمراہ آپ کے فرزندانِ گرامی (حضرت علی اوسط، حضرت علی اکبر، حضرت علی اصغر)، صاحبزادی حضرت سکینہ، اور حضرت امام حسن، حضرت علی المرتضیٰ، حضرت عقیل اور حضرت جعفر طیار رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے متعدد فرزند و پوتے شامل تھے۔ صاحبزادگانِ اہل بیت میں سے کل سترہ (17) حضرات شہادت سے سرفراز ہوئے، جبکہ دیگر کم عمر صاحبزادے قیدی بنائے گئے۔

عزمِ شہادت

راستے میں حضرت عبد اللہ بن جعفر طیار رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خط کے ذریعے آپ کو واپس آنے کا مشورہ دیا اور حاکمِ مکہ عمرو بن سعید سے آپ کے لیے امان کا پروانہ بھی حاصل کیا، مگر امام عالی مقام نے واپسی سے انکار کر دیا۔ آپ نے فرمایا: "میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواب میں زیارت کی ہے، آپ نے اس خواب میں جو مجھے حکم فرمایا ہے میں اسے ضرور پورا کروں گا، چاہے اس میں ہمارا نقصان ہو یا فائدہ۔"

چھٹ جائے اگر دولتِ کونین تو کیا غم
چھوٹے نہ مگر ہاتھ سے دامنِ محمَّد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم
جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!