| عنوان: | معرکہ کربلا میں خواتین کا کردار |
|---|---|
| تحریر: | معراج فاطمہ مدنیہ |
تاریخِ انسانی کا کوئی بھی معرکہ یا تحریک اس وقت تک مکمل اور کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک اس میں خواتین کا ایثار اور قربانی شامل نہ ہو۔ لیکن جب ہم تاریخِ اسلام کے سب سے بڑے اور آفاقی معرکے، یعنی “معرکہ کربلا” کا مطالعہ کرتے ہیں، تو یہاں خواتین کا کردار صرف معاون کا نہیں بلکہ ایک مستقل اور انقلابی ستون کا نظر آتا ہے۔ عام طور پر جنگوں میں خواتین کو پسِ پردہ یا صرف مصائب کا شکار سمجھا جاتا ہے، لیکن کربلا کی مہم کا یہ ایک انوکھا اور بے مثل پہلو ہے کہ یہاں خواتین نے تاریخ کا رخ موڑ دیا۔ امام عالی مقام حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے مدینہ چھوڑتے وقت اپنے ساتھ مخدراتِ عصمت (خواتینِ اہل بیت) کو لا کر یہ ثابت کر دیا تھا کہ اس الٰہی مشن کی تکمیل عورتوں کی شمولیت کے بغیر ممکن ہی نہ تھی۔
اگر میدانِ کربلا مردوں کی شجاعت، جہاد اور شہادت کا گواہ ہے، تو کربلا کے بعد کا سفر، اسیرانِ اہل بیت کے مصائب اور کوفہ و شام کے درباروں میں حق کی آواز بلند کرنا، خواتین کی جرات، خطابت اور فکری فتح کا مظہر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر میدانِ کربلا میں امام عالی مقام امام حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے رفقا نے اپنے خون سے اسلام کی بنیادوں کو سینچا، تو کربلا کے بعد سیدہ زینب رضی اللہ عنہا اور دیگر جلیل القدر خواتین نے اپنے خطبات اور جرات سے اس خون کو رائیگاں ہونے سے بچایا۔ اگر یہ عظیم خواتین نہ ہوتیں، تو بنو امیہ کا پروپیگنڈا کربلا کے سچے پیغام کو تاریخ کے اندھیروں میں چھپا دیتا۔
کربلا کی خواتین اور صبر و استقامت
معرکہ کربلا کی تاریخ اس وقت تک ادھوری رہتی ہے جب تک اس عزم و استقامت کا ذکر نہ کیا جائے جو مخدراتِ عصمت نے تپتے ہوئے صحرا میں دکھایا۔ تاریخِ انسانی گواہ ہے کہ جب کسی گھر کا جوان بیٹا، بھائی یا شوہر آنکھوں کے سامنے دم توڑ رہا ہو، تو عورت کا دل دہل جاتا ہے۔ مگر کربلا کی ماؤں، بہنوں اور بیویوں نے روایتی بین اور آہ و بکا کے بجائے، رضائے الٰہی کے سامنے سرِ تسلیم خم کر کے صبر کی ایک نئی تاریخ رقم کی۔ انہوں نے پیاس کی شدت، خیموں کی تپش اور اپنے بچوں کی پیاس کو برداشت کیا، مگر امام حسین کے مشن پر آنچ نہ آنے دی۔
اس معرکے کا سب سے حیرت انگیز پہلو یہ تھا کہ خواتین نے مجاہدینِ کربلا کے حوصلوں کو پست ہونے سے بچایا۔ جب امام حسین رضی اللہ عنہ کے رفقا باری باری میدانِ جنگ کا رخ کر رہے تھے، تو خیموں سے کسی بھی ماں یا بہن نے ان کا راستہ نہیں روکا۔ حضرت ام البنین کی سکھائی ہوئی تربیت کا اثر تھا کہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے اپنے دونوں بیٹوں، عون اور محمد کو خود تیار کر کے ماموں پر قربان ہونے کے لیے رخصت کیا۔ اسی طرح دیگر انصارِ حسینی کی خواتین نے اپنے شوہروں کو حق کا ساتھ دینے اور شہادت کا رتبہ پانے کے لیے خود ابھارا۔
کربلا کی خواتین کا یہ صبر کمزوری کا نام نہیں تھا، بلکہ یہ ایک ایسا شعوری فیصلہ تھا جس نے ظلم کے سامنے ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے اپنے پیاروں کے لاشوں پر ماتم کرنے کے بجائے شکرِ الٰہی ادا کیا کہ ان کی قربانی بارگاہِ حق میں قبول ہوئی۔ یہ وہی استقامت تھی جس نے بعد میں آنے والی نسلوں کو یہ سکھایا کہ جب نظریہ بڑا ہو، تو ذاتی رشتوں کی قربانی ہنستے مسکراتے دی جاتی ہے۔
سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کا مرکزی کردار
امام حسین رضی اللہ عنہ کربلا کے انقلاب کے بانی ہیں، اور سیدہ زینب رضی اللہ عنہا اس انقلاب کی پیامبر اور محافظ ہیں۔ تاریخِ انسانی میں انہیں “شَرِيكَةُ الْحُسَيْنِ” (حسین کے مشن میں شریک) کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے، اور یہ لقب ان کے اس لازوال کردار کا عکاس ہے جو انہوں نے عصرِ عاشور کے بعد ادا کیا۔ جب کربلا کی تپتی ریت پر امام حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے باوفا رفقا شہید ہو چکے تھے، خیموں کو آگ لگا دی گئی تھی اور ہر طرف یتیموں کی چیخ و پکار تھی، اس ہولناک موڑ پر سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے نہ صرف کاروانِ حسینی کی قیادت سنبھالی بلکہ اپنے خطبات سے باطل کے ایوانوں کو ہلا کر رکھ دیا۔
سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کا اصل معرکہ اس وقت شروع ہوا جب انہیں اسیر بنا کر کوفہ اور شام کے بازاروں اور درباروں میں لایا گیا۔ بنو امیہ کا خیال تھا کہ وہ اہل بیت کو قیدی بنا کر اپنی فتح کا جشن منائیں گے، لیکن شیرِ خدا کی بیٹی نے اپنی فصیح و بلیغ زبان سے یزید اور ابنِ زیاد کے درباروں میں ظلم کو اس طرح بے نقاب کیا کہ فتح شکست میں بدل گئی۔ کوفہ کے دربار میں ابنِ زیاد کے تکبر کا جواب دیتے ہوئے آپ نے تاریخی جملہ ارشاد فرمایا: “میں نے کربلا میں اللہ کی مشیت کے سوا کچھ نہیں دیکھا”۔ یہ جملہ اس بات کا ثبوت تھا کہ مصائب کی انتہا پر بھی ان کا عزم اور ایمان متزلزل نہیں ہوا۔
شام میں یزید کے بھرے دربار میں، جہاں وہ اپنی طاقت کے نشے میں چور تھا، سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے وہ تاریخی خطبہ دیا جو آج بھی جراتِ رندانہ کا سب سے بڑا نمونہ ہے۔ آپ نے یزید کو مخاطب کر کے فرمایا: “تو جتنے چاہے مکر و فریب کر لے اور اپنی پوری طاقت لگا لے، خدا کی قسم! تو ہمارے ذکر کو مٹا نہیں سکتا اور نہ ہی ہماری وحی کو نابود کر سکتا ہے”۔ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے ان خطبات نے دمشق کی فضا بدل دی اور لوگوں کو یہ معلوم ہوا کہ جنہیں باغی کہہ کر لایا گیا ہے، وہ کوئی اور نہیں بلکہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا مقدس کنبہ ہے۔
دیگر جلیل القدر خواتین کا بے مثال کردار
معرکہ کربلا صرف ایک یا دو شخصیات کی قربانی کا نام نہیں، بلکہ یہ اس پورے مقدس اور پاکیزہ خاندان کی مشترکہ داستانِ عزیمت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے صبر کے لیے منتخب کیا۔ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے ساتھ ساتھ کربلا کے اس طویل اور کٹھن سفر میں دیگر جلیل القدر خواتین نے بھی استقامت کی وہ اعلیٰ مثالیں قائم کیں جو تاریخ کا روشن باب ہیں۔ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی چھوٹی بہن، سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا نے اس پورے سفر میں ہر قدم پر اپنی بڑی بہن کا ساتھ دیا۔ جب کاروانِ اہل بیت کو مصائب کا سامنا تھا، تو آپ کی زبان پر بھی شکوے کے بجائے شکرِ الٰہی جاری تھا۔ آپ نے قید و بند کی صعوبتیں جھلیں اور اپنی خطابت سے کوفہ کے لوگوں کو ان کی بے وفائی اور غفلت پر جھنجھوڑا، جس سے تاریخ میں حق اور باطل کا فرق بالکل واضح ہو گیا۔
اس کاروان کی ایک اور عظیم خاتون حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی زوجہ محترمہ، جنابِ رباب رضی اللہ عنہا تھیں۔ انہوں نے نہ صرف اپنے شوہرِ نامدار کی جدائی کا صدمہ برداشت کیا، بلکہ اپنی گود کے معصوم اور پیاسے بچے، حضرت علی اصغر کی شہادت پر بھی صبر کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیا۔ تپتی ہوئی ریت پر اپنے معصوم بچے کا جنازہ اٹھتے دیکھنا کسی بھی ماں کے لیے دنیا کا سب سے بڑا صدمہ ہو سکتا ہے، مگر تاریخ گواہ ہے کہ جنابِ رباب نے اس عظیم ترین قربانی کو بھی خدا کی رضا سمجھ کر قبول کیا۔ اسی طرح امام عالی مقام کی معصوم صاحبزادیاں، بالخصوص سیدہ سکینہ اور سیدہ فاطمہ کبریٰ، جنہوں نے بچپن میں وہ ہولناک مناظر دیکھے جو بڑے بڑوں کے حوصلے پست کر دیتے ہیں۔ ان بچیوں نے پیاس کی شدت کو سہا، یتیمی کا دکھ اٹھایا اور قید خانے کی سختیاں برداشت کیں۔ ان بچیوں کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ اور ان کی مظلومیت نے ملوکیت کے چہرے سے وہ نقاب الٹ دیا جو اس نے دین کے نام پر اوڑھ رکھا تھا۔ ان پاکیزہ خواتین کی قربانیوں نے یہ ثابت کر دیا کہ باطل جتنا بھی طاقت ور ہو، وہ اہل بیتِ اطہار کے ایمان اور جذبۂ تسلیم و رضا کو شکست نہیں دے سکتا۔
اسارت (قید) اور پیغام رسانی کا دور
معرکہ کربلا صرف 10 محرم الحرام تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس کا ایک طویل اور انقلابی دور وہ تھا جو اسارت یعنی قید و بند کی صورت میں شروع ہوا۔ بنو امیہ کا مقصد سید الشہداء حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے رفقا کی شہادت کے بعد مخدراتِ عصمت کو قیدی بنا کر شہر شہر گھمانا تھا تاکہ عوام میں خوف و ہراس پھیلایا جا سکے۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ کربلا کی ان جرات مند خواتین نے اپنی اسی اسیری کو ملوکیت کے خلاف ایک طاقت ور ہتھیار میں بدل دیا۔
کربلا سے کوفہ اور پھر کوفہ سے شام (دمشق) تک کا یہ طویل سفر دراصل پیغامِ حسینی کی تشہیر کا ذریعہ بن گیا۔ جہاں جہاں یہ لٹا ہوا کاروان پہنچتا، لوگ ان پاکیزہ خواتین کی مظلومیت، ان کے تقویٰ اور جراتِ گفتار کو دیکھ کر حیران رہ جاتے۔ شام کے قید خانے میں بھی ان خواتین نے ہمت نہیں ہاری۔ انہوں نے قید کی سختیوں کو برداشت کرتے ہوئے مظلومینِ کربلا کا ذکر بلند رکھا۔
ان پاکیزہ بیبیوں کی اس بے مثل حکمتِ عملی کا نتیجہ یہ نکلا کہ جو عوام پہلے حقائق سے لاعلم تھی، ان پر یزیدی آمریت کا ظلم اور اہل بیتِ اطہار کا سچا مقام پوری طرح واضح ہو گیا۔ قید خانے کی دیواریں بھی اس آواز کو دبا نہ سکیں، اور دمشق کے گلی کوچوں میں ملوکیت کے خلاف نفرت اور امام عالی مقام کی قربانی کے لیے ہمدردی کی لہر دوڑ گئی۔ یوں ان خواتین نے قید میں رہ کر بھی باطل کے اس پروپیگنڈے کو ہمیشہ کے لیے ناکام بنا دیا جو کربلا کی سچائی کو دفن کرنا چاہتا تھا۔
حاصلِ کلام
معرکہ کربلا میں خواتین کا جرات مندانہ کردار صرف پندرہ سو سال پرانی تاریخ کا کوئی واقعہ نہیں ہے، بلکہ یہ رہتی دنیا تک کی خواتین کے لیے ایک جامع دستورِ حیات اور ابدی رہنما اصول ہے۔ کربلا کی ان پاکیزہ بیبیوں نے اپنے عمل سے ثابت کیا کہ جب معاشرے میں اخلاقی اقدار پامال ہو رہی ہوں، اور باطل اپنے عروج پر ہو، تو ایک مومنہ عورت کا کام صرف گھر کی چاردیواری تک محدود رہنا نہیں، بلکہ اپنے حصے کا چراغ جلانا اور حق کا ساتھ دینا بھی ہے۔ آج کے دور کی مسلم خاتون کے لیے کربلا کی خواتین کا اسوہ (نمونہ عمل) یہ درس دیتا ہے کہ مصائب اور مشکلات چاہے جتنی بھی بڑی ہوں، ایمان اور استقامت کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوٹنا چاہیے۔ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی جراتِ رندانہ اور دمشق کے دربار میں باطل کے سامنے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کا حوصلہ، ہر دور کی عورت کو یہ سکھاتا ہے کہ ظلم کے خلاف آواز اٹھانا ہی اصل بیداری ہے۔ معرکہ کربلا کی ماؤں اور بہنوں نے اپنے پیاروں کی قربانی دے کر یہ ثابت کیا کہ نظریہ اور دین ہمیشہ ذاتی مفادات سے بلند ہوتے ہیں۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ اگر میدانِ کربلا میں امام عالی مقام حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے خون سے اسلام کا پودا لگایا، تو کربلا کی جلیل القدر خواتین نے اپنے صبر، خطابت اور اشکوں سے اس پودے کی آبیاری کر کے اسے ایک تناور درخت بنا دیا۔ کربلا کی تاریخ خواتین کے بغیر ادھوری اور بے اثر رہ جاتی۔ آج اگر دنیا کے کونے کونے میں اسلام کا پرچم لہرا رہا ہے اور حق زندہ ہے، تو اس میں جہاں شہدائے کربلا کے خون کا حصہ ہے، وہاں ان عظیم خواتین کی لازوال قربانیوں اور جرات کا بھی برابر کا حصہ ہے۔
سلام ان بہادر ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں پر جن کی قربانیوں سے زندہ ہے آج بھی اسلام، خون کے ہر قطرے کا مان رکھا، حق ادا کر دیا، کربلا کی خواتین نے دنیا کو جینا سکھا دیا ۔
