Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

کربلا کے نوجوان اور ان کا جذبۂ فداکاری|معراج فاطمہ مدنیہ

کربلا کے نوجوان اور ان کا جذبۂ فداکاری
عنوان: کربلا کے نوجوان اور ان کا جذبۂ فداکاری
تحریر: معراج فاطمہ مدنیہ

کسی بھی قوم، تحریک یا نظریے کی بقا اور کامیابی میں اس کے نوجوانوں کا کردار ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہوتا ہے۔ تاریخ اسلام گواہ ہے کہ آغاز دعوت حق سے لے کر پرچم اسلام کی سربلندی تک، ہر موڑ پر جوانوں نے اپنے خون سے شجر اسلام کی آبیاری کی ہے۔ لیکن جب ہم تاریخ اسلام کے سب سے المناک اور عظیم معرکے، یعنی معرکہ کربلا کا مطالعہ کرتے ہیں، تو یہاں نوجوانوں کا کردار ایک ایسی منفرد اور لازوال داستان پیش کرتا ہے جس کی نظیر دنیا کی کسی اور تاریخ میں نہیں ملتی۔

معرکہ کربلا صرف بزرگوں کی حکمت یا بچوں کی معصومیت کا گواہ نہیں ہے، بلکہ یہ ان پاکیزہ اور خوبرو نوجوانوں کے جذبۂ فداکاری کا مینی فیسٹو بھی ہے جنہوں نے نواسۂ رسول، سید الشہداء حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی نصرت اور دین حق کی بقا کے لیے اپنی جوانیوں کا سودا بارگاہ الٰہی میں کر دیا۔ ان پاکیزہ نفوس کا مقام انتہائی بلند ہے۔ یہ وہ جوان تھے جو دنیاوی جاہ و جلال، اقتدار کے لالچ اور ملوکیت کے جھوٹے دبدبے سے کوسوں دور، صرف اور صرف اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور محبت اہل بیت اطہار کے جذبے سے سرشار تھے۔ ان نوجوانوں کے لیے جوانی کی رعنائیاں، خواب اور دنیاوی آسائشیں کوئی معنی نہیں رکھتی تھیں، بلکہ ان کا واحد مقصد باطل کے سامنے سینہ سپر ہونا اور حق کے پرچم کو سرنگوں ہونے سے بچانا تھا۔ انہوں نے تپتے ہوئے صحرا میں، بھوک اور پیاس کی شدت کے باوجود، جس جرات اور استقامت کا مظاہرہ کیا، اس نے شجاعت کے نئے باب رقم کیے۔

حقیقت یہ ہے کہ کربلا کے ان نوجوانوں نے اپنی جانیں نچھاور کر کے رہتی دنیا تک کے مسلم نوجوانوں کو یہ پیغام دیا کہ جب غیرت ایمانی کا تقاضا ہو، تو زندگی کی سب سے قیمتی متاع یعنی جوانی کو بھی حق کے راستے میں مسکراتے ہوئے قربان کر دیا جاتا ہے۔

حضرت علی اکبر رضی اللہ عنہ — ہم شکل مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا جذبۂ فداکاری

معرکہ کربلا کے جوانوں میں سب سے نمایاں اور دل نشین نام سید الشہداء حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے کلاں صاحبزادے، حضرت علی اکبر رضی اللہ عنہ کا ہے۔ آپ نہ صرف اپنی سیرت و کردار بلکہ اپنی صورت اور گفتگو میں بھی اپنے جد امجد، تاجدار مدینہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہم شکل تھے۔

جب بھی مدینہ اور کوفہ کے لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد ستاتی، تو وہ حضرت علی اکبر رضی اللہ عنہ کے چہرۂ مبارک کی زیارت کر لیا کرتے تھے۔ ایسے جمیل اور محبوب جوان کا میدان جنگ میں اترنا شجاعت اور ایمان کا اعلیٰ ترین امتحان تھا۔ عصر عاشور جب امام عالی مقام کے مخلص انصار و اصحاب باری باری اپنی جانیں قربان کر چکے، تو بنی ہاشم کے جوانوں میں سب سے پہلے حضرت علی اکبر رضی اللہ عنہ نے میدان جنگ کا رخ کرنے کا عزم کیا۔ آپ نے اپنے والد محترم کی بارگاہ میں آ کر انتہائی ادب سے عرض کیا کہ انہیں باطل سے نبرد آزما ہونے کی اجازت دی جائے۔ امام حسین رضی اللہ عنہ کے لیے اپنے اس لاڈلے اور پرنور بیٹے کو رخصت کرنا کتنا کٹھن ہوگا، اس کا اندازہ انسانی عقل نہیں لگا سکتی، مگر دین اسلام کی بقا کے لیے امام عالی مقام نے خود اپنے ہاتھوں سے اپنے پیارے بیٹے کو تیار کر کے میدان کی طرف رخصت کیا۔

حضرت علی اکبر رضی اللہ عنہ نے تپتے ہوئے صحرا میں، تین دن کی سخت پیاس کے باوجود، میدان کارزار میں وہ جرات دکھائی کہ دشمن کے بڑے بڑے جنگجو ان کی شجاعت دیکھ کر دنگ رہ گئے۔ آپ نے اپنی جرات رندانہ سے ثابت کر دیا کہ شیر خدا حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا خون ان کی رگوں میں دوڑ رہا ہے۔ زخموں سے چور ہونے کے بعد جب آپ نے جام شہادت نوش کیا، تو آپ کی قربانی نے تاریخ اسلام میں فداکاری کا وہ معیار قائم کر دیا جو رہتی دنیا تک کے نوجوانوں کے لیے مشعل راہ ہے۔ آپ کی شہادت دراصل اس بات کا ثبوت تھی کہ جب حق کا معاملہ درپیش ہو، تو سب سے محبوب شے بھی قربان کر دی جاتی ہے۔

حضرت قاسم بن حسن رضی اللہ عنہ — پیارے بھائی امام حسن کی یادگار

کربلا کے سرفروش نوجوانوں میں ایک انتہائی درخشندہ نام حضرت امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ کے لخت جگر اور امام عالی مقام کے بھتیجے، حضرت قاسم بن حسن رضی اللہ عنہ کا ہے۔ آپ ابھی صغر سنی (کم عمری) کے دور میں تھے اور میدان کربلا میں اپنے مظلوم چچا کے پاس اپنے والد محترم کی واحد نشانی کے طور پر موجود تھے۔ حضرت قاسم رضی اللہ عنہ کے جذبۂ فداکاری کا اندازہ شب عاشور کے اس تاریخی واقعے سے لگایا جا سکتا ہے، جب حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے رفقا سے گفتگو فرمائی اور شہادتوں کا ذکر کیا۔ اس موقع پر کم سن قاسم رضی اللہ عنہ نے اپنے چچا سے پوچھا: “چچا جان! کیا میرا نام بھی شہداء کی فہرست میں شامل ہے؟” امام عالی مقام نے اپنے اس پیارے بھتیجے سے سوال کیا: “بیٹا! تم موت کو اپنے لیے کیسا پاتے ہو؟” تو اس عظیم نوجوان نے بغیر کسی جھجک کے وہ تاریخی جملہ ارشاد فرمایا جو رہتی دنیا تک کے جوانوں کے لیے ایمان کی حرارت کا سبب ہے: “چچا جان! میں موت کو اپنے لیے شہد سے زیادہ میٹھا پاتا ہوں”۔

عصر عاشور جب حضرت قاسم رضی اللہ عنہ نے میدان جنگ میں جانے کی اجازت طلب کی، تو پہلے تو امام حسین رضی اللہ عنہ نے ان کی کم عمری کی وجہ سے اجازت دینے میں تامل فرمایا، کیوں کہ آپ اپنے بھائی امام حسن رضی اللہ عنہ کی اس نشانی کو اپنی آنکھوں سے دور نہیں کرنا چاہتے تھے۔ مگر حضرت قاسم کے اصرار اور جذبے کے سامنے امام عالی مقام کو اجازت دینا ہی پڑی۔ آپ نے تپتے ہوئے میدان میں ایسی جرات حیدری کا مظاہرہ کیا کہ دشمن دنگ رہ گیا۔

پیاس کی شدت اور زخموں سے چور ہونے کے باوجود آپ باطل کے سامنے ڈٹے رہے، یہاں تک کہ جام شہادت نوش فرما کر اپنے والد محترم کے پاس جنت میں جا پہنچے۔ آپ کا یہ جذبۂ فداکاری ثابت کرتا ہے کہ ایمان کا تعلق عمر سے نہیں بلکہ پاکیزہ تربیت سے ہوتا ہے۔

حضرت عون اور حضرت محمد رضی اللہ عنہما — سیدہ زینب کے فرزاندان

کربلا میں جہاں بیٹوں اور بھتیجوں نے فداکاری کی لازوال داستانیں رقم کیں، وہاں نواسئی رسول، سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے فرزاندان گرامی، حضرت عون اور حضرت محمد رضی اللہ عنہما کا کردار بھی ایمان افروز عزم کا مظہر ہے۔ انہوں نے تپتے ہوئے میدان کارزار میں اپنے خون سے وفاداری کا وہ نقش بٹھایا جو تاریخ کا سنہرا باب ہے۔ حضرت عون اور حضرت محمد رضی اللہ عنہما کی تربیت خود سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے فرمائی تھی۔ جب عصر عاشور حسینی قافلے کے انصار و مددگار جام شہادت نوش کر چکے، تو ان دونوں بھائیوں نے اپنے ماموں، سید الشہداء حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر میدان جنگ میں جانے کی اجازت مانگی۔ امام عالی مقام اپنے ان پیارے بھانجوں کو میدان میں بھیجنے کے لیے تیار نہ تھے، مگر ان نوجوانوں کا عزم اور جذبہ اتنا صادق تھا کہ انہوں نے بار بار اصرار کر کے رخصت حاصل کی، کیوں کہ ان کا مقصد صرف اور صرف امام عالی مقام کی نصرت اور دین حق کا تحفظ تھا۔

میدان جنگ میں اتر کر ان دونوں بھائیوں نے پیاس کی سخت شدت اور کم عمری کے باوجود ایسی شجاعت کا مظاہرہ کیا کہ دشمن کی صفیں الٹ دیں۔ انہوں نے باطل کے پروپیگنڈے اور یزیدی لشکر کی کثرت کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے بجائے جام شہادت نوش کرنے کو ترجیح دی۔ جب ان کے لاشے خیموں میں لائے گئے، تو ان کی صابر ماں سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے آہ و بکا کرنے کے بجائے بارگاہ الٰہی میں شکر ادا کیا کہ ان کے بچوں کی یہ عظیم قربانی قبول ہوئی۔ ان نوجوانوں کا یہ جذبۂ فداکاری یہ سبق دیتا ہے کہ حق کی راہ میں سب کچھ نچھاور کر دینا ہی اصل کامیابی ہے۔

انصار حسینی کے دیگر نوجوانوں کا بے مثال کردار

کربلا کی یہ داستان عزیمت صرف خاندان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نوجوانوں تک ہی محدود نہیں تھی، بلکہ اس پاکیزہ کاروان میں شامل دیگر انصار و اصحاب کے جوانوں نے بھی فداکاری کا وہ معیار قائم کیا جس پر تاریخ ہمیشہ ناز کرتی رہے گی۔ ان تمام وفادار نوجوانوں کا مرتبہ انتہائی بلند ہے، جنہوں نے یہ ثابت کیا کہ جب حق اور باطل کا معرکہ درپیش ہو، تو سچے مومن کا جوان خون ہمیشہ حق کی گواہی کے لیے تڑپ اٹھتا ہے۔ ان نوجوانوں میں سب سے نمایاں نام شیر خدا حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے دیگر صاحبزادے اور غازی عباس رضی اللہ عنہ کے سگے بھائیوں یعنی حضرت عثمان، حضرت جعفر، اور حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہم کا ہے۔ ان خوبرو اور جری جوانوں کو ان کی عظیم ماں، حضرت ام البنین رضی اللہ عنہا نے بچپن ہی سے امام حسین رضی اللہ عنہ پر جان نچھاور کرنے کا درس دیا تھا۔ عصر عاشور، غازی عباس رضی اللہ عنہ نے اپنے ان بھائیوں کو خود تیار کر کے میدان جنگ کی طرف روانہ کیا تاکہ وہ امام عالی مقام سے پہلے اپنی جانیں قربان کر کے وفاداری کا حق ادا کر سکیں۔

ان تینوں جوانوں نے دلیری کے ساتھ باطل لشکر کا مقابلہ کیا اور جام شہادت نوش فرمایا۔ ان کے علاوہ حسینی قافلے کے دیگر باوفا اصحاب کے جوان بیٹے، جیسے حضرت مسلم بن عوسجہ کے فرزند اور حضرت حبیب بن مظاہر کے قبیلے کے نوجوان، انہوں نے بھی کمال درجے کی فداکاری دکھائی۔ انصار کے ان نوجوانوں کا جذبہ یہ تھا کہ جب تک ہمارے جسموں میں خون کا ایک بھی قطرہ باقی ہے، ہم آل رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور امام عالی مقام پر آنچ نہیں آنے دیں گے۔ انہوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر کے یہ ثابت کر دیا کہ سچی وفاداری اور محبت اہل بیت ہی اصل ایمان ہے، اور دنیا کی کوئی بھی طاقت یا لالچ ان کے اس جذبے کو متزلزل نہیں کر سکتی۔

عصر حاضر کے نوجوانوں کے لیے پیغام

کربلا کے ان پاکیزہ اور جری نوجوانوں کا جذبۂ فداکاری کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے، بلکہ یہ رہتی دنیا تک کے نوجوانوں کے لیے غیرت، ایمان اور کردار سازی کا ایک ابدی اور عالم گیر رہنما اصول ہے۔ حضرت علی اکبر، حضرت قاسم، حضرت عون و محمد اور انصار کے دیگر نوجوانوں رضی اللہ عنہم نے اپنے عمل سے یہ ثابت کر دیا کہ جوانی کا اصل حسن دنیاوی رنگ و بو، عارضی لذتوں یا باطل قوتوں کے سامنے سر جھکانے میں نہیں ہے، بلکہ جوانی کی معراج حق کے راستے میں ثابت قدم رہنے کا نام ہے۔

آج کے دور کے مسلم نوجوان کے لیے کربلا کے ان جوانوں کا اسوہ یہ درس دیتا ہے کہ جب معاشرہ اخلاقی پستی کا شکار ہو رہا ہو، اور ہر طرف مادی مفادات کا دور دورہ ہو، تو ایک سچے جوان کا کام اپنے ایمان اور غیرت پر سمجھوتہ کرنا نہیں، بلکہ باطل کے پروپیگنڈے کو رد کر کے حق کی آواز بلند کرنا ہے۔ ان پاکیزہ نوجوانوں نے اپنی قیمتی جوانیوں کو قربان کر کے یہ واضح کر دیا کہ جب نظریہ اور دین اسلام کی بقا کا معاملہ ہو، تو زندگی کے تمام خوابوں اور خواہشات کو ہنستے مسکراتے بارگاہ الٰہی میں نچھاور کر دیا جاتا ہے۔

حاصل کلام یہ ہے کہ اگر میدان کربلا میں امام عالی مقام حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے خون سے اسلام کی گرتی ہوئی دیواروں کو سہارا دیا، تو کربلا کے ان جلیل القدر نوجوانوں نے ان کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر شجاعت اور فداکاری کی وہ نئی تاریخ رقم کی جس پر اسلام ہمیشہ ناز کرے گا۔ آج اگر دنیا بھر میں حق زندہ ہے اور باطل سرنگوں ہے، تو اس میں جہاں سید الشہداء کی عظیم قربانی کا حصہ ہے، وہاں ان پاکیزہ نوجوانوں کے پاک خون کا بھی برابر کا حصہ ہے۔

مٹا سکتے نہیں طوفان بھی ان کے نقوشِ قدم
وہ جوانی جو لٹ گئی، وہی بقائے اسلام بنی

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!