| عنوان: | مدینے سے جدائی |
|---|---|
| تحریر: | عمران رضا عطاری مدنی (بنارس) |
| پیش کش: | مجمع التصانیف |
مدینہ سے جدائی کا غم وہی جان سکتا ہے جس کے دل میں عشقِ مصطفیٰ ﷺ کی شمع روشن ہو۔ مدینہ سے رخصت ہونے کا لمحہ عاشقِ رسول کے لیے کسی قیامت سے کم نہیں ہوتا۔ جب نگاہیں گنبدِ خضریٰ سے ہٹتی ہیں، قدم شہرِ محبوب ﷺ سے باہر نکلتے ہیں اور دل بارگاہِ رسالت سے دور ہونے لگتا ہے تو آنکھیں بے اختیار اشک بار ہو جاتی ہیں اور دل فرقتِ مدینہ کے درد سے تڑپ اٹھتا ہے۔
آخر یہ وہی شہر تو ہے جہاں محبوبِ خدا ﷺ آرام فرما ہیں، جہاں کی ہر گلی، ہر ذرّہ اور ہر فضا عاشقانِ رسول کے لیے جان سے زیادہ عزیز ہے۔ اس لیے جب عاشق کو اپنے آقا، اپنے ملجأ و مأویٰ اور اپنے محبوب کے شہر سے رخصت ہونا پڑتا ہے تو اس کے دل پر جدائی کا ایسا زخم لگتا ہے جس کو صرف وہی محسوس کرسکتا ہے جسے مدینہ چھوڑنے کا درد نصیب ہوا ہو۔ عاشقِ رسول کی فرقتِ مدینہ کے وقت کی کیفیت کیا ہوتی ہے، شاعر نے کہا:
طیبہ سے لوٹنا کسی عاشق سے پوچھئے!
ایسا لگتا ہے کہ روح بدن سے نکل گئی
جب ایک عاشق مسجدِ نبوی سے آخری حاضری دے کر رخصت ہوتا ہے تو آنکھیں اشک بار، دل بے قرار اور جسم نڈھال ہو جاتا ہے۔ بار بار نگاہ گنبدِ خضریٰ کی طرف اٹھتی ہے اور دل یہی چاہتا ہے کہ یہ جدائی کبھی نہ آئے۔ عاشق کی کیفیت یوں ہوتی ہے کہ بس اس در پر موت آجائے اور جنت البقیع ٹھکانا بن جائے:
موت لے کے آجاتی زندگی مدینے میں موت سے گلے مل کر زندگی سے مل جاتا
امیر اہل سنت کی جب مدینے سے جدائی ہورہی تھی اس وقت آپ کی کیفیت قابلِ دید تھی، گریہ وزاری کررہے ہیں، لبوں پر صلاۃ و سلام ہے، رسول اللہﷺ سے شفاعت اور پھر اذنِ حاضری کا سوال ہے، اس کیفیت میں مدینے سے رخصت ہورہے ہیںCorrection۔ ہر عاشقِ رسول کے عشق و محبت کا انداز جدا ہوتا ہے، کسی نے تو کہا:
چھوڑ آیا ہوں دل و جان یہ کہہ کر اعظم آرہا ہوں میرا سامان مدینے میں رہے
یا رسول اللہ ﷺ! میں جا نہیں بلکہ آرہا ہوں، جلد پھر اذنِ مدینہ عطا کیجیے گا، میں پھر آؤں گا۔۔۔۔۔آقا!
یا رسول اللہ! اپنے در سے ہمیں دور نہ کیجیے
جب مدینہ منورہ سے جدائی کی پُرالم گھڑی آئی تو اس رات استاذِ محترم مفتی سرفراز احمد مصباحی صاحب کی کیفیت دیدنی تھی۔ مسجد نبوی سے نکلتے ہوئے بار بار رُک جاتے، آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں سلام عرض کرتے، پھر چند قدم آگے بڑھتے اور دوبارہ ٹھہر جاتے۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ قدم آگے بڑھ رہے ہیں، مگر دل ابھی بھی روضۂ اقدس ہی کے پاس ٹھہرا ہوا ہے۔ جوں ہی مسجد نبوی کی حدود سے باہر آئے، مڑ مڑ کر گنبدِ خضریٰ کو دیکھنے لگے۔ آگے بڑھتے جاتے تھے اور بار بار پلٹ کر حسرت و محبت بھری نگاہوں سے اس مقدس گنبد کو تکتے تھے۔ گویا زبانِ حال سے عرض کر رہے ہوں:
”یا رسول اللہ! اپنے در سے ہمیں دور نہ کیجیے۔ حضور! ایک نظرِ کرم اٹھا کر دیکھ لیجیے۔ یا رسول اللہ! میری آرزو ہے کہ آپ ہی کے شہر میں رہوں اور اسی مقدس سرزمین میں میری موت آئے۔“
یقین کریں ایسا منظر تھا کہ جسے دیکھ کر آنکھیں اشک بار ہوجائیں!
آخری حاضری کا پُر الم منظر
میں آخری حاضری دینے کے لیے گنبدِ خضریٰ کے سائے میں حاضر تھا۔ دل بے قرار تھا کہ یہ آخری حاضری ہے، نہ جانے دوبارہ کب بلاوا آئے گا۔ کبھی لبوں پر صلاۃ و سلام جاری تھا، کبھی نعتیہ اشعار پڑھ رہا تھا اور کبھی رخصتِ مدینہ کے درد میں ڈوبے ہوئے کلام۔ دل چاہتا تھا کہ آنکھیں برس پڑیں، مگر آنسو تھے کہ نکلنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔ بہت کوشش کی، مگر شاید اخلاص کی کمی تھی کہ اس سعادت سے محروم رہا۔
بہر حال سلام عرض کرکے واپس ہونے لگا۔ ابھی مسجد نبوی کی حدود سے باہر نکلنے ہی والا تھا کہ ایک ستون پر نظر پڑی اور قدم یکایک رک گئے۔ غور سے دیکھا تو استاذِ گرامی، مفتی سرفراز احمد مصباحی صاحب، ستون سے لپٹے ہوئے زار و قطار رو رہے تھے اور جانِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں فریاد کر رہے تھے۔
کافی دیر سے میری کیفیت ایسی تھی کہ رونا نہیں آ رہا تھا، مگر جیسے ہی نگاہ ان پر پڑی، دل بھر آیا اور آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے۔ میں بھی وہیں کھڑا ہو گیا اور بارگاہِ رسالت میں عرض و استغاثہ کرنے لگا۔ تاہم اس خوف سے کہ کہیں میری موجودگی استاذِ گرامی کی یکسوئی میں خلل کا سبب نہ بن جائے، خاموشی سے آگے بڑھ گیا۔
شرمندہ شرمندہ، خراماں خراماں ہوٹل کی طرف روانہ تھا۔ روانگی کا وقت قریب آ چکا تھا۔ اب میں کافی دور نکل آیا تھا، جہاں چند قدم مزید بڑھتے ہی گنبدِ خضریٰ نگاہوں سے اوجھل ہو جانے والا تھا۔ بس پھر کیا تھا، وہاں پہنچتے ہی دل کی کیفیت یکسر بدل گئی۔ ایسا محسوس ہونے لگا جیسے دل کے ٹکڑے ہو رہے ہوں۔ ایک عجیب بے چینی نے گھیر لیا، آنکھیں اشک بار ہو گئیں، اور دل سے ایک ٹیس اٹھی:
”آہ! اب یہ دل کش، روح پرور اور تسکین بخش نظارہ میری آنکھوں سے اوجھل ہونے والا ہے۔“
اس لمحے شدت سے احساس ہوا کہ مدینہ منورہ سے جدائی محض ایک شہر سے جدائی نہیں، بلکہ محبوبِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درِ اقدس سے دوری کا نام ہے۔ قدم آگے بڑھ رہے تھے، مگر دل تھا کہ گنبدِ خضریٰ کے سائے میں ہی ٹھہرا رہتا تھا۔
کاش! قسمت مِرا ساتھ دیتی
موت بھی یاوَری میری کرتی
جان قدموں پہ قربان کرتا
الوداع آہ شاہِ مدینہ
کافی دیر کھڑا روتا رہا اور حضور کی بارگاہ میں فریاد کرتا رہا۔ وہ وقت زندگی کا حسین لمحہ تھا جو گزر گیا۔
جو لمحے تھے سکوں کے سب مدینے میں گزار آئے
دل مضطر وطن میں اب تجھے کیسے قرار آئے
