Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

بھوں کے بال نوچ کر ابرو کو خوبصورت بنانا ایک لعنتی گناہ! | عائشہ رضا عطاریہ

بھوں کے بال نوچ کر ابرو کو خوبصورت بنانا ایک لعنتی گناہ!
عنوان: بھوں کے بال نوچ کر ابرو کو خوبصورت بنانا ایک لعنتی گناہ!
تحریر: عائشہ رضا عطاریہ

آج کل اس کا رواج اتنا بڑھتا جا رہا ہے کہ ہر کوئی اس برائی میں ملوث نظر آ رہا ہے، چاہے وہ خواتین ہوں یا مرد حضرات۔ لیکن مردوں کے مقابلے میں عورتیں اس گناہ میں زیادہ تر ملوّث ہیں۔ ایسا لگنے لگا ہے جیسے یہ کوئی خطا ہی نہیں ہے، جبکہ یہ ایک جرمِ کبیرہ ہے۔ ہم یہ تو دیکھ لیتے ہیں کہ یہ ایک معمولی سا عمل ہے، لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ ہم نافرمانی کس کی کر رہے ہیں۔

جو اسلامی بہنیں اور بھائی اس میں مبتلا ہیں، وہ اسے غلط سمجھتے ہی نہیں۔ بڑے غور کرنے کی بات ہے کہ ہم اس عمل کو برائی نہیں سمجھ رہے، اور اگر سمجھ بھی رہے ہیں تو ہلکا سمجھ رہے ہیں۔ استغفرُاللہ، استغفرُاللہ! گناہ تو گناہ ہوتا ہے، چھوٹا ہو یا بڑا۔

اللہ پاک نے ہمیں جس کام کا حکم دیا ہے، ہم اس کو تو چھوڑ بیٹھے ہیں، اور جس کام سے اللہ پاک نے ہمیں روکا ہے، اسی کو ہم انجام دے رہے ہیں۔ بڑے افسوس کی بات ہے۔ ہمیں اللہ پاک کے ہر حکم کی اطاعت و فرمانبرداری کرنی چاہیے، یہی تو بندگی ہے۔ لیکن آج اس کے برعکس ہو رہا ہے۔ مجھے تو ایسا لگنے لگا ہے کہ جیسے 80 فیصد عورتیں اور کچھ مرد بھی اس گناہ میں ملوث ہیں۔ اس گناہ کو اس طرح انجام دیا جا رہا ہے جیسے کوئی گناہ ہی نہیں۔ جبکہ اللہ پاک نے ہر انسان کو ایک اچھی صورت پر پیدا فرمایا ہے۔

تخلیقِ خداوندی اور انسانی ناشکری

اللہ پاک نے قرآنِ مجید میں سورۂ التین میں ارشاد فرمایا:
لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیۤ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ
“بیشک یقیناً ہم نے آدمی کو سب سے اچھی صورت میں پیدا کیا।” (سورہ التین، آیت: 4)

لیکن انسان اس سے بھی زیادہ اپنے آپ کو خوبصورت بنانے کی کوشش کر رہا ہے، جو ناممکن ہے۔ یہ دراصل اللہ پاک کی بنائی ہوئی چیز میں خامی نکالنا ہے۔ جس حال اور حالت میں اس نے ہمیں بنایا ہے، اسے ہم بدل رہے ہیں۔ یہ ایک ناشکری بھی ہے۔ آپ کا اس گناہ میں مبتلا ہونا، اس بات کا اعلان ہے کہ گویا آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ اللہ پاک نے ہمیں مکمل خوبصورت نہیں بنایا۔

میری گزارش ہے ان اسلامی بہنوں اور اسلامی بھائیوں سے کہ اپنے اخلاق کو سنواریں، کردار کو سنبھالیں، نمازوں کو درست کریں، اور اپنے اعمال کو بہتر بنائیں۔ اپنے رب کی فرمانبرداری کریں اور پیارے آقا ﷺ کی اطاعت بجا لائیں۔ اپنی اس چند روزہ زندگی کو سنتِ مصطفیٰ ﷺ کے مطابق گزارنے کی کوشش کریں۔

آخرت کی فکر اور گناہوں سے غفلت

میرے پیارے عزیز قارئین! قیامت کے دن یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ آپ کا چہرہ کتنا خوبصورت ہے، بلکہ یہ دیکھا جائے گا کہ آپ کے اعمال کتنے خوبصورت ہیں۔ لیکن افسوس! انسان دنیا کی رنگینیوں میں اتنا مدہوش ہو چکا ہے کہ وہ یہ تو بالکل ہی بھول گیا کہ مجھے اس دنیا سے جانا بھی ہے، مجھے موت کا مزہ بھی چکھنا ہے۔ نہ اسے آج کی فکر ہے نہ کل کا خیال۔

قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بھی ہے کہ قربِ قیامت لوگ گناہ کو گناہ نہ سمجھیں گے اور کھلم کھلا گناہ کریں گے۔ افسوس! وہ دن آ چکا ہے کہ گناہ کرتے ہوئے اس انسان کو ذرہ برابر بھی احساس نہیں ہوتا کہ ہم گناہ کر رہے ہیں۔ بس یہ کہہ کر چھوڑ دیتے ہیں کہ: "چھوٹا گناہ ہے، بعد میں توبہ کر لیں گے۔" کیا اس بات کی گارنٹی ہے کہ آپ کو توبہ کا موقع ملے گا؟ اگر گناہ کرتے کرتے ہمیں موت آگئی تو ہمارا کیا بنے گا؟ کبھی سوچا ہے؟ نہیں، بالکل نہیں! یہ تو ہمارے وہم و خیال میں بھی نہیں رہتا۔ بلکہ ہمیں تو لمبی امیدوں نے دھوکے میں ڈال رکھا ہے، اور ہم ان لمبی امیدوں کے جال میں پھنستے چلے جا رہے ہیں۔

کیا آپ کو معلوم ہے کہ ایک چھوٹا گناہ ہمیں جہنم کی خوفناک وادی میں دھکیل سکتا ہے؟ یہ معمولی سا دکھنے والا چھوٹا سا گناہ ہماری زندگی بھر کی نیکیاں بھی برباد کر سکتا ہے۔ کبھی آپ نے سوچا؟ ہمیں بہت زیادہ غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اس چند لمحے رہنے والی خوبصورتی اور عارضی حسن کے چکر میں پڑ کر اپنے پیدا کرنے والے ربّ العالمین کو ناراض نہ کریں۔ اگر ہمارا ربّ کریم ہم سے ناراض ہو گیا تو ہمارا کیا بنے گا؟ نہ جانے کون سا گناہ ہمیں جہنم میں لے جائے۔

محاسبہِ نفس اور اسلاف کا طریقہ کار

ہمیں ہر وقت اپنے اعمال کا محاسبہ کرتے رہنا چاہیے — بلکہ نیکیاں کرنے کے باوجود بھی ہمیں اس ربّ العالمین کی بارگاہ میں توبہ و استغفار کرنا چاہیے۔ کیا معلوم کہ ہماری یہ نیکیاں اس کی بارگاہ میں مقبولیت کے قابل بھی ہیں کہ نہیں۔ ہمارے اسلاف کا ہمیشہ یہی طریقہ کار رہا ہے کہ وہ ساری ساری رات عبادت کرتے، دن کو روزہ رکھتے، اور دنیاوی رنگینیوں سے کوسوں دور رہتے۔ لیکن اس کے باوجود بھی اس قدر آہ و زاری کرتے کہ دیکھنے والے بھی متحیر رہ جاتے۔ ہر وقت اپنے مولا، اپنے پیدا کرنے والے ربّ کریم کی بارگاہ میں توبہ و استغفار کی کثرت کرتے رہتے۔

لیکن آج ہماری حالت! توبہ و استغفار اور نیکی کرنا تو کجا، گناہ کو گناہ نہیں سمجھتے۔ بلکہ دن بدن گناہوں کے گہرے سمندر میں ڈوبتے چلے جا رہے ہیں۔ یہ سمجھنے اور جاننے کی کوشش ہی نہیں کرتے کہ اللہ پاک نے ہمیں کس کام کو کرنے کا حکم دیا ہے، اور کن کاموں کی ممانعت فرمائی ہے۔ جیسا کہ ابرو کے بال نوچ کر خوبصورت بنانا آج ایک عام رواج بن چکا ہے۔ بلکہ ہر خاتون نے اس کو اپنی عادت میں شامل کر لیا ہے۔

تفسیرِ صراطُ الجنان میں ہے: “شیطان نے ایک بات یہ کہی کہ وہ لوگوں کو حکم دے گا تو وہ اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی چیزوں کو ضرور بدلیں گے۔” یاد رہے کہ اللہ عزوجل کی پیدا کی ہوئی چیزوں میں خلافِ شرع تبدیلیاں حرام ہیں۔ اور اس گناہ کو کرنے کی ممانعت حدیثِ پاک سے بھی ثابت ہے۔

احادیثِ مبارکہ اور شرعی ممانعت

صحیح بخاری و مسلم میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ اللہ (عزوجل) کی لعنت گودنے والیوں پر، اور گودوانے والیوں پر، اور بال نوچنے والیوں پر (یعنی جو عورت بھوؤں کے بال نوچ کر ابرو کو خوبصورت بناتی ہے) اس پر لعنت، اور خوبصورتی کے لئے دانت ریتنے والیوں پر (یعنی جو عورتیں دانتوں کو ریت کر خوبصورت بناتی ہیں) اور اللہ (عزوجل) کی پیدا کی ہوئی چیز کو بدل ڈالتی ہیں۔

ایک عورت نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس حاضر ہو کر یہ کہا کہ مجھے خبر ملی ہے کہ آپ نے فلاں فلاں قسم کی عورتوں پر لعنت کی ہے۔ تو انہوں نے فرمایا: میں کیوں نہ لعنت کروں ان پر جن پر رسول اللہ ﷺ نے لعنت کی اور جو اللہ کی کتاب میں (ملعون) ہیں۔ اس نے کہا: میں نے تو اللہ کی کتاب پڑھی ہے، مجھے تو اس میں یہ چیز نہیں ملی۔ فرمایا: تو نے غور سے پڑھا ہوتا تو ضرور اس کو پایا ہوتا۔ کیا تو نے یہ نہیں پڑھا:
{ وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُۗ-وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْاۚ- } (پ ۲۸، الحشر: ۷)
“یعنی رسول جو کچھ تمہیں دیں اسے لو، اور جس چیز سے منع کر دیں اس سے باز آ جاؤ۔”

اس عورت نے کہا: ہاں، یہ تو پڑھا ہے۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حضور ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے۔

ایک روایت میں ہے کہ اس کے بعد اس عورت نے یہ کہا کہ ان میں کی بعض باتیں تو آپ کی بی بی میں بھی ہیں۔ عبداللہ بن مسعود نے فرمایا: اندر جا کر دیکھو۔ وہ مکان میں گئی، پھر آئی۔ تو آپ نے فرمایا: کیا دیکھا؟ اس نے کہا: کچھ نہیں دیکھا۔ عبداللہ نے فرمایا: اگر اس میں یہ بات ہوتی تو میرے ساتھ نہیں رہتی، یعنی ایسی عورت میرے گھر میں نہیں رہ سکتی۔ (صحیح مسلم، کتاب اللباس، باب تحریم فعل الواصلۃ والمستوصلۃ۔۔۔ إلخ، حدیث: ۱۲۰ (۲۱۲۵)، ص ۱۱)

ایک اہم گزارش اور دعا

فی زمانہ اس کا رواج عام ہوتا جا رہا ہے۔ اللہ پاک ہمیں اس ملعون گناہ سے محفوظ فرمائے۔ آمین۔ اور جو ہماری اسلامی بہنیں اس لعنتی گناہ میں مبتلا ہیں، اللہ پاک ان سب کو ہدایت عطا فرمائے۔ آمین یا ربّ العالمین۔

ایک اہم گزارش: کبھی بھی کسی گناہ کو چھوٹا نہ سمجھیں۔ بلکہ ہمیں گناہ کرنے سے پہلے اس بات پر غور و فکر کرنا چاہیے کہ ہم جس کام کو کرنے والے ہیں، اس کام کو کرنے کی ممانعت کس ذات نے فرمائی ہے۔ غور کریں! ہم اس ربّ کریم کی نافرمانی کر رہے ہیں، جس کے قبضۂ قدرت میں ہماری جان ہے۔ ہم اپنے پروردگار کی نافرمانی کر رہے ہیں اور شیطانِ مردود کی فرمانبرداری۔ دعا ہے اللہ پاک سے کہ ہم سب کو اپنی پناہ میں رکھے، اور اپنے محبوب ﷺ کی ہر سنت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا ربّ العالمین۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!