| عنوان: | ماہِ محرم اپنے ساتھ کئی پیغام اور بہت سی یادیں لے کر طلوع ہوتا ہے |
|---|---|
| تحریر: | محمد عارف رضا قادری امجدی |
| منجانب: | جامعہ امجدیہ رضویہ گھوسی |
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مدینہ ہجرت کے سارے مراحل ذہنوں میں تازہ ہوجاتے ہیں۔ یکم محرم کو اس عظیم ہستی کی یادیں دلوں کو تڑپاتی ہیں کہ جن کے قبولِ اسلام کے لیے خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم دُعاگو رہتے تھے۔ 10 محرم نواسۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی عظیم قربانی کی یاد دلاتا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ اور آپ کے جاں نثار ساتھیوں نے سر تو کٹوا لیے لیکن اُس اقتدار کی حمایت و تائید نہیں کی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کی راہ سے انحراف کر گیا تھا۔ یومِ عاشورہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو فرعون سے نجات ملنے کی یاد بھی تازہ کرتا ہے کہ جس پر اللہ کا شکر ادا کرنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے 10 محرم کو روزہ رکھا۔ یہ دن شہادتِ امام حسین رضی اللہ عنہ کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے حق کے لیے سر کٹا دیا لیکن جھکایا نہیں۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی تمنا تھی کہ وہ اپنے دیارِ حبیب صلی اللہ علیہ وسلم میں شہید ہوں، یہ دعا بھی قبول ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب آخری آرام گاہ بھی نصیب ہوئی!
ہجرتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کی حکمتِ عملی
ہجرتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم تاریخِ اسلامی کا اہم ترین واقعہ اور شہرِ یثرب کے شہرِ روشن (مدینہ منورہ) میں بدلنے کا آغاز ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اپنا گھر بار، عزیز و اقارب، حتیٰ کہ خود بیت اللہ سے دُوری بھی صرف اس ایک عظیم مقصد کی خاطر قبول کر لی کہ اللہ کے حکم کی پیروی کرنا ہے۔
سفرِ ہجرت کا آغاز ایک ایسے عالم میں ہوا تھا کہ سب قبائل اور مکہ کے چنیدہ جنگجو قتل کے ارادے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کا گھیراؤ کیے ہوئے تھے۔ خطرہ تھا کہ مکہ سے نکل جانے کے بعد بھی اطمینان سے سفر نہیں کرنے دیا جائے گا، اور ایسا ہی ہوا۔ بھاری انعام کی خبر سفر کی ہر منزل پر پیچھا کررہی تھی۔ لیکن اس عالم میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور رفیقِ سفر نے سفر کی ایسی بے مثال تیاری کی تھی جس کی اُس دور میں مثال نہیں ملتی۔ تین روز تک مکہ کے جنوب مغرب میں واقع غارِ ثور میں قیام کیا تاکہ دشمن تھک ہار کر نامراد ہو جائے۔
اس دوران مکہ کی ایک ایک خبر سے آگاہ رہنے کا انتظام بھی کیا اور خوراک پہنچتے رہنے کا بھی۔ نہ صرف یہ، بلکہ ان دو کاموں کے لیے آنے والے حضرت عبدالرحمٰن بن ابی بکر اور حضرت اسماء بنت ابی بکر الصدیق رضی اللہ عنہما کے قدموں کے نشان تک مٹا دینے کا انتظام کیا گیا۔ صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کا غلام ان کے پیچھے پیچھے بکریوں کا ریوڑ لے آتا کہ معزز ہستیوں کو تازہ دودھ بھی میسر آ جائے اور آنے والوں کے قدموں کے نشان بھی مٹ جائیں۔ سرِراہ مل جانے والے بدوؤں سے گفتگو کرتے ہوئے خصوصی احتیاط برتی کہ بلاضرورت تعارف کسی دشمن تک نہ پہنچ جائے۔
انسانی اسباب کی فراہمی اور توکل علی اللہ
اس دور میں کہ جب کوئی لفظ لکھنے کے لیے کئی جتن کرنا پڑتے تھے، سفر تو کجا حضر میں بھی لکھنے پڑھنے کے لوازمات فراہم کرنا جوئے شیر لانے سے کم نہ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سامانِ کتابت زادِ راہ میں شامل رکھا۔ سراقہ بن مالک نے جب سنا کہ چند کوس سے دو مسافر گزرے ہیں تو فوراً اندازہ لگا لیا کہ وہی قریشی سردار ہو سکتے ہیں، جن کی گرفتاری پر سردارانِ مکہ نے بھاری انعام رکھا ہے۔ پیچھا کرنے، زمین میں دھنس جانے، اور قیصر و کسریٰ کے کنگن ملنے کی خوش خبری ملنے پر تقاضا کر دیا کہ یہ بشارت مجھے لکھ کر عنایت فرما دیجیے۔ یارِ غار رضی اللہ عنہ نے اس عالم میں بھی عبارت لکھ کر نبی أمّی صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر ثبت کر دی۔
سوچنے کی اہم ترین بات یہ ہے کہ ربِ کائنات اشارہ کرتا تو یہاں بھی کوئی بُراق پلک جھپکنے میں ساری منزلیں طے کروا دیتا۔ مگر ارادۂ الٰہی یہ تھا کہ دنیا کو ہر ممکن انسانی اسباب فراہم کرنے کا درس و سلیقہ عطا کیا جائے۔ مکہ میں اہلِ ایمان کے لیے جینا محال ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کا رخ کیا، وہاں لہولہان کر دیے گئے تو مکہ آنے والے ایک ایک قافلے کے پاس جا کر دعوت پیش کی۔ بالآخر بیعتِ عقبہ ہوئی، اور پھر چھے خوش نصیب افراد نے یثرب کی قسمت بدل دی۔ دعوتِ دین اور بندوں کو رب کی طرف بلانے کا یہ فریضہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طور ادا کیا کہ سفرِ ہجرت کے دوران بھی اس کا اہتمام کیا۔ حضرت بُریدۃ الاسلمی رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا اور اپنے پورے قبیلے کی ہدایت کا ذریعہ بن گئے۔
سفرِ ہجرت سے اللہ تعالیٰ کو قائد اور کارکنان کے لیے بھی اسوۂ حسنہ کا انتظام کرنا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور قائد بھی سفر کی مشقت اور خطرات کی انہی منزلوں سے گزرے کہ جن سے کارکنان اور اُمتی گزر رہے تھے۔ سفرِ ہجرت نے اپنے رب کی نصرت پر کامل یقین و اعتماد کی اعلیٰ ترین مثال بھی پیش کرنی تھی۔ غارِ ثور میں دشمن سر پر پہنچ گئے۔ یارِ غار رضی اللہ عنہ نے سرگوشی کی: "یا رسول اللہ! ان میں سے کسی کی نگاہ اپنے پاؤں کی طرف پڑ گئی تو ہم گرفتار ہو جائیں گے۔" رسولِ حق صلی اللہ علیہ وسلم نے کامل وثوق سے فرمایا:
"ابوبکر! ان دو کے بارے میں کیا خیال ہے جن کا تیسرا اللہ تعالیٰ ہے۔ غم نہ کریں اللہ ہمارے ساتھ ہے۔"
ربِ کائنات نے اس پورے مکالمے کو بھی نہ صرف قرآن کی وحی بنا دیا، بلکہ تاقیامت یہ اعلان بھی فرما دیا کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ نہ دے کر اور ان کے راستے پر نہ چل کر خود ہی محروم رہو گے۔ انھیں کوئی گزند نہیں پہنچا سکو گے۔ ان کے لیے اللہ کافی ہے۔
وَاللّٰهُ تَعَالٰى اَعْلَمُ وَرَسُوْلُهُ الْاَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَصَلَّی اللّٰهُ تَعَالٰى عَلَیْهِ وَسَلَّمَ
