| عنوان: | مسئلہ تکفیر میں اشعریہ و ماتریدیہ کا اختلاف نہیں (قسط: چہارم) |
|---|---|
| تحریر: | طارق انور مصباحی |
| پیش کش: | بنت اسلم برکاتی |
فِيهِ - كَالْقَوْلِ بِقِدَمِ الْعَالَمِ وَنَفْيِ حَشْرِ الْأَجْسَادِ وَنَفْيِ عِلْمِهِ بِالْجُزْئِيَّاتِ وَإِثْبَاتِ الْإِيجَابِ لِنَفْيِ اخْتِيَارِهِ تَعَالَى - وَمَا لَيْسَ مِنَ الْأُصُولِ الْمَعْلُومَةِ مِنَ الدِّينِ ضَرُورَةً كَنَفْيِ مَبَادِئِ الصِّفَاتِ مَعَ إِثْبَاتِهَا وَنَفْيِ عُمُومِ الْإِرَادَةِ وَالْقَوْلِ بِخَلْقِ الْقُرْآنِ فَذَهَبَ جَمَاعَةٌ إِلَى تَكْفِيرِهِمْ۔
وَذَهَبَ الْأُسْتَاذُ أَبُو إِسْحَاقَ إِلَى تَكْفِيرِ مَنْ كَفَّرَنَا مِنْهُمْ أَيْ اعْتَقَدَ كُفْرَنَا، أَخْذًا بِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ (مَنْ قَالَ لِأَخِيهِ يَا كَافِرُ فَقَدْ بَاءَ بِهِ أَحَدُهُمَا) فَإِذَا كَفَّرَ شَخْصٌ إِيَّانَا فَالْكُفْرُ وَاقِعٌ بِأَحَدِنَا وَنَحْنُ قَاطِعُونَ بِعَدَمِ كُفْرِنَا فَالْكُفْرُ رَاجِعٌ إِلَيْهِ - وَقِيلَ إِنَّمَا يُكَفَّرُ الْمُخَالِفُ إِذَا خَالَفَ إِجْمَاعَ السَّلَفِ عَلَى تِلْكَ الْعَقِيدَةِ - وَظَاهِرُ قَوْلِ الشَّافِعِيِّ وَأَبِي حَنِيفَةَ أَنَّهُ لَا يُكَفَّرُ أَحَدٌ مِنْهُمْ فِيمَا لَيْسَ مِنَ الْأُصُولِ الْمَعْلُومَةِ مِنَ الدِّينِ ضَرُورَةً وَهُوَ الْمَنْقُولُ عَنْ جُمْهُورِ الْمُتَكَلِّمِينَ وَالْفُقَهَاءِ - لَكِنَّ الْمُخَالِفَ فِيهَا يُبَدَّعُ وَيُفَسَّقُ بِنَاءً عَلَى وُجُوبِ إِصَابَةِ الْحَقِّ فِي مَوَاضِعِ الِاخْتِلَافِ فِي أُصُولِ الدِّينِ عَيْنًا وَعَدَمِ تَسْوِيغِ الِاجْتِهَادِ فِي مُقَابَلَتِهِ بِخِلَافِ الْفُرُوعِ الَّتِي لَمْ يُجْمَعْ عَلَيْهَا فَإِنَّ الِاجْتِهَادَ فِيهَا سَائِغٌ۔ [المعتقد المنتقد: ص: 213 - الجمع الإسلامي، مبارک پور]
ترجمہ: اہل سنت و جماعت بعض عقائد کے مخالف کی تکفیر میں مختلف ہیں، ان کی جانب سے اس پر اتفاق کے بعد کہ جو اصولِ دین و ضروریاتِ دین ہیں، ان کے مخالف کی تکفیر کی جائے گی جیسے دنیا کے قدیم ہونے اور حشرِ جسمانی کی نفی اور (اللہ تعالیٰ عزوجل کے) علم بالجزئیات کی نفی اور اللہ تعالیٰ کے اختیار کی نفی کے لیے (اللہ تعالیٰ کے لیے) ایجاب (اللہ تعالیٰ کے فاعلِ موجب ہونے) کو ثابت کرنے کا قول کرنا (کفرِ متفق علیہ ہے)۔
اور جو اصول، دین سے بدیہی طور پر معلوم نہیں ہیں جیسے صفاتِ الہیہ کے اثبات کے ساتھ مبادیِ صفات کی نفی کرنا اور اللہ تعالیٰ کے ارادے کے عموم کی نفی کرنا اور قرآن کے مخلوق ہونے کا قول کرنا، پس ایک جماعت کا مذہب ایسے لوگوں کی تکفیر کرنا ہے۔
اور استاذ ابو اسحاق اسفرائینی شافعی (م 418ھ) اس شخص کی تکفیر کی طرف گئے ان اہل بدعت میں سے جو شخص ہماری تکفیر کرے، یعنی ہمارے کافر ہونے کا اعتقاد رکھے، حضور اقدس نورِ مجسم حبیبِ کبریا صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادِ مبارک (جو اپنے بھائی کو یا کافر کہے تو ان دونوں میں سے کسی ایک پر کفر لوٹے گا) سے اخذ کرتے ہوئے، پس جب کسی شخص نے ہماری تکفیر کی تو کفر ہم (مکفّر بالکسر و بالفتح) میں سے کسی ایک پر واقع ہوگا اور ہم اپنے عدم کفر کا یقین رکھتے ہیں تو کفر اس شخص کی طرف پلٹے گا۔
اور ایک قول ہے کہ مخالف کی اس وقت تکفیر کی جائے گی جب وہ اس عقیدے پر اسلافِ کرام کے اجماع کی مخالفت کرے (یعنی جس عقیدے پر اجماع ہو، اس کی مخالفت کرے)۔
اور حضرت امام شافعی و حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہما کا واضح قول ہے کہ اہل بدعت میں سے کسی کی تکفیر نہیں کی جائے گی اس امر میں جو دین سے بدیہی طور پر معلوم اصول میں سے نہ ہو، اور یہی جمہور متکلمین اور فقہا سے منقول ہے، لیکن ان امور میں مخالفت کرنے والے کو بدعتی اور فاسق قرار دیا جائے گا، اصولِ دین کے اختلافی مقامات میں بعینہٖ حق کو پانا واجب ہونے اور ان کے مقابلے میں اجتہاد ناجائز ہونے کی بنیاد پر، برخلاف ان فروع کے جن پر اجماع نہیں ہے، کیوں کہ ان غیر اجماعی امور (غیر اجماعی ظنی فروعی عقائد) میں اجتہاد جائز ہے۔
مندرجہ بالا عبارت میں چار طبقات کا ذکر ہے۔ ایک وہ طبقہ ہے جو اہل بدعت کی تکفیر نہیں کرتا ہے۔ یہ اہل سنت و جماعت کے متکلمین ہیں اور وہ فقہائے محققین ہیں جو مسئلہ تکفیر میں مذہبِ متکلمین پر ہیں۔ دوسرا وہ طبقہ ہے جو اہل بدعت کی تکفیر کرتا ہے۔ یہ اشعریہ و ماتریدیہ کے وہ فقہائے کرام ہیں جو مسئلہ تکفیر میں فقہائے کرام کے مذہب پر ہیں۔ تیسرے نمبر پر استاذ ابو اسحاق اسفرائینی خراسانی شافعی (رکن الدین ابراہیم بن محمد بن ابراہیم بن مہران) کا مذہب بیان کیا گیا ہے۔ چوتھے نمبر پر ان فقہائے کرام کا مذہب بیان کیا گیا ہے جو ظنی اجماعی عقائد کے مخالف کی بھی تکفیرِ فقہی کرتے ہیں۔ یہ بعض فقہائے کرام کا مذہب ہے، جمہور فقہا کا یہ مذہب نہیں۔ جمہور فقہائے کرام صرف ضروریاتِ اہل سنت کے انکار اور ضروریاتِ دین کے لزومی انکار پر تکفیرِ فقہی کرتے ہیں۔ ظنی اجماعی عقائد کے منکر کو متکلمین اور جمہور فقہا گمراہ قرار دیتے ہیں جیسے تفضیلیہ کو گمراہ قرار دیا گیا اور ضروریاتِ دین کے التزامی انکار پر تکفیر کرنا تمام اہل سنت و جماعت کے یہاں متفق علیہ ہے۔
اسلامی عقائد کی چار قسمیں ہیں:
-
ضروریاتِ دین
-
ضروریاتِ اہل سنت
-
ظنی اجماعی عقائد
-
ظنی غیر اجماعی فروعی عقائد۔ صرف قسمِ چہارم میں اختلاف جائز ہے۔
ضلالت و بدعت کے درجات و اقسام
ایسے مقام پر بدعت سے مراد بدعتِ ضلالت ہے، ورنہ بدعتِ کفریہ کے سبب متکلمین بھی تکفیر کرتے ہیں۔ بدعتِ کفریہ وہ بدعت ہے جس سے کسی ضروری دینی کا مفسر انکار ہو جائے، جیسے نانوتوی نے ختمِ نبوت کا ایسا معنی اختراع کیا کہ ختمِ نبوت کا متواتر معنی ہی ختم ہو گیا۔ نانوتوی نے ختمِ نبوت سے ختمِ زمانی کی بجائے ختم بالذات مراد لے لیا، لہذا متواتر معنی کے انکار کے سبب نانوتوی کی تکفیرِ کلامی کی گئی، کیوں کہ متواتر معنی ضروریاتِ دین سے ہے۔ ضلالت و بدعت کے مختلف درجات و اقسام ہیں۔ بعض ضلالت و بدعت کفر ہے اور بعض ضلالت و بدعت غیر کفر، بعض ضلالت و بدعت شدید ہے اور بعض غیر شدید۔
اعلیٰ حضرت امام اہل سنت علیہ الرحمہ والرضوان نے رقم فرمایا: “مبتدع ضال ایک لفظ عام ہے، کافر کو بھی شامل کہ بدعت دو قسم ہے۔ مکفرہ و غیر مکفرہ۔” [فتاوی رضویہ، جلد: 6، ص: 68 - رضا اکیڈمی، ممبئی]
وما توفیقی الا باللہ العلی العظیم والصلوٰۃ والسلام علی رسولہ الکریم وآلہ العظیم۔ [اشعریہ اور ماتریدیہ، ص: 64-84]
