Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

مسلئہ تکفیر میں عشعریہ و ماتریدیہ کا اختلاف نہیں (قسط: سوم)|طارق انور مصباحی

مسئلہ تکفیر میں اشعریہ و ماتریدیہ کا اختلاف نہیں (قسط: سوم)
عنوان: مسئلہ تکفیر میں اشعریہ و ماتریدیہ کا اختلاف نہیں (قسط: سوم)
تحریر: طارق انور مصباحی
پیش کش: بنت اسلم برکاتی

اہل بدعت کی تکفیر نہ کرنا متکلمین کا مذہب

اہل بدعت وہ لوگ ہیں جو ضروریات اہل سنت میں سے کسی امر کا انکار کرتے ہیں، یا ان کے قول سے کسی ضروری دینی کا لزومی انکار ہوتا ہے۔ متکلمین ان پر کفر کا حکم نافذ نہیں کرتے ہیں، بلکہ انہیں گمراہ و بدعتی کہتے ہیں۔ فقہا ایسے لوگوں کی تکفیر فقہی کرتے ہیں۔ خوارج، معتزلہ، قدریہ وغیرہ اہل بدعت تھے، لہٰذا فقہا نے ان لوگوں کی تکفیر فقہی کی۔ جو شخص ظنی اجماعی عقائد کا انکار کرے، وہ فقہا و متکلمین دونوں فریق کے یہاں گمراہ ہے۔

کافر کلامی یا کافر فقہی نہیں ہے۔ صرف کافر فقہی سے متعلق فقہا و متکلمین کا اختلاف ہے۔ کافر متکلمین کبھی کفر فقہی کے بارے میں کہتے ہیں کہ قول کفری ہے، لیکن ہم قائل کی تکفیر نہیں کرتے ہیں۔ اس وقت یہ مراد ہوگا کہ فقہی اصول کے مطابق یہ قول کفری ہے اور چوں کہ کلامی اصول کے مطابق کفر ثابت نہیں ہے، لہذا متکلمین قائل کی تکفیر نہیں کرتے ہیں۔

  1. امام ابن نجیم مصری رحمہ اللہ (926ھ-970ھ) نے رقم فرمایا:

    إِنَّ عَدَمَ تَكْفِيرِهِمْ هُوَ الْمَنْقُولُ عَنْ جُمْهُورِ الْمُتَكَلِّمِينَ وَالْفُقَهَاءِ [البحر الرائق: جلد: 1، ص: 612]

    ترجمہ: اہل قبلہ کی عدم تکفیر جمہور متکلمین اسلام و فقہائے کرام سے منقول ہے۔

    امام ابن ہمام حنفی رحمہ اللہ نے خوارج کے بارے میں رقم فرمایا کہ جمہور فقہا و محدثین خوارج کی تکفیر نہیں کرتے ہیں، بلکہ انہیں باغی قرار دیتے ہیں اور بعض محدثین تکفیر کرتے ہیں۔

    اسی بحث میں یہ بھی مرقوم ہے کہ بعض فقہا اہل بدعت کی تکفیر کرتے ہیں اور بعض تکفیر نہیں کرتے ہیں۔ اہل بدعت سے وہ بدعتی مراد ہے جو کسی ضروری دینی کا منکر نہ ہو۔

  2. امام ابن ہمام حنفی رحمہ اللہ (790ھ) نے رقم فرمایا:

    قَالَ ابْنُ الْمُنْذِرِ: وَلَا أَعْلَمُ أَحَدًا وَافَقَ أَهْلَ الْحَدِيثِ عَلَى تَكْفِيرِهِمْ، وَهَذَا يَقْتَضِي نَقْلَ إِجْمَاعِ الْفُقَهَاءِ - وَذَكَرَ فِي الْمُحِيطِ: أَنَّ بَعْضَ الْفُقَهَاءِ لَا يُكَفِّرُ أَحَدًا مِنْ أَهْلِ الْبِدَعِ وَبَعْضُهُمْ يُكَفِّرُونَ بَعْضَ أَهْلِ الْبِدَعِ وَهُوَ مَنْ خَالَفَ بِبِدْعَتِهِ دَلِيلًا قَطْعِيًّا وَنَسَبَهُ إِلَى أَكْثَرِ أَهْلِ السُّنَّةِ، وَالنَّقْلُ الْأَوَّلُ أَثْبَتُ، نَعَمْ يَقَعُ فِي كَلَامِ أَهْلِ الْمَذَاهِبِ تَكْفِيرٌ كَثِيرٌ - وَلَكِنْ لَيْسَ مِنْ كَلَامِ الْفُقَهَاءِ الَّذِينَ هُمُ الْمُجْتَهِدُونَ، بَلْ مِنْ غَيْرِهِمْ - وَلَا عِبْرَةَ بِغَيْرِ الْفُقَهَاءِ - وَالْمَنْقُولُ عَنِ الْمُجْتَهِدِينَ مَا ذَكَرْنَا وَابْنُ الْمُنْذِرِ أَعْرَفُ بِنَقْلِ مَذَاهِبِ الْمُجْتَهِدِينَ [فتح القدير: جلد: 6، ص: 100 - مكتبة شاملة]

    ترجمہ: امام ابن منذر نیشاپوری رحمہ اللہ (241-318ھ) نے فرمایا: میں کسی کو نہیں جانتا جس نے خوارج کی تکفیر پر محدثین کی موافقت کی ہو، اور یہ قول فقہائے کرام کے اجماع کی نقل کا مقتضی ہے اور محیط میں ذکر کیا کہ بعض فقہا اہل بدعت میں سے کسی کی تکفیر نہیں کرتے ہیں اور بعض فقہا بعض اہل بدعت کی تکفیر کرتے ہیں اور یہ وہ بدعتی ہے جو اپنی بدعت کے سبب کسی قطعی دلیل کی مخالفت کرے اور اس قول کو اکثر اہل سنت کی طرف منسوب کیا اور نقل اول (امام ابن منذر شافعی نیشاپوری رحمہ اللہ کی نقل) زیادہ قوی ہے۔

    ہاں، اہل مذاہب فقہیہ کے کلام میں بہت تکفیر پائی جاتی ہے لیکن یہ ان فقہا کا کلام نہیں جو مجتہد ہیں، بلکہ غیر مجتہدین کا کلام ہے اور غیر فقہا کا کوئی اعتبار نہیں اور مجتہدین سے وہ منقول ہے جس کا ہم نے ذکر کیا اور امام ابن منذر شافعی نیشاپوری رحمہ اللہ (ابوبکر محمد بن ابراہیم بن منذر بن جارود) مذاہب مجتہدین کی نقل کی زیادہ معرفت رکھنے والے ہیں۔

  3. امام ابن نجیم مصری رحمہ اللہ (926ھ-970ھ) نے امام ابن ہمام حنفی رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہوئے رقم فرمایا:

    فَالْأَوْلَى مَا ذَكَرَهُ هُوَ فِي بَابِ الْبُغَاةِ أَنَّ هَذِهِ الْفُرُوعَ الْمَنْقُولَةَ فِي الْفَتَاوَى مِنَ التَّكْفِيرِ لَمْ تُنْقَلْ عَنِ الْفُقَهَاءِ أَيِ الْمُجْتَهِدِينَ - وَإِنَّمَا الْمَنْقُولُ عَنْهُمْ عَدَمُ تَكْفِيرِ مَنْ كَانَ مِنْ قِبْلَتِنَا حَتَّى لَمْ يَحْكَمُوا بِتَكْفِيرِ الْخَوَارِجِ الَّذِينَ يَسْتَحِلُّونَ دِمَاءَ الْمُسْلِمِينَ وَأَمْوَالَهُمْ وَسَبَّ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِكَوْنِهِ عَنْ تَأْوِيلٍ وَشُبْهَةٍ، وَلَا عِبْرَةَ بِغَيْرِ الْمُجْتَهِدِينَ: إِلَخْ - وَذَكَرَ فِي الْمُسَايَرَةِ أَنَّ ظَاهِرَ قَوْلِ الشَّافِعِيِّ وَأَبِي حَنِيفَةَ أَنَّهُ لَا يُكَفِّرُ أَحَدٌ مِنْهُمْ [البحر الرائق: جلد: 1، ص: 612]

    ترجمہ: پس بہتر وہ ہے جس کو امام ابن ہمام حنفی رحمہ اللہ (86-790ھ) نے باب بغات میں ذکر فرمایا کہ تکفیر کے یہ فروعی مسائل جو فتاوی میں منقول ہیں، وہ فقہائے کرام یعنی مجتہدین سے منقول نہیں ہیں اور مجتہدین سے اس کی عدم تکفیر منقول ہے جو ہمارے اہل قبلہ سے ہو، یہاں تک کہ مجتہدین نے خوارج کی تکفیر کا فیصلہ نہیں کیا جو مسلمانوں کے خون اور ان کے اموال اور اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سب وشتم کو حلال سمجھتے ہیں، یہ حلال سمجھنا تاویل اور شبہ سے ہونے کے سبب ہے اور غیر مجتہدین کا اعتبار نہیں ہے: الخ

    اور امام ابن ہمام حنفی رحمہ اللہ نے “مسایرہ” میں فرمایا کہ حضرت امام شافعی و حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہما کا ظاہر قول ہے کہ اہل قبلہ میں سے کسی کی تکفیر نہیں کی جائے گی۔

  4. امام ابن نجیم مصری رحمہ اللہ نے رقم فرمایا:

    فَالْحَاصِلُ أَنَّ الْمَذْهَبَ عَدَمُ تَكْفِيرِ أَحَدٍ مِنَ الْمُخَالِفِينَ فِيمَا لَيْسَ مِنَ الْأُصُولِ الْمَعْلُومَةِ مِنَ الدِّينِ ضَرُورَةً [البحر الرائق: جلد: 1، ص: 613]

    ترجمہ: پس حاصل کلام یہ کہ جو اصول، دین سے بدیہی طور پر معلوم نہیں ہیں، ان کی مخالفت کرنے والوں میں سے کسی کو کافر قرار نہ دینا (متکلمین کا) مذہب ہے۔

  5. امام ابن نجیم مصری رحمہ اللہ (926ھ-970ھ) نے رقم فرمایا:

    وَفِي جَمْعِ الْجَوَامِعِ وَشَرْحِهِ - وَلَا نُكَفِّرُ أَحَدًا مِنْ أَهْلِ الْقِبْلَةِ بِبِدْعَةٍ كَمُنْكِرِي صِفَاتِ اللَّهِ تَعَالَى وَخَلْقِهِ أَفْعَالَ عِبَادِهِ وَجَوَازِ رُؤْيَتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمِنَّا مَنْ كَفَّرَهُمْ - أَمَّا مَنْ خَرَجَ بِبِدْعَتِهِ مِنْ أَهْلِ الْقِبْلَةِ كَمُنْكِرِي حُدُوثِ الْعَالَمِ وَالْبَعْثِ وَالْحَشْرِ لِلْأَجْسَامِ وَالْعِلْمِ بِالْجُزْئِيَّاتِ فَلَا نِزَاعَ فِي كُفْرِهِمْ - لِإِنْكَارِهِمْ بَعْضَ مَا عُلِمَ مَجِيءُ الرَّسُولِ بِهِ ضَرُورَةً [البحر الرائق: جلد: 1، ص: 613]

    ترجمہ: جمع الجوامع اور اس کی شرح میں ہے: ہم بدعت کے سبب اہل قبلہ میں سے کسی کی تکفیر نہیں کرتے ہیں جیسے صفات الہیہ کے منکرین اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کے افعال کی تخلیق کے منکرین اور قیامت کے دن رویت الہی کے جواز کے منکرین۔

    اور ہم (اہل سنت) میں سے بعض نے اہل بدعت کی تکفیر کی لیکن جو اپنی بدعت کے سبب اہل قبلہ سے نکل گیا جیسے دنیا کے حادث ہونے اور دوبارہ زندہ اٹھائے جانے اور حشر جسمانی اور (اللہ تعالیٰ عزوجل کے لیے) جزئیات کے علم کے منکرین تو ان کے کفر میں کوئی اختلاف نہیں ہے، ان لوگوں کے بعض ایسے امور کا انکار کرنے کے سبب جن امور کا حضور اقدس سرور دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کا لے کر آنا بدیہی طور پر معلوم ہے۔

    منقولہ بالا اقتباس میں (کمنکری صفات اللہ تعالیٰ) سے معتزلہ کی طرح صفات الہیہ کا لزومی انکار مراد ہے۔ یہ کفر لزومی ہے۔ کفر لزومی کی صورت میں متکلمین تکفیر نہیں کرتے ہیں۔

    رب تعالیٰ کی صفات مقدسہ کا بالکلیہ انکار کفر کلامی ہے۔ یہ کفر متفق علیہ ہے، جیسا کہ بعد میں فرمایا کہ جو رب تعالیٰ عزوجل کے جزئیات کے علم کا انکار کرے تو اس کے کفر میں کوئی اختلاف نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے علم بالجزئیات کا انکار بھی صفت الہی کا انکار ہے، لیکن چوں کہ یہاں مفسرا انکار مراد ہے تو اللہ تعالیٰ کی کسی صفت کا مفسر انکار متکلمین کے یہاں بھی کفر ہوگا۔

    منقولہ بالا عبارت میں (ومنا من كفرهم) سے مراد یہ ہے کہ اہل سنت و جماعت کا ایک طبقہ بدعت ضلالت کے سبب اہل بدعت کی تکفیر کرتا ہے۔

  6. سیف اللہ المسلول حضرت علامہ فضل رسول بدایونی رحمہ اللہ (1213ھ - 1289ھ) نے رقم فرمایا:

    وَاخْتَلَفَ أَهْلُ السُّنَّةِ فِي تَكْفِيرِ الْمُخَالِفِ فِي بَعْضِ الْعَقَائِدِ بَعْدَ الِاتِّفَاقِ مِنْهُمْ عَلَى أَنَّ مَا كَانَ مِنْ أُصُولِ الدِّينِ وَضَرُورِيَّاتِهِ يُكَفَّرُ الْمُخَالِفُ

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!