| عنوان: | محرم الحرام کے فضائل |
|---|---|
| تحریر: | محمد سمیر احمد عطاری |
اسلامی سال کا آغاز محرّم الحرام کے بابرکت مہینے سے ہوتا ہے، ربِّ کریم نے ہمیں اسلامی سال کے اس پہلے مہینے میں ہی اجر و ثواب حاصل کرنے کے کثیر مواقع عطا فرمائے ہیں۔ اسی مناسبت سے آج کے بیان میں ہم محرم الحرام کے فضائل، اس میں عبادت کرنے کی برکتیں، روزے رکھنے، مسلمانوں سے خیر خواہی کرنے اور راہِ خُدا میں خرچ کرنے کے فضائل کے ساتھ ساتھ اس ماہِ مقدّس میں بزرگوں کی عبادات کرنے کے واقعات بھی بیان کریں گے۔
10 محرم الحرام کی فضیلت
یوں تو ماہِ محرّمُ الحرام مکمل ہی رحمتوں اور برکتوں بھرا ہے مگر بالخصوص اس ماہ کا دسواں دن جسے عاشوراء کہتے ہیں اس کی شان و عظمت کے کیا کہنے، یہ دن پچھلی امتوں میں بھی بڑا مکرم رہا ہے، تاریخ اس دن کے اہم واقعات سے بھری ہوئی ہے۔ اس دن میں عبادت کرنے کے بے شمار فضائل و برکات ہیں، اس دن دعائیں قبول ہوتی ہیں، اس دن حاجت مندوں کی حاجتیں پوری ہوتی ہیں، اس دن تنگدستوں کی تنگدستیاں دور ہوتی ہیں اور اسی دن غمزدوں اور دکھیاروں کی مصیبتیں دور ہوتی ہیں۔
چنانچہ عاشوراء کے دن کی ایک فضیلت یہ ہے کہ اس دن روزہ رکھنے کی بڑی برکتیں ہیں، خود ہمارے پیارے آقا، مدینے والے مُصطفٰے صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اِس دن روزہ رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی ہے۔ آئیے! عاشوراء کے دن روزہ رکھنے کے فضائل پر تین فرامینِ مُصطفٰے سنتے ہیں:
عاشورہ کے روزے رکھنے کے فضائل
1۔ اللّٰہ سبحانہ وتعالیٰ کے آخری نبی رسولِ ہاشمی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عاشوراء کا روزہ رکھو اس دن انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام روزہ رکھتے تھے۔ (جامع صغیر، ص 312، حدیث: 5067)
2۔ پیارے آقا مکی مدنی مصطفیٰ صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یومِ عاشوراء کا روزہ رکھو اور اِس میں یہودیوں کی مخالَفَت کرو، اس سے پہلے یا بعد میں بھی ایک دن کا روزہ رکھو۔ (مسند امام احمد، 1/518، حدیث: 2154)
یاد رکھئے! جب بھی عاشورے کا روزہ رکھیں تو ساتھ ہی نویں یا گیارہویں مُحَرمُ الحرام کا روزہ بھی رکھ لینا بہتر ہے اگر کسی نے صرف 10 محرم الحرام کا روزہ رکھا تب بھی جائز ہے۔
3۔ رسولِ اکرم نورِ مجسم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے اللہ پاک پر گمان ہے کہ عاشوراء کا روزہ ایک سال پہلے کے گناہ مٹا دے گا۔ (مسلم، کتاب الصیام، باب استحباب صیام ثلاثۃ ایام ⋯الخ، ص 454، حدیث: 2746)
محترم قارئین! ہم یومِ عاشوراء یعنی دس محرم الحرام کے فضائل و برکات سن رہے تھے، یومِ عاشوراء کے فضائل میں سے ایک بات یہ بھی ہے کہ اِس دن اللہ پاک نے 10 انبیائے کرام کو مختلف اعزازات و اکرامات سے نوازا تھا۔ وہ اعزازات کیا تھے، آئیے! سننے کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔
یومِ عاشوراء کی مُبارک نسبتیں
(1) اسی دن حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کی مدد فرمائی گئی اور فرعون اور اس کے پیروکار ہلاک ہوئے۔
(2) اسی دن حضرت نوح عَلَیْہِ السَّلَام کی کشتی ”جودی پہاڑ“ پر ٹھہری۔
(3) اسی دن حضرت یونس عَلَیْہِ السَّلَام کو مچھلی کے پیٹ سے نجات ملی۔
(4) اسی دن حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام کی توبہ قبول ہوئی۔
(5) اسی دن حضرت یوسف عَلَیْہِ السَّلَام کنویں سے نکالے گئے۔
(6) اسی دن حضرتِ عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کی ولادت ہوئی اور اسی دن آپ عَلَیْہِ السَّلَام کو آسمان پر اُٹھایا گیا۔
(7) اسی دن حضرت داؤد عَلَیْہِ السَّلَام کی توبہ قبول ہوئی۔
(8) اسی دن حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کی ولادت ہوئی۔
(9) اسی دن حضرت یعقوب عَلَیْہِ السَّلَام کی بینائی کا ضعف دور ہوا۔
(10) اسی دن نبیِ اکرم، نورِ مجسم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّم کو مغفرت کا مژدہ ملا۔
(11) اسی دن حضرت سَیِّدنا ادریس عَلَیْہِ السَّلَام کو آسمان پر اُٹھایا گیا۔
(12) اسی دن اللّٰہ پاک نے حضرت سَیِّدنا ایوب عَلَیْہِ السَّلَام کی آزمائش دور فرمائی۔
(13) اسی دن حضرت سَیِّدنا سلیمان عَلَیْہِ السَّلَام کو بادشاہت عطا ہوئی۔ (عمدۃ القاری، کتاب الصوم، تحت الباب صیام یوم عاشوراء، ج 11، ص 117 تا 118 ملخصاً، مکتبہ دارالفکر)
محترم و مکرم قارئین! یقیناً عقل مندی کا تقاضا یہی ہے کہ جو چیز جتنی معزز ہو اسے اتنی ہی اہمیت دی جائے، ابھی ہم نے یومِ عاشوراء میں ہونے والے اعزازات اور اہم واقعات کو سنا، اس سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ دن بہت اہمیت کا حامل ہے، لہٰذا ہمیں بھی اسے اتنی ہی اہمیت دینی چاہیے، اسے غفلتوں میں نہیں گزارنا چاہیے، اسے لایعنی کاموں میں نہیں کھپانا چاہیے، بلکہ اس دن خوب خوب نیک اعمال کرنے چاہئیں، اس دن زیادہ سے زیادہ نیکیاں کرنی چاہئیں۔ یومِ عاشوراء کو کون سے نیک اعمال بجا لانے چاہئیں، آئیے! سننے کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔
یوم ِعاشوراء کے اعمال
حضرت علامہ عبدالرحمٰن ابنِ جوزی رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ فرماتے ہیں: دس محرّم بہت عظمت والا دن ہے، لہٰذا مناسب ہے کہ جس قدر ممکن ہو اچھے کام کیے جائیں۔ بھلائیوں کے اس موسم کو غنیمت جانو اور غفلت سے بچو۔ (التبصرۃ لابن جوزی، المجلس الاول فی ذکر عاشوراء والمحرم، 2/8 ملتقطا)
(1) یومِ عاشوراء کا روزہ رکھئے اور اس کے ساتھ نویں یا گیارہویں محرمُ الحرام کا روزہ بھی ملا لیجئے تاکہ یہودیوں کی مخالفت ہو سکے۔
(2) حضرت علی المرتضیٰ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ کا فرمان ہے: عاشوراء کے دن جو ہزار مرتبہ سورۂ اخلاص پڑھے تو اس کی طرف اللہ پاک نظر فرمائے گا اور جس کی طرف رحمٰن نظر فرمائے اُسے کبھی عذاب نہیں دے گا۔ (حاشیۃ النور فی فضائل الایام والشھور، المجلس الحادی عشر فی فضل عاشوراء، ص 124)
(3) اِس دن توبہ و اِستغفار کیجئے اور بارگاہِ الٰہی سے توبہ پر قائم رہنے کی بھیک طلب کیجئے۔
(4) والدین کا اِکرام کیجئے۔
(5) غصے پر قابو رکھئے۔
(6) نوافل کی کثرت کیجیے۔
(7) سرمہ لگائیے۔ (النور فی فضائل الایام والشھور، المجلس الحادی عشر فی فضل عاشوراء، ص 123)
(8) یومِ عاشوراء کو بالخصوص اِثْمِد سرمہ لگائیے اس کی برکت سے آنکھیں نہیں دکھیں گی، جیسا کہ نبی رحمت، شفیعِ اُمّت صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: جو شخص یومِ عاشوراء اِثْمِد سرمہ آنکھوں میں لگائے تو اس کی آنکھیں کبھی بھی نہ دُکھیں گی۔ (شعب الایمان، باب فی الصیام، صوم التاسع مع العاشر، 3/367، حدیث: 3797)
(9) اسی طرح 10 محرّ مُ الحرام کو فضولیات سے بچئے۔
(10) رشتہ دار اسلامی بھائیوں سے ملاقات کیجئے۔
(11) خوشبو (fragrance) لگائیے۔
(12) روزہ داروں کو افطار کروائیے۔
(13) قرآنِ پاک کی تلاوت کیجئے۔
(14) ستّربار سُبْحٰنَ اللہ کا وِرد کیجئے۔
(15) یتیم کے سَر پر شفقت سے ہاتھ پھیرئیے۔
(16) ناراض مسلمانوں میں صلح کروائیے۔
(17) (ہو سکے تو) خوفِ خدا سے آنسو بہائیے۔ (مرقع کلیمی، ص 190 ملتقطا)
میرے پیارے اسلامی بھائیو! ہمیں چاہئے کہ یومِ عاشوراء نہ صرف خود بلکہ اپنے گھر والوں (family members) کو بھی ان اعمال کو بجا لانے اور ربِّ کریم کی رضا حاصل کرنے والے نیک اعمال کی ترغیب دلائیں۔ یاد رکھئے! جس طرح یومِ عاشوراء میں نیک کام کرنے کا ثواب زیادہ ہے اسی طرح گناہ کرنے کا عذاب بھی زیادہ ہے، مگر افسوس! فی زمانہ علمِ دین سے دُوری اور جہالت کی وجہ سے اس دن کو بھی ہم عام دنوں کی طرح غفلت اور فضولیات کے ساتھ ساتھ گناہوں میں گزارتے ہیں، نہ نیک اعمال کی کوئی فکر ہوتی ہے نہ اس دن کی تعظیم کی، بلکہ ہر طرف بے پردگی کے نظارے ہوتے ہیں، کہیں گلیوں بازاروں میں تو کہیں قبرستان میں بے پردہ عورتیں گھوم رہی ہوتی ہیں، اسی طرح 10 محرم الحرام کو ہمارے گھروں میں طرح طرح کی خرافات اور فضول رسم و رواج میں قیمتی وقت ضائع کیا جاتا ہے۔ یاد رکھئے! ہمارے دینِ اسلام میں ان باطل رسومات کی کوئی حیثیت نہیں، کیونکہ اسلام ایسا دین ہے جو گزشتہ اور موجودہ تمام باطل، بے ہودہ اور واہیات رسموں کو ختم کرتا ہے۔ نیکیاں کرنے اور شریعتِ مُطہّرہ پر عمل کی ترغیب دلاتا ہے، مگر افسوس صد افسوس! فی زمانہ یہ خلافِ شرع رسمیں ہمارے معاشرے اور گھروں میں بڑے زور و شور سے پھیلتی جارہی ہیں۔
تفسیرِ صراط الجنان میں ہے: ایسے لوگوں کو اپنے طرزِ عمل پر غور کرنا چاہئے جو شریعت کے خلاف رسمیں بجا لانے اور دیگر اَفعال کرنے پر کوئی شرعی دلیل پیش کرنے کی بجائے یہ کہنے لگتے ہیں کہ ہمارے بڑے بوڑھے عرصَۂ دراز سے یہ رسم و کام کرتے چلے آ رہے ہیں اور ہمارے خاندان میں شاید ہی کوئی گھر ایسا ہو جو اِن رسموں اور کاموں کو نہ کرتا ہو، پھر ہم کسی کے کہنے پر ان چیزوں کو کیسے چھوڑ سکتے ہیں! اگر یہ لوگ اللہ پاک اور اس کے رسولِ مقبول صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے دیئے ہوئے احکام کو سامنے رکھ کر اپنے طر زِ عمل پر صحیح طریقے سے غور کریں تو انہیں بھی معلوم ہو جائے گا کہ ان کی رسمیں اور اَفعال شریعت کے سراسر خلاف ہیں اور یہ ان کے کندھوں پر اپنے اور دوسروں کے گناہوں کا بہت بھاری بوجھ ہیں۔ اللہ کریم ایسے لوگوں کو عقلِ سلیم عطا فرمائے اور شریعت کے احکام کے مطابق عمل کرنے اور ان کے خلاف کام کرنے سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے، اٰمین۔ (صراط الجنان، 7/104 ملخصاً)
یومِ عاشوراء اور واقعَۂ کربلا
پیارے اور معزز قارئین! ہم ماہِ محرّمُ الحرام کے فضائل وبرکات اور بالخصوص یومِ عاشوراء میں کئے جانے والے اعمال اور اس دن میں پیش آنے والے واقعات کے بارے میں سن رہے تھے۔ 10 مُحرّمُ الْحرام ہمیں ہر سال شُہدائے کربلا اور بالخصوص نواسَۂ رسول، سیِّدُ الشُّہداء، اِمامِ عالی مقام حضرت امام حسین رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کی یاد بھی دِلاتا ہے، کیونکہ دس محرّمُ الحرام اکسٹھ (61) ہجری کو تاریخِ اسلام میں حق و باطل کے درمیان ایک عظیم معرکہ پیش آیا، جسے واقعۂ کربلا کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس واقعہ میں شُہَدائے کربلا رَضِیَ اللہُ عَنْہُم کے اِستقامت بھرے انداز نے تمام اہلِ حق کو باطل کے سامنے ڈَٹ جانے اور ضرورت پڑنے پر دینِ اسلام کی خاطر جان کا نذرانہ پیش کرنے کا عظیمُ الشّان سبق دیا۔ اسی مناسبت سے امام عالی مقام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک کرامت کا ذکر کیا جاتا ہے۔
یومِ عاشوراء (بروز جمعۃ المبارک 10 مُحَرّ مُ الْحرام) کو جب اِ مامِ عالی مقام، امامِ حسین رَضِیَ اللہُ عَنْہُ میدانِ کربلا میں خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، اس وقت خیموں کی حفاظت کے لئے خندق میں آگ روشن دیکھ کر ایک بدزبان (جس کا نام مالک بن عروہ تھا) اس طرح بکواس کرنے لگا: اے حُسین! تم نے وہاں کی آگ سے پہلے یہیں آگ لگا لی۔ حضرتِ امامِ عالی مقام، امامِ حُسین رَضِیَ اللہُ عَنْہُ نے فرمایا: كَذَبْتَ يَا عَدُوَّاللّٰهِ یعنی اے دُشمنِ خُدا! تو جھوٹا ہے کیا تجھے گمان ہے کہ میں دوزخ میں جاؤں گا؟
اُس گستاخ و بدبخت کے الفاظ سن کر حضرتِ مسلم بن عوسجہ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ نے حضرت امامِ حُسین رَضِیَ اللہُ عَنْہُ سے اُس بدزبان کے منہ پر تیر مارنے کی اجازت چاہی۔ لیکن صبر و تحمل کے پیکر حضرتِ امامِ حُسین رَضِیَ اللہُ عَنْہُ نے فرمایا: ہماری طرف سے جنگ کی ابتدا نہیں ہونی چاہئے۔ یہ فرما کر دعا کے لئے ہاتھ بلند کئے اور ربِّ کریم کی بارگاہ میں عرض کی: یا ربّ! عذابِ نار سے قبل اس گستاخ کو دنیا ہی میں آگ کے عذاب میں مبتلا فرما۔ فوراً دعا قبول ہوئی اور اس کے گھوڑے کا پاؤں ایک سوراخ میں گیا اور وہ گھوڑے سے گرا اور اس کا پاؤں رِکاب میں الجھ گیا اور گھوڑے نے اسے آگ میں ڈال دیا اور وہ بدنصیب آگ میں جل گیا۔ حضرت امامِ حُسین رَضِیَ اللہُ عَنْہُ نے سجدۂ شکر کیا اور ربِّ کریم کی حمد و ثناء کی اور عرض کی: اے اللہ! تیرا شکر ہے کہ تو نے اٰلِ رسول کے گستاخ کو سزا دی۔ (سوانحِ کربلا، ص 138 ماخوذاً۔ کرامات امامِ حسین، ص 7 ملخصاً)
بیان کردہ واقعہ سے ایک تو حضرتِ سَیِّدُنا امامِ حُسین رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کی شان و شوکت اور بارگاہِ الٰہی میں مقام و مرتبہ ظاہر ہو رہا ہے کہ ابھی آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کی زبان سے الفاظ نکلے ہی تھے کہ فوراً اللہ پاک کی بارگاہ میں قبول ہوئے اور وہ گستاخ و بد بخت دنیا و آخرت میں ذلیل و رسوا ہوا اور آگ کے عذاب میں مبتلا ہو کر موت کے گھاٹ اتر گیا۔ دوسرا یہ بھی معلوم ہوا کہ جب کوئی ہماری دل آزاری کرے یا بدتمیزی کرے، بے شرمی اور بے حیائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بدسلوکی کرے، گالی دے، یا بے حیائی کی بات کہے تو کوئی انتقامی کاروائی کرنے کی بجائے اپنا معاملہ اللہ پاک کے سپرد کر دینا چاہیے اور اس کی باتوں پر صبر کرنا چاہئے اور صبر کا ذہن بنانے کے لئے ان مُقَدّس ہستیوں پر میدانِ کربلا میں پیش آنے والی مصیبتوں پر غور کرنا چاہئے کہ:
صبر کی عادت بنائیے
میدانِ کربلا میں حضرتِ امامِ حُسین رَضِیَ اللہُ عَنْہُ پر جان، مال، اولاد، بھوک، پیاس، خوف اور طعنے بازی جیسی سب آزمائشیں آئیں، آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کے نانا جان، دوعالم کے سلطان صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا کلمہ پڑھنے والے آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کے جانی دشمن بن گئے اور آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کو طرح طرح کی تکلیفیں دینے لگے، آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کے بھائیوں، بیٹوں، بھانجوں اور بھتیجوں کو شہید کیا گیا، آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کے رفقاء کو تکلیفیں دی گئیں، آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کے خاندان والوں کو ستایا گیا، مگر پھر بھی آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہ ان تمام آزمائشوں میں سرخ رُو ہوئے، صبر و استقامت کا پہاڑ بنے رہے، رضائے الٰہی پر راضی رہتے ہوئے زبان سے حمدِ الٰہی بجا لاتے رہے اور ان بد بختوں کو برابر نیکی کی دعوت اور اسلام کی تعلیمات دیتے رہے، ایک لفظ بھی بے صبری کا ادا نہ کیا حتی کہ سجدے کی حالت میں اپنی جان کا نذرانہ بارگاہِ خداوندی میں پیش کر دیا۔
لہٰذا ہمیں چاہئے کہ ان اللہ والوں کی سیرتِ طیبہ پر عمل کرتے ہوئے خوب نیکی کی دعوت عام کریں، اسلامی بھائیوں کو گناہوں سے بچانے کے لئے کوشاں رہیں، راہِ خدا میں آنے والی مصیبتوں پر صبر کریں اور اس مُبارک دن میں تلاوتِ قرآن، ذکر و درود، صدقہ و خیرات، نوافل کی کثرت اور نذر و نیاز کی صورت میں ان عظیم ہستیوں کو خراجِ عقیدت پیش کریں اور ان کی بارگاہ میں خوب خوب ایصالِ ثواب کریں۔ یاد رکھئے! فی زمانہ اس بابرکت دن پر جو لوگ ٹھنڈے مشروبات اور کھچڑے پر امامِ حُسین رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کی فاتحہ دلاتے ہیں، یہ جائز و مستحب اور نیکیوں بھرا کام ہے۔
حضرت حق سبحانہ و تبارک و تعالیٰ ہمیں کہنے سننے سے زیادہ استقامت کے ساتھ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم۔
