Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

حضرت فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا کے نکاح کا تذکرہ | محمد عارف رضا قادری امجدی

حضرت فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا کے نکاح کا تذکرہ
عنوان: حضرت فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا کے نکاح کا تذکرہ
تحریر: محمد عارف رضا قادری امجدی

مخدومہِ کائنات، جگر پارہِ مصطفی، سیدتنا خاتونِ جنت رضی اللہ عنہا عالمِ طفولیت سے جب عالمِ بلوغیت میں پہنچیں تو حضور سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمتِ عالی میں آپ کے لیے بہت سے پیغام آئے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر پیغام کو یہ کہہ کر رد فرما دیا کہ مجھے اس معاملے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار ہے۔ ہم ذرا قدرے تفصیل کے ساتھ حضرت فاطمتہ الزہرا کے نکاح کے متعلق معتبر و مستند کتابوں کے حوالہ جات کی روشنی میں کچھ اہم اور ضروری باتیں تحریر کر رہے ہیں، ملاحظہ فرمائیے۔

تاریخِ نکاح اور عمرِ مبارک

صحیح ترین روایت کے مطابق حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے هجرت کے دوسرے سال رمضان المبارک میں حضرت خاتونِ جنت کی شادی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمادی۔ بعض نے رجب میں نکاح ہونے کا ذکر کیا ہے اور بعض ماہِ صفر بھی کہتے ہیں۔ وقتِ نکاح حضرت فاطمتہ الزہرا کی عمر شریف 15 سال ساڑھے پانچ ماہ تھی۔ بعض کہتے ہیں 16 سال اور بعض 18 سال بھی کہتے ہیں، اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی عمر مبارک اکیس (21) سال پانچ ماہ تھی۔

حضرت علی نے حضرت فاطمہ کی زندگی میں کوئی دوسری شادی نہیں کی۔ ہاں البتہ ایک دفعہ ارادہ کیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اے علی! اس سے فاطمہ کو تکلیف پہنچے گی اور فاطمہ کی تکلیف میری تکلیف کا باعث بنتی ہے۔

بارگاہِ رسالت میں پیغامِ نکاح

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اور احمد نے بھی ایک ایسی ہی روایت بیان کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکر و حضرت عمر رضی اللہ عنہما بھی حضرت فاطمہ کے نکاح کے پیغام کے لیے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہِ عالیہ میں حاضر ہوئے تو آپ نے انکار فرما دیا اور ارشاد فرمایا کہ فاطمہ کے نکاح کے لیے مجھے وحیِ الہی کا انتظار ہے۔ اور دوسرے حضرت عمر کو فرمایا کہ فاطمہ ابھی خورد سال ہیں۔ پھر امِ ایمن رضی اللہ عنہا نے حضرت علی کو ترغیب دی۔

صواحق محرقہ میں ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صدیقِ اکبر و حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما کے پیغام کو رد فرما دیا تو ان دونوں حضرات نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اس معاملے میں ترغیب دی اور فرمایا: اے علی! آپ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل اور خواص میں سے ہیں، آپ جا کر حضرت فاطمہ کے لیے پیغام دے دیجیے۔ چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ان دونوں کے کہنے کے مطابق حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی بارگاہِ عالیہ میں پہنچے اور سلام عرض کیا۔ حضور نے سلام کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: اے ابو طالب کے فرزند! کیا بات ہے؟ کیسے آنا ہوا؟ حضرت علی عرض کرتے ہیں کہ میں آپ کی بارگاہ میں اس لیے حاضر ہوا ہوں کہ میں فاطمہ کا پیغام اپنے لیے پیش کروں۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے "مرحبا و اھلا" فرمایا اور اس سے زیادہ کچھ نہ فرمایا Char۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں موجود تھا کہ اس وقت حضور پر وہ کیفیت طاری ہوئی جس کا نزولِ وحی کے وقت ظہور ہوتا ہے۔ پھر جب آپ کی حالت معمول پر آئی تو آپ نے مجھ سے فرمایا کہ اے انس! رب العرش کے پاس سے میرے حضور جبرئیل علیہ السلام آئے اور کہا کہ حق تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ فاطمہ کا نکاح علی مرتضیٰ کے ساتھ کر دو۔ تو اے انس جاؤ اور ابو بکر و عمر و عثمان و طلحہ و زبیر اور جماعتِ انصار کو بلا لاؤ۔ جب یہ سب حاضر ہو گئے تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بلیغ خطبہ دیا جس میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اور نکاح کی ترغیب فرمائی۔

ادائے مہر اور تفاصیلِ جہیز

اس کے بعد حضرت علی سے پوچھا کہ ادائے مہر کے واسطے تمہارے پاس کیا ہے؟ حضرت علی نے جواب دیا کہ ایک گھوڑا اور ایک زرہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم مجاہد ہو اور گھوڑا جہاد کے لیے ضروری ہے، زرہ کو فروخت کر ڈالو۔ چنانچہ وہ زرہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے 480 درہم میں خرید لی (جو بعد میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بطورِ ہدیہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو واپس کردی)۔ حضرت علی نے پوری پوری رقم لا کر حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی بارگاہ میں پیش کر دی۔ حضور نے اس میں سے کچھ حضرت بلال کو دیا کہ خوشبو خرید لائیں اور کچھ رقم جہیز وغیرہ کے لیے حضرت امِ سلیم رضی اللہ عنہا کے حوالے کر دی۔

انہوں نے اس رقم سے دو چادریں، دو کتان والی چادریں اوڑھنے کے لیے، چار بالشت کپڑا، دو چاندی کے بازو بند، گدا، تکیہ، ایک پیالہ، ایک چکی، ایک مشکیزہ اور کچھ مشروبات وغیرہ خریدے اور ان کو ترتیب کے ساتھ رکھ دیا۔ ایک اور روایت میں حضرت فاطمہ کے جہیز کے متعلق لکھا ہے کہ اس میں بان کی ایک چارپائی، ایک لحاف، ایک چمڑے کا تکیہ (بستر) جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی، دو چکیاں، ایک مشکیزہ اور دو گھڑے شامل تھے۔ (سیرتِ رسولِ عربی، ص 619 - روضتہ الشہداء، ج 1، ص 292)

اس کے بعد حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی لاڈلی بیٹی حضرت فاطمہ کا نکاح حضرت علی کے ساتھ چار سو مثقال چاندی پر مہر باندھا اور فرمایا: اے علی! تم قبول کرتے ہو اور اس پر راضی ہو؟ حضرت علی نے عرض کیا: میں نے قبول کیا اور میں راضی ہوا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح پڑھا دیا۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک طباق کھجوروں کا لیا اور جماعتِ صحابہ پر بکھیر کر لٹایا۔ اسی بناء پر فقہاء کی ایک جماعت کہتی ہے کہ کھجور و بادام وغیرہ کا نکاح کی مجلس میں بکھیر کر لٹانا مستحب ہے۔ (مدارج النبوہ، ج 2، ص 127 - فتاویٰ رضویہ، ج 5، ص 325)

فرشتہ صرصائیل کی آمد اور عقدِ آسمانی

صاحبِ روضتہ الشہداء، حضرت علامہ معین کاشفی ابو الموئید خوارزمی کی کتاب "مناقبِ خوارزمی" سے یہ روایت نقل فرماتے ہیں کہ ایک روز حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم ام المؤمنین حضرت امِ سلمہ رضی اللہ عنہا کے دولت کدہ پر جلوہ افروز تھے کہ ایک فرشتہ خدمتِ عالیہ میں حاضر ہوا جس کے بیس (20) سر تھے اور ہر سر میں ایک ہزار (1000) زبان تھی، ہر زبان سے اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تہلیل کرتا تھا۔ اس کی ہتھیلی ساتوں آسمان اور ساتوں زمین سے زیادہ کشادہ تھی۔ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے استفسار پر اس فرشتے نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں صرصائیل فرشتہ ہوں، حق تعالیٰ نے مجھے آپ کی خدمت میں نور کی نور کے ساتھ شادی کے لیے بھیجا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے صرصائیل! کس کا کس کے ساتھ عقد کروں؟ تو فرشتہ صرصائیل نے عرض کیا: حضرت فاطمہ کا نکاح حضرت علی (رضی اللہ عنہما) کے ساتھ فرما دیجیے گا۔

پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبرئیل و حضرت میکائیل کو گواہ بنا کر اس فرشتے کی موجودگی میں اپنی بیٹی کا نکاح حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کر دیا تو سیدہ فاطمہ رونے لگیں۔ (صاحبِ روضتہ الشہداء نے لکھا ہے کہ یہ رونا حضرت فاطمہ کا اپنے باپ کے گھر سے جدائی کی وجہ سے تھا۔ ان لوگوں کا یہ خیال غلط ہے جو کہتے ہیں کہ حضرت فاطمہ اس لیے روئی تھیں کہ حضرت علی کے گھر میں دنیاوی مال و متاع نہیں تھی، اس لیے کہ سیدہ فاطمہ نے پہلے ہی اپنے والدِ گرامی کی تعلیم و تربیت سے اپنے آپ کو دنیا سے الگ تھلگ کر لیا تھا اور فقر و فاقہ تو ان کی امتیازی شان تھی)۔ اس پر حضور نے ان سے دریافت فرمایا: میری لختِ جگر! کس بات سے تم رونے لگیں؟ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! آپ نے ایسے شخص کے ساتھ نکاح کر دیا ہے جس کے پاس نہ مال ہے اور نہ کوئی چیز۔ اس پر حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

أَمَا تَرْضَيْنَ يَا فَاطِمَةُ أَنَّ اللَّهَ اخْتَارَ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ رَجُلَيْنِ جَعَلَ أَحَدَهُمَا أَبَاكِ وَالْآخَرَ بَعْلَكِ۔

یعنی اے فاطمہ! کیا تم اس سے راضی نہیں کہ حق تعالیٰ نے زمین سے دو شخصوں کو برگزیدہ بنایا ہے جن میں سے ایک تمہارا والد ہے اور دوسرا تمہارا شوہر ہے۔ اور حاکم نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

أَمَا تَرْضَيْنَ أَنِّي زَوَّجْتُكِ أَقْدَمَ أُمَّتِي سِلْمًا وَأَكْثَرَهُمْ عِلْمًا وَأَعْظَمَهُمْ حِلْمًا۔

یعنی اے فاطمہ! کیا تم اس سے راضی نہیں کہ میں نے تمہاری شادی اس سے کی ہے جو ازروئے اسلام سب سے پہلے مسلمانوں میں سے ہے اور علم و حلم کے اعتبار سے ان سب سے دانا ترین ہے۔

دعاِ برکت اور غسلِ تطہیر

صاحبِ مدارج النبوہ لکھتے ہیں کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی کا عقد حضرت علی کے ساتھ فرما دیا تو ان کے کاشانہ پر تشریف لے گئے اور حضرت سیدہ فاطمہ سے فرمایا: تھوڑا پانی لاؤ۔ پھر سیدہ فاطمہ نے لکڑی کا پیالہ لیا اور اس میں پانی بھرا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں پیش کر دیا۔ حضور نے پانی لے کر اپنا لعابِ دہن مبارک اس میں ڈالا اور سیدہ فاطمہ سے فرمایا: قریب آؤ۔ وہ قریب آئیں تو حضور نے اس پانی کو ان کے سینہ کے درمیان اور سر پر چھڑکا اور فرمایا:

اللَّهُمَّ إِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ۔

یعنی اے اللہ! میں ان کو اور ان کی اولاد کو تیری پناہ میں دیتا ہوں شیطانِ رجیم سے۔ پھر فرمایا: پانی اور لاؤ۔ حضرت علی فرماتے ہیں کہ میں سمجھ گیا کہ اب حضور کیا کریں گے، تو میں کھڑا ہوا اور پانی بھر کر لایا۔ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے اس پانی کو لیا اور اس میں لعابِ دہن مبارک ڈالا اور مجھ سے فرمایا: میرے سامنے آؤ۔ میں حضور کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ حضور نے پانی کے چھینٹے میرے سر اور میرے چہرے پر دیے اور فرمایا:

اللَّهُمَّ إِنِّي أُعِيذُهُ بِكَ وَذُرِّيَّتَهُ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ۔

یعنی اے اللہ! میں ان کو اور ان کی اولاد کو تیری پناہ میں دیتا ہوں شیطانِ رجیم سے۔ اس کے بعد فرمایا: بسم اللہ والبرکہ کہہ کر اپنی زوجہ کے پاس جاؤ۔ (مدارج النبوۃ، ج 2، ص 129)

دعوتِ ولیمہ

دوسرے دن حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ولیمہ کیا اور صحابہ کرام میں انصار و مہاجرین کو ملا کر سات سو آدمیوں نے اس میں شرکت فرمائی۔ ولیمہ کے کھانے میں باختلافِ روایت خرما، روغن, پنیر، چند صاع کھجوریں اور جو کا کھانا تھا۔

واللہ تعالیٰ اعلم ورسولہ الاعلم عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم۔ اللہ رب العزت ہمیں سیرتِ طیبۂ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!