بیس رکعت تراویح کا ثبوت اور حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا (قسط: اول)|مولانا حسان المصطفی قادری امجدی

بیس رکعت تراویح کا ثبوت اور حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا (قسط: اول)
عنوان: بیس رکعت تراویح کا ثبوت اور حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا (قسط: اول)
تحریر: مولانا حسان المصطفی قادری امجدی
پیش کش: مسکان فاطمہ قادریہ
منجانب: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد

تراویح، یہ مفاعیل کے وزن پر جمع منتہی الجموع کا صیغہ ہے۔ اس کا مادہ "روح" آتا ہے، جس کا ماخذ راحت وسکون ہے۔ تراویح، ترویحہ کی جمع ہے۔ ترویحہ یہ عربی لفظ ہے، جس کا معنیٰ ہے رمضان کی رات میں چار رکعت نماز پڑھ لینے کے بعد آرام کرنے کے لیے بیٹھنا۔

علامہ ابن حجر عسقلانی فتح الباری شرح صحیح البخاری میں لفظ تراویح کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

التَّرَاوِيحُ جَمْعُ تَرْوِيحَةٍ وَهِيَ الْوَاحِدَةُ مِنَ الرَّاحَةِ [فتح الباری، ج: 4، ص: 250، رقم الحدیث: 2012]

علامہ ابن عابدین شامی فتاوی شامی میں فرماتے ہیں:

التَّرَاوِيحُ جَمْعُ تَرْوِيحَةٍ سُمِّيَتِ الْأَرْبَعَةُ بِهَا لِاسْتِرَاحَةٍ بَعْدَهَا [مبحث صلوۃ التراویح، ج: 2، ص: 493]

اہل علم بخوبی جانتے ہیں کہ عربی قواعد کے اعتبار سے جمع کا اطلاق تین یا تین سے زائد پر ہوتا ہے، جبکہ اردو میں جمع کا اطلاق دو پر بھی ہو سکتا ہے۔ ترویحہ چونکہ عربی لفظ ہے اور عربی ہی میں مستعمل بھی ہے، لہٰذا اس کی جمع تراویح کا اطلاق تین یا تین سے زائد مرتبہ آرام کے لیے بیٹھنے پر کیا جاسکتا ہے۔ جس کا حاصل یہ کہ تراویح کا جمع ہونے کے اعتبار سے بارہ رکعت یا سولہ رکعت یا بیس رکعت پر صادق آئے گا، یا بیس رکعت پر چار، چار رکعت کا اضافہ کرتے ہوئے بیس سے زائد رکعتوں پر اس کا اطلاق ہوگا۔ البتہ ہم لفظ تراویح کو بیس رکعت پر محمول کرتے ہیں، کیونکہ احادیث و آثار بیس رکعت ہی پر دلالت کرتی ہیں۔ یہی سنت رسول ہے، اس پر صحابہ کرام اور تابعین عظام رضی اللہ عنہم اجمعین کا عمل اور اجماع ہے، ائمہ مجتہدین، علمائے محققین کا یہی موقف ہے، نصوص فقہاء سے یہی ثابت ہے۔ خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم نے اس پر مواظبت فرمائی ان کا مواظبت و مداومت کرنا بیس رکعت تراویح کے سنت ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

عَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ مِنْ بَعْدِي

ترجمہ: میری سنت کو لازم پکڑو اور میرے بعد ہدایت یافتہ خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کے طریقے اختیار کرو۔

تراویح کو آٹھ رکعت پر محمول کرنے کی صورت میں دو ہی مرتبہ بیٹھنا پایا جائے گا۔ اور یہ ہرگز درست نہیں، کیونکہ آٹھ رکعت کی صورت میں دو مرتبہ بیٹھنے پر ترویحہ کی تثنیہ ترویحتین تو صادق آئے گا، تراویح کا لفظ ہرگز صادق نہ آئے گا۔ لہٰذا جو لوگ اسے آٹھ رکعت پر محمول کرتے ہیں ان سے گزارش ہے کہ ہرگز اسے تراویح نہ کہیں، بلکہ ترویحتین یا کوئی اور نام اس کے لیے تلاش کریں جس کا ذکر احادیث سے ثابت ہو۔

آئیے بیس رکعت تراویح کے ثبوت میں چند احادیث و آثار کا مشاہدہ کریں:

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي فِي رَمَضَانَ عِشْرِينَ رَكْعَةً [المعجم الکبیر للطبرانی، ج: 11، ص: 393 / مجمع الزوائد، ج: 3، ص: 172 / سنن کبری بیہقی، ج: 2، ص: 694]

ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان شریف میں بیس رکعت نماز تراویح ادا فرماتے تھے۔

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: خَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ لَيْلَةٍ فِي رَمَضَانَ فَصَلَّى النَّاسَ أَرْبَعَةً وَعِشْرِينَ رَكْعَةً وَالْوِتْرَ بِثَلَاثَةٍ [تاریخ جرجان، ص: 275]

ترجمہ: حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رمضان المبارک میں ایک رات حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے، اور صحابہ کرام کو چوبیس رکعتیں نماز پڑھائیں، یعنی: چار عشا کی فرض اور بیس رکعت تراویح کی اور تین رکعت وتر پڑھائی۔

أَنَّهُ صلى الله عليه وسلم صَلَّى بِالنَّاسِ عِشْرِينَ رَكْعَةً لَيْلَتَيْنِ، فَلَمَّا كَانَ فِي اللَّيْلَةِ الثَّالِثَةِ اجْتَمَعَ النَّاسُ فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ، ثُمَّ قَالَ مِنَ الْغَدِ: خَشِيتُ أَنْ تُفْرَضَ عَلَيْكُمْ فَلَا تُطِيقُوهَا [تلخیص الحبیر، ج: 2، ص: 21]

ترجمہ: حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو دو رات بیس رکعت تراویح پڑھائی، پھر جب تیسری رات آئی تو لوگ پھر جمع ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف نہ لائے، اور اگلے دن آپ نے فرمایا کہ مجھے خوف ہوا کہ یہ تم پر فرض کر دی جائے اور تم اس کی طاقت نہ رکھو۔ (متفق علی صحته)

تعامل صحابہ اور اجماع

حضرت یحییٰ بن سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَمَرَ رَجُلًا يُصَلِّي بِهِمْ عِشْرِينَ رَكْعَةً [مصنف ابن ابی شیبہ، ج: 2، ص: 163]

ترجمہ: حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک شخص سے فرمایا کہ صحابہ کرام کو بیس رکعت نماز تراویح پڑھائیں۔

حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

قَالَ: كُنَّا نَقُومُ فِي زَمَنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بِعِشْرِينَ رَكْعَةً وَالْوِتْرِ [السنن الکبریٰ للبیہقی، ج: 2، ص: 298]

ترجمہ: فرماتے ہیں: ہم صحابہ کرام حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے زمانے میں بیس رکعت تراویح کی نماز اور وتر پڑھتے تھے۔

امام نووی کا قول مرقات شرح مشکوۃ میں ہے کہ اس روایت کی اسناد صحیح ہے۔

قَالَ النَّوَوِيُّ فِي الْخُلَاصَةِ: إِسْنَادُهُ صَحِيحٌ [مرقاۃ المفاتیح، ج: 2، ص: 175]

حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی بیس رکعت تراویح کا حکم فرماتے۔ سنن کبریٰ وغیرہ کی روایت ہے:

عَنْ أَبِي الْحَسْنَاءِ، أَنَّ عَلِيًّا أَمَرَ رَجُلًا أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ خَمْسَ تَرْوِيحَاتٍ عِشْرِينَ رَكْعَةً [السنن الکبری للبیہقی، ج: 2، ص: 497 / مصنف ابن ابی شیبہ، ج: 2، ص: 285]

ترجمہ: حضرت ابو الحسناء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو پانچ ترویحہ کے ساتھ بیس رکعت تراویح پڑھائیں۔

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا موقف:

عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ يُصَلِّي بِنَا فِي شَهْرِ رَمَضَانَ وَعَلَيْهِ لَيْلٌ. قَالَ الْأَعْمَشُ: كَانَ يُصَلِّي عِشْرِينَ رَكْعَةً وَيُوتِرُ بِثَلَاثٍ [مختصر قیام اللیل، ص: 158]

ترجمہ: حضرت زید بن وہب فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہمیں رمضان شریف میں نماز پڑھاتے، فراغت کے بعد رات باقی ہوتی تھی۔ حضرت اعمش کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیس رکعت (تراویح) اور تین رکعت وتر پڑھاتے۔

امام ترمذی رحمہ اللہ تحریر فرماتے ہیں:

أَكْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ عَلَى مَا رُوِيَ عَنْ عَلِيٍّ وَعُمَرَ وَغَيْرِهِمَا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عِشْرِينَ رَكْعَةً وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَابْنِ الْمُبَارَكِ وَالشَّافِعِيِّ [جامع الترمذی، ص: 99]

ترجمہ: اکثر اہل علم نے بیس رکعت ہی کو مختار بتایا، جو حضرت علی، حضرت عمر اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سے مروی ہے۔ امام سفیان ثوری، امام ابن مبارک اور امام شافعی کا بھی یہی قول ہے۔

اجماع صحابہ کا ذکر کرتے ہوئے علامہ علاء الدین ابوبکر مسعود کاسانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

وَالصَّحِيحُ قَوْلُ الْعَامَّةِ لِمَا رُوِيَ أَنَّ عُمَرَ رضي الله عنه جَمَعَ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي شَهْرِ رَمَضَانَ عَلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ فَصَلَّى بِهِمْ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ عِشْرِينَ رَكْعَةً، وَلَمْ يُنْكِرْ عَلَيْهِ أَحَدٌ فَيَكُونُ إِجْمَاعًا مِنْهُمْ عَلَى ذَلِكَ [بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع، ج: 1، ص: 244]

ترجمہ: حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے رمضان شریف میں صحابہ کرام کو حضرت ابی بن کعب کی اقتدا میں جمع فرمایا تو وہ انہیں ہر شب بیس رکعت نماز پڑھاتے تھے، اور ان میں سے کسی بھی صحابی نے انکار نہیں کیا، لہٰذا بیس رکعت پر صحابہ کا اجماع ہو گیا، یہی قول صحیح ہے۔

تراویح کی رکعت سے متعلق ائمہ اربعہ کا مذہب کیا ہے؟ آئیے اس تعلق سے ان کے موقف پر ایک نظر ڈالتے ہیں:

امام شافعی رحمہ اللہ کا موقف

قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَهَكَذَا أَدْرَكْتُ بِبَلَدِنَا بِمَكَّةَ يُصَلُّونَ عِشْرِينَ رَكْعَةً [جامع الترمذی، ص: 99]

ترجمہ: امام شافعی فرماتے ہیں کہ میں نے ایسے ہی اپنے شہر مکہ مکرمہ میں پایا کہ وہاں لوگ بیس رکعت تراویح پڑھتے تھے۔

امام مالک رحمہ اللہ کا موقف

علامہ ابن رشد مالکی بدایۃ المجتہد میں رقمطراز ہیں:

فَاخْتَارَ مَالِكٌ فِي أَحَدِ قَوْلَيْهِ وَأَبُو حَنِيفَةَ وَالشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَدَاوُدُ الْقِيَامَ بِعِشْرِينَ رَكْعَةً سِوَى الْوِتْرِ، وَذَكَرَ ابْنُ الْقَاسِمِ عَنْ مَالِكٍ أَنَّهُ كَانَ يَسْتَحْسِنُ سِتًّا وَثَلَاثِينَ رَكْعَةً وَالْوِتْرَ ثَلَاثًا [بدایۃ المجتہد، ج: 1، ص: 219]

ترجمہ: امام مالک کا ایک قول اور امام ابوحنیفہ، امام شافعی، امام احمد بن حنبل اور امام داؤد رحمہ اللہ نے وتر کے علاوہ بیس رکعت پڑھنے کو اختیار فرمایا۔ امام مالک کا دوسرا قول جسے ابن قاسم نے ذکر کیا ہے کہ آپ رمضان میں چھتیس رکعت اور وتر پڑھنے کو پسند کرتے تھے۔

محمد بن عبدالوہاب نجدی

وہابیہ کے شیخ و امام ابن عبدالوہاب نجدی لکھتا ہے:

أَنَّ عُمَرَ رضي الله عنه لَمَّا جَمَعَ النَّاسَ عَلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ كَانَتْ صَلَاتُهُمْ عِشْرِينَ رَكْعَةً [فتاوی محمد بن عبدالوہاب نجدی، ص: 95]

ترجمہ: جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے صحابہ کو حضرت ابی بن کعب کی اقتدا میں جمع کیا تو ان کی نماز تراویح بیس رکعت تھی۔

ان کے علاوہ نواب صدیق حسن بھوپالی نے عون الباری میں، وحید الزماں حیدر آبادی نے ترجمہ موطا امام مالک میں، اسماعیل سلفی نے فتاوی سلفیہ میں، نور الحسن بھوپالی نے عرف الجادی میں، عبدالرحمن مبارکپوری نے تحفۃ الاحوذی میں بیس رکعت تراویح سے متعلق یہی لکھا اور تسلیم کیا۔

حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا

سلفیان زمانہ آٹھ رکعت کے ثبوت میں صحاح ستہ سے صرف یہی ایک روایت پیش کر سکے، جسے امام بخاری اور امام مسلم نے اپنی کتابوں میں درج کیا ہے۔ یہ روایت ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔ حضرت عائشہ کی اسی روایت نے انہیں شبہ میں مبتلا کر دیا ہے۔ حدیث یہ ہے:

عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ رضي الله عنها: كَيْفَ كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي رَمَضَانَ؟ فَقَالَتْ: مَا كَانَ يَزِيدُ فِي رَمَضَانَ وَلَا فِي غَيْرِهِ عَلَى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً، يُصَلِّي أَرْبَعًا فَلَا تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ، ثُمَّ يُصَلِّي أَرْبَعًا فَلَا تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ، ثُمَّ يُصَلِّي ثَلَاثًا. فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَنَامُ قَبْلَ أَنْ تُوتِرَ؟ قَالَ: يَا عَائِشَةُ، إِنَّ عَيْنَيَّ تَنَامَانِ وَلَا يَنَامُ قَلْبِي [صحیح البخاری، ج: 1، ص: 269 / صحیح مسلم، ج: 1، ص: 254]

ترجمہ: حضرت ابو سلمہ بن عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ رمضان شریف میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کیسی ہوتی تھی؟ آپ نے فرمایا کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان اور غیر رمضان میں گیارہ رکعت سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے۔ حضور چار رکعت پڑھتے تو تم ان کی حسن ادائیگی اور طول کے بارے میں نہ پوچھو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چار رکعت پڑھتے تو تم ان کے حسن اور طول کے بارے میں نہ پوچھو۔ پھر آپ تین رکعت پڑھتے۔ (حضرت عائشہ فرماتی ہیں) میں نے پوچھ لیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ وتر پڑھنے سے پہلے سو جاتے ہیں؟ آپ نے ارشاد فرمایا: اے عائشہ! میری آنکھیں سوتی ہیں، میرا دل نہیں سوتا۔

[حوالہ: ماہنامہ پیغام شریعت دہلی مئی، جون 2019 ص 23]

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!