| عنوان: | پورن ایڈکشن کی تباہ کاریاں |
|---|---|
| تحریر: | حکیم محمد نیاز احمد |
| پیش کش: | نازیہ ظفر بنت محمد شہاب الدین |
| منجانب: | لباب اکیڈمی |
جب ٹیلی ویژن نہیں تھا تو پورنوگرافک مواد رنگین اور سادہ میگزین کی صورت آیا کرتا تھا، پھر سینما پر انگریزی رنگین فلموں کی نمائش شروع ہوئی، پھر وی سی آر کا زمانہ آیا، گلی گلی ویڈیو سینٹرز کھلے اور وی سی آر کے ذریعے عام لوگوں کی رسائی فحش فلموں تک ہوئی، رنگین جنسی رسالوں سے پورن موویز کا سلسلہ شروع ہوا۔ بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی 1978 کے بعد عام ہوا، 1990 میں رنگین ٹی وی عام ہوئے تو ویڈیو سینٹرز کی دکانیں ہر گلی، محلے اور بازار میں کھلیں، جہاں چھپ چھپا کر پورن موویز دیکھی یا دکھائی جاتی تھیں یا وی سی آر پر لوگ کرائے پر لے لیا کرتے تھے، وہ بھی کسی شادی بیاہ پر۔ پھر وی سی ڈی اور ڈش آگئی، ویڈیو کیسٹس سے ڈی وی ڈی پلیئر آگئے، فحش فلموں کو اور زیادہ دیکھا جانے لگا۔ 2000 کے بعد انٹرنیٹ آیا تو انٹرنیٹ کیفے کھلے، وہاں بھی ہماری قوم کے نوجوان اندر بیٹھ کر سب کچھ کرتے تھے، انٹرنیٹ کیفے کھلنے کے بعد فحش فلموں کے منفی اثرات ہمارے معاشرے میں صاف طور پر محسوس کیے جانے لگے۔
آپ کو یاد ہو گا 2003 سے 2007 کے درمیان اسلام آباد انٹرنیٹ کیفے اسکینڈلز میں نوجوان لڑکے لڑکیوں کی سی سی ٹی وی (CCTV) ویڈیو ریکارڈنگ کے ویڈیو اسکینڈلز لیک ہوئے، درجنوں لڑکیوں نے خودکشیاں کر لیں۔ جگہ جگہ ویڈیو سینٹرز کے بعد انٹرنیٹ کیفے کھلنا شروع ہوئے جہاں لوگوں کو یاہو چیٹ (Yahoo Chat) اور یاہو سرچ (Yahoo Search) انجن چلانا آتا تھا، لیکن انٹرنیٹ کیفوں پر چیٹنگ اور پورن براؤزنگ کے لیے فحش فلموں کی لت کے شکار نوجوان آتے تھے۔ پورن دیکھنے کے بعد گلی محلوں میں چھوٹے بچے بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتیوں کے کیسز رپورٹ ہونا شروع ہوئے۔ یہ 2000 کے بعد کا زمانہ ہے، انٹرنیٹ کیفے اسکینڈلز کے بعد جنسی زیادتیوں کے کیسز معاشرے میں انتہائی تیزی کے ساتھ سر اٹھانے لگے۔
آج بھی آئے روز آپ جنسی زیادتیوں کے کیسز پڑھتے اور سنتے ہیں، ان سب کا سبب پورنوگرافک کنٹینٹ ہے جو انسانی ذہن کو مسلسل تباہ کاری کی طرف دھکیل رہا ہے اور انسان کو جانور بنا رہا ہے۔ اس منحوس لت کا سب سے بڑا نقصان ذہنی اور دماغی بگاڑ ہے۔ اس سے انسانی دماغ کے سامنے والا حصہ متاثر ہوتا ہے اور انسان کی قوت فیصلہ اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم ہوتی چلی جاتی ہے۔
جب سے موبائل آیا ہے انٹرنیٹ کے استعمال میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے۔ لڑکوں کے ساتھ کالج اور یونیورسٹیز کی لڑکیاں بھی اس بلا کا شکار نظر آتی ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق پورنوگرافک کنٹینٹ سرچ میں ہندوستان اور پاکستان ٹاپ رینک میں نظر آتے ہیں۔ میرے پاس جہاں مشت زنی کی ایڈکشن (Masturbation Addiction) کے کیسز آتے ہیں، وہیں پورن ایڈکشن (Porn Addiction) کے کیسز کے ساتھ ان وانٹڈ ہوموسیکشولٹی (Unwanted Homosexuality) کے کیسز بھی آتے ہیں۔ میں اپنے تجربے کی بنیاد پر یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ مشت زنی کی ایڈکشن کا شکار لڑکا یا لڑکی ضرور پورن ایڈکشن کا شکار ہوتے ہیں، یا پورن ایڈکشن کے شکار ضرور مشت زنی کی لت کا شکار ہوتے ہیں، جو سیکشول پرفارمنس انزائٹی (Sexual Performance Anxiety) کے ساتھ احساسِ گناہ (Guilt) کا شکار ہوتے ہیں۔ احساسِ گناہ اور پرفارمنس انزائٹی پورن دیکھنے والوں کی بڑھتی ہے جو اریکٹائل ڈسفنکشن (Erectile Dysfunction) اور سرعت انزال یعنی پری میچور ایجیکولیشن (Premature Ejaculation) کا سبب بھی بنتی ہے۔
میرے پاس ہم جنس پرستی کے کئی کیسز آئے جس میں پتا چلا کہ مریض پورن دیکھتا تھا اور اس میں بھی گے سیکس (Gay Sex) ہی صرف دیکھتا تھا۔ اب کچھ کیسز میں موربڈ ہوموسیکشولٹی کے شکار مریض خود سے ایسے لڑکوں کی تلاش کر لیتے ہیں، جبکہ کچھ ایسے ہوتے ہیں کہ بچپن سے ان کی سیکشول اٹریکشن (Sexual attraction) ڈویلپ ہو جاتی ہے، تو سب سے پہلے میں ان کی پورن ایڈکشن کا علاج کرتا ہوں پھر ان کی کونسلنگ اور تھراپی کی جاتی ہے۔
کچھ شادی شدہ مرد پورن دیکھتے ہیں اور کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو میاں بیوی مل کر پورن دیکھتے ہیں، یہ مل کر پورن دیکھنے والے آگے چل کر مزید پیچیدہ ازدواجی مسائل اور سوشل آئسولیشن کا شکار ہوتے ہیں، جب وہ مختلف قسم کے مناظر دیکھتے دیکھتے گروپنگ تک پہنچتے ہیں۔
میں نے پورن ایڈکشن کی ابتدا سے انتہا تک کی ساری تصویر آپ کے سامنے اس لیے رکھی ہے کہ شروع سے آخر تک یہ انسان سے انسانیت چھین لینے والی لت ہے۔ آئے دن گلی محلوں، شہروں، دیہاتوں میں تین سال، پانچ سال، سات سالہ بچے بچیوں کی لاشیں کھیتوں سے، کوڑے کے ڈھیروں سے مسخ شدہ ملتی ہیں، ان کے قاتل ان کے رشتے دار، محلہ دار، دکاندار ہی ہوتے ہیں جو پورن ایڈکشن کا شکار ہوتے ہیں۔
اگر اس کا علاج نہ کروایا جائے تو ایسے لوگ یا تو شدید ڈپریشن اور ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں اور خودکشی کی طرف چلے جاتے ہیں، اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ ان کی ازدواجی زندگی تباہ ہو جاتی ہے، فیملی لائف پر لطف نہیں رہتی۔ جس کلاس میں یہ لوگ وقت گزاری کرتے ہیں اس کلاس میں بھی کرائم ریٹ زیادہ ہوتا ہے، گویا، ہر سطح پر اس کے نقصانات ہی نقصانات نظر آتے ہیں۔
آج کے اس دور میں جہاں انٹرنیٹ کی رسائی بچوں، جوانوں اور بوڑھوں سب تک ہے، اگر کسی کو بھی یہ خبیث لت لگ گئی اور وہ اس کا شکار ہو گیا تو اس کا ذہن و دماغ اسی غلاظت میں آلودہ ہوتا ہے اور یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ایسا انسان کسی بھی وقت خود کو یا کسی دوسرے انسان کو شدید جسمانی اور روحانی نقصان پہنچا سکتا ہے۔
اس خبیث لت سے نجات کا بہترین راستہ یہ ہے کہ خود کو تعمیری کاموں میں مصروف رکھیں، خاص طور سے پنج وقتہ نماز کی پابندی کریں، کیونکہ بے شک نماز بے حیائیوں اور بری باتوں سے روکتی ہے۔ روزے سے مدد حاصل کریں کیونکہ روزہ شہوت کا زور توڑنے کے لیے اکسیر ہے۔ ایسے دوست بنائیں جو مثبت خیالات کے حامل ہوں، تنہائی سے حتی الامکان بچنے کی کوشش کریں، کام کے علاوہ جو وقت بچتا ہے اسے اپنے اہل خانہ اور بچوں کے ساتھ گزاریں، اپنی زندگی کا کوئی تعمیری مقصد متعین کریں اور اس مقصد کے حصول کے لیے ہر وقت کوشاں رہیں۔
ان تدابیر کے باوجود اگر من بھٹکتا ہے اور دل و دماغ میں برے خیالات آتے ہیں تو اپنا علاج کروائیں، کونسلنگ کے لیے ماہر نفسیات سے رابطہ کریں، اپنے لائف اسٹائل کو بہتر کریں۔ یاد رکھیں پورنوگرافک مواد ذہنوں کو آلودہ کرتا ہے، اس کے شکار مرد یا عورت کا ذہن کوڑے کے ڈھیر کی طرح ہوتا ہے، لہٰذا آلودگی ذہنی ہو یا فضائی، انسانیت کے لیے، انسان اور اس کے معاشرے کے لیے اور خود اس انسان کے لیے بھی انتہائی خطرناک ہوتی ہے۔ اگر آپ یا آپ کا کوئی دوست اس قسم کے مسائل کا شکار ہے تو کسی حکیم، ڈاکٹر یا کسی کلینیکل سائیکالوجسٹ کی خدمات حاصل کریں۔
