Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

سفر نامہ کیرالا (قسط دوم) | مولانا ابوتراب سرفراز احمد مصباحی

سفر نامہ کیرالا (قسط دوم)
عنوان: سفر نامہ کیرالا (قسط دوم)
تحریر: ابو تراب سرفراز احمد عطاری مصباحی

حضرت مالک دینار رضی اللہ عنہ کی بارگاہ میں حاضری:

شرکائے قافلہ غسل و وضو سے فارغ ہو کر ایک عظیم بارگاہ کی طرف روانہ ہو گئے جو قریب ہی تھی، بصد عجز و نیاز حاضری کا شرف حاصل کیا اور دعوتِ اسلامی کی ترقی اور بانیِ دعوتِ اسلامی امیرِ اہلِ سنت علامہ ابو بلال الیاس عطار قادری دامت برکاتہم العالیہ کی صحت و عافیت کے لیے بالخصوص دعا کی گئی۔ ساتھ مزار کی ایک مسجد میں کچھ احباب نے نوافل ادا کیے۔ حاضری کی سعادت تو الحمد للہ ملی، مگر کورونا حالات کی وجہ سے قریب سے مزار کی زیارت کا شرف نہ مل سکا۔ خیر یہ بھی کیا کم تھا کہ صاحبِ مزار نے اپنی بارگاہ میں باریابی کی اجازت دی۔ الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَلِكَ۔

کیرالا کا تعلیمی فیصد 95 کیسے؟

کیرالا ہند کا ایک ایسا صوبہ ہے جو متعدد ایسی خصوصیات کا حامل ہے جو ہند کے کسی بھی دوسرے صوبے میں نہیں۔ انگریز لٹیرے ہند آئے اور لوٹ مار مچائی، حکومت لوٹی، دین لوٹا، مال لوٹا اور نہ جانے کیا کیا لوٹا۔ دین کے نام پر مسلمانوں کو دنیاوی علوم سے دور کر کے خود اس پر قبضہ جمایا، آپس میں ہند باسیوں کو لڑا کر چند ملکوں میں تقسیم کر دیا۔ عقائد میں خلط ملط کر کے صالحین و علماء سے دور کیا۔ اور بہت کچھ کیا۔ مگر اس لوٹ مار سے کافی حد تک یہ صوبہ محفوظ رہا۔ یہاں کے مسلمان دینی علوم کے ساتھ ساتھ دنیاوی علوم میں بھی ماہر ہوتے ہیں، بلکہ یہاں کا تعلیمی فیصد انڈین سروے کے مطابق 95 فیصد ہے، یہ کوئی معمولی فیصد نہیں، اس کو یوں سمجھیے کہ اگر یہاں کے 100 افراد کو کھڑا کیجیے تو بمشکل اس میں 5 افراد ایسے ملیں گے جنہوں نے گریجویشن مکمل نہ کی ہو۔ اور بات رہی پرائمری کی تو اس کا فیصد 100 ہے۔ پرائمری سن کر یہ گمان نہ کیا جائے کہ یہ تو دنیاوی تعلیم ہوئی، تو قارئین! کیرالا کے پرائمری کا طالب علم یا تو مکمل حافظ ہو چکا ہوتا ہے یا کم از کم قرآن مجید مکمل ناظرہ پڑھ لیتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ دینی علوم کی بنیادی کتب بھی پڑھ لیتا ہے۔

ممکن ہے آپ کو حیرانی ہو کہ دینی و دنیاوی دونوں علوم میں مہارت کس طرح ممکن ہے؟

قارئین! یہ حیرانی آپ کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ کیرالا کے اس علاقے کے علاوہ ہر فرد کو ہو سکتی ہے۔ اور اس کی ایک بڑی وجہ ہے۔ اور وہ وجہ یہ ہے کہ ہم نے فطرتِ اسلام کو چھوڑ کر غیروں کے طریقے کو اپنا لیا ہے، فطرتِ اسلام تو یہ تھی کہ رات کے آخری پہر میں اٹھ کر بارگاہِ رب العزت میں مناجات کی جائے اور صبح کے بابرکت وقت میں علم و عمل کی برکات حاصل کی جائیں، مگر افسوس کہ ہماری اکثریت یا تو فجر تک قضا کر دیتی ہے یا اگر مدارس سے وابستہ طلبہ کی بات کی جائے تو فجر کے بعد سونے کا ماحول ہوتا ہے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانِ بابرکت سے نکلنے والی دعا کے مستحق بنتے۔

امید ہے اب کیرالا میں 95 فیصد تعلیم یافتہ لوگوں کی تعداد کی وجہ سمجھ میں آ گئی ہوگی، جی ہاں کیرالا کا عمومی رجحان مسلمانوں میں تہجد میں اٹھنے کا ہے، جبھی سے وہ تعلیم و تعلم کا آغاز کر دیتے ہیں، اور بعدِ فجر باقاعدہ کلاسز کا آغاز ہو جاتا ہے اور دن بھر تعلیم کا سلسلہ جاری و ساری رہتا ہے۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اسلامک ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ آف انڈیا کے ہیڈ علامہ شاہ الحمید باقوی دامت برکاتہم العالیہ نے ملاقات کے وقت فرمایا: آپ کیرالا میں بعدِ مغرب سے لے کر کسی بھی بچے کو گھر یا گھر کے باہر کھیلتا نہیں پائیں گے۔ کیوں کہ وہ اس وقت اپنے اسباق کی دہرائی میں لگا ہوتا ہے، بعدِ عشاء کچھ دیر پڑھ کر آرام کرتا ہے۔ جی ہاں یہی ہے فطرتِ اسلام کہ رات کے اول حصہ میں آرام کیا جائے اور آخری حصہ کو عبادت و تعلیم و تعلم میں گزارا جائے۔ اللہ کرے کہ ہم بھی اس پر عامل ہوں۔

جامعہ سعدیہ عربیہ کاسر گوڈ کا دورہ:

مزار سے فیضیاب ہونے کے بعد جامعہ سعدیہ کی طرف ہمارا قافلہ روانہ ہوا، وہاں کے سینئر استاذ علامہ عبد اللطیف شافعی صاحب قبلہ سے فون پر پہلے ہی رابطہ ہو چکا تھا، جامعہ سعدیہ اہلِ سنت کا ایک عظیم ادارہ ہے جو کہ مرکز الثقافۃ السنیہ سے قبل ہی سے دینی خدمات سرانجام دے رہا ہے۔ جس کے بانی نور العلماء علامہ عبد القادر مصلیار رحمۃ اللہ علیہ ہیں، 17 فروری 2015ء میں حضرت اس دنیائے فانی سے کوچ فرما گئے۔ اس جامعہ کے تحت دینی و دنیاوی مختلف علمی مراکز قائم ہیں جو طلبہ کی علمی تشنگی کی سیرابی کا سامان ہیں۔

جامعہ سعدیہ پہنچتے ہی سب سے پہلے ہماری ملاقات علامہ عبد اللطیف صاحب سے ہوئی، ہماری خوش قسمتی یہ کہ حضرت اردو اچھی طرح بول اور سمجھ لیتے ہیں، ورنہ کیرالا کے علاقے میں اردو سمجھنے والوں کی تعداد کافی کم ہے، البتہ عربی اور انگلش میں مہارت رکھنے والے کثیر تعداد میں ملیں گے۔ علامہ عبد اللطیف صاحب کی دعوتِ اسلامی سے محبت، مرحبا۔ اور آپ کی عاجزی بھی ماشاء اللہ۔ حضرت نے خود اپنے ہاتھوں سے ہم سب کو پانی پیش فرمایا، اور کافی دعاؤں سے نوازا۔ خدماتِ دعوتِ اسلامی کو سراہتے ہوئے فرمایا: یہاں آپ لوگوں کے مدنی کام کی بہت ضرورت ہے، تاکہ بدمذہبی سے یہ علاقہ محفوظ رہے۔ ورنہ آہستہ آہستہ یہاں بدمذہب جڑ پکڑتے جا رہے ہیں۔ مزید فرمایا کہ جو روحانیت دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول میں ہے وہ دوسری جگہ نظر نہیں آتی۔

میں تو یہ کہوں گا کہ یہ حضرت کا بڑا پن ہے، ورنہ تصوف سے رجحان حضرت کا اور شوافع کا کچھ زیادہ ہی مجھے نظر آیا۔

حضرت نے مزید فرمایا کہ آپ ہمارے طلبہ کو مدنی ماحول سے وابستہ کریں، اور انہیں اصلاحِ اعمال کورس کا ذہن دیں۔ اس کے لیے حضرت نے تمام طلبہ کو ایک ہال میں جمع ہونے کا پہلے ہی ارشاد فرما دیا تھا۔

اصلاحِ اعمال کورس کی ترغیب:

طلبہ ہال میں جمع ہو چکے تھے، مولانا عطاء المصطفیٰ مصباحی صاحب نے دعوتِ اسلامی کا تعارف پیش کیا، اور مفتی وسیم اکرم صاحب نے شوافع میں مدنی کام کے لیے افراد کی ضرورت پر روشنی ڈالتے ہوئے مدنی ماحول سے وابستگی کی ترغیب دلائی۔ نگرانِ مجلس مولانا شارق مدنی صاحب نے اصلاحِ اعمال کورس کی ترغیب دلائی اور مدنی مقصد “مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے، ان شاء اللہ عزوجل” طلبہ کو یاد کرایا۔ یہ ان طلبہ کے لیے ایک مشکل کام تھا، کیوں کہ وہ طلبہ عربی، انگلش اور ملیالم تو سمجھتے تھے مگر اردو نہیں سمجھتے تھے۔ ماشاء اللہ طلبہ کا ذوق دیکھنے کے لائق تھا۔ انتہائی شوق کے ساتھ طلبہ نے مدنی مقصد کو اپنی زبان میں نوٹ بھی کیا اور یک زبان ہو کر دہرائی بھی کی۔ اور سب نے اصلاحِ اعمال کورس کرنے کی نیت کا بھی اظہار کیا۔ (جاری)

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!