| عنوان: | قصۂ یوسف نہیں سنا؟ |
|---|---|
| تحریر: | محمد ارقم رضا ازہری |
| پیش کش: | ثمینہ پروین قادریہ رضویہ |
| منجانب: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد |
آج کل لوگ، آپسی اختلافات، یا اپنوں کی جانب سے ملنے والے مصائب، اور اپنوں کی دھوکہ دہی وغیرہ کے سلسلے میں، حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کا تذکرہ بطورِ مثال کرتے ہیں۔ جس سلسلے میں ایک شعر بڑا مشہور ہے:
کیا کہا؟ اپنوں سے امید رکھتے ہو؟
نادان ہو، قصۂ یوسف نہیں سنا؟
اور بھی اپنوں سے لڑائی کے موقع پر لوگ طرح طرح سے، برادرانِ یوسف علیہ السلام کا ذکر نامناسب طریقے پر کرتے ہیں۔ مسلمانوں کے ایمان کو کمزور کرنے کے لیے یہ فکر، دشمنانِ اسلام کی جانب سے مسلمانوں میں منتقل کی گئی، اور مسلمانوں نے بڑی خوشی سے اس کو قبول بھی کر لیا، اور اس شنیع فعل میں ملوث ہو گئے۔
یاد رکھیں! سیدنا یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کا تذکرہ خیر کے ساتھ کرنا لازم ہے، ان کے بارے میں نازیبا کلمات کہنا، یا غلط مقام پر ان کو بطورِ تمثیل ذکر کرنا سخت حرام ہے۔ امامِ اہل سنت اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ والرضوان نے فتاویٰ رضویہ شریف میں ایک فتویٰ لکھا:
"ان کی نسبت کلماتِ ناشائستہ لانا بہرحال حرام ہے، ایک قول ان کی نبوت کا ہے۔ اور ظاہرِ قرآنِ عظیم سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے، قال تعالیٰ:
قُولُوا آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا وَمَا أُنْزِلَ إِلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَالْأَسْبَاطِ وَمَا أُوتِيَ مُوسَىٰ وَعِيسَىٰ وَمَا أُوتِيَ النَّبِيُّونَ مِنْ رَبِّهِمْ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْهُمْ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ.
(اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے) تم کہو: ہم اللہ پر اور جو ہماری طرف نازل کیا گیا ہے اس پر ایمان لائے، اور اس پر جو ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کی اولاد کی طرف نازل کیا گیا، اور موسیٰ اور عیسیٰ کو دیا گیا، اور جو باقی انبیاء کو ان کے رب کی طرف سے عطا کیا گیا۔ ہم ایمان لانے میں ان میں سے کسی کے درمیان فرق نہیں کرتے اور ہم اللہ کے حضور گردن رکھے ہوئے ہیں۔
اسباط یہی ابنائے یعقوب علیہ السلام ہیں، اس تقدیر پر تو ان کی توہین کفر ہوگی، ورنہ اس قدر میں شک نہیں کہ وہ اولیائے کرام سے ہیں، اور جو کچھ ان سے واقع ہوا اپنے باپ کے ساتھ محبتِ شدیدہ کی غیرت سے تھا، پھر وہ بھی رب العزت نے معاف کر دیا۔ اور یوسف علیہ السلام نے خود عفو فرمایا:
قَالَ لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ ۖ يَغْفِرُ اللَّهُ لَكُمْ ۖ وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ.
فرمایا: آج تم پر کوئی ملامت نہیں، اللہ تمہیں معاف کرے اور وہ سب مہربانوں سے بڑھ کر مہربان ہے۔
اور یعقوب علیہ السلام نے فرمایا:
سَوْفَ أَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّي ۖ إِنهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ.
عنقریب میں تمہارے لیے اپنے رب سے مغفرت طلب کروں گا، بیشک وہی بخشنے والا، مہربان ہے۔
بہر حال ان کی توہین سخت حرام ہے، اور باعثِ غضبِ ذوالجلال والاکرام ہے، رب عزوجل نے کوئی کلمہ ان کی مذمت کا نہ فرمایا، دوسرے کو کیا حق ہے؟ مناسب ہے کہ توہین کرنے والا تجدیدِ اسلام و تجدیدِ نکاح کرے کہ جب ان کی نبوت میں اختلاف ہے اس کے کفر میں اختلاف ہوگا اور کفرِ اختلافی کا یہی حکم ہے۔"
(فتاویٰ رضویہ، ج 15، ص: 164-165، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاہور) [سہ ماہی قلم، ص: 130]
