| عنوان: | ذات و صفاتِ باری تعالیٰ کے متعلق عقائد (قسط: سوم) |
|---|---|
| تحریر: | اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی قدس سرہ |
| پیش کش: | مہرتاج |
| منجانب: | اقراء القرآن اکیڈمی |
ذات و صفاتِ باری تعالیٰ کے متعلق عقائد (قسط: سوم)
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہ نے ذات و صفاتِ باری تعالیٰ کے متعلق ضروری عقائد کو اپنے رسالہ ”اعتقاد الاحباب“ میں نہایت ہی مختصر، جامع اور نپے تلے کلمات میں رقم کر دیا ہے۔ فرماتے ہیں:
حضرتِ حق سبحانہ و تبارک و تعالیٰ شانہ واحد ہے، نہ عدد سے۔ خالق ہے، نہ علت سے۔ فعال ہے، نہ جوارح سے۔ قریب ہے، نہ مسافت سے۔ ملک (بادشاہ) ہے مگر بے وزیر، والی بے مشیر۔ حیات و کلام و سمع و بصر و ارادہ و قدرت و علم و غیرہا تمام صفاتِ کمال سے ازلاً ابداً موصوف۔ تمام شیون و شین و عیب سے اولاً و آخراً بری۔ ذاتِ پاک اس کی ند و ضد، شبیہ و مثل، کیف و کم، شکل و جسم و جہت و مکان و امدِ زمان سے منزہ۔ نہ والد ہے، نہ مولود۔ نہ کوئی شے اس کے جوڑ کی۔ اور جس طرح ذاتِ کریم اس کی مناسبتِ ذوات سے مبرا اسی طرح صفاتِ کمالیہ اس کی مشابہتِ صفات سے معرا۔ اوروں کے علم و قدرت کو اس کے علم و قدرت سے فقط ع، ل، م، ق، د، ر، ت میں مشابہت ہے، اس سے آگے اس کی تعالی و تکبر کا سرا پردہ کسی کو بار نہیں دیتا۔ تمام عزتیں اس کے حضور پست، اور سب ہستیاں اس کے آگے نیست، بقا اس کے وجہِ کریم کے لیے ہے، باقی سب کے لیے فنا، وجودِ واحد، موجودِ واحد، باقی سب اعتبارات ہیں۔ ذراتِ اکوان کو اُس کی ذات سے ایک نسبتِ مجہولۃ الکیف ہے جس کے لحاظ سے من و تو کو موجود و کائن کہا جاتا ہے، اور اس کے آفتابِ وجود کا ایک پر تو ہے کہ کائنات کا ہر ذرہ نگاہِ ظاہر بیں میں جلوہ آرائیاں کر رہا ہے، اگر اس نسبت و پر تو سے قطع نظر کی جائے تو کا میدان عدمِ بحت کی طرح سنسان، موجودِ واحد ہے نہ وہ واحد جو چند سے مل کر مرکب ہوا، نہ وہ واحد جو چند کی طرف تحلیل پائے، نہ وہ واحد جو بہ تہمتِ حلول و عینیت اوجِ وحدت سے حضیضِ اثنینیت (دوئی کی پستی) میں اتر آئے۔ آیتِ کریمہ ”سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ“ جس طرح شرک فی الالوہیت کو رد کرتی ہے یونہی اشتراک فی الوجود کی بھی نفی فرماتی ہے۔ [ملخصاً رسالہ اعتقاد الاحباب، فتاویٰ رضویہ، ج: 29، ص: 339 تا 344]
علمِ کلام کی کتب میں اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات سے متعلق تفصیل سے کلام کیا گیا ہے، مثلاً اس کے واجب الوجود ہونے، اور واحد ہونے پر دلائل، پھر صفاتِ ثبوتیہ اور صفاتِ سلبیہ کے متعلق تفصیلات درج ہیں۔ قرونِ اولیٰ کے بعد ہی سے اللہ تعالیٰ کے جسم و جہت و مکان کے متعلق مختلف نظریات اور توجیہات منظرِ عام پر آئیں، مجسمہ، مشبہ اور معطلہ جیسے فرقوں کی گمراہیوں کی گرم بازاری رہی، جس کا ردِ بلیغ ائمہ اعلام نے اسی دور میں کر دیا۔ مگر دورِ آخر میں جب وہابیت کا آغاز ہوا انھوں نے سابقہ گمراہ فرقوں کے باقیات کو نیا روپ دے کر پیش کیا، بلکہ ان کے گمراہ کن استدلال کی کچھ اور ہی اونچی اڑان رہی، پھر ان کی بھر پور خبر لینے کو مشیتِ ایزدی نے مجددِ دین و ملت امام احمد رضا قدس سرہ کو پیدا فرما دیا، جنھوں نے اُن کے گمراہ کن نظریات اور تمام تر شبہات و خرافات کو دلائلِ قاہرہ کے ذریعہ بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکا۔
ان گمراہیوں کا سبب یا تو صفاتِ باری تعالیٰ کے سمندر میں اپنی عقلِ نارسا کے گھوڑے دوڑانا ہے، یا آیاتِ متشابہات میں غور و خوض کرنا ہے، دونوں ممنوع تھا، لہٰذا امام احمد رضا قدس سرہ نے عقیدہ صفاتِ الٰہی کے متعلق جو تجدیدی کارنامے انجام دیے ان کا آغاز ہم یہیں سے کرتے ہیں کہ آیاتِ متشابہات کے متعلق آپ کے کیا افادات ہیں۔
آیاتِ متشابہات کے متعلق اہل سنت کا عقیدہ
امام احمد رضا قدس سرہ باری تعالیٰ کے لیے جسم و مکان و جہت کے رد میں اپنی بے نظیر تصنیف ”قوارع القہار“ میں فرماتے ہیں:
اللہ تعالیٰ نے قرآن ہدایت فرمانے اور آزمانے کو نازل کیا، اور فرمایا اس سے بہتوں کو ہدایت دیتا ہے بہتیروں کو گمراہ کرے۔ اس ہدایت و ضلالت کا منشا قرآنی آیات کا دو طرح کا ہونا ہے، یعنی محکمات جن کے معنی واضح ہیں، اور متشابہات جن کے معنی واضح نہیں، یا تو ظاہرِ لفظ سے کچھ سمجھ ہی نہیں آتا جیسے حروفِ مقطعات، یا جو سمجھ میں آتا ہے وہ اللہ تعالیٰ پر محال ہے جیسے ”الرَّحْمَنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَى“۔ پھر گمراہ لوگ بے علم اور سادہ لوح افراد کو بہکانے کے لیے آیاتِ متشابہات استعمال کرنے لگے کہ دیکھو قرآن میں آیا ہے اللہ عرش پر بیٹھا ہے، عرش پر ٹھہر گیا ہے، اور آیاتِ محکمات کو بھلا دیے۔ قرآنِ عظیم میں تو استوا وارد ہے جس کا معنی چڑھنا بیٹھنا ضروری نہیں، اہل حق اور راسخین فی العلم جانتے ہیں کہ آیاتِ محکمات سے قطعاً ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ جسم و اعراض، جہت و مکان سے پاک ہے، چڑھنا بیٹھنا مراد ہو تو عرش جو مخلوقِ الٰہی ہے اس کی طرف اللہ کی حاجت نکلے گی اور وہ ہر حاجت سے پاک ہے، اٹھنا بیٹھنا، چڑھنا، اترنا اجسام کے کام ہیں اور وہ ہر مشابہتِ خلق سے پاک ہے، تو یقیناً ان لفظوں کے جو ظاہری معنی سمجھ میں آتے ہیں وہ مراد نہیں۔ پھر آخر کیا معنی لیں۔
آیاتِ متشابہات میں اہل حق کے دو مذاہب کا بیان
اس سلسلے میں اہل حق کے دو مذہب ہیں۔ اکثر حضرات کا مذہب یہ ہے کہ جب ظاہری معنی قطعاً مقصود نہیں اور تاویلی مفہوم متعین و محدود نہیں تو ہم اپنی طرف سے کیا کہیں، بہتر ہے کہ اس کا علم اللہ پر چھوڑ دیں، ہمیں ہمارے رب نے آیاتِ متشابہات کے پیچھے پڑنے سے منع فرمایا، اور تعیینِ مراد میں غور و خوض سے منع فرمایا۔ ہم اُسی قدر پر قناعت کریں جو ہمارے رب نے فرمایا ”آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِنْ عِنْدِ رَبِّنَا“۔ یہ مذہب جمہور ائمہ سلف کا ہے، اور یہی اسلم و اولیٰ ہے، اسے مسلکِ تفویض و تسلیم کہتے ہیں۔ ان ائمہ نے فرمایا: استواء معلوم ہے کہ اللہ کی صفت ہے، اس کی کیفیت مجہول ہے، اس پر ایمان واجب ہے اور اس کے متعلق سوال بدعت ہے۔
دوسرے گروہ کا مذہب یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے محکم و متشابہ دو قسمیں فرما کر محکمات کو ام الکتاب کہا اور ظاہر ہے کہ ہر فرع اپنی اصل کی طرف پلٹتی ہے تو آیتِ کریمہ نے تاویلِ متشابہات کا طریقہ خود بتا دیا، کہ ان میں وہ احتمالات نکالو جس سے وہ اصل کے مطابق ہو جائیں، اور باطل و محال کو راہ نہ ملے۔ یہ ضرور ہے کہ اپنے نکالے ہوئے معنی پر یقین نہیں کر سکتے کہ اللہ تعالیٰ کی یہی مراد ہے، مگر جب یہ معنی، محکمات کے خلاف نہیں اور عربی استعمال کے اعتبار سے بھی یہ معنی بن سکتے ہیں تو بیان کرنے میں کیا حرج ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ بعض عوام الناس اتنی بات پر قناعت نہیں کر پاتے کہ ہم اس کے معنی میں کچھ نہیں کہہ سکتے، بلکہ جب روکا جائے گا تو خواہ مخواہ فکر کی حرص بڑھے گی پھر فتنے میں پڑنے کا اندیشہ ہوگا، اس لیے بہتر ہے کہ متشابہات کے معنی محکمات کے مطابق معنی کی طرف پھیر دیے جائیں کہ فتنہ و ضلال سے نجات پائیں، یہ مسلک علمائے متاخرین کا ہے، اسے مسلکِ تاویل کہتے ہیں۔
متشابہات میں چار تاویلات
آیاتِ متشابہات میں علمائے متاخرین چار تاویلات کرتے ہیں:
-
استواء بمعنی قہر و غلبہ ہے، یعنی عرش سب مخلوقات سے اوپر ہے اس لیے اس پر اللہ تعالیٰ کے قہر و غلبہ کا ذکر فرمایا۔
-
استواء بمعنی علوِ ملکیت و علوِ سلطان ہے، یہ دونوں معنی امام بیہقی نے کتاب الاسماء والصفات میں ذکر کیے۔
-
استواء بمعنی قصد و ارادہ۔ یعنی عرش کو پیدا کرنے کا ارادہ فرمایا
