Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

صدر الشریعہ علیہ الرحمہ کا عالمانہ مقام|محمد احمد مصباحی

```html صدر الشریعہ علیہ الرحمہ کا عالمانہ مقام
عنوان: صدر الشریعہ علیہ الرحمہ کا عالمانہ مقام
تحریر: محمد احمد مصباحی
پیش کش: مہرتاج
منجانب: اقرا اکیڈمی

```

صدر الشریعہ علیہ الرحمہ کا عالمانہ مقام

صدر الشریعہ، شریعت و طریقت دونوں کے جامع تھے۔ حافظ ملت مولانا شاہ عبد العزیز مراد آبادی علیہ الرحمہ نے بارہا فرمایا “صدر الشریعہ مجمع البحرین ہیں”۔ شیخ العلماء حضرت مولانا غلام جیلانی اعظمی گھوسوی علیہ الرحمہ اپنے مضمون “صدر الشریعہ” میں لکھتے ہیں:

آپ شریعت و طریقت دونوں علموں کے جید عالم اور عامل تھے۔ اتباع سنت میں بھی آپ کو کمال حاصل تھا۔ بڑوں کا ادب، چھوٹوں پر شفقت، معاملات کی صفائی، کسی کے خطا و قصور کو معاف کر دینا آپ کا طریقہ کار تھا۔ ظاہر و باطن، قول و فعل، خلوت و جلوت میں آپ یکساں تھے۔ آپ کے مواعظ و نصائح حکیمانہ ہوتے۔ امر بالمعروف و نہی عن المنکر مؤثر طور پر فرماتے تھے۔ اکل حلال و صدق مقال آپ کا شیوہ تھا۔ سادگی و تواضع کے ساتھ صاحب رعب و جلال بھی تھے، کسی جری و بے باک کو بھی آپ کے روبرو بے باکی کے ساتھ کلام کرنے کی ہمت نہ ہوتی۔

حسن اخلاق، صبر و شکر، توکل و قناعت، خودداری و استغنا آپ کے امتیازات و خصوصیات میں سے تھے۔ آپ زہد و اتقا کے بلند مدارج پر فائز تھے۔ بلاشبہ آپ ولی کامل تھے۔ [ماہنامہ فیض الرسول، مارچ: 1966ء]

وصال کے بعد صدر الشریعہ علیہ الرحمہ کی یہ کرامت گھوسی اور قریب کے بے شمار لوگوں نے دیکھی کہ برسات کے سبب قبر مبارک کا ایک حصہ کھل گیا تو جس باغ میں مدفون ہیں وہ پورا باغ خوشبو سے معطر ہو گیا۔ مولانا ضیاء المصطفیٰ صاحب بیان کرتے ہیں کہ جو خوشبو یہاں سونگھنے میں آئی وہ دنیا کے کسی عطر و گلاب میں نہ ملی۔ باغ کی یہ خوشبو موافق، مخالف سب نے محسوس کی، بلکہ ایک مخالف عالم نے برملا کہا:

“مولوی امجد علی مرنے کے بعد بھی اپنی کرامت ظاہر کرنے سے باز نہ آئے”۔

اگرچہ خرقِ عادت کا صدور معیار ولایت نہیں، لیکن مومن متقی سے خارقِ عادت کا ظہور نشانِ ولایت ضرور ہے۔ اور کچھ نہ بھی ہو تو قرآن مقدس ولی کی تعریف میں جو فرماتا ہے:

اَلَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ [سورۃ یونس: 63]

یعنی جو ایمان کامل اور تقویٰ کے حامل ہوں، یہ امر حضرت صدر الشریعہ میں پورے طور پر نمایاں رہا۔ یہ ایمان و تقویٰ بجائے خود وہ بنیادی معیارِ ولایت ہے جس سے کسی منکرِ قرآن ہی کو انکار ہو سکتا ہے۔

علم طریقت میں بھی صدر الشریعہ کو کمال حاصل تھا۔ اس لیے حضرت اپنی کتاب “بہار شریعت” کے خاتمے میں تحریر فرماتے ہیں:

بلکہ اپنا ارادہ تو یہ تھا کہ اس کتاب کی تکمیل کے بعد اس نہج پر ایک دوسری کتاب بھی لکھی جائے گی جو تصوف اور سلوک کے مسائل پر مشتمل ہوگی۔ جس کا اظہار اس سے پیشتر نہیں کیا گیا تھا۔ ہوتا وہی ہے جو خدا چاہتا ہے۔ چند سال کے اندر متعدد حوادث پیہم ایسے درپیش ہوئے جنہوں نے اس قابل بھی مجھے نہ رکھا کہ بہار شریعت کی تصنیف کو حد تکمیل تک پہنچاتا۔ [بہار شریعت، حصہ: 17، ص: 101]

صدر الشریعہ کا ہر جوہر آب دار نکلا، علم ظاہر کے ساتھ علم طریقت بھی۔ (شریعت اعمالِ ظاہر کی صفائی و صحت کے قوانین کا مجموعہ ہوتا ہے۔ اگرچہ یہ قوانین بھی باطن کی بنیاد پر ہوتے ہیں) اور علم طریقت باطن کے تزکیہ کے اصول بتاتا ہے۔ زیادہ مشکل اور اہم باطن کی طہارت ہے۔ صدر الشریعہ علیہ الرحمہ دونوں کے جامع تھے اس لیے ان کی درس گاہِ فیض سے جو نکلا وہ علم باطن کا بھی حامل نظر آیا۔ خوفِ خدا اور اخلاص و تقویٰ اگر مومن کی حیات میں پورے طور پر جگہ بنا لے تو وہی صاحبِ باطن ہو جاتا ہے اور اس کی شریعت بھی طریقت کی جلوہ گاہ ہوتی ہے، اور طریقت، شریعت کی امانت دار۔ اگرچہ ظاہر بین کو یہی نظر آئے گا کہ اس کی عبادت اور معاملت ویسی ہی ہے جیسی میری۔ مگر کہاں وہ نماز جو صرف جسموں کے پیچ و خم پر مبنی ہو اور کہاں وہ نماز جو مشاہدۂ ذات، اخلاصِ کامل اور خشوعِ تام کا مخزن ہو۔ کہاں وہ معاملت جس کا مطمح نظر دنیا کے آرام اور دولت کی ذخیرہ اندوزی سے زیادہ نہ ہو اور کہاں وہ معاملت جو کامل خوفِ خدا کے ساتھ اس طرح ہو کہ امام اعظم ابو حنیفہ کے شاگرد حضرت امام محمد بن حسن شیبانی کے بقول مومن کو ولی بنا دے۔

حضرت صدر الشریعہ کی زندگی نگاہِ ظاہر میں درس و تدریس، تصنیف و اشاعت، کتابوں کی ترسیل و تجارت میں گھری ہوئی تھی لیکن یہ سب کام ایسے پاک جذبے اور بلند نصب العین کے تحت ہو رہے تھے جہاں حرصِ مال، ہوسِ شہرت اور کبر و نخوت پامال ہو کر رہ گئے اور جہاں دنیا داری کا گزر ہی نہیں۔ جو سراسر دین، آخرت اور رضائے مولیٰ کے لیے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ قدرت نے ان کے فیض کو دوام بخشا ہے اور ان کے دبستانِ علم کا جلوہ آج بھی عام ہے۔

ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ [سورۃ الجمعة: 4]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!