| عنوان: | کربلا کا پیغام اور ہماری زندگی |
|---|---|
| تحریر: | زرنین آرزو قادریہ |
| پیش کش: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد |
قتلِ حسین اصل میں مرگِ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
واقعاتِ کربلا سے کون سا مومن بے خبر ہے؟ مسلمان گھرانے کا بچہ بچہ کربلا کے واقعے اور امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت سے واقف ہے۔ کربلا اسلامی تاریخ کا وہ عظیم واقعہ ہے جو حق اور باطل کے درمیان فرق واضح کرتا ہے۔ یہ وہ معرکہ تھا جس میں نواسۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم، اہلِ بیتِ اطہار رضی اللہ عنہم اور اُن کے وفادار ساتھیوں نے اپنی مقدس جانوں کی قربانی پیش کی۔
واقعاتِ کربلا سے مسلمانوں کو جو پیغام ملتا ہے، وہ صرف ایک زمانے کے لیے نہیں بلکہ قیامت تک آنے والی نسلوں کے لیے رشد و ہدایت کا سرچشمہ ہے۔ نوجوان، ننھے بچے، بزرگ، مرد و خواتین؛ ہر انسان کے لیے اس واقعے میں صبر، استقامت اور اللہ کی رضا پر راضی رہنے کا پیغام موجود ہے۔
خاندانِ نبوت صلی اللہ علیہ وسلم کے چشم و چراغ امام حسین رضی اللہ عنہ نے خود سمیت ۷۲ پاک جانوں کی قربانی اسلام کی سربلندی کے لیے پیش کی، کیونکہ اسلام کی حرمت اور حق کی سربلندی سے بڑھ کر آلِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی جان کو بھی اہمیت نہیں دی۔
جن کے نانا دو عالم کے سلطان ہوں، انہیں دنیاوی اقتدار کی کیا خواہش ہو سکتی تھی؟ جو خود جنت کے وارث ہوں، انہیں دنیاوی تخت و تاج سے کیا غرض؟ لیکن اللہ کی رضا کے لیے اپنی جان اسلام پر قربان کر کے ہمیشہ کے لیے زندہ ہو گئے، کیونکہ اللہ کی راہ میں قربان ہونے والے زندہ ہیں۔
وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ أَمْوَاتٌ ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ وَلٰكِنْ لَا تَشْعُرُونَ
ترجمۂ کنزلایمان: اور جو خدا کی راہ میں مارے جائیں انہیں مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں ہاں تمہیں خبر نہیں۔ (سورۃ البقرہ: ۱۵۴)
ان کا مقصد صرف اللہ کی رضا اور نانا صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی حفاظت تھا۔
امام حسین رضی اللہ عنہ نے ۷۲ جانوں کی قربانی دینا تو آسان سمجھا، لیکن ظلم کے آگے جھکنا اور باطل کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا گوارا نہ کیا، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اگر حق کو چھوڑ دیا جائے تو دین کی روح کمزور ہو جائے گی۔ اسی لیے جامِ شہادت نوش فرما کر اپنے عمل سے یہ پیغام دے دیا کہ دین پر قائم رہتے ہوئے قربانی دینا ہی مومن کی اصل کامیابی ہے۔
یہ شہادتیں صبر و عشق کی عظیم مثال ہیں۔ مردوں، عورتوں اور بچوں نے جس بہادری اور صبر سے تمام مشکلات کا سامنا کیا، وہ تاریخِ انسانی کی اعلیٰ مثال ہے۔ ماؤں اور بہنوں نے اپنے پیاروں کو جس حوصلے سے میدانِ کربلا کے لیے روانہ کیا، وہ صبر و رضا کی بے مثال داستان ہے۔ اُن عظیم خواتین نے مشکل ترین حالات کا مقابلہ کیا، لیکن حیا اور پردے کے دامن کو نہیں چھوڑا۔
اسلام اور اللہ کی رضا کے لیے ان نفوسِ قدسیہ نے کربلا میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے نہ صرف خود حیاتِ جاودانی حاصل کی بلکہ دینِ اسلام کو بھی قیامت تک کے لیے سربلند کر دیا۔
کربلا ہمیں سکھاتی ہے کہ حق کی حفاظت کے لیے بڑی سے بڑی قربانی سے بھی پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے۔ واقعاتِ کربلا ہمیں صبر و رضا کا پیغام دیتے ہیں، ظالم کے سامنے ڈٹ کر کھڑے رہنے کا درس دیتے ہیں، حق اور باطل کے درمیان فرق واضح کرتے ہیں، نماز کی عظمت سکھاتے ہیں اور اسلام کے لیے اپنا سب کچھ قربان کرنے کا جذبہ عطا کرتے ہیں۔
ہم نے واقعاتِ کربلا سے پیغامات تو حاصل کیے، لیکن ہماری زندگی اس کے برعکس نظر آتی ہے۔ آج مسلمانوں کا یہ حال ہے کہ ذرا سی مشکل آنے پر اپنے ایمان اور اصولوں کا سودا کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ کیا کربلا سے ہمیں یہی پیغام ملتا ہے؟ نہیں! بلکہ کربلا تو ہمیں سکھاتی ہے کہ مشکل ترین حالات میں بھی صبر کا دامن نہ چھوڑو اور اپنے رب پر کامل یقین رکھو۔ وہ ضرور تمہیں دنیا و آخرت کی سعادتوں سے نوازے گا۔ حالات جیسے بھی ہوں، کبھی کسی ظالم، جابر یا باطل کے سامنے حق کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔
لیکن کیا ہماری زندگی ایسی ہے؟ کیا ہم نے کربلا کے پیغام کو زندہ رکھا ہے؟ کیا ہمارے اندر ظلم کے سامنے حق کہنے کا جذبہ موجود ہے؟ اگر غور کریں تو شاید ضمیر سے ”نہیں“ کی آواز آئے گی۔ آخر ایسا کیوں؟ ہم تو خود کو حسینی کہتے ہیں، پھر ہمارے اعمال حسینی کیوں نہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ ہم نے واقعاتِ کربلا سے حاصل ہونے والے پیغامات کو پسِ پشت ڈال دیا اور فراموش کر دیا۔ ہم خود کو حسینی کہتے ہیں، لیکن اگر ہمارے اعمال یزیدی صفات کے مطابق ہوں تو ہم کس طرح خود کو حسینی کہہ سکتے ہیں؟ کیا ہمارے اعمال واقعی حسینی کردار کی عکاسی کرتے ہیں؟
حسینی کہلانے کے لیے صرف محبت کافی نہیں، بلکہ کردار بھی حسینی ہونا چاہیے۔ حسینیت کا نعرہ لگا لینا کافی نہیں، بلکہ ہمیں حسینی اعمال بھی اختیار کرنے ہوں گے۔ اگر ہماری زندگی میں سچائی، صبر، تقویٰ، عدل اور حق کے لیے کھڑے ہونے کا جذبہ نہیں تو ہمیں اپنے اعمال کا جائزہ لینا ہوگا۔
اگر آج ہم نے عظیم قربانیوں کو فراموش کر دیا اور دین کی بقا کے لیے اپنی ذمہ داریوں کو نظر انداز کر دیا تو ہم حسینی راستے پر کیسے قائم رہ سکتے ہیں؟ کل قیامت کے دن اگر مولا حسین رضی اللہ عنہ نے سوال کر لیا کہ: ”میں نے تو دین کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کر دیا، تم نے کیا کیا؟“ تو ہمارے پاس کیا جواب ہوگا؟
کربلا ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ دنیاوی اقتدار، مال یا آسائشوں کے لیے ایمان کا سودا ہرگز نہیں کرنا چاہیے۔ اللہ کی رضا اور دینِ اسلام کی سربلندی کے لیے اپنی استطاعت کے مطابق کوشش کرتے رہنا چاہیے۔
تو آئیے! آج سے ہم پختہ عزم کریں کہ ہم قیامت تک حسینی راہ پر گامزن رہیں گے، اور جس دین کے لیے امام حسین رضی اللہ عنہ نے اپنی جان قربان کی، ہم بھی اس دین کی سربلندی کے لیے اپنی استطاعت کے مطابق خدمات انجام دیں گے۔ ان شاء اللہ الکریم۔
